ہماری اردو ہمارا پاکستان

Print Friendly, PDF & Email

زیر نظر کتاب جناب روح الامین کے قیمتی مضامین و مقالات پر مشتمل ہے۔ ہمارے اہلِ علم و ادب و تحقیق اُن کے مداح ہیں۔ ہم چند آرا کو یہاں درج کرتے ہیں۔
ڈاکٹر جمیل جالبی تحریر فرماتے ہیں:
’’سید روح الامین اردو کے شیدائی ہیں۔ دن رات اردو زبان کے فروغ و ترقی میں لگے رہتے ہیں۔ سید روح الامین پاکستان کے ادبی و تہذیبی مسائل سے بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور اسی لیے اپنی ہر نئی کتاب تالیف یا مرتب کرتے ہوئے ایسے ہی مسائل پر توجہ دیتے ہیں جن سے پاکستان میں اپنے مسائل کو سمجھنے کا شعور پیدا ہو۔ اس ضمن میں سید روح الامین کی اردو کے حوالے سے سات کتابیں: اردو ہے جس کا نام، اردو ایک نام محبت کا، اردو بطور ذریعہ تعلیم، اردو لسانیات کے زاویے، اردو کے لسانی مسائل، اردو تاریخ و مسائل اور اردو کے دھنک رنگ شائع ہوچکی ہیں۔ اردو کے حوالے سے سید روح الامین کی یہ ساری کتابیں مفید اور فروغِ اردو کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں۔
سید روح الامین کی ان ساری کتابوں کے مضامین اس پہلو کی طرف فکری، علمی و تہذیبی سطح پر روشنی ڈالتے ہیں۔ روح الامین نے اس نکتے کو سمجھ لیا ہے اور اس لیے وہ اردو زبان کا دامن مضبوطی سے تھامے ہوئے مسلسل اردو کے فروغ و ترقی کے لیے کوشاں ہیں۔ سید روح الامین ایک ذہین، باصلاحیت اور وسیع المطالعہ نوجوان ادیب ہیں۔ وہ محنت و توجہ سے اپنے ادبی کام میں لگے رہتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اگر وہ اسی طرح کام میں لگے رہے تو بہت ترقی کریں گے اور بڑا نام کمائیں گے۔‘‘
ڈاکٹر سعید مرتضیٰ زیدی لکھتے ہیں:
’’معروف صحافی، نقاد اور ادیب سید روح الامین کی اردو زبان کے حوالے سے کتابیں یونیورسٹی کی سطح پر مقبولیت کا درجہ حاصل کرچکی ہیں۔ مختلف یونیورسٹیوں کے اربابِ اختیار نے ان کتابوں کے موضوعات کی اہمیت کے پیش نظر انہیں اپنے طلبہ و طالبات کے نصاب میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے، جس کے لیے سید روح الامین مبارک باد کے مستحق ہیں۔ میں نے لسانیات کے حوالے سے اُن کی کتاب ’’اردو لسانیات کے زاویے‘‘ کا بغور مطالعہ کیا ہے۔ میں انتہائی وثوق سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ اس سے پہلے اردو لسانیات کے موضوع پر اتنی جامع اور نادر کتاب مرتب نہیں کی گئی۔ سید روح الامین نے یہ کارنامہ انجام دے کر تاریخ ادبِ اردو میں ایک اہم دستاویز کا اضافہ کیا ہے۔‘‘
ڈاکٹر سید معین الرحمٰن کی رائے ہے:
’’سید روح الامین کی کتاب ’’اردو ہے جس کا نام‘‘ مجھے ملی۔ اس کتاب کے بیک ٹائٹل پر اُن کی صحت مندانہ شادمانی و شادابی کی منہ بولتی تصویر دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اگر اردو کو ایسے جواں فکر، صاحبِ دل میسر ہیں تو ہمارا، ہماری زبان اور تہذیب کا مستقبل محفوظ بھی ہے اور مضبوط ہاتھوں میں بھی۔ تصویر دیکھ کر صدقے واری ہونے کو بھی جی چاہتا ہے کہ نظرِ بد سے بچیں اور محفوظ رہیں، اور زبان سے محبت اور شفقت کا جو شعلہ اُن کے سینے میں روشن ہے وہ تابندہ اور فروزاں رہے۔ ’’اردو ہے جس کا نام‘‘ ایک ایسی کتاب ہے جسے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی لائبریریوں میں زیادہ سے زیادہ جگہ ملنی چاہیے۔ اس کتاب کو ہر ذی ہوش اور اہلِ شوق کے ہاتھ اور مطالعے میں ہونا اور رہنا چاہیے۔ میں سید روح الامین کو مبارک باد دیتا ہوں اور کھلے ہاتھوں، کشادہ دلی کے ساتھ ان کا خیر مقدم کرتا ہوں۔‘‘
پروفیسر شریف کنجاہی لکھتے ہیں:
’’اپنے منفرد اور باوقار نام کی طرح سید روح الامین کی علمی و ادبی دلچسپی بھی ایک انفرادیت اور ایک وقار لیے ہوئے ہے۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں اردو کا نعرہ لگایا ہے جب ملک میں علاقائی زبانیں اپنی اپنی خودی کو بلند کرنے کی سوچ رہی ہیں۔ میں خود بھی ایسا نعرہ لگانے والوں کے خلاف نہیں ہوں۔ میرے خیال میں تمام زبانیں جینے کا حق رکھتی ہیں۔ یہ حق اردو کو بھی ملنا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ علاقائی زبانوں کو بھی۔ سید روح الامین کی دونوں کتابوں ’’اردو ہے جس کا نام‘‘ اور ’’اردو ایک نام محبت کا‘‘ کے مطالعے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ انہوں نے جانب داری سے کام نہیں لیا۔ اُن کی یہ رائے بھی بہت وزن دار ہے کہ اسلامی اقدار اور روایت کے اظہار کے لیے جس ادب و احترام کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے انگریزی زبان اس سے قاصر ہے۔ مجھے امید ہے کہ ملک کے اردو دوست احباب کے لیے یہ کتابیں موجب شادمانی ہوں گی۔‘‘
اس کتاب میں جو گراں قدر مضامین شامل کیے گئے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
اردو کیا ہے؟۔ اردو زبان انگریزی سے زیادہ زرخیز ہے۔ اردو جو نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ اسلام میں نظریۂ تعلیم کی اساس۔ اردو بانیانِ پاکستان کی نظر میں۔ ہمارے موجودہ نظام تعلیم کا بانی کون؟۔ نظریاتِ اردو۔ اردو ہے جس کا نام۔ ہماری قومی زبان اردو کی اہمیت۔ قومی زبان اردو سے بے اعتنائی۔ قائداعظم سے بے وفائی۔ اردو بطور سرکاری زبان۔ اردو کا نفاذ: آئین سے روگردانی۔ اردو زبان پر انگریزی کے اثرات۔ اردو بحیثیت ذریعۂ تدریس۔ فرہنگ ِ آصفیہ ایک تعارف
کتاب سفید کاغذ پر خوبصورت طبع کی گئی ہے، مجلد ہے، سادہ رنگین سرورق سے آراستہ ہے۔
nn

Share this: