بگٹی ہائوس کا نوابنواب بگٹی نیپ کی انتخابی مہم میں پیش پیش تھے

Print Friendly, PDF & Email

میری تقریر جاری تھی، اس دوران کسی نے خبر دی کہ پیپلز پارٹی کے جلسے میں فائرنگ ہوگئی ہے۔ یہ خبر سنتے ہی نواب کے باڈی گارڈ درختوں پر چڑھنا شروع ہوگئے تاکہ نواب کی حفاظت کرسکیں۔ نواب مائیک پر آئے اور اُنہیں ڈانٹ کر کہا کہ نیچے اُتر آئو۔ وہ سب اُتر گئے اور نواب کے گرد حصار بنالیا۔ نواب نے مختصر تقریر کی، اس کے بعد ہم بگٹی ہائوس پہنچ گئے۔ وہاں معلوم ہوا کہ پیپلز پارٹی کی کارنر میٹنگ میں کسی نے فائرنگ کردی جس کی وجہ سے جلسہ ختم ہوگیا اور ایک نوجوان اس فائرنگ میں مارا گیا۔ اس کارنر میٹنگ سے مرزا طاہر محمد خان اور پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی خطاب کرنا چاہتے تھے۔ یہ رکن اسلام آباد سے نشست جیت چکے تھے۔ جہاں جلسہ ہورہا تھا، یہ لیاقت روڈ سے ملحق ایک علاقہ ہے۔ اس علاقے میں تعمیرنو ہائی اسکول موجود ہے جسے جماعت اسلامی نے تعمیر کیا تھا۔ فائرنگ کے بعد پیپلزپارٹی اسٹیج کو چھوڑ کر بھاگ گئی تھی۔ علاقہ دیکھا تو نواب صاحب کو آکر بتلایا کہ اسٹیج تیار ہے، لائوڈ اسپیکر بھی لگا ہوا ہے۔ اُن سے کہا کہ اعلان کروا دیں۔ نواب صاحب تیار ہوگئے۔ اس موقع پر ان کا حفاظتی دستہ بھی موجود تھا۔ ہم پہنچے تو لوگ جمع ہوچکے تھے، اس طرح جلسہ شروع ہوگیا۔ میری تقریر شروع ہوئی تو بارش ہوگئی، اس کے باوجود لوگ گئے نہیں۔ بارش تیز ہوگئی، میں بھیگ رہا تھا۔ اسٹیج پر شامیانہ تھا۔ اس میں موجود لوگ بارش سے محفوظ تھے، لیکن میں بھیگ رہا تھا۔ کچھ دیر بعد کوئی چھتری لایا اور مجھے اس کے اندر لے لیا، یوں میں بارش میں مزید بھیگنے سے بچ گیا۔ اس کے بعد بارش رُک گئی، نواب نے خطاب کیا اور ہم بگٹی ہائوس لوٹ آئے۔ مغرب کے بعد دوبارہ بگٹی ہائوس گیا تو وہاں کسی نے اطلاع دی کہ جو لڑکا مارا گیا ہے اس کی لاش مرزا طاہر محمد خان شہر میں گھمانا چاہتے ہیں۔ نواب بگٹی کو علم ہوا توانہوں نے اپنے ایک شخص کے ذریعے مرزا طاہر محمد خان (مرحوم) کو پیغام بھیجا کہ خاموشی سے جنازے کو لے جائیں اور کاسی قبرستان میں دفن کردیں، اگر شہر میں لاش گھمائی تو اس کی ذمے داری آپ پر ہوگی۔ کچھ دیر بعد پیغامبر نے نواب کو بتایا کہ مرزا طاہر محمد خان کو پیغام پہنچا دیا گیا ہے اور جنازہ خاموشی سے لے جایا گیا ہے، جو نوجوان مارا گیا وہ ماسٹر رضوان کا صاحب زادہ تھا۔ ماسٹر رضوان تعمیرنو پرائمری اسکول کے استاد تھے۔ میری اُن سے اچھی واقفیت تھی۔ ماسٹر رضوان تعمیرنو اسکول اور کالج کے پرنسپل ماسٹر فضل الرحمٰن کے استاد تھے۔ پھر بہت عرصے بعد علم ہوا کہ جلسے میں فائرنگ قطب خان لہڑی نے کی تھی۔ اس کو گرفتار کرلیا گیا، اور وہ بعد میں رہا ہوگیا۔ بلوچ درنا نواب بگٹی نے BSO کے مقابل بنائی تھی۔ پاکستان کے ممتاز قانون دان علی احمد کرد اس تنظیم میں شامل تھے۔ یہ 1972ء کا دور تھا۔ علی احمد کرد کا تمام سیاسی سفر ایک لحاظ سے ہنگامی رہا ہے۔ اُن میں استقامت نہ تھی، اس لیے وہ کسی بھی سیاسی پارٹی میں جم نہ سکے۔ قطب خان لہڑی سے میری سلام دعا تھی، وہ چونکہ نواب صاحب کے پاس آتا تھا اس لیے اُس سے تعلقات بن گئے تھے۔
اس انتخابی مہم کا ایک حصہ کارنر میٹنگ کا تھا، اس کے بعد نواب نے رابطہ مہم شروع کی۔ اس دوران اُن کی انتخابی مہم کو بڑے قریب سے دیکھا اور جائزہ لیتا رہا کہ وہ کس طرح انتخاب لڑتے ہیں۔ میں اُن کے ساتھ پورے ایک ماہ رہا۔ ہم صبح 10 بجے کے بعد بگٹی ہائوس پہنچ جاتے۔ اس کے بعد نواب بگٹی جوگر پہن لیتے اور تین گاڑیوں میں مہم شروع ہوجاتی۔ ہم اس مہم میں ایک ایک گائوں گئے، قبائل کے معتبرین سے ملاقاتیں ہوتیں۔ عصر کے بعد ہم بگٹی ہائوس لوٹ آتے۔ مغرب کے بعد دوبارہ بگٹی ہائوس جاتا اور رات گئے تک وہاں رہتا۔
نواب بگٹی نیپ کی انتخابی مہم میں پیش پیش تھے۔ اس میں نواب کا سرمایہ اور منصوبہ بندی شامل تھی۔ وہ انتخاب لڑنا جانتے تھے۔ نیپ کو جتوانے میں ان کا بڑا ہاتھ تھا، اور جب نیپ نے بے وفائی کی تو نیپ کی حکومت کا دھڑن تختہ کرنے میں بھی اُن کی پوری صلاحیت لگ گئی تھی۔ نواب حالات سے فائدہ اٹھانا جانتے تھے، اور حریف کو گرانے میں کبھی کوتاہی نہیں کرتے تھے۔ نواب بھٹو کے قریب گئے اور پھر نیپ کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ بھٹو، بگٹی دونوں کی خواہشات ایک جگہ جمع ہوگئیں۔ بعض دفعہ وقت اور حالات اس طرح کروٹ لیتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ میں 1973ء میں نواب بگٹی کی سیاست کا حریف تھا اور مجھے جیل ہوگئی۔ 1974ء میں سلیم بگٹی کی انتخابی مہم میں سرگرم تھا، اور پھر نواب بگٹی کے لیے جیل چلا گیا۔ جب گرفتار ہوا تو کینٹ کے حوالات میں بند ہوا۔ جس کمرے میں تھا وہاں دیوار پر بڑا دلچسپ جملہ لکھا ہوا تھا: باپ گورنر (نواب بگٹی) اور بیٹا (طلال بگٹی) جیل میں۔ نواب جب گورنر تھے تو انہوں نے اپنے بیٹے طلال کو کسی کی شکایت پر گرفتار کرلیا، یوں طلال بگٹی حوالات میں تھے۔
طلال بگٹی کی شادی ایک اعلیٰ افسر کی بیٹی سے ہوئی۔ ان کا نام اے بی اعوان تھا، وہ نواب کے کلاس فیلو اور I.B کے ڈائریکٹر تھے۔ طلال بگٹی اور اے بی اعوان کی بیٹی گرائمر اسکول میں کلاس فیلو تھے۔ طلال اس کو پسند کرتے تھے، جبکہ نواب بگٹی اس شادی کے حق میں نہ تھے، لیکن طلال کی ماں کا اصرار تھا کہ جہاں بیٹا چاہتا ہے وہاں اس کی شادی کردیں۔ نواب، طلال کی والدہ کے سامنے اپنی رائے سے دست بردار ہوگئے اور شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ ایک دن بگٹی ہائوس پہنچا تو نواب نے کہا کہ شادیزئی آپ کو شادی میں جانے کی دعوت ہے۔ نواب کے جو لوگ بہت قریب تھے وہ اس دعوت میں مدعو تھے۔ ان کے نام یہ ہیں: ضیا الدین ضیائی، ملک انور کاسی، ملک عثمان کاسی، ڈاکٹر غلام محمد بنگالی (جو نواب کے ذاتی معالج تھے اور اُن کا گھر بگٹی ہائوس کے قریب تھا)، حاجی سلطان بنگلزئی، غلام محمد لغاری، خدائے نور مزاری، عزیز بھٹی (صحافی)، غلام طاہر (صحافی)، سردار محمد زئی۔ ان مہمانوں کے لیے جہاز چارٹرڈ تھا۔ نواب بگٹی کی پوری فیملی تھی۔ یہ میری زندگی کا پہلا ہوائی سفر تھا۔ ضیا الدین ضیائی مرحوم نے اس سفر کے حوالے سے اتنا ڈرایا کہ میری ہوائیاں اُڑ رہی تھیں۔ گھبراہٹ بھی تھی۔ دعائیں مانگتا ہوا جہاز میں داخل ہوا۔ سفر بڑا آرام دہ تھا۔ ضیائی سے کہا کہ یار تم نے تو مجھے بہت ڈرا دیا تھا۔ وہ خوب ہنسا۔ ائرپورٹ سے ہم ہوٹل پہنچے۔ نواب بگٹی 5 انٹر کانٹینینٹل میں شفٹ ہوگئے، اور ہم خان قلات کے ہوٹل میں۔ یہ برطانوی دور کا ہوٹل تھا، اب ذہن میں نام نہیں رہا۔ بعد میں خان قلات نے اس کو فروخت کردیا۔ عصر کے بعد ہم سب نواب بگٹی سے ملنے ہوٹل چلے گئے، کچھ دیر بعد چودھری ظہور الٰہی اپنے بیٹے کے ساتھ آگئے۔ چودھری ظہور الٰہی نے ایک بار پھر نواب کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اُن کی زندگی بچائی۔
(باقی صفحہ 41پر)
نواب بگٹی نے یہ واقعہ مجھے سنایا جسے میں حیرت زدہ ہوکر سن رہا تھا۔ نواب گورنر تھے، بھٹو نے صدرِ پاکستان چودھری فضل الٰہی کو بھیجا۔ نواب نے کہا کہ وہ مجھ سے گورنر ہائوس میں ملیں۔ ملاقات ہوئی تو فضل الٰہی نے کہا کہ بھٹو صاحب نے چودھری کو ختم کرنے کا کہا ہے۔ نواب نے کہا کہ میں حیران ہوکر صدرِ پاکستان کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا کہ وہ بھٹو کے حکم پر مجھے چودھری ظہور الٰہی کے قتل کا کہہ رہے تھے۔ نواب نے بتایا کہ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ میں نے خاموشی اختیار کرلی۔ بعد میں چودھری ظہور الٰہی کو ڈیرہ بگٹی شفٹ کردیا تا کہ انہیں کوئی قتل نہ کرے۔ چودھری ظہور الٰہی اس حوالے سے نواب کا شکریہ ادا کررہے تھے۔ (جاری ہے)

Share this: