سقوطِ ڈھاکہ اور ستم رسیدہ بہاریوں کا مقدمہ

Print Friendly, PDF & Email

غالباً 1986ء میں راقم جاوید احمد غامدی صاحب، ڈاکٹر منیر احمد صاحب، بھائی شکیل الرحمٰن صاحب اور برادرم افضال احمد صاحب کے ساتھ لاہور مولانا امین احسن اصلاحیؒ کے ہاں بعد نمازِ فجر اُن سے ملاقات کو گیا۔ اُن دنوں ایم کیو ایم نے کراچی میں اودھم مچایا ہوا تھا۔ مولانا نے فرمایا: ’’سقوطِ ڈھاکہ کے زمانے میں مَیں علیل تھا، میری یادداشت ختم ہوگئی تھی کہ پاکستان دولخت ہوگیا۔ اب پھر یہ افسوس ناک ہنگامہ برپا ہے، میرا دل ڈرا ہوا ہے، اگر پھر پاکستان پر کوئی برا وقت آنے والا ہے تو میری اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ اس سانحے سے پہلے مجھے اٹھا لے‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ سقوطِ ڈھاکہ امت کے لیے کلنک کا ٹیکا ہے، لیکن اس کے بعد بہاری مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ انتہائی شرمناک ہے۔ زیر نظر کتاب میں اس شرمناک سلوک کے سلسلے میں کچھ دستاویز جناب قیصر جمیل احمد ملک نے بڑی عمدگی سے جمع کردی ہیں۔ وہ تحریر فرماتے ہیں:
’’سقوطِ ڈھاکہ کے نتیجے میں تقریباً پندرہ لاکھ بہاری مسلمان مشرقی پاکستان میں قتل کردیئے گئے۔ ان میں بچے، بوڑھے، جوان اور عورتیں سب شامل ہیں۔ اکثر قصبے اور بستیاں ویران کردی گئیں، املاک لوٹ لی گئیں اور جلاکر خاکستر کردی گئیں۔ عفت مآب مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عفتیں پامال کی گئیں۔ ان کے مکانات، تجارتی مراکز، صنعتوں اور کھیت اور باغات پر قبضے کرلیے گئے۔ جو لوگ بچ گئے، انہیں کیمپوں میں پناہ لینا پڑی، کم و بیش ایسے باسٹھ کیمپ آج بھی سابقہ مشرقی پاکستان کے مختلف علاقوں میں قائم ہیں جہاں ایک اندازے کے مطابق پانچ لاکھ پاکستانی جانوروں سے بدتر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ نصف صدی سے وہ پاکستانی حکمرانوں، مقتدر قوتوں اور اہلِ پاکستان سے انصاف طلب کررہے ہیں۔ ہجرت کے بعد سے چوتھی نسل، نسل کُشی کا شکار ہورہی ہے۔ شملہ معاہدے کے تحت بہاریوں کے منقسم خاندان حکومتِ پاکستان کی باضابطہ اجازت سے مغربی پاکستان منتقل ہوئے، کچھ خاندان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور ضیا الحق کے دور میں، اور کچھ نوازشریف کے دور میں وزیراعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں کے زمانے میں منتقل ہوئے۔ ایک بڑی تعداد مارچ 1971ء کی بغاوت اور 16 دسمبر 1971ء سے پہلے بھی بحری جہازوں اور ہوائی جہازوں سے منتقل ہوگئی تھی۔ منتقل شدہ بہاریوں کو پنجاب، سندھ، سرحد (کے پی کے) اور بلوچستان کے اکثر شہروں میں آباد کیا گیا، اور یہ علاقے بہاری کالونیوں کے نام سے معروف ہیں۔
منتقل شدہ بہاریوں کی بڑی تعداد کراچی میں آباد ہوئی۔ ان میں ایک قابلِ ذکر تعداد نے اورنگی کی کچی آبادی سے اپنے نئے سفر کا آغاز کیا۔ انہوں نے اپنی مدد آپ کی بنیاد پر اُس وقت کے کراچی کے میئر عبدالستار افغانی مرحوم اور دیگر مخیر اداروں اور افراد کے تعاون سے اورنگی کو تعلیمی، اقتصادی، معاشی اور تہذیبی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے شبانہ روز جدوجہد کی۔ سیاسی طور پر یہاں کی بہاری آبادی کم از کم ایک قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی دو نشستوں کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ جناب آفاق خان شاہد مرحوم دو بار یہاں سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، ایک ایک بار سلیم شہزاد مرحوم اور پروفیسر اے کے شمس منتخب ہوئے۔ حسیب ہاشمی مرحوم رکن صوبائی اسمبلی اسی بستی سے چنے گئے۔ ان سب کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا۔ جناب عبدالرازق خان مرحوم کا تعلق بھی اسی بستی سے تھا اور وہ بھی مشرقی پاکستان سے تھے۔ وہ کراچی کے ڈپٹی میئر اور اسپیکر سندھ اسمبلی رہے۔
بہاریوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان ریلویز، کے پی ٹی، پورٹ قاسم ٹرسٹ، پاکستان پوسٹ آفس، ٹی اینڈ ٹی، پی آئی اے، کسٹمز، ایکسائز اور پھر سعودی عرب میں دمام پورٹ سے وابستہ رہی ہے۔ مختلف شیڈول بینکوں، خصوصاً یو بی ایل میں بھی ایک بڑی تعداد ملازم رہی ہے۔ مختصر یہ کہ اس برادری نے پاکستان آکر زندگی کے تمام شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں۔ بلاشبہ تمام اداروں اور اس ملک کے عام لوگوں نے بہاریوں کی پاکستان آمد کے بعد ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے۔ بدقسمتی سے 1987ء کے بعد جب کراچی میں بوجوہ آگ اور خون کی ہولی کھیلی جانے لگی، بہاریوں کو رفتہ رفتہ نشانہ بنالیا گیا، یہاں تک کہ اب ان کی شناخت پر انگلیاں اٹھنے لگی ہیں، اور جو صحیح معنوں میں پاکستان کے اصل شہری ہیں ان ہی سے پاکستانی ہونے کا ثبوت طلب کیا جانے لگا ہے۔ شناختی کارڈز بلاک کرنے، تجدید سے انکار کرنے، منسوخی کے نوٹس دینے اور نئے شناختی کارڈ بنانے سے تو مکمل انکار کرنے کی شکایات عام ہیں۔ نتیجتاً تعلیم، روزگار، بیرونِ ملک سفر وغیرہ کے دروازے پاکستان کے بانیوں اور ان کی اولاد کے لیے بند کیے جارہے ہیں۔
ایک جانب بنگلہ دیش کے باسٹھ کیمپوں میں تقریباً نصف صدی سے محصور لاکھوں مجبور و مظلوم بہاری پاکستانی، دوسری جانب پاکستان خصوصاً کراچی میں آباد لاکھوں پاکستانی جو نئے سرے سے حکمرانوں کا نشانہ بننے لگے ہیں، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا حصول مشکل ترین بناکر انہیں تمام شہری حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان حالات میں یہ ضروری ہے کہ بہار کے مسلمانوں کے متعلق ازسرنو قیام پاکستان کے لیے ان کی لازوال جدوجہد اور قربانیاں، قیام پاکستان کے بعد خصوصی طور پر مشرقی پاکستان کی تعمیر و ترقی میں ان کا کردار، 1971ء میں پاکستان کے خلاف بغاوت و سرکشی کے دوران دفاع و اتحادِ پاکستان کے لیے ان کی جدوجہد، اور اس راہ میں ان کی قربانیاں اور خونِ وفا شعاراں کی داستان رقم کی جائے اور ملتِ پاکستان کو بھولی ہوئی تاریخِ خونچکاں یاد دلائی جائے۔ علاوہ ازیں حکمرانوں اور مقتدر قوتوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے، تاکہ وہ ملت ِ پاکستان، امت ِ مسلمہ اور سب سے بڑھ کر اپنے رب کے حضور سرخرو ہوسکیں۔
’’سقوطِ ڈھاکہ اور ستم رسیدہ بہاریوں کا مقدمہ‘‘ ان ہی مقاصد کے حصول کی ایک کوشش ہے۔ کتاب کی تیاری میں برادرم ارشد بیگ، عزیزم فرقان ملک اور برادرم غیاث الدین، محمد علیم الدین، اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی کا بے حد شکر گزار اور ممنون ہوں کہ انہوں نے پوری تندہی کے ساتھ میری مدد کی، اور میں بلاتامل یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ ان کے محبت بھرے تعاون کے بغیر میرے لیے یہ کام ممکن نہ تھا۔ کتاب میں املا کی اغلاط پر پیشگی معذرت خواہ ہوں، اس جانب بوجوہ توجہ نہیں دے سکا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کے تعاون کو قبول فرمائے۔
آخر میں محترم پروفیسر سید مظہر حسین صاحب کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان کے مشورے اور رہنمائی ہر ہر قدم پر شامل رہی۔
کتاب کے محتویات درج ذیل ہیں:
’’ارض بہار، مرکز علم و دانش‘‘، ’’مسلم بہار، تاریخ کے آئینے میں‘‘، ’’تحریکِ آزادی پاکستان اور مسلمانانِ بہار‘‘، ’’ہوتا ہے جادہ پیما، پھر کارواں ہمارا… مسلم لیگ پٹنہ اجلاس1938ء‘‘، ’’خونِ وفا شعاراں، 1946ء‘‘،’’خون ِمسلم کی کہانی، مسجد تلہاڑہ کی زبانی‘‘، ’’پاکستان کی جانب ہجرت‘‘، ’’دفاعِ پاکستان کے لیے قربانیاں‘‘، ’’سقوطِ ڈھاکہ کے بعد‘‘
ضمیمے
(i) فرینڈز آف ہیومنٹی، امریکہ
(ii) محصور پاکستانیوں کی منتقلی اور بحالی کے لیے جدوجہد
(iii) رابطہ عالم اسلامی مکہ کا خصوصی کردار
(iv) رابطہ ٹرسٹ کی جانب سے اپیل، 1997ء
(v) مشرقی پاکستان کا المیہ (نسیم حجازی، 1974ء)
(vi) جماعت اسلامی پاکستان کی قرارداد (1983ء)
(vii) ’’سفر جاری ہے‘‘، سید خالد کمال کے مقالہ سے اقتباس (خون اور آنسوئوں کا دریا)
(viii) بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کے کیمپس
قیصر صاحب نے کتاب کا انتساب حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کیا ہے:
’’شہر قائد کے جواں سال قائد، انجینئر حافظ نعیم الرحمٰن کے نام، جن کی مدبرانہ، بیدار مغز، جرأت مند اور کرشماتی قیادت نے کراچی کے مظلوم اور پسے ہوئے لوگوں کے اسلامی، انسانی، دستوری و قانونی حقوق کے حصول کے لیے جارحانہ تحریک برپا کی ہوئی ہے۔ ستم رسیدہ بہاری کمیونٹی بھی اپنے شہری حقوق کی بازیافت کے لیے، ان ہی کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے۔ نادرا (NADRA) سے شناختی کارڈز کے حصول، ان کی تجدید، بلاک اور منسوخ کیے ہوئے کارڈوں کی بحالی اور دیگر مشکلات کے ازالے کے لیے قائدِ کراچی نے جو تاریخی جدوجہد کی ہے، اس پر یہ برادری ان کی ممنون ہے۔ بنگلہ دیش کے کیمپوں میں محصور پاکستانی بھی اپنی منتقلی کے لیے ایک بار پھر پُرامید ہوگئے ہیں‘‘۔
جماعت اسلامی پاکستان نے بہاری پاکستانیوں کو پاکستان لانے کے لیے بڑی جدوجہد کی، اسی سلسلے کی ایک قرارداد بھی قیصر صاحب نے کتاب میں شامل کی ہے:
’’تحریک اسلامی پاکستان (کالعدم جماعت اسلامی) نے اپنے اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ منعقدہ 28 دسمبر تا 30 دسمبر 1983ء لاہور، جس کی صدارت امیر جماعت اسلامی جناب میاں طفیل محمد نے کی، محصور بہاری پاکستانیوں کے مسئلے پر درج ذیل قرارداد پاس کی:
تحریکِ اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کی فوری وطن واپسی کا مطالبہ کرتا ہے اور اس سلسلے میں حکومت ِ پاکستان کی بے اعتنائی اور سردمہری کی شدید مذمت کرتا ہے۔ بنگلہ دیش میں محصور پاکستانی پچھلے بارہ سال سے موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا ہیں، اور پاکستان سے محبت کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ مجلس کی نگاہ میں ان 3 لاکھ افراد کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ اسلام کے شیدائی اور نظریۂ پاکستان کے متوالے ہیں، اور دو قومی نظریے کی خاطر اپنے اور پرائیوں سب کے درمیان اجنبی قرار پائے ہیں۔ جس ملک کی خاطر انہوں نے جان و مال کا زیاں برداشت کیا، ہجرت کی، ربع صدی کے بعد اب وہ خطۂ زمین بھی اپنی وسعتوں کے باوجود ان کے لیے تنگ ہوگیا اور ان کا جینا اُس سرزمین پر دوبھر ہوگیا ہے جہاں امیدوں کے چراغ جلاکر وہ ایک روز جوق در جوق داخل ہوئے تھے۔ آج بھی یہ پاکستانی اپنے وجود سے لسانی قومیت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور نظریۂ پاکستان پر نچھاور ہوجانے کا عزم صمیم کیے ہوئے اور پُرامید نگاہوں سے کبھی پاکستان کے عوام اور کبھی پاکستان کے حکمرانوں کی طرف دیکھتے ہیں اور انہیں یاد دلاتے ہیں کہ انہیں بھلاکر نہ پاکستان کا خواب شرمندۂ تعمیر ہوسکتا ہے اور نہ نظریۂ پاکستان سے وابستگی کا عملی ثبوت پیش کیا جاسکتا ہے۔
یہ اجلاس اپنے دینی بھائیوں کو یہ بھی یقین دلاتا ہے کہ کرب و الم کی جو طویل رات انہوں نے گزاری ہے اس کی سحر اب ہوگی۔ یہ مجلس ان محب وطن پاکستانیوں کے استقلال اور پامردی کو اپنی محبتوں اور تحسین کا نذرانہ پیش کرتی ہے اور انہیں یقین دلاتی ہے کہ اہلِ وطن ان کی آمد کے منتظر ہیں، دیدہ و دل فرشِ راہ کیے ہوئے ہیں، اور اس سرزمین پران کے استقبال کے لیے چشم براہ ہیں‘‘۔
روداد مجلس شوریٰ، جماعت اسلامی پاکستان (حصہ پنجم)۔

دکنی کلچر

زیرنظر کتاب ’’دکنی کلچر‘‘ محمد نصیر الدین ہاشمی کی جامع کتاب ہے جو دکن کے مختلف پہلوئوں کے متعلق معلومات فراہم کرتی ہے۔ ہاشمی صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔
’’میری پہلی تالیف ’’دکن میں اردو‘‘ شائع ہوئی۔ اس کے بعد کئی اور کتابیں منظرعام پر آئیں، مگر ’’دکن میں اردو‘‘ کو جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ میرے لیے فخر و انبساط کا باعث ہے۔ اس کے لیے خدائے برتر و بزرگ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے اس کتاب کے لکھنے کی توفیق دی اور اصحابِ علم میں اس کو مقبول بنایا۔
ہر زبان کے ادب میں، خواہ شاعری ہو یا ناول نگاری، افسانہ نویسی ہو یا ڈراما… ان پر ماحول کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ ہم جو کچھ دیکھتے ہیں اور جو کچھ گزرتا ہے ان ہی امور کو ادب میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ حقیقت پرداز ادب اپنے زمانے کا عکاس ہوتا ہے۔
دکن میں مسلمانوں نے چھے سو سال تک حکومت کی، اور اس کے مختلف حصوں میں جہاں بانی کی نوبت بجائی، شوکت اور صولت کا پرچم لہرایا، رواداری، ملن ساری اور امن و امان کا پرچار کیا، ثقافت وکلچر کی ترویج کی، تہذیب اور شائستگی کو پھیلایا۔ غرض چھے سو سال تک دکن کی ترقی میں حصہ لیتے رہے۔ ان کے کلچر کی تفصیلی وضاحت کے لیے ضخیم صفحات کی ضرورت ہے، مگر سرِدست اس کا موقع نہیں ہے۔ ان اوراق میں مختصر طور پر طائرانہ طریقے سے مسلمانوں کے کلچر کی صراحت کی گئی ہے۔ چوں کہ دکن میں سلطنتِ آصفیہ مسلمانوں کی آخری حکومت تھی، اس لیے زیادہ تر اسی حکومت کے کلچر کی تفصیل درج کی گئی ہے۔
امید ہے اربابِ علم اور اصحابِ ذوق کے لیے میری یہ کتاب بھی سامانِ ضیافت مہیا کرے گی اور موجبِ دلچسپی ثابت ہوگی۔
مجھے اپنی کم مائیگی کا احساس ہے مگر اس کے باوجود اردو کی خدمت اور مسلمانوں کے کارناموں کی تشریح کے لیے اس کتاب کو قلم بند کیاگیا ہے۔ دعا ہے کہ اس کتاب کو بھی مقبولیت حاصل ہو‘‘۔
کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ باب اوّل میں دکن میں مسلمانوں کے آکر بس جانے کی تفصیلات ہیں، دوسرے باب میں مسلمانوں کی سلطنتوں کی تفصیلات ہیں جن میں معبرکے بادشاہ نانور، ملیبار، بہمنی سلطنت، عادل شاہی سلطنت، قطب شاہی سلطنت، نظام شاہی سلطنت، برید شاہی سلطنت، عماد شاہی سلطنت، والا جاہی سلطنت، سدھوٹ اور کرنول کے پٹھانوں کی حکومت، تیسرے باب میں دکن میں مغربی (یورپین) تہذیب اور تمدن کا آغاز، چوتھے باب میں زبان اور ادب کی، پانچویں باب میں رہن سہن، مکان، آرکی ٹیکچر، مہمان نوازی، ملبوسات، کھانا پینا وغیرہ کی تفصیلات ہیں۔ چھٹے باب میں رسم و رواج، مہینوں کے نام، مہینوں کی تقریبات، شادی بیاہ کی تقریبات اور عیدین وغیرہ پر گفتگو ہے۔ ساتویں باب میں موسیقی سے اعتنا ہے۔
یہ اس کتاب کا مجلسِ ترقیِ ادب سے چھپنے والا دوسرا ایڈیشن ہے۔
کتاب سفید کاغذ پر خوبصورت طبع ہوئی ہے، مجلّد ہے۔

Share this: