افغانستان میں تازہ جھڑپیں

Print Friendly, PDF & Email

زلمے خلیل زادکادورۂ پاکستان

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کے لیے عالمی اور علاقائی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے یہ یقین دہانی افغانستان میں مفاہمت کے لیے امریکی کمانڈر ریزولوٹ سپورٹ مشن (آر ایس ایم) جنرل آسٹن اسکاٹ ملر کے ہمراہ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے افغان مفاہمت کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کے ساتھ ہونے والی ایک خصوصی ملاقات میں کی ہے۔ خلیل زاد کا تازہ ترین دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایک جانب افغان حکومت اور افغان طالبان کی مذاکراتی ٹیموں نے انٹرا افغان ڈائیلاگ کے ایجنڈے پر’’مشاورت‘‘ کے لیے اپنی گفتگو میں 20 دن کے وقفے کا اعلان کیا ہے، جب کہ دوسری جانب افغانستان کے مختلف علاقوں بشمول کابل سے افغان سیکورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان ہر گزرتے دن کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں مسلسل اضافے اور دونوں جانب سے بھاری جانی نقصان کی اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں۔ واضح رہے کہ افغان حکومت اور طالبان نمائندوں کے درمیان جاری جامع امن مذاکرات عارضی طور پر 5 جنوری 2021ء تک ملتوی کردیئے گئے ہیں۔ ان معطل شدہ مذاکرات کے حوالے سے تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور کہاں ہوگا؟ حالانکہ افغان حکومت نے ان مذاکرات کی افغانستان میں میزبانی کی خواہش کا اشارہ کیا ہے، جس پر نہ تو طالبان کی جانب سے کوئی مثبت اشارہ سامنے آیا ہے اور نہ ہی کسی اور ذریعے سے اس بات کی تصدیق ہوسکی ہے کہ آیا مذاکرات کا یہ آئندہ دور کہاں منعقد ہوگا، جب کہ بعض ذرائع افغانستان کے طول وعرض میں جاری بدامنی کے پے درپے واقعات اور متحارب فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر حملوں میں تیزی کے تناظر میں ان خدشات کا اظہار بھی کررہے ہیں کہ آیا مذاکرات کا یہ دور طے شدہ شیڈول کے مطابق منعقد ہو بھی سکے گا یا نہیں؟ یاد رہے کہ آئندہ بات چیت کے قواعد و ضوابط پر 2 دسمبر کو معاہدہ طے پانے کے بعد فی الحال دونوں فریق انٹرا افغان بات چیت کے تفصیلی ایجنڈے پر بات چیت کررہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مذاکرات کے درمیان حالیہ وقفہ اور اس کے ساتھ ہونے والی غیر یقینی صورت حال امریکہ کے لیے پریشانی کا باعث ہے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ زلمے خلیل زاد کو اچانک ہنگامی طور پر ایک بار پھر راولپنڈی کا دورہ ایک ایسے موقع پر کرنا پڑا ہے جب امریکی انتظامیہ نہ صرف تبدیلی کے مراحل سے گزر رہی ہے بلکہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں پرانی انتظامیہ اپنے طے شدہ اعلان کے مطابق 31 دسمبر سے پہلے پہلے آدھی سے زیادہ امریکی افواج کے انخلاء کے اپنے پرانے ٹائم ٹیبل پر عمل درآمد کی بھی خواہش مند ہے۔ اسی طرح نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن جو افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے صدر ٹرمپ کے سابقہ اعلان پر نظرثانی کاعندیہ دے چکے ہیں، عین ممکن ہے کہ اپنی نئی افغان پالیسی تشکیل دینے کے لیے اپنی ایسی نئی ٹیم سامنے لائیں جس میں زلمے خلیل زاد کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔
زلمے خلیل زاد نے اپنے حالیہ دورۂ اسلام آباد کے موقع پر اسلام آباد پہنچنے کے بعد کیے گئے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ افغانستان میںجنگ بدستور جاری ہے۔ سیاسی تصفیے کی ضرورت، تشدد میں کمی اور جنگ بندی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ خطرے کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ مذاکرات کی بحالی میں تاخیر نہ ہو اور اتفاقِ رائے کے مطابق انہیں 5 جنوری کو دوبارہ مذاکرات کا عمل شروع کرنا چاہیے۔
یہ بات محتاجِ بیان نہیں ہے کہ اِس سال فروری میں طالبان اور امریکہ کے درمیان دوحہ میں ہونے والے معاہدے میں پاکستان نے نہ صرف امریکہ اور طالبان کو معاہدے پر دستخط کرنے میں مدد فراہم کی تھی بلکہ انٹرا افغان مذاکرات کے آغاز اور اس کے لیے بات چیت کے قواعد و ضوابط کے بارے میں حالیہ معاہدے میں بھی پاکستان مدد فراہم کرتا رہا ہے۔ اسی طرح وزیراعظم عمران خان نے اپنے گزشتہ دنوں کے دورۂ کابل کے دوران بھی افغان قیادت کو افغانستان میں تشدد میں کمی کے لیے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا تھا۔ انہوں نے صدر اشرف غنی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ہم اپنی مرضی کے مطابق ہر وہ کام کریں گے جس سے افغانستان میں جاری بدامنی کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہو۔
دریں اثناء افغانستان سے آمدہ تازہ اطلاعات کے مطابق افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار کے نواح میں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں پچاس سے زائد طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ طالبان نے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات کئی فوجی چیک پوسٹوں پر مربوط حملہ کردیا تھا۔ کابل سے موصولہ اطلاعات کے مطابق درجنوں طالبان حملہ آوروں نے قندھار شہر کے اردگرد واقع پانچ اضلاع میں سرکاری دستوں کی کئی چیک پوسٹوں پر بیک وقت ایک بڑا اور منظم حملہ کیا۔ یہ حملہ اتنا منظم تھا کہ اس کے جواب میں افغان سیکورٹی فورسز کو زمینی دستوں کے ذریعے شیلنگ کے علاوہ فضا سے بھی گولہ باری کرنا پڑی۔ افغان وزارتِ دفاع نے ان جھڑپوں کی تصدیق تو کی ہے البتہ کسی بھی باوثوق ذریعے سے ان حملوں میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کی تفصیل معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری سیکورٹی فورسز نے یہ حملہ ناکام بناکر پچاس حملہ آوروں کو ہلاک اور نو کو زخمی کردیا ہے۔ قندھار صوبے کے ایک سرکاری اہلکار نے میڈیا کو بتایا کہ اس لڑائی کے دوران افغان فورسز نے طالبان حملہ آوروں کو پسپا کرنے کے لیے جو فضائی حملے کیے اُن کے نتیجے میں قندھار شہر کے ایک نواحی ضلع میں ایک ہی خاندان کے سات عام شہری بھی مارے گئے ہیں۔ ان جھڑپوں میں بھاری ہتھیاروں کے استعمال کے علاوہ شدید فضائی بمباری کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں کابل سے ایک دوسری موصولہ خبر میں بتایا گیا ہے کہ کابل میں ایک گاڑی پر ہونے والے بم حملے میں دو افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے، جن میں جاں بحق ہونے والے ایک فرد کی شناخت توفیق وحدت کے نام سے ہوئی ہے جبکہ دوسرے جاں بحق فرد کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ ممبر پارلیمنٹ ہیں، لیکن سرکاری ذرائع سیکورٹی کے غیر معمولی حالات کی وجہ سے ان کی شناخت ظاہر کرنے سے گریز کررہے ہیں۔
دوسری جانب طالبان نے دعویٰ کیا ہے جس کی تصدیق آزاد ذرائع نے بھی کی ہے کہ شمالی صوبے قندوزکی ایک سیکورٹی چوکی پر طالبان کے حملے میں 6 افغان سیکورٹی اہلکار جاں بحق ہوگئے، جب کہ طالبان ان اہلکاروں کا اسلحہ بھی ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ضلعی گورنر محبوب اللہ سعیدی نے میڈیا کو بتایا کہ اس حملے میں تین اہلکار زخمی جب کہ تین لاپتا ہوگئے ہیں جن کا تاحال پتا نہیں چل سکا ہے۔ ایک اور خبر کے مطابق ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں ایک گاڑی کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے باعث چار عام شہری جاں بحق ہوگئے۔ صوبائی گورنر ضیاء الحق عمر خیل نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ ضلع زاوی کے علاقے میں پیش آیا جس میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد عام شہری ہیں۔ عمرخیل نے طالبان پر سڑک کنارے بم نصب کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ طالبان عام شہریوں کو نشانہ بناکر مقامی لوگوں کو دہشت زدہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس تمام صورت حال کومدنظر رکھتے ہوئے اکثر مبصرین کا خیال ہے کہ افغانستان میں مستقل قیام امن کے لیے تاحال ایک طویل مسافت طے کرنا ابھی باقی ہے، اور اس ضمن میں طالبان کے ساتھ ساتھ افغان حکومت کو افغان عوام کے وسیع تر مفاد میں نہ صرف آئندہ مذاکرات میں لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا بلکہ صبر وتحمل سے کام لیتے ہوئے افغان عوام کو جاری جھڑپوں کی وجہ سے درپیش مشکلات سے نکالنے کے لیے بعض واضح عملی اقدامات بھی اٹھانا ہوں گے۔

Share this: