امریکی ثالثی میں مراکش اور اسرائیل معاہدہ

Print Friendly, PDF & Email

جیسے ”معافی“ کے عوض امریکہ نے تاوان کی مد میں خرطوم سے 40 کروڑ ڈالر وصول کیے، ویسے ہی مغربی صحارا حوالہ کرنے کی قیمت اسلحہ کا سودا ہے

متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان کے بعد مراکش بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے پر رضامند ہوگیا۔ بحر روم اور بحر اوقیانوس کے سنگم پر واقع اس ملک کو جغرافیہ داں افریقہ کا غرب الاقصیٰ قرار دیتے ہیں کہ یہ براعظم افریقہ کا شمال مغربی کنارہ ہے۔ پونے چار کروڑ نفوس پر مشتمل مراکش کا سرکاری نام مملکت المغربیہ ہے، اور اس پورے علاقے کو مغرب کہا جاتا ہے جس میں الجزائر، تیونس، لیبیا، موریطانیہ اور مراکش واقع ہیں۔ اسلامی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے مراکش کی ایک اہمیت یہ بھی ہے کہ ہسپانیہ پر فوج کشی کے لیے طارق بن زیاد کا لشکر مراکش کے شہر طنجہ(Tangier) سے کشتیوں میں سوار ہوکر بحر روم و بحر اوقیانوس کو ملانے والی آبنائے کو عبور کرکے اُس چٹان پر اترا تھا جو بعد میں جبل الطارق کے نام سے مشہور ہوئی۔ افریقہ اور یورپ کو ملانے والا یہ تنگ سا آبی راستہ بھی آبنائے جبل الطارق یا Strait of Gibraltar کہلاتا ہے۔ آبنائے جبل الطارق علاقے کی آبی شہ رگ ہے کہ بحر اسود و بحر روم کا سارا بحری ٹریفک اسی آبنائے سے گزر کر بحر اوقیانوس میں داخل ہوتا ہے۔ بحر روم سے نکلنے کا دوسرا راستہ نہر سوئز ہے جو بحر احمر میں کھلتی ہے۔
1956ء میں اپنی آزادی کے بعد سے مراکش میں ملوکیت کا نظام قائم ہے۔ 2010ء کے اختتام پر تیونس سے شروع ہونے والی پُرامن تحریک ساری عرب دنیا بالخصوص شمالی افریقہ میں بیداری کا نقطہِ آغاز ثابت ہوئی۔ مراکشی عوام بھی سڑکوں پر نکل آئے اور العدل والاحسان کے عنوان سے سماجی انصاف اور جمہوریت کے قیام، اور کرپشن کے خاتمے کے لیے مظاہرے شروع ہوئے۔ اپنے تیونسی، مصری، شامی اور یمنی ہم منصبوں کے برعکس مراکش کے فرماں روا محمد السادس (ششم) نے ان مظاہروں کو کچلنے کے بجائے عوامی خواہشات کے مطابق دستور میں ترامیم کا ایک مسودہ پارلیمان میں پیش کردیا جس کے مطابق حکمرانی کے تمام اختیارات منتخب وزیراعظم کو تفویض کردیے گئے۔ نئے دستور کی رو سے پارلیمنٹ کی تحلیل، بین الاقوامی معاہدات، سزائوں کی معافی، قومی میزانیے کی ترتیب، اسٹیٹ بینک اور سرکاری کارپوریشنوں کے سربراہان کے تقرر اور انتخابات کے انعقاد سمیت تمام اختیارات وزیراعظم کو منتقل کردیے گئے۔ پارلیمان سے منظوری کے بعد جولائی میں ایک قومی ریفرنڈم کے ذریعے اس آئینی مسودے کی توثیق کرا لی گئی، اور نئے آئین کے مطابق دو بار انتخابات بھی منعقد ہوچکے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل شاہ صاحب نے مغربی صحارا میں کشیدگی کے پیش نظر سفارت و بین الاقوامی تعلقات کے اختیارات وزیراعظم سے واپس لے لیے۔
یادش بخیر جب نئے آئین کے تحت 2011ء میں عام انتخابات کا اعلان ہوا، اُس وقت بائیں بازو کی کچھ جماعتوں نے لنگڑی لولی جمہوریت پر تحٖفظات کا اظہار کرتے ہوئے انتخابات کے بجائے بحالیِ جمہوریت کی تحریک چلانے کی تجویز دی تھی۔ مزدور رہنما نجیب شوقی نے اسی وقت کہا تھا کہ بادشاہت اور جمہوریت ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ بادشاہ سلامت کی ”دستِ نگر“پارلیمان اور حکومت، ربڑ کی مہر سے زیادہ کچھ نہیں۔ شوقی صاحب کی بات اب درست ثابت ہوئی جب شاہ صاحب نے پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اخوانی فکر سے وابستہ وزیراعظم سعیدالدین عثمانی اس فیصلے سے خوش نہیں، لیکن قہر درویش بر جان درویش۔
مراکش کی تاریخ، جغرافیہ اور سیاست کے مختصر تعارف کے بعد اب آتے ہیں اپنے موضوع کی طرف۔
اسرائیلی سالمیت کے تحفظ کو صدر ٹرمپ نے اپنا مذہبی فریضہ قرار دیا تھا، اور وہ اپنی حلف برداری کے پہلے دن سے اس مشن پر انتہائی اخلاص سے کام کررہے ہیں۔ انھوں نے بیت المقدس پر اسرائیل کا قبضہ تسلیم کرتے ہوئے امریکہ کا سفارت خانہ یروشلم منتقل کردیا، اور پھر گولان کے اسرائیل سے الحاق کی توثیق کرکے یہ اعلان کردیا کہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ عرب علاقوں کو وہ اسرائیل کا اٹوٹ انگ سمجھتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات استوار کریں۔ اسی ایجنڈے کے ساتھ صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے صرف چار ماہ بعد مئی 2017ء میں سعودی عرب کا دورہ کیا۔ اس تفصیلی دورے کو سربراہی کانفرنس یا Riyadh Summit کا نام دیا گیا۔ یہ دراصل چوٹی کے تین اجلاس تھے۔ یعنی صدر ٹرمپ اور سعودی شاہی خاندان کے درمیان گفتگو، امریکی صدر اور خلیجی ممالک کے سربراہان کے مابین ملاقات کے علاوہ امریکی صدر نے اسلامی ممالک کی قیادت سے بات چیت کی، جس میں پاکستان سمیت 54 مسلم ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ایران اور شام کو دعوت نہیں دی گئی، جبکہ ترکی نے اس بنیاد پر کانفرنس کا بائیکاٹ کیا کہ فلسطین کو ایک خودمختار ملک کی حیثیت سے مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ اس دوران سعودی فرماں روا نے امربالمعروف کا زبردست مظاہرہ کیا۔ مہمانوں کو رات کے کھانے کے بعد جب قہوہ پیش کیا گیا تو امریکی صدر نے فنجان بائیں ہاتھ میں لیا۔ یہ دیکھ کر سعودی بادشاہ نے اپنے مہمان سے کہا کہ ہمیں دائیں ہاتھ سے کھانے اور پینے کی ہدایت کی گئی ہے لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ فنجان دائیں ہاتھ میں رکھیں۔ صدر ٹرمپ نے شکریے کے ساتھ قہوے کی پیالی دائیں ہاتھ میں کرلی۔ اس ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے مسلم رہنمائوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرلیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں بدامنی سے ساری دنیا متاثر ہورہی ہے اور یہ ضروری ہے کہ عرب اور اسرائیلی ماضی کو بھول کر دوستی کا نیا باب کھولیں۔ اس موقع پر شاہ سلمان نے بہت صراحت کے ساتھ او آئی سی کا نقطہ نظر دہرایا کہ 1967ء کی سرحدوں کے مطابق آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے مسلم دنیا اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گی۔ اس دوران یہ حقیقت بھی امریکی صدر کے گوش گزار کردی گئی کہ مصر اسرائیل معاہدے اور اس کے بعد اوسلو مذاکرات میں بھی اسرائیل نے آزاد و خودمختار فلسطین کو تسلیم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
اس سال کے آغاز پر صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ امن منصوبے کا اعلان کیا جسے deal of the century کا نام دیا گیا۔ اس پیشکش کو سادہ سے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ ریاست و مملکت کا سودا سر سے نکال کر فلسطینی اسرائیل میں دوسرے درجے کی شہریت قبول کرلیں تو اُن کے لیے مصر کی سرحد پر ایک جدید ترین صنعتی شہر اور فارم ہائوس کی شکل میں عظیم الشان زراعتی مرکز تعمیر کیا جائے گا۔ امریکہ کے دامادِ اول اور مشرق وسطیٰ کے امور پر صدر ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کشنر نے معاہدے کے اقتصادی پہلو کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ امن کے قیام سے فلسطینیوں کے لیے خوشی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ اس نئے منصوبے پر 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ فلسطینی ریاست کے جو خدوخال پیش کیے گئے اُس کے مطابق فلسطین اسرائیل سے گھری چند بستیوں پر مشتمل ایک کالونی ہوگا جسے فوج رکھنے کی اجازت نہیں، اور اس کی سرحدوں پر اسرائیلی فوج تعینات رہے گی۔ یعنی جھنڈے اور پاسپورٹ کے سوا استقلال و اختیار کی کوئی علامت فلسطینی ریاست کے پاس نہ ہوگی۔ حسبِ توقع مقتدرہ فلسطین اور حماس نے یہ dealترنت مسترد کردی۔ فلسطینیوں کے صاف انکار پر امریکہ بہادر نے عرب اسرائیل تنازعے سے فلسطین کے معاملے کو نکال کر لاٹھی اور گاجر کی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ یعنی حکم عدولی کی صورت میں کڑی سزا، اور تابعداری پر شاندار پیشکش۔
خلیجی ممالک کو ایران کا خوف دلایا گیا کہ اگر امریکہ ان ملکوں کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لے تو ایران چند ہی گھنٹوں میں ان شیوخ و ملوک کا تختہ الٹ سکتا ہے۔ جناب کشنر نے اپنے جگری دوستوں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ان کے اماراتی ہم منصب محمد بن زید کو سمجھایا کہ امریکہ بہت دور ہے اور پھر کانگریس اور سینیٹ کی موشگافیاں عین وقت پر مشکلات بھی پیدا کرسکتی ہیں، اس کے مقابلے میں اسرائیل پڑوسی ہے اور ایران کے بارے میں اسے بھی خطرات لاحق ہیں، چنانچہ اسرائیل سے دوستانہ تعلقات خلیجی ممالک کے مفاد میں ہیں۔
ستمبر میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرلیے۔ اس نئی تحریک کو صدر ٹرمپ نے معاہدئہ ابراہیم کا نام دیا، یعنی حضرت ابراہیمؑ سے منسوب تینوں ادیان کے ماننے والوں کے درمیان مصالحت۔ اسی دوران یورپ کے ایک مسلم اکثریتی ملک کوسووو نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرلیا۔ صدر ٹرمپ کی خواہش تھی کہ پاکستان اور سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرلیں۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے دوٹوک اعلان کیا کہ وہ کسی صورت اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ سعودی عرب کی جانب سے آنے والے تمام اشارے مثبت ہیں لیکن اب تک ریاض نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان نہیں کیا۔
خلیجی ممالک کے ساتھ شمالی افریقہ کے ممالک کو بھی ترغیب دی گئی کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرلیں۔ سوڈان دہشت گردوں کی اعانت کرنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل ہونے کی وجہ سے سخت معاشی پابندیوں کا شکار تھا۔ خرطوم کو پیشکش کی گئی کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی صورت میں اسے دہشت گرد ملکوں کی فہرست سے نکال دیا جائے گا۔ لیکن یہ سب کچھ مفت نہیں بلکہ معافی کے عوض دہشت گرد واقعات کے متاثرین کی امداد کے لیے سوڈان سے 40 کروڑ ڈالر تاوان بھی وصول کیا گیا ہے۔
مراکش کے معاملے میں شہنشاہانِ برصغیر کے سے کروفر کا مظاہرہ کیا گیا کہ جیسے اچھے وقتوں میں ظل الٰہی خوش ہوکر لوگوں کو رقبے اور مربعے بخش دیا کرتے تھے، ایسے ہی اسرائیل سے سفارتی تعلقات کے عوض مراکش کو مغربی صحارا عطا کردیا گیا۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے تنازع مغربی صحارا پر چند سطور:
مراکش کے جنوب مغرب میں الجزائر کی سرحد سے بحراوقیانوس کے کنارے 2لاکھ 66ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل اس صحرا کے بڑے حصے پر مراکش کی عمل داری، جبکہ 20 فیصد علاقہ جمہوریہ صحراویہ کے نام سے خودمختار ریاست ہے۔ اس لق و دق صحرا کے بڑا حصے میں زندگی کے آثار نہیں، اور یہاں آباد 5 لاکھ افراد کی اکثریت ساحلی علاقوں میں رہائش پذیر ہے۔ سوا لاکھ کےقریب افراد بحر اوقیانوس کے کنارے دارالحکومت العیون (Laayoune)میں رہتے ہیں۔ یہاں رہنے والوں کی اکثریت بربر نسل کے عرب مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ مشہور مسلم جرنیل طارق بن زیاد بھی بربر تھے۔ مغربی صحارا میں فاسفیٹ کے بڑے ذخائر ہیں اور بحر اوقیانوس میں تیل و گیس کے امکانات خاصے روشن ہیں۔
مغربی صحارا پر سن1700ء میں ہسپانیہ نے قبضہ کرکے اس کی بندرگاہ غلاموں کی تجارت کے لیے وقف کردی۔ مسلح یورپی قزاق العیون کی بندرگاہ پر اترتے اور انسانوں کو گھیر کر جانوروں کی طرح جہاز پر سوار کرکے یورپ روانہ کردیا جاتا، جہاں ہالینڈ میں روٹر ڈیم (Rotterdam)کی بندرگاہ پر غلاموں کی منڈیاں قائم کی گئی تھیں۔
1975ء میں ہسپانیہ کے جنرل فرانکو نے صحارا کو موریطانیہ اور مراکش کے حوالے کردیا۔ شمالی علاقہ جو رقبے کے اعتبار سے دو تہائی سے زیادہ ہے، مراکش کو دے دیا گیا۔ یہ علاقہ مراکش کا جنوبی صوبہ کہلاتا ہے۔ جنوب کا حصہ جسے جنرل فرانکو نے موریطانیہ کے حوالے کیا، مغربی تیرس یا تیرس الغربیہ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔
علاقے کے عوام نے اس تقسیم کو قبول نہیں کیا، وہ ایک آزاد صحراوی ریاست قائم کرنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لیے پاپولر محاذ برائے آزادی کے نام سے مزاحمتی تحریک برسوں سے سرگرم تھی۔ قارئین نے پولیساریو (POLISARIO) فرنٹ کا نام سنا ہوگا جو محاذ کا ہسپانوی مخفف ہے۔ الجزائر پولیساریو کو مالی اور عسکری مدد فراہم کررہا ہے، اسی بنا پر رباط اور الجزائر کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ پولیساریو اور مراکشی فوج کے درمیان مسلح تصادم کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ اقوام متحدہ کی کوششوں سے 1991ء میں اس شرط پر جنگ بندی ہوئی کہ صحارا کی قسمت کا فیصلہ اگلے سال آزادانہ استصوابِ رائے سے ہوگا۔ ریفرنڈم میں صحراوی عوام سے دریافت کیا جائے گا کہ ”وہ مراکش کا حصہ رہنا چاہتے ہیں یا پولیساریو کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے آزاد ریاست کا قیام چاہتے ہیں؟“ ریفرنڈم کے لیے جب ووٹر فہرست کی تیاری کا کام شروع ہوا تو رائے دہندگان کی شناخت کا مسئلہ سامنے آیا۔ صحارا کی قبائلی نوعیت کی بنا پر شہریوں کے پاس کوئی مستند شناختی دستاویز نہیں، چنانچہ انھیں شناختی کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ ہوا، لیکن مراکش کے اعتراضات کی بنا پر ووٹر رجسٹریشن کے طریقہ کار پر اتفاقِ رائے نہ ہوسکا اور ریفرنڈم ملتوی ہوگیا۔ اس دوران پولیساریو نے اقوام متحدہ کے نام ایک چٹھی میں شکایت کی کہ مراکش علاقے کی نسلی ہیئت تبدیل کرنے کے لیے بڑی تعداد میں مراکشیوں کو ساحلی علاقوں میں آباد کررہا ہے۔
خونریز تصادم کے بعد بات چیت دوبارہ شروع ہوئی، اور اس بار امریکی شہر ہیوسٹن کی جامعہ رائس (Rice University) میں مذاکرات ہوئے۔ 1997ء میں ہونے والے ان مذاکرات کے سہولت کار اقوام متحدہ کے نمائندے جیمز بیکر تھے۔ چنانچہ اسے ”اعلانِ ہیوسٹن“ کے علاوہ ”بیکر معاہدہ“ بھی کہتے ہیں۔ ہیوسٹن سے پہلے جناب بیکر کی سربراہی میں پولیساریو اور مراکش کے درمیان پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں ووٹروں کی شناخت کے معاملے پر اصولی اتفاق ہوچکا تھا۔
معاہدے کے باوجود عملی طور پر کام شروع نہ ہوسکا اور 2004ء میں مراکش اعلانِ ہیوسٹن سے یک طرفہ طور پر دست بردار ہوگیا۔ بیکر منصوبہ مسترد کرکے مراکش نے ریفرنڈم کے بجائے اپنے زیرانتظام علاقے میں شاہی مجلس شوریٰ برائے امور صحارا قائم کردی جس کے عربی املا کا مخخف CORCASہے۔ رباط کا اصرار ہے کہ اس نے CORCAS کی شکل میں صحراوی عوام کو مکمل خودمختاری عطا کردی ہے لہٰذا ریفرنڈم کی کوئی ضرورت نہیں۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے شاہی مجلس شوریٰ کے ارکان کو بادشاہ سلامت خود نامزد کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے مغربی صحارا پر مراکش کے قبضے کو تسلیم کرلیا ہے۔ اپنے ایک ٹویٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ ”مراکش نے امریکہ کو اپنی آزادی کے ساتھ ہی تسلیم کرلیا تھا، اور ہم اب مغربی صحارا میں اس کی خودمختاری کو تسلیم کررہے ہیں“۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے امریکی صدر کے فیصلے کو صحارا امن کے لیے بڑی پیش رفت قرار دیا ہے، لیکن یہ اعلان صحراوی عوام کے لیے مایوس کن ہے جو کئی دہائیوں سے اس علاقے کی آزادی کے خواہش مند ہیں۔
جیسے ”معافی“ کے عوض امریکہ نے تاوان کی مد میں خرطوم سے 40 کروڑ ڈالر وصول کیے، ویسے ہی مغربی صحارا حوالہ کرنے کی قیمت اسلحہ کا سودا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بات چیت کے دوران مراکشی بادشاہ کو باور کرا دیا کہ پولیساریو فرنٹ مغربی صحارا پر رباط کے قبضے کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرے گا، چنانچہ باغیوں کا دماغ درست کرنے کے لیے مراکش کو جدید امریکی اسلحہ کی ضرورت ہے۔ امریکی وزارتِ دفاع کے ذرائع نے بتایا ہے کہ مراکش امریکہ سے جدید ترین ڈرون، صحرائی جنگ کے لیے ٹینک اور آبدوزیں خریدے گا، جس کی مالیت ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ اسی کے ساتھ اسرائیل نے سیکورٹی کے حوالے سے جاسوسی کی خدمات اور گوریلوں سے لڑنے کے لیے ہلکے ہتھیاروں کی پیشکش کی ہے جس کا حجم 20 کروڑ ٖڈالر بتایا جارہا ہے۔
حسبِ توقع پولیساریو فرنٹ نے اس معاہدے کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ اقوام متحدہ میں فرنٹ کے نمائندے سیدی عمر نے اس اعلان پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے ”مہذب دنیا“ کو یاد دلایا کہ علاقوں کی قانونی حیثیت کا تعین بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہوتا ہے، لیکن حالیہ اقدامات سے ایسا لگتا ہے کہ مراکش مغربی صحارا کے کچھ حصوں پر غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی روح فروخت کررہا ہے۔ پولیساریو فرنٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ”امریکی پالیسی میں تبدیلی سے اس تنازعے کی حقیقت تبدیل ہوگی اور نہ مغربی صحارا کے عوام حقِ خودارادیت کے لیے اپنی مقدس جدوجہد سے دست بردار ہوں گے۔“
اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجیرک نے انکشاف کیا کہ امن کے بین الاقوامی ادارے کو بھی باقی دنیا کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹ سے اس پیش رفت کا علم ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کا مؤقف اس معاملے پر تبدیل نہیں ہوا، اور یہ معاملہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مطابق حل ہونا چاہیے۔
امریکہ کی ثالثی میں مراکش اور اسرائیل کے درمیان ہونے والا معاہدہ کسی بھی زاویے سے سفارت کاری نظر نہیں آتا، یہ قبضہ مافیا کے درمیان ڈان کی سربراہی میں ایک دوسرے کی پشت پناہی کا معاہدہ ہے۔

….٭….٭….
اب آپ مسعود ابدالی کی پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdali پر بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ ہماری ویب سائٹwww.masoodabdali.comپر تشریف لائیں۔

Share this: