بازوؤں میں بلڈ پریشر پیمائش کا فرق مضرِ صحت؟۔

Print Friendly, PDF & Email

دنیا کے کئی ممالک میں کی گئی ہزاروں افراد پر تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ اگر دونوں بازوؤں سے لیے گئے بلڈ پریشر میں واضح اور مستقل فرق ہو تو اس مرد و خاتون میں دل کے دورے اور فالج کا خطرہ زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ اس ضمن میں یونیورسٹی آف ایکسیٹر نے عالمی INTERPRESS-IPD تعاون کے تحت ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکہ کے 24 ممالک میںکیے گئے 54 ہزار مریضوں کے سروے کا دوبارہ جائزہ لیا ہے جسے میٹا مطالعہ کہا جاتا ہے۔ اس تحقیق کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ ریسرچ کے تعاون سے مکمل کیا گیا اور اس کی تحقیقات ہائپرٹینشن نامی جرنل میں شائع کی گئی ہے۔
تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ دونوں بازوؤں سے لیے گئے بلڈ پریشر کا فرق جتنا زیادہ ہوگا اور مستقل ہوگا اس مریض کے لیے خطرہ اتنا ہی بڑا ہوگا۔ اسی بنا پر دونوں بازوؤں سے بلڈ پریشر لینے کے رجحان پر زور دیا جارہا ہے۔ اگرچہ بعض ماہرین اس پر پہلے بھی زور دیتے آئے ہیں لیکن اب اس پر خصوصی توجہ دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ یہ مطالعہ دس برس تک کیا گیا ہے اور اس میں دونوں بازوؤں میں زائد فرق والے مریضوں میں بطورِ خاص دل کے دورے، امراضِ قلب اور فالج کو دیکھا گیا ہے۔ ایکسیٹر میڈیکل اسکول کے ڈاکٹر کرس کلارک اس تحقیق کے سربراہ ہیں اور وہ اب دونوں بازوؤں سے بلڈ پریشر لینے کو معمول بنانا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تحقیق پہلے ہی بتاتی ہے کہ دونوں بازوؤں میں بلڈ پریشر کا فرق صحت کی خرابی کو ظاہر کرتا ہے اور ہم نے اس کا مزید گہرا مطالعہ کرکے اسے تفصیل سے دیکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر دونوں بازوؤں کی ریڈنگ میں 15 ایم ایم ایچ جی کا فرق مستقل ہوجائے تو اس سے دل کے متاثر ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اس طرح مستقبل کے کسی بھی مریض کو پہلے ہی خبردار کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ جن افراد کے دونوں بازوؤں کے بلڈ پریشر میں 10 ایم ایم ایچ جی کا فرق ہو تو ان کی 11 فیصد تعداد کو پہلے ہی بلڈ پریشر کا مریض پایا گیا ہے۔

زوم کے جواب میں واٹس ایپ، ڈیسک ٹاپ ویڈیو کال فیچر پیش کرے گا

رائٹرز کو واٹس ایپ کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ گوگل میٹ اور زوم جیسی بڑی کمپنیوں کے مقابلے میں واٹس ایپ کا ڈیسک ٹاپ ورژن قدرے زائد سہولیات کے ساتھ پیش کیا جائے گا جس میں ویڈیو کالز کے دورانیے میں اضافہ اور شرکا کی قدرے بہتر اور بڑی تصاویر شامل ہوں گی۔ تاہم واٹس ایپ کو اب بھی زوم اور گوگل میٹ پر سبقت یوں حاصل ہے کہ اس پر انفرادی کال، میسج اور ویڈیو کال کی سہولت موجود ہے۔ واٹس ایپ نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ زوم کی طرح ڈیسک ٹاپ فیچر پر ایک عرصے سے کام ہورہا ہے اور اب کچھ صارفین کو یہ سہولت دے دی گئی ہے۔ اس سہولت کے تحت واٹس ایپ کو ڈیسک ٹاپ سے منسلک کرکے اسے تجرباتی انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس سال جنوری میں شروع ہونے والی کورونا وائرس کی وبا کا کہیں دوسرا تو کہیں تیسرا دور چل رہا ہے۔ لوگ اپنے گھروں تک محصور ہیں اور زوم جیسے سافٹ ویئر آن لائن تدریس، ملاقاتوں اور اہم کاروباری اجتماعات کا متبادل بن چکے ہیں۔ اسی خبر کے تناظر میں چند روز قبل زوم کمپنی نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ کرسمس اور چھٹیوں کے تناظر میں مفت سروس استعمال کرنے والے صارفین کے لیے 40 منٹ کی حد ختم کررہی ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں نے کہا ہے کہ واٹس ایپ زوم کی مارکیٹ اور صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرسکتا ہے اور زوم نے اسی پس منظر میں اپنی پالیسیوں میں نرمی کی ہے۔ تاہم توقع ہے کہ زوم ویڈیو کانفرنس مزید سہولیات اور جدت بھی پیش کرسکتا ہے۔

ریڈار لہروں سے عمارتوں کے اندر اور آرپار دیکھنے والا”جاسوس“ سیارچہ

امریکہ کی ایک نجی خلائی کمپنی نے چند روز پہلے اپنے طاقتور ترین ریڈار سیارچے (ریڈار سیٹلائٹ) سے کھینچی ہوئی ایسی تصویریں جاری کی ہیں جو نہ صرف بہت تفصیلی ہیں بلکہ ان میں عمارتوں کے اندر اور آرپار تک دیکھا جاسکتا ہے۔ اس سال اگست میں ’’کپیلا اسپیس‘‘ نامی ایک امریکی خلائی کمپنی نے اپنا دوسرا ریڈار سیارچہ ’’کپیلا 2‘‘ خلا میں بھیجا تھا جس نے گزشتہ ہفتے سے اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کرنا شروع کیا ہے۔ مذکورہ تصاویر بھی اسی سیارچے سے کھینچی گئی ہیں۔ ان ریڈار تصاویر کی خاص بات یہ ہے کہ ان کا ریزولیوشن 0.5 میٹر ہے، یعنی ایسی ہر تصویر کا ایک نقطہ (پکسل) زمین پر 50 سینٹی میٹر لمبی اور 50 سینٹی میٹر چوڑی جگہ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی کامیابی ہے جو تجارتی سیارچوں میں اس سے پہلے کبھی حاصل نہیں کی گئی تھی۔ توقع ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو اور بھی بہتر بناتے ہوئے ریڈار سیارچوں کی تصاویر کا ریزولیوشن مزید بڑھایا جاسکے گا۔ بظاہر یہ ایک نجی اور تجارتی منصوبہ ہے لیکن اس کے فوجی (عسکری) پہلو بھی خصوصی اہمیت رکھتے ہیں: ’’کپیلا سٹیلائٹ سسٹم‘‘ کے ذریعے کنکریٹ کی موٹی دیواروں کے بھی آرپار دیکھا جاسکتا ہے۔ یعنی پینٹاگون انہی سیارچوں کو استعمال کرتے ہوئے مختلف ممالک کی فوجی اور خفیہ تنصیبات کے اندر بھی دیکھ سکے گا کہ وہاں کیا کچھ موجود ہے۔ اس طرح ’’خلائی جاسوسی‘‘ کے میدان میں ایک نیا دور شروع ہوجائے گا جب ’’سات پردوں میں چھپی چیزیں‘‘ بھی امریکہ کی نظروں میں آجائیں گی۔

Share this: