ہماری تعلیم اور ہماری جامعات صورت حال اور تقاضے

Print Friendly, PDF & Email

مصنف : ڈاکٹر معین الدین عقیل
صفحات : 270 قیمت 600 روپے
ناشر : ادارہ تعلیمی تحقیق تنظیم اساتذہ پاکستان
8اے ذیلدار پارک 147 ایبک روڈ لاہور

پاکستان بننے کے بعد تعلیم پر اتنا لکھا گیا ہے کہ اس کو مرتب کیا جائے تو سینکڑوں مجلات میں بھی نہ سمائے، لیکن ہماری حکومتیں غیر ملکی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے۔ تعلیم کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ اس ملک میں تعلیمی نظام کو تباہ کرنے والا ذوالفقار علی بھٹو کا تعلیم کو قومی ملکیت لینے کا عمل ہے۔ آج تعلیم کی اینٹ سے اینٹ بج گئی ہے، اس صورت حال کا تجزیہ اور اصلاح کی کوششیں بھی ہوتی رہیں ہیں۔ ادارہ تعلیمی تحقیق، تنظیم اساتذہ پاکستان کا فعال حصہ ہے، جس کے تحت ایک ماہوار مجلہ ’’افکار معلم‘‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے اور تعلیمی مسائل پر گراں قدر کتب بھی شائع ہوتی ہیں جن میں سے ایک زیر نظر کتاب ہماری تعلیم اور ہماری جامعات بھی ہے۔ یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے۔ جناب ڈاکٹر ممتاز احمدسالک ڈائریکٹر ادارہ تعلیمی تحقیق تحریر فرماتے ہیں:۔
’’مسلمانوں کا نظام تعلیم ایسا لاینحل مسئلہ بن چکا ہے کہ اہل علم اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے متعدد تجاویز پیش کر چکے ہیں۔ لیکن یہ بیل منڈھے نہیں چڑھی۔ پاک و ہند کے نظام تعلیم، اس کی اصلاح اور اسے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق بنانے کے لیے متعدد تجربات ہو چکے ہیں۔ آج تک جتنی تعلیمی پالیسیاں بنائی گئیں اس مسئلے کے حل میں ناکام رہیں۔
نظام تعلیم کسی قوم کے عقاید و نظریات، تاریخ، تہذیب و ثقافت، روایات و مسلمات، اور اس قوم کے فکری تسلسل کو عصری تقاضوں کے مطابق نئی نسل تک تعلیم و تدریس کے ذریعے منتقل کرنے کا نام ہے۔ صدیوں سے مسلمانوں کا ایک نظام تعلیم مسلم ممالک میں رائج تھا۔ یہ نظام تعلیم مسلمانوں کی عصری ضروریات پوری کرتا تھا، دفتری امور کی انجام دہی، تجارت اور زندگی کے جملہ امور نپٹانے کے لیے نوشت خواند کا سلسلہ قائم تھا اس کے علاوہ شمشیر زنی، نیزہ بازی، تیراکی، گھڑ سواری اور دیگر جسمانی صحت کے لوازم کا اہتمام بھی ہوتا تھا۔ یہ سب ضروریات اسی وقت کا نظام تعلیم ہی پورا کرتا تھا۔ اگرچہ اورنگ زیب عالم گیر کو اپنے استاد محترم سے یہ شکایت ہی رہی کہ انہوں نے انہیں عصر حاضر کے متعلق خصوصا مغربی ممالک کے حالات اور ان کی علمی پیش رفت کے بارے میں کیوں نہیں بتایا۔ دینی مدارس میں رزق حلال کے لیے علوم و فنون بھی سکھائے جاتے تھے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج دینی مدارس قومی امور سے کٹے ہوئے کیوں ہیں۔ انہیں قومی تعلیمی اور بین الاقوامی امور کی سرانجام دہی میں شمولیت کا موقع کیوں نہیں ملتا۔ ان کا نظامِ تعلیم اور نصاب تعلیم عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔
علوم میں تحقیق و تدقیق کے باعث بے پناہ ترقی ہوئی۔ سیاسی تبدیلیوں میں سب سے بڑی تبدیلی نظام مملکت کی تبدیلی تھی۔ ملوکیت اور مطلق العنان بادشاہت ختم ہو گئی، جمہوری انداز نے انسانی فکر کواور زیادہ بالغ نظر کر دیا، مغربی استعماری طاقتوں کی طرف سے ملک گیری کی مہموں سے مسلمان ممالک کے علاوہ پوری دنیا متاثر ہوئی۔ چنانچہ مغربی طاقتوں کے سیاسی تسلط کے ساتھ ساتھ مغربی علوم و فنون بھی دنیا بھر میں پھیلے۔
مسلم ممالک میں مغربی علوم و فنون کے متعلق خذماصفاودع ما کے طرز عمل اختیار کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ قوم کا ایک بڑا حصہ مغربی علوم و فنون کی طرف بہت دیر اوربہت کشمکش کے بعد مائل ہوا، جو لوگ جدید تعلیم سے آراستہ ہوئے زمام کار انہی کے ہاتھ میں آئی۔ قدیم نظام تعلیم کے پروردہ حضرات کاروبار حیات کے جدید اسلوب کی گوناگوں سرگرمیوں سے دور ہٹتے گئے۔
زیر نظر کتاب میں قدیم و جدید نظامِ حیات کے ترک و اختیار کی کشمکش میں اربابِ دانش کی کارگزاریوں کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ سرسید احمد خاں کے نقطۂ نظر نے کامیابی حاصل کی یا اصحاب دیوبند کے طرز عمل کو پذیرائی حاصل ہوئی، تمام ممالک میں قدیم و جدید کی یہ کشمکش آج بھی جاری ہے۔ متحدہ ہندوستان میں اہل علم نے قدیم و جدید نظام تعلیم کے متعلق اپنا اپنا نقطہ پیش کیا۔ لیکن کتنے افسوس کا مقام ہے کہ مسلم ممالک اور برعظیم پاک و ہند میں یہ مسئلہ آج بھی لاینحل ہے۔ دینی مدارس اپنی روش میں تبدیلی پید کرنے سے گریزاں ہیں۔
گزشتہ صدی کے دوسرے عشرے کے اختتام پر اسیر مالٹا نے اپنے احساسات کا اظہار اس طرح کیا تھاکہ جب ’’میں نے دیکھا کہ میرے اس درد کے غم خوار، جس میں میری ہڈیاں پگھلی جارہی ہیں مدرسوں اور خانقاہوں میں کم اور اسکولوں اور کالجوں میں زیادہ ہیں، تو میں نے اور میرے چند مخلص احباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا۔ اس طرح ہم نے … دیوبند اور علی گڑھ کا رشتہ جوڑا‘‘۔ اے کاش اس ارشاد گرامی کی اہمیت اور اس میں دیے گئے پیغام کو محسوس کیا جاتا اور ملک بھر کے دینی مدارس اسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہوتے تو آج قدیم وجدید کی یہ خلیج ختم ہو گئی ہوتی۔ یہ پیغام آج بھی موجود ہے۔ اے کاش اسے سمجھا جائے اور اسے اختیار کیا جائے۔
مصنف نے اعلیٰ تعلیم کے زوال پذیر معیار پر جس کرب کا اظہار کیا ہے، اس پر ملک بھر کے اہل علم اور حکام بالا کو خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ ہائر ایجوکیشن اور وزارتِ تعلیم تو اس کی ذمہ دار ہے ہی، تعلیم سے متعلق تنظیموں کو بھی اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ قومی اسمبلی میں یہ معاملہ زیر بحث آنا چاہیے۔ جامعہ کراچی میں ایک غیر معیاری مقالے کے متعلق پروفیسر کو پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا گیا اور سیاسی اثر و رسوخ سے یہ محقق ترقی کی سیڑھیاں چڑھتا گیا۔ کتنی ہی جامعات میں ایسی غیر معیاری تحقیق ہو رہی ہے۔ نوٹس لینا ضروری ہے۔
مصنف نے بعض جامعات کے علمی مجلات کا بھی تعارف کرایا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس کتاب سے قارئین کے علم میں اضافہ ہو گا اور موجودہ نظام تعلیم کی بہتری کے ساتھ ساتھ جامعات کی علمی صورت حال میں بھی بہتری آئے گی‘‘۔
ڈاکٹر معین الدین عقیل رقم طراز ہیں:۔
ہماری بے مقصد اور منفی سیاست نے جس طرح ہماری قوم اور ہمارے ملک کو کہیں کا نہ رکھا، اس نے تعلیم کو بھی اس قابل نہ رکھا کہ وہ اپنا مثبت ومؤثر کردار ادا کر سکتی اور قوم و ملک کو صحیح راستے پر گامزن رکھتی اور ان کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیتی۔ بلکہ المیہ یہ ہے کہ تعلیم کا بگاڑ ہی ہماری سیاست اور ہمارے معاشرے کے بگاڑ کا واقعتاً اصل محرک و سبب بنا ہے۔
اس کتاب میں شامل اکثر تحریروں میں، جومختلف وقتوں اور مختلف ضرورتوں کے تحت لکھی گئی ہیں، جن میں مشمولہ موضوعات اور عنوانات کے علاوہ ان حقائق کی طرف بھی کھلے یا دبے لفظوں میں اشارے موجود ہیں اور یہ پیغام بھی ہے کہ کاش ہر سطح کے ہمارے اساتذہ میں مطلوبہ اہلیت و قابلیت ہی نہیں، فرض شناسی اور دیانت داری کے حامل بھی ہوں تا کہ ان اوصاف کے وسیلے سے ہماری قوم اور ہمارا ملک دونوں، مستقبل میں ان نقصانات سے محفوظ رہیں جن سے یہ ابتدا ہی دوچار ہیں۔
کتاب جن مقالات پر مشتمل ہے، وہ درج ذیل ہیں:۔
ہماری تعلیم: جنوبی ایشیا نو آبادیاتی عہد اور تعلیم: مسلمانوں میں تعلیمی قومیت کا فروغ۔ مسلم ہندوستان میں قدیم وجدید علوم کی آویزش: شبلی کا زاویۂ نظر۔ مملکت حیدر آباد کے تعلیمی نظام پر جاپان کے اثرات: سر سید راس مسعود کا سفر جاپان اور اس کے تعلیمی حاصلات۔ ’’السبیل‘‘ ایک علمی اور تعلیمی دستاویز۔ ہمارا نظام تعلیم اور قومی تقاضے۔ تعلیم پاکستان میں۔ اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے قابلِ توجہ مسائل۔ قومی شعور، ادب اور نصاب تعلیم۔ ملک میں اعلیٰ تعلیم کا عبرت ناک زوال!۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان: تازہ صورت حال۔
ہماری جامعات: ہماری جامعات میں تعلیم و تحقیق کے ستر سال۔ جامعات میں تحقیق کا فروغ: صورت حال اور مشکلات۔ معاشرتی علوم اور ادبیات میں تحقیق: جامعاتی تحقیق کے چند عمومی مسائل اور تجاویز۔ جامعات میں غیر معیاری تحقیق کا فروغ: ذمہ دار کون؟۔ ہماری جامعات کے تحقیقی مجلوں کا معیار: المیہ اور سدباب۔ جامعات کے تحقیقی مجلے: معیار اور تقاضے۔ ہماری جامعات کا زوال اور کتب خانوں کی تباہی۔ جامعات میں قومی زبان اور قومی امنگوں کا قتل عام۔ ضمیمہ: جامعات میں تعلیم کا بگاڑ، اصلاح کیوں کر ہو؟۔یہ گراں قدر کتاب تعلیم اور تعلیمی نظام سے متعلق تمام حضرات کو زیر مطالعہ رکھنی چاہیے۔ کتاب مجلد ہے اور بڑے سائز میں ہے۔

Share this: