زمین کی انوکھی کہانی

Print Friendly, PDF & Email

مصنف : ایرک ڈوبے
مترجم : گل رعنا صدیقی
ملنے کا پتا : بی۔ ایس 48، ظفرٹائون، لانڈھی، کراچی
رابطہ : 03424198208، 03333718343

آج سے تقریباً چار ساڑھے چار سو سال قبل ایک ماہر فلکیات گیلیلیو نے کہا تھا کہ زمین گول ہے اور سورج کے گرد گردش کرتی ہے۔ اس کا یہ کہنا تھا کہ چرچ نے جو اُس وقت ریاست کا درجہ رکھتا تھا، گیلیلیو پر کفر، ہرزہ سرائی اور توہینِ مذہب کے الزامات لگاکر کٹہرے میں لاکھڑا کیا۔ گیلیلیو جو یونان والے سقراط کے انجام سے واقف تھا، اس نے فی الفور چرچ (کلیسا) کے ٹھیکیداروں کی خدمت میں معافی نامہ پیش کردیا اور اپنے گستاخانہ اور کفریہ نظریات سے تائب ہونے کا اعلان کیا، لیکن اس کے باوجود اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی اور وہ اپنے گھر میں آخری وقت تک نظربند رہا، اور وہیں اس کی موت واقع ہوگئی۔ اس کی موت کے تقریباً 359 سال کے بعد اکتوبر 1992ء میں ویٹی کن سٹی کے پوپ جان پال دوم نے ایک تقریب میں اعتراف کیا کہ گیلیلیو کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی اور اس زیادتی پر وہ اپنے بزرگوں یعنی کلیسا کے سابق عہدے داروں کی جانب سے معذرت خواہ ہیں۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ فطرت کے نظارے خدا کی حمد کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اب گیلیلیو کو ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، مگر اس سے تحقیق کرنے والوں، سوچنے والوں اور کھوجنے والوں کی اہمیت ضرور ظاہر ہوتی ہے۔
یہ سارا قصہ سنانے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں ایک کتاب پیش کی گئی جس کا عنوان ہے ”زمین کی انوکھی کہانی“۔
یہ کتاب آشیانہ پبلی کیشنز سے شائع کی گئی ہے۔ کتاب کے مصنف ”ایرک ڈوبے“ ہیں اور اسے گل رعنا صدیقی نے اُردو کا پیراہن پہنایا ہے۔
کتاب یوں تو بچوں اور چھوٹی عمر کے طالب علموں کے لیے ہے، مگر اس کا موضوع اتنا دل چسپ ہے کہ بڑے بھی مزے لے لے کر پڑھ سکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ موضوع سے یا اس میں پیش کیے گئے نظریات سے اتفاق نہ کریں، اور یہ ہر قاری کا حق ہے، مگر سوچنے کے لیے ایک نئی سمت ضرور دیتا ہے۔ ہمیں وہ دروازہ کبھی بند نہیں کرنا چاہیے جس سے نئے خیالات، نئی سوچ، نکتہ نظر اور طرزِ فکر ہماری زندگیوں میں داخل ہوتے ہیں۔ ہمیں اِنھیں فی الفور مسترد کرنے سے پہلے غور ضرور کرنا چاہیے۔
اب آتے ہیں کتاب پر۔۔۔ سرورق بہت دلکش اور بچوں کو متوجہ کرنے والا ہے۔ کتابت بھی صاف ستھری اور پروف کی غلطیوں سے پاک ہے۔ ترجمہ رواں اور سلیس ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کتاب کے اصل موضوع سے انصاف بھی کرتا ہے۔ تاہم کہیں کہیں موٹی موٹی اصطلاحات غالباً فزکس کی استعمال ہوئی ہیں جس سے روانی میں رکاوٹ آسکتی ہے، مگر یہ کتاب کے موضوع کا ناگزیر حصہ ہے۔
پوری کتاب میں متعدد سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن کے جوابات کی کھوج لگانا ایک دل چسپ کام ہوگا۔ ہمیں تو فی الحال صرف اسی بات پر یقین آیا ہے کہ امریکہ نے چاند پر پہنچنے کا ڈراما رچایا تھا اور پوری دنیا کو اُلّو بنایا تھا۔ اس یقین کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے اس کے بعد بھی دنیا کو اُلّو بنانے کے متعدد تجربات کیے اور سبھی کامیاب رہے۔
ایک اور سوال نے متاثر کیا کہ قطبین کے پار کیا ہے؟ کیا واقعی زمین کی سرحدیں انٹارکٹیکا پر ختم ہوجاتی ہیں؟ یا وہاں کوئی بحریہ ٹائون بن چکا ہے اور ہمیں اس کی خبر نہیں۔
کتاب میں زمین کے گول، بیضوی اور چپٹا ہونے کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ زمین کی گردش، سورج سے زمین کا فاصلہ اور دیگر دل چسپ نکتوں پر سوالیہ نشان لگایا گیا ہے اور ان کا جواب تلاش کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
ایک اور مزے دار موازنہ چاند اور سورج کی روشنی کا کیا گیا ہے، جس پر شاید ہم اپنی روزمرہ زندگی میں غور نہیں کرتے۔ سورج کی روشنی چیزوں کو تازہ رکھتی ہے اور زخموں کو سُکھا دیتی ہے، جراثیم کو مار دیتی ہے۔ جب کہ چاند کی روشنی نم ہوتی ہے اور چیزوں کو خراب کردیتی ہے۔ (شاید یہی وجہ ہے کہ جن شاعروں نے چاند اور چاندنی راتوں کے موضوع پر شاعری کی ان کی گھریلو زندگی خراب رہی)
سورج کا زمین سے کتنا بھی فاصلہ ہو، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیوں کہ وہاں کی سیر ہمارے پروگرام میں کبھی شامل نہیں رہی۔ البتہ سفرنامہ لکھنے والے سوچ لیں اور سورج کا صحیح فاصلہ معلوم کرکے گھر سے نکلیں۔
ویسے مصنف نے ایک مزے دار بات لکھی ہے کہ ہر دفعہ ماپنے کے بعد سائنس دان زمین کا سورج سے فاصلہ بڑھاتے جارہے ہیں۔
رہی بات زمین کے گول، بیضوی یا چپٹا ہونےکی، تو اگر زمین چپٹی ثابت ہوگئی تو گیلیلیو سے ہماری ہمدردی مزید بڑھ جائے گی۔ بے چارہ ناحق اس چپٹے منہ والی زمین کو گول مٹول ثابت کرنے کے چکر میں مارا گیا۔
اور رہے ہم، تو جب ہم خود گول مٹول ہیں اور گول مول باتوں کو پسند کرتے ہیں تو یہ زمین خواہ کتنی ہی چپٹی کیوں نہ ہوجائے، ہم گول ہی رہیں گے اور زندگی کے دائرے میں گول گول گھومتے رہیں گے۔
لیجیے جناب ہم تو پوری کتاب ہی آپ کے سامنے پیش کرنے لگے۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ کچھ آپ خود بھی تو پڑھیں۔
آخر میں پبلشر، مترجم، طیبہ فاطمہ جن کی تحریک پر یہ ترجمہ کیا گیا اور پوری ٹیم کو ایک منفرد پیش کش پر مبارک باد۔ اُمید ہے کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا اور پڑھنے والے اس کی حوصلہ افزائی کریں گے، ان شاء اللہ۔

Share this: