قولِ حسن، قولِ سدید، قولِ حکیم،قولِ مجید

Print Friendly, PDF & Email

(ریڈیائی، نشریاتی تقاریر)
مرتب : ڈاکٹر اعجاز فاروق اکرم
قیمت : فی کتاب 700روپے، اشاعت 2020ء
ناشر : مثال پبلشر ،فیصل آباد
ملنے کا پتا : مثال کتاب گھر، صابریہ سینٹر، گلی نمبر8، منشی محلہ، امین پور بازار فیصل آباد، پنجاب
رابطہ مرتب : 0333-6506585
emial:misaalpb@gmail.com : رابطہ

پبلشر : +92-41-2615359، 0300-6668284

علمی، ادبی اور ریڈیو سننے والے عوامی حلقوں میں معروف ڈاکٹر اعجاز فاروق اکرم عربی زبان و ادب کے پروفیسر ہیں۔ فیصل آباد میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بڑے مناصب پر فائز رہے۔ علما اکیڈمی اور ادارہ معارف اسلامی منصورہ لاہور میں انتظامی، ادارتی اور تحقیقی خدمات کے لیے بطور رفیق وابستہ رہے ہیں۔ عہدِ اورنگ زیب عالمگیر کے معروف کشمیری مفسر، عالم و مصنف اور سلسلہ نقشبندیہ کے صوفی اور صاحب خانقاہ خواجہ معین الدین کی مکمل عربی تفسیر ’’زبدۃ التفاسیر‘‘ کی مخطوط (Manuscript) کی ایڈیٹنگ، مقدمہ، حواشی اور تفسیری نکات کی تخریج کے ڈھائی ہزار صفحات پر مشتمل تحقیقی مقالے کے ذریعے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ڈاکٹریٹ کی تکمیل کی۔ مقبول و معروف قومی پروگرام (ریڈیو) ’’حی علی الفلاح‘‘ کے سلسلے ’’قرآن حکیم اور ہماری زندگی‘‘ کی 70 سیریز میں 490 قرآن لیکچرز زادِ راہ ہیں۔
ڈاکٹر یاسر اعوان (شعبہ علوم اسلامیہ، جی سی یونیورسٹی فیصل آباد) ’’قولِ حسن‘‘ پر تبصرے میں کہتے ہیں: ’’انہوں نے بڑے بڑے اور طویل موضوعات کو چند صفحات میں بیان کرکے گویا دریا کو کوزے میں بند کردیا ہے۔ ان تقاریر سے لکھاری کے علمی مقام و مرتبے کا تعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ان کے انداز تحریر میں اساتذہ اور سلف صالحین کا اندازِ نگارش ملتا ہے۔ انہوں نے نہایت شستہ اور شائستہ اندازِ بیان اختیار کرتے ہوئے اردو نثر نگاری کے اعلیٰ نمونے پیش کیے ہیں جو انشا پردازی کی بھی عمدہ مثال ہیں۔ ان کے لب سے نکلی ہوئی بات جو پہلے ریڈیو پاکستان سے ریڈیائی لہروں پر سفر کرتی ہوئی سامعین کے ذوقِ سماعت کو ایمان آشنا کرگئی اور اب قلم و قرطاس کے ذریعے تحریر بن کر نظر نواز ہوکر سینوں اور دلوں میں اتر گئی۔ ان کی آواز کا دھیماپن، لہجے کی شائستگی، صوت کی نرمی اور طرزِ ادا کی شیرینی ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اپنی تمام تقاریر میں محبت، اتحادِ ملت، ملّی یگانگت، موافقت بین المذاہب ہم آہنگی اور بین المسالک محبت و اخلاص کے پھول کھلائے ہیں۔ ان کے ہاں عشق و سرمستی بھی ہے، محبت و عشقِ رسولؐ کا والہانہ پن بھی، آلِ رسولؐ سے محبت اور وارفتگی بھی ہے اور صحابہ کرامؓ سے عقیدت بھی… اور یہی عصرِ حاضر کا تقاضا بھی ہے‘‘۔
ڈاکٹر زاہد اشرف، مدیراعلیٰ ’’المنبر‘‘ رقم طراز ہیں: ’’ڈاکٹر اعجاز فاروق اکرم ایک نظریاتی آدمی ہیں۔ اس حوالے سے آپ ان کی تقاریر میں نہ کہیں مداہنت دیکھیں گے اور نہ مصلحت کوشی۔ وہ کہیں بھی اپنے ٹھوس نظریاتی تشخص پر کوئی حرف نہیں آنے دیتے۔ موضوع کتنا ہی حساس کیوں نہ ہو وہ اپنے نظریے، جو درحقیقت اسلام کا ہی نظریہ ہے، کے برملا اظہار سے بالکل نہیں چوکتے، وہ سلیقے سے اپنے نظریے کا ابلاغ جانتے ہیں اور اسے حکیمانہ انداز میں پیش کرنے کے گر سے بھی شناسا ہیں۔ ’’جہاد‘‘ کے عنوان تلے ان کی یک جا کی جانے والی تقاریر ان کی اس خوبی اور صلاحیت کی آئینہ دار ہیں‘‘۔
ڈاکٹر صاحب نے چیئرمین ’’اخوت‘‘ ڈاکٹر امجد ثاقب کی کتاب ’’مولو مُصلّی‘‘ پر جو تاثراتی تحریر رقم کی ہے، وہ آپ کی حکایتِ دل بھی ہے اور حکایتِ دوراں بھی۔ سچی قلبی کیفیت کا اظہار آپ کے اندرونی کرب کا پتا دیتا ہے۔ اس اقتباس میں حوصلہ بھی ہے، عزم بھی اور معاشرے کی حقیقی تصویر بھی: ’’روبہ زوال اخلاقی، علمی، فکری، قومی، حتیٰ کہ دینی رویوں کے ماحول میں اللہ کی مخلوق کو اللہ کا کنبہ جان کر اس کی خدمت، اس کے معاشی و معاشرتی مسائل کے حل، ان کے اکرام و احترام، وقار، عزتِ نفس اور حقوق کی عملی جدوجہد، اور وہ بھی کسی ستائش کی تمنا اور صلے کی پروا کیے بغیر کرنا، یقیناً اس لائق ہے کہ اس کی تحسین اور پذیرائی کی جائے۔ ’’اخوت‘‘ نے منزلِ مراد کی جانب کافی سفر طے کرلیا ہے اور حیرت انگیز معرکے سر کرتے ہوئے جابجا پختہ نشان ثبت کیے ہیں۔ اس منزلِ اخوت و محبت کا ایک اہم پڑائو ’’اخوت یونیورسٹی‘‘ کا قیام بھی ہے، جہاں کسی فیس کے بغیر معاشرے کے ’’مولو مصلیوں‘‘ کو اس تعلیم، آگہی، شعور، خود اعتمادی، عزتِ نفس سے بہرہ ور کیا جائے گا، جو انہیں زمانے کے قدم سے قدم ملاکر چلنے اور جینے کا حوصلہ، عزم، پختہ ارادہ اور راہِ عمل سے آشنا کرے۔ انہیں علم و آگہی کی اس قوت سے لیس کیا جائے گا کہ وہ ذلت اور پستی کی دلدل سے باہر نکل سکیں گے جسے معاشرے کے مقہور، مجبور، مظلوم ’’مولو مصلیوں‘‘ کی قسمت اور تقدیر سمجھ لیا گیا ہے۔ نوجوان نسل اپنے مستقبل کے اندیشوں میں گرفتار ہے۔ ’’اخوت‘‘ ان کے لیے بھی امید کا پیغام اور اطمینان کی مضبوط قندیل ہے جو یقین دلا رہی ہے کہ ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے۔ یہ ’’مولو مصلی‘‘ کی تقریب رونمائی ہے۔ میں شاید غلط کہہ گیا۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی نئی کتاب ’’مولو مصلی‘‘ کی تقریبِ رونمائی۔
معاشرے کے بے شمار ہوٹل، ورکشاپ اور ٹائرشاپ پر کام کرنے والے چھوٹے، گھروں میں کام کرنے والے لوگ اور اس نوع کے بے شمار لوگ جو ضرورت کے وقت استعمال کیے جاتے ہیں اور کام نکل جانے کے بعد دھتکار دیے جاتے ہیں جن سے ہم خوب آشنا، مگر بے پروا ہیں۔ یہ ان سب کی رونمائی کی تقریب ہے۔ ان سب کے جذبات، احساسات، مفادات، حقوق، شخصیات کی تعارفی تقریب ہے۔
’’قولِ مجید‘‘ خلاصہ مضامین میں صفحہ 147 پر یوں گویا ہوتے ہیں: ’’اللہ نے آرائش و زیبائش اور کھانے پینے کی چیزوں کو قطعاً حرام نہیں کیا۔ اسلام ترکِ دنیا کا نام نہیں، مومنوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی ہی اللہ سے طلب کریں۔ زمین کے خزانوں میں اپنا حصہ ضرور وصول کریں اور جائز حدود میں رہ کر اللہ کی نعمتوں سے لطف اٹھائیں، کیونکہ اللہ اپنے بندوں پر اپنی نعمتوں کے اثرات دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ مزید ارشاد ہوا کہ یہ ساری نعمتیں دنیا میں بھی اہلِ ایمان کا اولین حق ہیں۔
اللہ کی مہربانی سے کافر و مشرک بھی ان سے فیض اٹھا رہے ہیں۔ یہ اللہ کی وسعتِ ظرف کا نمونہ ہے‘‘۔
ان مضامین اور تقاریر کا انداز محققانہ و عالمانہ نہیں، ان کا ہدف سامع اور قاری کو محدود وقت میں موضوع کی مناسبت سے بنیادی معلومات کی فراہمی ہے، اور ان کے ذریعے اس کے احساسِ عمل کو بیدار کرنے کے لیے اس کی سماعتوں اور بصارتوں کے راستے درِ دل پر دستک دینا اور جذبۂ خیر کو جگانا ہے۔ آیات کی توضیح و تفہیم میں طویل، فروعی و اختلافی مباحث کو نظرانداز کرتے ہوئے عام سامع و قاری کی زندگیوں سے متعلق قابلِ فہم اور قابلِ عمل پہلوئوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ان کے بنیاد مصادر و مراجع میں ’’تفہیم القرآن‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، ’’معارف القرآن‘‘ مولانا مفتی محمد شفیعؒ، ’’ضیا القرآن‘‘ پیر محمد اکرم شاہ الازہریؒ، ’’تیسر القرآن‘‘ مولانا عبدالرحمٰن کیلانیؒ اور ’’زادالمسیر‘‘ ابن قیم الجوزیؒ شامل ہیں۔
دین و دنیا سے متعلق بھرپور رہنمائی ان کتابوں میں موجود ہے۔ یہ کتابیں جہاں مصنف کے لیے زادِ راہ ہیں، وہیں اس کے قارئین کو بھی کچھ سیکھنے اور عمل کرنے میں مددگار ہیں۔ ایسی کتابوں کا ہر پبلک لائبریری میں ہونا بہت ضروری ہے، مخیر حضرات بھی یہ کام کرسکتے ہیں۔ اسی سلسلے کی مزید کتب ’’قولِ کریم‘‘، ’’قولِ عظیم‘‘ اور ’’قول فعل‘‘ زیر ترتیب ہیں۔ مثال پبلشرز فیصل آباد نے ان کتابوں کو عمدہ کاغذ، بہترین طباعت، خوشنما گردپوش اور اعلیٰ معیار کے ساتھ شائع کیا ہے۔

Share this: