گزرے ہو ئے سال کا معاشی جائزہ

Print Friendly, PDF & Email

مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان،آئی ایم ایف کا شکنجہ سخت

۔2020 اپنی تمام تر تلخیوں کے ساتھ گزر چکا ہے اور مسائل کی گٹھری نئے سال کے کندھے پر رکھ کر اب خود تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، یکم جنوری2020 کے تمام قومی اخبارات وزیر اعظم کے اس بیان کی اشاعت کے ساتھ اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ’’کرپشن کے ناسور نے ملک کی معیشت کو کھوکھلا کیا ہے۔ کرپشن کا خاتمہ پی ٹی آئی حکومت کے منشور کا بنیادی جزو ہے۔ کرپٹ عناصر کو قانون کے دائرے میں لانے اور کرپشن کے خلاف بھرپور جدوجہد جاری رہے گی۔سال 2020عوام کا سال ہے، حکومت کی بھرپور کوشش ہوگی کہ جہاں معاشی استحکام کا عمل مزید مستحکم ہو وہاں اس استحکام کے ثمرات عام آدمی تک میسر آئیں اور انکی زندگیوں میں بہتری واقع ہو‘‘ وزیراعظم نے یہ دعوی اس وقت کیا تھا کہ جب انہیں دنیا بھر سے اطلاعات مل رہی تھیں کہ کرونا وباء کے باعث پورا یورپ بند ہو چکاہے اور باقی دنیا بند ہونے والی ہے، وزیر اعظم نے یہ خیالات کسی عام آدمی کے سامنے نہیں بلکہ تحریک انصاف کے تمام سینٹر ز کے ساتھ اپنی ملاقات میں کہے تھے اور اسی ملاقات میں سال2019 کا جائزہ بھی لیا گیا اور حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے اور آنے والے سال میں عوامی مسائل سے متعلقہ قانون سازی اور کامیابیوں کے ثمرات کو عوام تک پہنچانے کے حوالے سے حکمت عملی پر بات چیت کی گئی احساس پروگرام، پناہ گاہوں کی تعمیر، لنگر خانوں کے اقدامات کو اپنی حکومت کے اہم کارنامے ے طور پر پیش کیا، آج اس دعوے کو سال گزر چکا ہے اس پر کتنا عمل ہوا ہے اور ملکی معیشت میں کیا انقلاب آیا ہے یہ سب کچھ سامنے ہے اور لب ہلانے کی ضرورت ہی نہیں ہے، عوام کے پریشان چہرے ہی صورت حال اور حکومتی دعووں کا بہترین تجزیہ پیش کر رہے ہیں،2020ء رخصت ہوچکا ہے ملکی معیشت سے متعلق عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا کہ کرونا کے باعث بد ترین کساد بازاری پیدا ہوئی ہے اورغربت میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے اثرات آئندہ برسوں میں بھی جاری رہیں گے،پاکستان اس وبا سے پیدا شدہ اثرات سے مبرا نہیں ہے، مشکل سے نکلنے کے لیے برآمدات میں اضافہ کرنا ہو گا اور برامدات کو عالمی مسابقت کے قابل بنانا ہوگا حکومت کو چاہیے کہ درآمدات پر پابندیوں میں نرمی پیدا کرے پاکستان کی معاشی بحالی میں برآمدات میں اضافہ بے حد اہمیت کا حامل ہے، حکومت سے کہا گیا ہے کہ ٹیرف پروٹیکشن کے قوانین ختم کیے جائیں اورٹی اے ڈی پی کو تجارت کے بدلے ہوئے ماحول کو سمجھنا چاہئے مصنوعی انٹیلی جنس اور وسیع ڈیٹا بیس کے ذریعے برآمد کندگان کی مدد کرنا چاہئے تاکہ ان لائن مارکیٹنگ کے پلیٹ فارم کو استعمال کیا جا سکے عالمی بینک کی رپورٹ سے واضح ہو گیا کہ پاکستان بھی ان کی ذد میں ہے،ترقی یافتہ ممالک یا وہ ممالک جہاں تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں معیشت کی وسیع بنیاداور دولت پیدا کرنے کی ذرائع کی دستیابی کی وجہ سے ان کا بحالی کا عمل کافی تیز اور آسان ہو گا ان کے مقابلہ میں پاکستان کے لئے چیلنجز ہیں،معیشت قرضوں کے بوجھ، گرانی، توانائی کے شعبے میں، پراسرار فیصلوںکا اپنا ایک مثبت اور منفی اثر ہے،2020کا آغاز اس امید سے کیا گیا تھا کہ مشکلات کادور گذر گیا ہے،مگر ایسا ہو نہیں سکا،مارچ میں کرونا کی وجہ سے لاک ڈائون شروع ہوئے،اس کے اثرات مالی سال2019-20ء کے اختتامی مہینوں تک جاری ہیںمعاشی سیکٹر کے بند رہنے کی وجہ سے محصولات میں کمی رہی،مالی سال 39سو ارب روپے سے کچھ زائد ریونیو پر ختم ہوا،ملکی برامدت بھی تنزلی کا شکار رہیں اور 25ارب ڈالر کی نفسیاتی حد کو پار کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف بن گیا،رواں سال افراط زر کے نام رہا ہے،آٹا،چینی کے بحران کے ساتھ سبزیوں کی مہنگائی سے عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں۔کوئی یہ سوچ سکتا تھا کہ آٹا 80روپے کلو سے تجاوز کر جائے گا اور چینی120روپے کلو ملے گی انڈوں اور ٹماٹر کی قیمت دو سوروپے سے تجاوز کر چکی ہے مہنگائی اب صرف چند اشیاء کی گرانی تک محدود نہیں رہی ہے،انرجی کی لاگت میں بھی سال بھر اضافہ ہوتا رہا ہے۔2019-20ء کے مالی سال کے اختتام پر سامنے آئے کہ معیشت کا حجم کم ہوا ہے تو غربت کیسے کم ہو گی؟اس سال کے دوران آئی ایم ایف کے ساتھ قرضہ پروگرام بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار رہا یہ عالمی ادارہ بجلی،گیس کی قیمت میں اضافے کے ساتھ مزید ٹیکس لگانے کا مطالبہ کررہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں ، ادائیگی کے توازن کے بارے میںآزاد رپورٹیں قرضوں کی ادائیگی کی رقم میں آئندہ ایک دوسال میںبھاری اضافہ کی اطلاع دے رہی ہیں حکومت کے پاس کوئی حل نہیں ہے صرف مزید قرض لینے کاآپشن ہے ، ملکی معیشت کی نمو منفی سطح پر آن پہنچی ہے، معیشت کے لیے حکومت کرونا کے پیچھے چھپی ہوئی ہے، ریاست مدینہ کے لیے ضروری تھا کہ سود کے خلاف وفاق کی اپیل ہی واپس لے لی جاتی حکومت سے یہ ایک کام بھی نہیں ہوسکا، معیشت کا ذکر آئی ایم ایف کے ذکر کے بغیر ناممکن ہے, کیونکہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر قرض کی ڈیل کر رکھی ہے، جس کی شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں فنڈز روک دیے جاتے ہیں۔جولائی 2019ء سے پاکستان اور آئی ایم ایف کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ ٹیکس وصولی کا ہدف پورا نہ کرنا اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، نقصان والے اداروں کو بیچنا اور اداروں میں اصلاحات سمیت کئی معاملات میں پیش رفت نہ ہونا ہے۔ حکومت کی حالت ایسی ہے کہ وہ نہ تو نگل سکتی ہے اور نہ ہی اگل سکتی ہے۔ اگر حکومت برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو آئی ایم ایف سے بلیک میل ہونے کے امکانات کم ہوسکتے ہیں لیکن فی الحال ایسی کوئی صورتحال بھی نظر نہیں آرہی اگر پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے نہیں کر پاتا تو ورلڈ بینک سمیت کئی عالمی ادارے اور ممالک پاکستان کے ساتھ نہیں چل سکیں گے۔ مزید قرض لینا مشکل ہوجائے گا، ملکی معیشت کا دار و مدار ڈالر کے اتار اور چڑھاؤ کے ساتھ کبھی منسلک ہے یکم جنوری 2020ء کو پاکستان میں ڈالر کی قیمت تقریباً 154 روپے تھی اور دسمبر 2020ء میں اس کی قیمت تقریباً 160 روپے کے قریب ہے قریب ہے لیکن ڈالر کی قیمت 170 کے قریب بھی پہنچی ہے،ڈالر کے اتار چڑھاؤ کی وجہ آئی ایم ایف سے کیا جانے والا معاہدہ ہے۔ اس کے مطابق اسٹیٹ بینک ڈالر کو کنٹرول نہیں کرے گا، نواز شریف دور میں جب ڈالر کی قیمت 108 روپے تک پہنچی تھی تو شیخ رشید احمد بطور اپوزیشن رکن اسمبلی دعویٰ کیا تھا کہ حکومت ڈالر کی قیمت 100 روپے پر نہیں لاسکتی،اس وقت کے وزیرِ خزانہ اسحق ڈار انتظامی حربہ اختیار کرکے ڈالر کی قیمت 97 روپے تک لانے میں کامیاب ہوگئے تھے، معاشی ماہرین کے نزدیک یہ ایک مصنوعی اور کاسمیٹک کام تھا، مگر یہ کام ہوا، تحریک انصاف کی حکومت سے بیرونِ ملک پاکستانیوں نے بہت امید باندھی ہوئی تھی وزیر اعظم عمران خان کی اپیل کے باوجود وہ پاکستان میں ڈالر بھیجنے پر راضی نہیں ہوئے جب کہ حکومت نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کو ڈالر اکائونٹس پر 7 فیصد تک منافع کی پیشکش بھی کی جبکہ دنیا میں یہ شرح 0.5 فیصد سے ایک فیصد تک ہے، بیرونِ ملک پاکستانیوں کو آسان شرائط پر آن لائن اکائونٹ کھلوانے کی سہولت بھی مہیا کی گئی یہ پیش رفت نتیجہ خیز ہوئی اور پاکستان روزانہ تقریباً 20 لاکھ ڈالر روشن ڈیجیٹل اکائونٹ میں وصول کر رہا ہے اور گزشتہ ماہ تک تقریباً 16 ارب روپے ملے ہیں، یہ رقم مل تو گئی مگر اسے سود کے ساتھ واپس کرنا ہوگا، تو ایک نیا بحران آئے گا۔ ملکی معیشت پر ایک زخم ایف اے ٹی ایف کی صورت میں بھی لگا ہے، ایف اے ٹی ایف قانون سازی کے باعث ڈالر نیچے آیا سخت سزاؤں کی بدولت جعلی منی چینجرز اپنا کاروبار بند کرگئے ہیں کورونا وائرس کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف ملا ہے ابھی تک پاکستان جی20 ممالک سے بھی تقریباً 80 کروڑ ڈالر قرضوں کی ادائیگیوں کی واپسی میں وقت لینے میں کامیاب ہوگیا ہے، ملکی معیشت میںبرآمدات کی اپنی اہمیت ہے،اگر آپ برامدات نہیں کرسکتے تو بے پناہ ذخائر کے باوجود معاشی ترقی کا دعوی نہیں کیا جاسکتا، حکومت نے بھی برآمدات بڑھانے کے دعوے کیے تھے مگر کامیاب نہیں ہوئی، پورے سال میں تویہ بھی صورت حال بنی کہ برآمدات ڈیڑھ ارب ڈالر سے بھی کم رہی ہیں وجہ کورونا ہے یا انتظامی کمزوری؟ ٹیکسٹائل کے شعبے کو بیشتر آرڈر ملے ہیں، لیکن برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہوا، زراعت میں اہم جنس چاول ہے، محکمہ شماریات کے مطابق جولائی 2019ء میں چاولوں کی برآمدات 3 لاکھ 65 ہزار 138 ٹن تھی جو جولائی 2020ء میں کم ہوکر 2 لاکھ 66 ہزار 206 ٹن رہ گئی ہے پاکستان سے چاولوں کی برآمدات کم ہو کر تقریباً 2 ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پر کام نہ ہونا ہے اسی خطہ میں باسمتی چاول فی ایکڑ پیداوار تقریباً 120 من ہے جبکہ پاکستان میں 70 من ہے عرب امارات میں ہندوستانی باسمتی چاول کی قیمت کم ہونے کی وجہ سے زیادہ فروخت ہورہا ہے اگر حکومت نے توجہ نہ دی تو یہ برآمدات اگلے سال مزید گر سکتی ہیں،ٹیکسٹائل میں حکومت نے ٹیکس ریفنڈ اور بجلی کے نرخوں میںمراعات دی ہیں ڈالر کے قیمت کی وجہ سے ٹیکسٹائل برآمدات میں بہتری نظر نہیں آرہی، اس سال کپاس کی پیداوار بھی کم ہوئی ہے اسی وجہ سے ٹیکسٹائل سیکٹر اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے کپاس درآمد کرنے پر مجبور ہوا، ایک پیش رفت یہ ہورہی ہے کہ پاکستان کے ٹرکوں کو ازبکستان، تاجکستان اور آذربائیجان تک براہِ راست رسائی مل جائے یہ راستے پاکستان کے لیے کھل گئے تو بہت مدد ملے گی اور اسمگلنگ بھی رک جائے گی، ملکی معیشت میں محاصل کی اپنی اہمیت ہے ٹیکس ملے گا تو ملک چلے گا ریٹرن جمع کروانے کی آخری تاریخ 8 دسمبر 2020ء مقرر کی گئی تھی تقریباً 18 لاکھ لوگوں نے ریٹرنز جمع کروائے پچھلے سال مارچ تک وقت بڑھا دیا گیا تھا جس کے باعث تقریباً 28 لاکھ لوگوں نے ریٹرنز جمع کروائے تھے۔ اس لحاظ سے اس سال کی کاردگی بہتر دکھائی نہیں دیتی۔ تاریخ میں توسیع سے تقریباً 30 لاکھ سے زائد ریٹرنز جمع ہوجاتے مگر اب نہیں ہوسکیں گے، حکومت کے مطابق تقریباً 17 لاکھ 30 ہزار ریٹرنز جمع کروائے گئے تھے جو اس سال کی نسبت 4 فیصد کم ہیں یہ دعوی درست نہیں ہے اصل اعداد و شمار جون 2021ء تک سامنے آئیں گے، لوگ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد پچھلے سال ٹیکس ہدف ساڑھے 5 کھرب روپے تھا جبکہ صرف 4 کھرب کے قریب ٹیکس اکٹھا ہوسکا تھا اس مالی سال کا ٹیکس ہدف 4.963 ٹریلین روپے طے کیا گیا ہے۔ حکومت یہ ٹیکس ہدف حاصل کر پاتی ہے یا نہیں اس کا حساب جون 2021ء میں ہوسکے گا لیکن ابھی تک کے اعداد و شمار کے مطابق نئے مالی سال کی پہلے سہ ماہی کا جو ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا تھا، حکومت نے اس سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرلیا ہے ابھی تک دسمبر 2020ء کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے جس کے باعث موجودہ سہ ماہی کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت نے ہر چیز کی قیمت بڑھا دی دی تھی قیمتوں میں چار سو فی صد تک اضافہ بھی ہوا کبھی آٹے کی قلت، کبھی چینی مارکیٹ سے غائب اور کبھی ٹماٹر آسمان سے باتیں کرتے دکھائی دیے سال 2020ء میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے ،روپے کی قدر نصف رہ گئی جس نے شہریوں کی قوت خرید کو کمزور کیا ،بے روزگاری کا عذاب اس سے بڑھ کر تھا 2020ء میں بھی یہ شرح 4.5 فیصد رہی ہے ایک ماہ کے مکمل لاک ڈاؤن نے ملک میں بے روزگاری میں اضافہ کیا آئندہ دنوں میں بے روزگاری کی یہ شرح بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے سال 21ء-2020ء میں بے روزگاری کی شرح 7 سے 10 فیصد تک ہوسکتی ہے بے روزگاری کی شرح بڑھنے کی ایک اور وجہ بین الاقوامی حالات ہیں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور امریکا سے بہت سے بے روزگار لوگ پاکستان واپس آرہے ہیں اور اس کا بوجھ پاکستانی معیشت پر پڑے گا،حکومت کا دعوی ہے کہ سال 2020ء میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ ختم ہوکر سرپلس میں تبدیل ہوگیا ہے خسارہ کم ہونے کی وجہ برآمدات میں اضافہ نہیں بلکہ درآمدات میں کمی ہے ۔ پچھلے ماہ کی رپورٹ کے مطابق ڈالر کے ذخائر ساڑھے 3 سال کی بلند ترین سطح پر آگئے ہیں۔ 2020ء میں ڈالر کے ذخائر 20 ارب 40 کروڑ ڈالر ہوگئے ہیں۔اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم وجہ دوست ممالک کی جانب سے قرضوں کی ادائیگیوں میں ملنے والا ریلیف ہے۔ اس کے علاوہ روشن ڈیجیٹل اکائونٹ اور ایف اے ٹی ایف بل کی منظوری ایسے اقدامات ہیں جن کے بغیر یہ سطح برقرار رکھنا مشکل تھا۔ ملکی اور غیر ملکی قرضوں کی صورت حال بھی باریک بینی سے جائزہ لینے کا تقاضا کر رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کہتی ہے کہ جون 2018ء سے جون 2020ء میں ختم ہونے والے حکومت کے 2 مالی برسوں میں قرضوں میں ساڑھے 18 فیصد اضافہ ہوا ہے قرضوں کی مالیت 112 ارب ڈالر ہے اور قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے مزید قرض لینے کے منصوبے زیرِ غور ہیں مالی سال کے اختتام تک پاکستان نے تقریباً 11 ارب 89 کروڑ ڈالر کے قرض واپس کیے ہیں جو 19ء-2018ء کی نسبت 23 فیصد زیادہ ہیں کورونا وائرس کی وجہ سے کچھ قرضوں کی ادائیگیوں میں ریلیف بھی ملا ہے سب سے بڑا ریلیف جی20 ممالک کی جانب سے ہے پاکستان نے تقریباً 80 کروڑ ڈالرز کے قرض معاف کروا لیے ہیں اور باقی ایک ارب ڈالر کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ یہ حکومت کے لیے اچھی خبر ہے مگر عوام کے لیے نہیں اور نہ ملک کے لیے اچھی ہے۔ پاکستان کو یہ ریلیف ایک عالمی فیصلے کے تحت مل رہا ہے افریقہ کے کئی ممالک سمیت بیسیوں غریب ممالک کو یہ رعایت خودکار نظام کے تحت دی گئی ہے۔پاکستان نے تقریباً 80 کروڑ ڈالرز کے قرض معاف کروا لیے ہیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت نے 4 ارب ڈالر کے قرض واپس مانگ لیے ہیں، جو دسمبر سے فروری تک واجب الادا ہیںحکومت کشمکش میں ہے اب چین سے مزید قرض مانگا جائے یا پہلا قرض کی ادائیگی کی مدت میں توسیع کرائی جائے۔

Share this: