شہباز شریف درانی ملاقات!’’نیشنل ڈائیلاگ‘‘ کس کی تجویز ہے؟۔

Print Friendly, PDF & Email

پوری دنیا میں اس وقت حکومتیں اس کوشش میں ہیں کہ ویکسین آئے تاکہ کووڈ19 سے نجات مل سکے ہمارے ہاں ایک کوشش ہورہی ہے کہ اپوزیشن کے لیے این آر او کی ایک ایسی ویکسین تیار کی جائے جس سے ملک میں سیاسی مفاہمت کا دروازہ کھل جائے، یہی ویکسین لے کر حکومت کے اتحادی جی ڈی اے کی اہم جماعت مسلم لیگ(ف) کے سیکرٹری جنرل محمد علی درانی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے پاس پہنچے ہیں، جیل میں شہباز شریف سے کسی کی یہ پہلی سیاسی ملاقات نہیں، اس سے پہلے بھی رابطے ہوتے رہے ہیں، وزیر اعظم ڈھائی سال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ حکومت قربان کر سکتے ہیں مگر کسی کو این آر او نہیں دیں گے، لیکن اس ملاقات پر وزیر اعظم خاموش ہیں اور محمد علی درانی کو جیل تک جانے کا محفوظ راستہ دینے والی بزدار کی پنجاب حکومت سے پوچھ گچھ بھی نہیں کر رہے، اگر مرکزی حکومت چاہتی بھی تو اس ملاقات کو روک نہیں سکتی تھی، تحریک انصاف کی اتحادی جماعت مسلم لیگ(ف) کے جنرل سیکریٹری محمد علی درانی نے بظاہر تو یہی کہا کہ کوٹ لکھپت جیل میں مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کی اور انہیں پیر پگارو کا خصوصی پیغام پہنچایا، لیکن سوال یہ ہے کہ پیر صاحب کی اس میں دلچسپی کیا ہے؟ ملکی معیشت پر جنہیں تشویش ہے انہوں نے ہی جیل میں ملاقات کا بندوبست کیا ہے جس میں نیشنل گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز دی گئی اس تجویز سے پہلے یہ جائزہ بھی ضرور لیا جانا چاہیے کہ حکمران اتحاد میں مسلم لیگ(ف) کو یہ فریضہ کس نے سونپا؟ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا شہباز شریف اپنے بھائی کو نظر انداز کرکے محمد علی درانی کی پیش کش قبول کرلیں گے۔ مسلم لیگ(ن) میں فیصلہ صرف نواز شریف کو ہی کرنا ہے۔ شہباز شریف ،درانی ملاقات کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں وہ درانی کی بیان کردہ ہیں، شہباز شریف کا اپنا کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، ان کے حوالے سے جو بھی کہا درانی کے مطابق شہباز شریف کا جواب ہے کہ’’ وہ پارٹی پالیسی کے پابند ہیں، تنہا کوئی یقین دہانی نہیں کرا سکتے اور نہ ہی جیل میں کوئی کردارادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں‘‘ یہ موقف اصل میں شہباز شریف کو بچانے کے لیے اختیار کیا گیا تاکہ تاثر یہی ملے کہ شہباز شریف سودا نہیں کرنے جارہے، شہباز شریف کی ترجمانی کے لیے ان الفاظ کا چنائو غالباً نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے آنے والے رد عمل کے آفٹر شاکس کی شدت کم کرنے کے لیے بھی دیا گیا، جب تک شہباز شریف براہ راست کوئی بیان جاری نہیں کرتے تب تک ابہام ہی رہے گا، اگر محمد علی درانی کی اس کوشش سے بہت سے سوالات نکلتے ہیں جن میں کچھ کا رخ حکومت کی جانب ہے کہ پارلیمنٹ فنکشنل ہونی چاہیے یہ کام اپوزیشن کا نہیں بلکہ حکومت کے کرنے کا ہے، لیکن حکومت کے سربراہ عمران خان نے بھی فیصلہ کررکھا ہے کہ وہ حالات کتنے ہی کیوں نہ بگڑ جائیں وہ اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ نہیں ملائیں گے، صدر عارف علوی بھی وزیر اعظم کے ساتھ مسلسل مشاورت کا حصہ بنے ہوئے ہیں، صدر نے بھی اپنی رائے دی ہے مگر وہ وزیر اعظم کی رائے کے سامنے خاموش ہیںاس پس منظر میں درانی مفاہمت کا کشکول لیے شہباز شریف کے پاس پہنچے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے پاس ٹریک ٹو ڈائیلاگ کا پورا خاکہ ہے۔ محمد علی درانی کے خاکوں پر وزیر اعظم بالکل خاموش ہیں، ان کی خاموشی اس بات کی علامت ہے کہ وہ پسپائی اختیار کریں گے یا اس نظام پر خود کش حملہ کردیں گے، تیسرا کوئی راستہ ان کے پاس نہیں ہے، وزیراعظم یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پی ڈی ایم اندرونی اختلافات کی وجہ سے ختم ہو جائے گی اور حکومت کے ایک مشیر کے مطابق اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہی اس کے ساتھ حکومت مذاکرات کر کے اپنا وقت کیوں ضائع کرے گی؟دوسری جانب اپوزیشن کا ابھی تک جواب یہی ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گی وزیراعظم رخصت ہو جائیں تو مذاکرات ہو سکتے ہیں یہ ہے وہ ماحول جس میں نیشنل ڈائیلاگ کا خاکہ لے کر محمد علی درانی شہباز شریف سے ملاقات کے لیے جیل پہنچے ہیں، حکومت اور اپوزیشن کے اس موقف کے باوجود یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ سعی لا حاصل یا بے وقت کی راگنی نہیں ہے اور نہ محمد علی درانی نے بیٹھے بٹھائے اپنے طور پر شروع کی ہے، یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ مسلم لیگ(ن) اگرچہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی بڑی جماعت ہے مگر اس وقت وہ نواز شریف کے فیصلے کی وجہ سے پی ڈی ایم اتحاد کا حصہ ہے اور مذاکرات کا اختیار ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے پاس ہے جنہیں وزیر داخلہ شیخ رشید ابھی حال ہی میںفساد کی اصل جڑ قرار دے چکے ہیں اس ماحول میں کہ جب جے یو آئی بھی نشانے پر آچکی ہے کیا مولانا فضل الرحمن سیاسی جدوجہد کو تیاگ کر مذاکرات کی میز سجا لیں گے؟ اگر کسی نے محمد علی درانی کو شہباز شریف کے پاس بھیجا ہے تو پھر نیشنل ڈائیلاگ کے لیے وہ حکومت اور اپوزیشن کو ایک میز پر کب بٹھائے گا، اس ڈائیلاگ کے لیے ٹرمز آف ریفرنس کیا ہوں گے اور کیا اپوزیشن کے استعفے آئیں گے یا ’’ایک ہی استعفیٰ‘‘ آجائے گا دونوں میں سے کچھ بھی نہیں ہوگا، دم کٹے گی اور نہ چونچ، البتہ حکومت اور اپوزیشن کے پر ضرور کٹ سکتے ہیں تاکہ ہوا کے گھوڑے والی ان کی اڑان ختم ہو اور یہ زمینی حقائق کا دانہ چگیں، حکومت نے اگر ضد نہ چھوڑی تواس کے لیے مسلم لیگ(ق) ایک بڑی آزمائش بن جائے گی، حکومت سے اختر مینگل الگ ہوچکے ہیں، متحدہ کا آناجانا لگا رہے گا، ایم کیو ایم مردم شماری کے ایشوز پر اپنے تحفظات ظاہر کرچکی ہے حکومت نہیں چاہے گی کہ وہ الگ ہوکر پی ڈی ایم کے لیے باواسطہ قوت بن جائے، جہاں تک محمد علی درانی کی یہ بات وہ مسلم لیگوں کے اتحاد کی بھی بات کرتے ہیں اس وقت تین مسلم لیگیں، مسلم لیگ (عوامی) مسلم لیگ(ق) اور مسلم لیگ(ف) تو حکومت میں بیٹھی ہوئی ہیں سوال یہ ہے کہ چوہدری شجاعت حسین، شیخ رشید احمد اور خود پیر پگارو میں سے کون ہوگا جو اتحاد کے لیے اپنی لیگ کی صدارت چھوڑے گا اور اگر تحریک انصاف کو نکالا گیا تو اس بات کی ضمانت کس کے پاس ہے کہ عمران خان، جنہیں بہر حال اس وقت بھی یوتھ کی حمایت میسر ہے اور کسی نہ حد تک انہیں مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کی لیڈر شپ کے مقابلے میں اخلاقی برتری بھی حاصل ہے، وہ حکومت سے بے دخل ہوجانے کے بعد آرام سے گھر بیٹھ جائیں گے؟، ابھی حال ہی میں انہوں کہا کہ’’ حکومت کے سوا دو سال باقی رہ گئے ہیں اوراب ہمارے پاس کوئی عذر نہیں ہے کہ ہم سیکھ رہے ہیں، کارکردگی دکھانے کا وقت آ گیا ہے اب کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔ جب تک ساری وزارتیں پرفارم نہیں کریں گی ہم گورننس بہتر نہیں کر سکیں گے‘‘ انہوں نے جو یہ بات کی ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو تیاری کے بغیر حکومت میں نہیں آنا چاہئے، یہ بات در اصل بیورو کریٹک نظام کی طرف اشارہ ہے، اس ملک کی بیورو کریسی کی یہ عادت بن چکی ہے کہ اسے فری ہینڈ مل جائے تو حکومت کا ساتھ دیتی ہے فری ہینڈ نہ ملے روڑے اٹکاتی ہے،یہ درست ہے کہ وفاق میں تحریک انصاف پہلی مرتبہ حکومت میں آئی لیکن اس کے پاس ایک صوبے کی حکومت چلانے کا پانچ سالہ تجربہ تھا، عمران خان کے پاس کوئی معقول بہانہ نہیں ہے انہیں اگر اپنی کارکردگی بہتر بنانی ہے تو پھر انہیں معاملہ فہمی اور مردم شناسی سیکھنا ہوگی،وزیراعظم نے امریکہ کے سیاسی نظام کی بات کی ہے، جہاں ڈھائی سو سال سے ایک لگا بندھا جمہوری نظام چلا آ رہا ہے، جو دُنیا کے صدارتی نظاموں سے بھی مختلف اور جدا ہے وہاں ہر چار سال بعد صدر کا انتخاب ہوتا ہے اور ایک معینہ دن پر ہوتا ہے،ان برسوں میں شاید ہی کبھی انتخاب ملتوی یا موخر ہوا ہو، تباہ کن سمندری طوفان بھی التوا کا باعث نہیں بنے۔ہر چار سال بعد نومبر میں الیکشن اور پھر20جنوری کو نیا صدر حلف اٹھاتا ہے، اس میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، اس عرصے میں نیا صدر اپنی کابینہ کا انتخاب کرتا ہے، ایڈمنسٹریشن میں تبدیلیوں کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ خارجہ پالیسی کا جائزہ لیتا ہے، یہ سب کچھ مضبوط امریکی سسٹم کا نتیجہ ہے،ہمارے ملک میں تو آج تک کسی وزیراعظم نے اپنی مدت ہی پوری نہیں کی اور ہر حکومت کو ایجی ٹیشن کے ذریعے گرانے کی کوشش کی گئی۔ کوئی بھی اپوزیشن پیچھے نہیں رہی، پاکستان میں ہر چند سال بعد نظام کی ہیت تبدیل ہو جاتی ہے، اب بھی خواہش ہے کہ ملک میں صدارتی نظام لایا جائے جس کے لیے ریفرنڈم کی تجویز دی جاسکتی ہے بلکہ اس پر کام ہورہا ہے، یہ تجویز محمد علی درانی کی مٹھی میں بند نیشنل ڈائیلاگ کا بھی حصہ ہے، اس سارے معاملے میں اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ نیشنل ڈائیلاگ کے لیے درانی کی تحریک اور وفاقی کابینہ سے مردم شماری کے نتائج کی منظوری، یہ دو اہم ترین کام ایک ساتھ سامنے آئے ہیں، اور شور اٹھا کر دونوں کے ذریعے ایک دوسرے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ بات تو بالکل طے ہے کہ یہ فیصلہ عمران خان حکومت کا نہیں ہے بلکہ جس طرح عوام پر یہ حکومت مسلط کی گئی ہے اسی طرح یہ فیصلہ حکومت پر مسلط کیا گیا ہے، مردم شماری کے معاملے میں متحدہ کامطالبہ بظاہر تو یہی ہے کہ وہ اس نتائج کو تسلیم نہیں کرتی، مگر حقائق یہ ہیں کہ اسے یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ احتجاج صرف احتجاج کی حد تک رہے، ورنہ کراچی کی وہ نشستیں بھی چھن سکتی ہیں۔

Share this: