تقویٰ کی اہمیت

Print Friendly, PDF & Email

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم

حضرت عبداللہؓ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص میں یہ چار خلصتیں پائی جائیں وہ پکا منافق ہے، اور جس میں ان میں سے کوئی ایک پائی جائے وہ منافقت کی ایک علامت پر ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب وہ گفتگو کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب امانت اس کے سپرد کی جائے تو خیانت کرتا ہے، جب وہ وعدہ کرتا ہے تو اسے پورا نہیں کرتا، اور جب وہ جھگڑتا ہے تو حق کو چھوڑ دیتا ہے‘‘۔ (بخاری، مسلم)۔

وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا O وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا O
’’اور جو کوئی اللہ سے تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ اُس کے لیے کشائش پیدا کردیتا ہے، اور جہاں سے اُسے گمان بھی نہیں ہوتا اسے روزی دیتا ہے۔ اور جو کوئی اللہ پر توکل رکھے پس وہ اس کے لیے کافی ہے۔ یقیناً اللہ اپنا ہر کام پورا کرلیتا ہے، اللہ نے ہر شے کا اندازہ ٹھیرا رکھا ہے‘‘۔
یہ کسی شاعر کا کلام نہیں، کسی انشا پرداز کی عبارت آرائی نہیں، کسی انسانی دماغ سے نکلا ہوا مقولہ نہیں۔ زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے، تمام اشیا کو نیست سے ہست کرنے والے، جملہ اسباب و وسائل کی باگ اپنے ہاتھ میں رکھنے والے کا ارشاد ہے جو قرآن پاک کی سورۂ طلاق کے رکوع 2 میں وارد ہوا ہے۔ آپ کا اس کے متعلق کیا خیال ہے؟ آپ بھی دنیوی کامیابی کے لیے تقویٰ کی اس اہمیت کے قائل ہیں؟ آپ بھی توکل کو ایسی ہی اہم اور ضروری چیز خیال کرتے ہیں؟ یا اس کے برعکس ایک ضعیف الاعتقادی و خام خیالی؟
آیہ کریمہ کا مفہوم واضح ہے، کسی تفسیر و تحشیہ کی حاجت نہیں۔ ارشاد ہوتا ہے کہ جو کوئی اللہ سے تقویٰ اختیار کرتا ہے، جو خوفِ خدا، خشیتِ الٰہی، امانت، صداقت، دیانت کو اپنی روشِ زندگی بنالیتا ہے اُس کے لیے اسی مادی دنیا میں کامیابی اور کشائش کی نئی نئی راہیں اللہ پیدا کرتا رہتا ہے، اور سامانِ معاش و معیشت اسے اُن اُن ذرائع سے پہنچاتا رہتا ہے جن کا اُسے قبل سے کچھ وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ اور جو کوئی اللہ پر توکل و اعتماد رکھتا ہے وہ اپنی مراد کو پہنچ کر رہتا ہے، اس لیے کہ اس کی ذاتِ پاک تو تمام اسباب کی پیدا کرنے والی اور ان پر قدرت رکھنے والی ہے، اور وہی تو ہر ضرورت اور اس کے سامان کا اندازہ داں اور اس کی بہم رسانی پر تنہا بغیر کسی شرکت و امداد کے قادر ہے۔ پس اپنے ذہن کو درمیانی واسطوں اور وسیلوں میں کیوں اتنا الجھائے ہوئے رہتے ہو؟ براہِ راست اسی مسبب الاسباب، اسی قادرِ مطلق سے کیوں نہیں تعلق پیدا کرلیتے۔ اسباب کا جال بھی اسی حکیمِ مطلق کا پھیلایا ہوا ہے، اس لیے ان سے کام لینے کو منع نہیں فرمایا، ان سے واسطہ رکھنے کو حرام نہیں قرار دیا، لیکن ان پر اعتماد کرنے… ان سے دل اٹکانے کو یقیناً جہالت و نادانی بتایا ہے، اور اس اعتماد و توکل، اور اس بھروسے اور سہارے کے لائق صرف اپنی ہی ذات کو قرار دیا ہے۔ یہ اللہ کا فرمان ہے اور اسی کی بنا پر رسولؐ کا یہ عمل تھا کہ عین اُس شب کو جب کہ مکہ کی ساری آبادی خون کی پیاسی ہورہی تھی اور قتل کرنے والے سازشی اور خونیں موقع کے منتظر مکان کا چکر کاٹ رہے تھے، اپنے محبوب اور عزیز ترین بھائی علی مرتضیٰؓ کو اپنے بسترِ خواب پر لٹا کر اور قرآن کی یہ آیت پڑھتے ہوئے کہ ’’ہم نے ان کافروں کے آگے اور پیچھے دیواریں کھڑی کردی ہیں اور ہم نے ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ نہیں دیکھتے‘‘ مکان سے باہر تشریف لے آئے اور خونیوں میں سے کوئی بھی نہ دیکھ سکا! یہ اللہ کا ارشاد اور رسولؐ کا عمل تھا۔ اب اپنے دل سے دریافت ہوکہ آپ کا خیال اور آپ کا عقیدہ، آپ کی عادت اور آپ کا عمل اس باب میں کیا ہے؟ دیکھنے میں تو یہ آیا ہے کہ آپ کو جب کبھی کسی معاملے میں کامیابی حاصل ہوئی تو اسے ہمیشہ آپ نے اپنی ہی کوشش و پیروی، اپنے اثر اور جوڑ توڑ، اپنی تدبیر و دانائی کا نتیجہ قرار دیا۔ مقدمے میں جب آپ کو فتح ہوئی تو اس کا سہرا ہمیشہ آپ کی دوڑ دھوپ اور آپ کے وکیل صاحب ہی کی ذہانت و قابلیت کے سر بندھا۔ ملازمت اگر آپ کو آپ کی مرضی کے موافق مل گئی تو اس پر آپ نے ہمیشہ اپنی ہی حکام رسی، اپنی ہی اعلیٰ اسناد اور اپنے ہی اثر رسوخ کو قابلِ مبارک باد سمجھا۔ بیماری سے جب آپ کو شفا ہوئی تو ہمیشہ آپ نے اپنے معالج ہی کی صداقت کا کلمہ پڑھا۔ غرض زندگی کے ہر ہر شعبے میں آپ نے جب جب توکل و اعتماد کیا تو ہمیشہ داروغہ صاحب اور ڈپٹی صاحب، کلکٹر صاحب اور جج صاحب، ڈاکٹر صاحب اور حکیم صاحب، وکیل صاحب اور بیرسٹر صاحب، راجا صاحب اور نواب صاحب، وزیر صاحب اور لاٹ صاحب ہی پر کیا۔ اور ان سے بڑھ کر خود اپنے دل و دماغ، اپنی عقل و تدبیر پر کیا۔ پر ان تمام صاحبوں کے صاحب کا جلوہ بھی کبھی آپ نے اپنے دل کی گہرائیوں میں دیکھا؟ ان تمام جھوٹے خدائوں کے سچے خدا کے فضل و کرم سے کبھی آپ نے اپنے دل کو اٹکایا؟ تماشہ گاہ شہود کی ان ساری کٹھ پتلیوں کے پیچھے جو پُرقوت غیبی ہاتھ ہے کبھی اس کو چومنے اور آنکھوں میں لگانے کی گدگدی بھی آپ کے دل میں پیدا ہوئی؟

Share this: