بڑوں کی لغزشیں

Print Friendly, PDF & Email

امام کسائیؒ علمِ نحو اور قرأت ِقرآن کے مشہور عالم ہیں، دونوں علوم میں ان کا مرتبہ محتاجِ تعارف نہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نماز میں ہارون رشید کی امامت کی، تلاوت کرتے ہوئے مجھے اپنی قرأت خود پسند آنے لگی، ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ پڑھتے پڑھتے مجھ سے ایسی غلطی ہوئی جو کبھی کسی بچے سے بھی نہ ہوئی ہوگی، میں لعلھم یرجعون پڑھنا چاہ رہا تھا، مگر منہ سے نکل گیا: لعلھم یرجعین‘‘۔
لیکن بخدا! ہارون رشید کو بھی یہ کہنے کی جرأت نہیں ہوئی کہ تم نے غلط پڑھا، بلکہ سلام پھیرنے کے بعد اُس نے مجھ سے پوچھا: ’’یہ کون سی لُغت ہے؟‘‘ میں نے کہا ’’یا امیر! کبھی سبک رو گھوڑا بھی ٹھوکر کھا جاتا ہے‘‘۔ ہارون رشید نے کہا: ’’یہ بات ہے تو ٹھیک ہے!‘‘
(مفتی محمد تقی عثمانی۔ ”تراشے“)

دوسرا کو سراہیں

ایک خاتون اپنی اصلاح کی کوشش کررہی تھی۔ دو سیلف ہیلپ کتابوں کا مطالعہ کرتی۔ مختلف کورسز میں جاتی اور پروگرام اٹینڈ کرتی۔ اس کے دل میں خیال آیا کہ کیوں ناں اپنے بارے میں وہ خاوند سے پوچھ لے۔ اس نے اپنے خاوند سے کہا کہ وہ اسے 6 اچھی باتیں بتائے، جن کے کرنے سے وہ ایک اچھی بیوی بن سکتی ہے۔ اس کا خاوند کسی تعلیمی ادارے میں پڑھاتا تھا۔ اس نے کلاس میں بتایا:
’’میرے لیے یہ بڑی حیرت کی بات تھی اور آسان بھی کہ میں اپنی مسز کو اس کی 6 خامیاں گنوا کر فارغ ہوجاتا، لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ میں نے اس سے کہا کہ مجھے سوچنے کا موقع دو، میں تمہیں کل صبح بتائوں گا‘‘۔
آدمی نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ’’میں دوسرے دن ایک پھول بیچنے والے کے پاس گیا۔ اس سے گلاب کے چھے پھول خریدے۔ اس کے ساتھ ایک کاغذ لگایا اور اس پر یہ لکھ کر بھیج دیا:
’’مجھے نہیں پتا کہ وہ کون سی چھے چیزیں ہیں جو تم میں تبدیل ہونی چاہئیں۔ تم جیسی بھی ہو، میں تم سے محبت کرتا ہوں‘‘۔ پروفیسر نے رک کر طلبہ کو دیکھا اور اپنی بات جاری رکھی: ’’جب میں شام کو گھر پہنچا تو پتا ہے، کیا ہوا؟ گھر کے دروازے پر کون میرے استقبال کو کھڑا تھا؟… بالکل درست کہا۔ یہ میری بیوی تھی، جس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں نے اُس پر تنقید نہیں کی تھی‘‘۔
کیا آپ کے گھر میں کچھ لوگ ہیں، جن کی اصلاح کی ضرورت ہے؟ ممکن ہے، یہ آپ کی بیوی ہو، آپ کا بیٹا یا بیٹی ہو، یہ بہو بھی ہوسکتی ہے۔ ان میں خامیاں اور کمزوریاں بھی ہوں گی۔ آپ میں بھی ہوں گی۔ آپ کیا کرتے ہیں؟ تنقید کرنا سب سے آسان کام ہے۔ خاص طور پر جب کسی اور کی ذات کا مسئلہ ہو تو ہماری زبانیں گز گز لمبی ہوجاتی ہیں۔ ہم ہر جائز و ناجائز طریقے سے دوسروں کے خلاف زبان درازی کرتے ہیں۔ کیا اس کا نتیجہ اصلاح کی صورت میں نکلتا ہے یا مزید معاملہ بگڑ جاتا ہے؟ خاص طور پر آپ اپنے لیے کیا پسند کرتے ہیں کہ آپ کی خامیوں اور کمزوریوں کی طرف اسی طریقے سے متوجہ کیا جائے؟ ضرور سوچیے گا۔
(ماہنامہ چشم بیدار۔ اکتوبر 2017ء)

مفلس کون؟۔

ایک عالم امیر معاویہؓ (661ء۔ 680ء) کے دربار میں گیا اور کہنے لگا کہ میں مفلس ہوگیا ہوں، میری امداد فرمایئے۔ امیر نے اسے مال و منال سے نوازنے کے بعد فرمایا: آپ نے مفلس کا تلفظ غلط معنوں میں استعمال کیا ہے۔ مفلس وہ ہوتا ہے جو علم سے محروم ہو، نہ کہ مال سے۔

زبان زد اشعار

حالات کے قدموں میں قلندر نہیں گرتا
ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا
گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
(قتیل شفائی)
……٭٭٭……
حوصلے ہم میں کہاں جرمِ بغاوت والے
ہم وہی لوگ ہیں کوفے کی روایت والے
(نصرت مسعود)
……٭٭٭……
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
(عنایت علی خان)
……٭٭٭……
حسابِ ترکِ تعلق تمام میں نے کیا
شروع اُس نے کیا اختتام میں نے کیا
(سعود عثمانی)
……٭٭٭……
حیراں ہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
(مرزا غالب)

Share this: