بلوچستان، دشمن کے نرغے میں!۔

Print Friendly, PDF & Email

بلوچستان ایک بار پھر دشمن کے نشانے پر ہے، جو ہر ممکن طریقے سے پاکستان کو اندرونی اور بیرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ دہشت گردی کی تازہ واردات میں بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے مچھ میں نامعلوم دہشت گردوں نے کوئلے کی کان میں کام کرنے والے گیارہ محنت کشوں کو نہایت بے دردی سے قتل کردیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ان غریب کان کنوں کو گشتری میں ان کے رہائشی کمروں سے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب اغوا کرکے ایک قریبی مکان میں لے جایا گیا، جہاں ان کے ہاتھ پائوں باندھ کر آنکھوں پر بھی پٹیاں باندھ دی گئیں اور نہایت سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیز دھار آلے سے ان کی گردنیں کاٹ دی گئیں۔ انسان دشمنی اور بے رحمی کی یہ ایک انتہائی دردناک اور بزدلانہ کارروائی ہے۔ کان کنی جیسے بے پناہ مشکل اور سخت جانی کے پیشے کے ذریعے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والے مجبور و بے بس اور بے کس مزدوروں سے اس طرح کا سلوک یقیناً کوئی بہادری اور دلیری نہیں۔ اس واقعے سے انسانیت کا سر شرم سے جھک گیا ہے، لیکن یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ اس قسم کی ظالمانہ سرگرمیوں میں ملوث پاکستان دشمن عناصر میں انسانیت نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں۔ وہ ہمیشہ اسی قسم کا بزدلانہ طرزعمل اختیار کرتے ہیں جس کی کئی مثالیں بلوچستان میں پہلے بھی سامنے آچکی ہیں، اور سب سے نمایاں مثال اے پی ایس پشاور کی ہے جہاں گھٹیا دشمن نے تمام انسانی اقدار کو پامال کرتے ہوئے ننھے منے معصوم طالب علموں کو سنگ دلانہ کارروائی کا نشانہ بنایا تھا۔ بلوچستان میں بھی اس قسم کی انسانیت دشمن سرگرمیوں کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے دورِ اقتدار میں یہ ظالمانہ وارداتیں شروع ہوئیں کہ ایران سے واپس آنے والی زائرین کی بسوں کو روک کر ان میں سے ہزارہ برادری کے لوگوں کو چن چن کر علیحدہ کیا جاتا، اور پھر سرعام گولیوں سے چھلنی کردیا جاتا۔ جب اس سلسلے نے طول کھینچا اور حکومت اس پر قابو پانے میں ناکام رہی تو بلوچستان میں گورنر راج نافذ کرکے اس کی روک تھام کے لیے بعض اقدامات کیے گئے، تاہم دہشت گردی کی وارداتیں پھر بھی نہ رک سکیں۔ میاں محمد نوازشریف کے دورِ اقتدار میں بھی یہ سفاکی جاری رہی جس پر انہوں نے ذاتی طور پر بلوچستان جاکر اس کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کی، اور مختلف شعبہ ہائے حیات کی ممتاز شخصیات کی مشاورت کے بعد دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے زوردار کارروائی کا آغاز کیا گیا، جسے ضرورت کے تحت بعد ازاں سندھ کے بعض علاقوں تک بھی وسعت دی گئی۔ اس کارروائی کے دوران، اس سے پیشتر اور بعد کی تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات نمایاں ہوکر سامنے آئی کہ بلوچستان میں تخریب کاری کی ان سفاکانہ وارداتوں میں پاکستان کا عیار اور ازلی دشمن بھارت پوری طرح ملوث ہے، جس کی فوج کے ایک حاضر سروس اعلیٰ افسر کلبھوشن یادیو کو قومی سلامتی کے پاکستانی اداروں نے گرفتار بھی کر رکھا ہے جو اِن دہشت گردانہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور نگرانی کرتا تھا۔ پاکستان نے بھارت کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کے تخریب کاری کی پے در پے سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت بھی عالمی برادری کے سامنے پیش کیے ہیں، مختلف عالمی اداروں نے ان ثبوتوں کی روشنی میں بھارت کے دہشت گردانہ کردار کو تسلیم بھی کیا ہے، مگر اپنے جانب دارانہ کردار اور متعصابہ طرزِ فکر کے سبب یہ بین الاقوامی ادارے بھارت کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کرنے کو تیار نہیں، اور نہ دہشت گردی میں ملوث ہونے کے اعتراف کے باوجود یہ ادارے اور عالمی امن کی علَم بردار قوتیں بھارت کو کسی قسم کی پابندیوں میں جکڑنے پر آمادہ ہیں۔
نئے عیسوی سال کے آغاز پر 2 اور 3 جنوری کی درمیانی شب مچھ کے علاقے میں ہونے والی اس تازہ دہشت گردی کے متعلق بھی ابتدائی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ حملہ آوروں نے کان کنوں میں سے ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو شناخت کرکے انہیں الگ کیا اور پھر سفاکانہ کارروائی کا نشانہ بنایا۔ اس سے دشمن کی یہ سازش بے نقاب ہوگئی ہے کہ وہ پاکستان خصوصاً بلوچستان میں فرقہ وارانہ انتشار پھیلانے کے لیے سرگرم ہے۔ اس پس منظر میں تمام محبِ دین اور محبِ وطن دینی و سیاسی قوتوں کا یہ فرض ہے کہ وہ دشمن کے عزائم کو سمجھتے ہوئے اس کی مذموم سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہر طرح کے اختلافات کو فراموش کرکے ملکی بقا و سلامتی کی خاطر قومی یک جہتی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور باہمی اتحاد و یگانگت کی فضا کو مستحکم بنائیں۔ دینی و سیاسی رہنمائوں پر اس ضمن میں خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ دیگر تمام سرگرمیوں کو معطل کرکے قومی سالمیت کے تحفظ میں مثبت کردار ادا کریں۔ قومی سلامتی کے اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ تمام متعلقہ دینی اور سیاسی حلقوں کو اعتماد میں لے کر ملک دشمن عناصر اور ان کے سرپرستوں کی سرکوبی کے لیے مؤثر اور نتیجہ خیز کارروائی کریں۔
(حامد ریاض ڈوگر)

Share this: