امریکی تسلط کا خاتمہ ہو چکا ہے!۔

Print Friendly, PDF & Email

امریکی مصنف الیگزنڈر کولے کی ’’کولمبیا نیوز‘‘ سے گفتگو

ترجمہ: سید طالوت اختر

الیگزنڈر کولے اورڈینیل نیکسن نے ’’تسلط کا خاتمہ‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے، جس میں جنگ عظیم دوم کے بعد سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت تک امریکا کے بین الاقوامی نظام کے ارتقا کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کتاب کے حوالے سے الیگزنڈر کولے سے گفتگو کی گئی،جس کا ترجمہ یہاں شائع کیا جارہا ہے:۔
–٭–٭–٭–٭–

سوال: آپ کا کتاب میں کہنا ہے کہ امریکی تسلط کا خاتمہ ہورہا ہے، کیا ایسا ہی ہے؟
الیگزنڈر کولے: امریکی تسلط کا خاتمہ ہوچکا ہے، کیوں کہ امریکا اب ۱۹۹۰ء کے دہائی کی طرح دنیا پر اجارہ دار نہیں رہا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکا دنیا کو سب سے زیادہ بہتر مہارت اور نئے خیالات دینے والا ملک تھا، لیکن اب تمام معاملات میں امریکی کردار کو چیلنج کیا جار ہاہے۔دیگر ممالک خاص کر چین اب سرمایہ کاری اور خدمات فراہم کرنے میں سب سے آگے ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم جیسے نئے علاقائی اتحاد اب روس اور چین جیسے حریفوں کے ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔مغرب کی مالی اعانت سے چلنے والی غیر سرکاری تنظیموں کو لبرل اقدار کے فروغ سے حکومتیں روک رہی ہیں،کبھی طاقتور رہنے والی ان تنظیموں کومعاشرے کے تنگ نظر عناصر کی جانب سے سخت مشکلات کا سامنا ہے۔لبر ل ڈیموکریسی اب ملکوں کے لیے ایک قابل تقلید نظام نہیں رہا۔ امریکا کے اندر تقسیم نے عالمی سطح پر لبرل ازم کو فروغ دینے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔ امریکا اب بھی فوجی اور مالی حساب سے دنیا کا سب سے طاقتور ملک ہے۔ لیکن اس کا عالمی تسلط ختم ہوچکا، وہ اب ماضی کی طرح یکطرفہ طور پر دنیا کے فیصلے نہیں کرسکتا ہے۔
سوال: کورونا کی وبا نے عالمی طاقت کا توازن کس طرح تبدیل کیا۔
کولے: کورونا نے کئی رجحانات کو تیزی کے ساتھ بڑھاوا دیا ہے۔ ایک عالمی رہنما کی حیثیت سے امریکا کی ساکھ اندرون ملک غیر مؤثر حکمت عملی اور عالمی ادارہ صحت سے دستبرداری کی وجہ سے بُری طرح مجروح ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکا کورونا کے حوالے سے عالمی ردّعمل کو مربوط کرنے میں ناکام رہا۔ اس کے برعکس چین،جہاں سے کورونا کی عالمی وبا شروع ہوئی اور جو ملک وائرس کے پھیلاؤ کی تفصیل چھپاتا رہا ہے، وہ دنیا بھر میں ہنگامی طور پر صحت کے سامان کی فراہمی کی حوالے سے سب سے آگے نظر آتا ہے، اس کے ساتھ ہی چین عوامی سطح پر کوورنا کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور بھی دے رہا ہے۔
سوال: امریکا کے چین اور روس کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بنیادی خدشات کیا ہیں؟
کولے: چین اور روس نے امریکا کی بالادستی کو کئی طریقوں سے کمزور کیا ہے۔ انہوں نے نئی علاقائی اور عالمی تنظیمیں قائم کیں، جن میں ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اور یوریشین اکنامک یونین جیسی تنظیمیں شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے ۵جی ٹیکنالوجی کے حوالے سے امریکا اور مغرب کی شرکت داری کو کمزور کیا، روس پر یوکرائن میں مداخلت کی وجہ سے پابندیاں لگانی پڑیں۔ دونوں ممالک نے انفرادی اقدامات کیے۔ شام میں روسی مداخلت سے یہ تاثر گہرا ہوگیا کہ ماسکو سابق سویت یونین کے علاوہ بھی دیگر ریاستوں کا دفاع کرے گا۔جبکہ چین ایک کھر ب ڈالر کے بیلٹ اور روڈ منصوبے کے ذریعے ۷۰ سے زیادہ ممالک میں سرمایہ کاری کررہاہے، تاکہ دیگر ممالک میں چین کا اثرو رسوخ بڑھایا جاسکے، اس منصوبے کے ذریعے چین اپنے لیے جیو پولیٹیکل اثرات کے نئے راستے کھولنے کے ساتھ موجود عالمی نظام میں مزید طاقتو ر ہوجائے گا۔مثال کے طور پر جون ۲۰۱۷ء میں چین کے بی آر آئی میں اہم شریک یونان نے انسانی حقوق کے حوالے سے چین پر تنقید کے یورپی مسودے پر دستخط سے انکار کردیا تھا۔
سوال: آپ اقوام متحدہ، عالمی ادارہ صحت اور علاقائی تنظیموں سمیت عالمی رہنماؤں کا مستقبل کس طرح دیکھتے ہیں؟
کولے: ٹرمپ انتظامیہ نے عوامی غصے کو اقوام متحدہ جیسی عالمی تنظیموں سے بہتر سودے بازی کے لیے استعمال کیا۔ عالمی معاہدے اور فنڈ روکنے کی دھمکیوں کے ذریعے ان تنظیموں پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔لیکن یہ طریقہ کار زبردست نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے، کیوں کہ دوسرے ممالک زیادہ فنڈ اور حمایت کرکے ان تنظیموں میں امریکا کی جگہ لے سکتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت سے دستبرداری کے نتیجے میں عالمی وبا کے دوران چین کو بہتر مواقع میسر آئے،کورونا کی وبا کے دوران تمام خرابیوں کے باوجود عالمی ادارہ صحت کاصحت کے حوالے سے عالمی تعاون اور معلومات کے تبادلے کے لیے کردار ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کی مختلف تنظیمیں جیو پولیٹیکل مقابلے کا میدان ہیں، اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے رواں سال کے شروع میں اقوام متحدہ میں چینی اثرو رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے خصوصی نمائندے کا تقرر کیا تھا۔ لیکن واشنگٹن فنڈ کی فراہمی روک کر اور عالمی معاہدے سے دستبردار ہوکر ان تنظیموں پراپنے اثرات کو خود ہی کم کررہا ہے۔
سوال: لبر ل ڈیموکریسی کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے عالمی اور علاقائی سطح پر کیا اثرات ہیں؟
کولے: ٹرمپ لبرل ڈیموکریسی کے تسلط کے خاتمے کی بنیادی وجہ نہیں، لیکن انہوں نے گراوٹ کا عمل تیز ضرور کردیا ہے۔ ٹرمپ نے نیٹو اور مشرقی ایشیا جیسے اہم اتحادیوں کے ساتھ محاذآرائی اورسودے بازی کا راستہ اختیار کرکے بہت تیزی کے ساتھ امریکا کو نقصان پہنچایا ہے۔اس کے ساتھ ہی ٹرمپ کی شعلہ بیانی اورآمرحکمرانوں کی حمایت نے عالمی سطح پر لبرل ڈیمو کریسی کے اصولوں کی نفی کردی ہے۔ عالمی اداروں اور دیگر ممالک کے لیے لبرل ڈیمو کریسی قابل تقلید نہیں رہی ہے۔
Alexander Cooley discusses his book with Columbia news.(harriman.columbia.edu. July 14, 2020)
(بہ شکریہ: معارف فیچر سروس)

Share this: