غلام کا بلند مرتبہ

Print Friendly, PDF & Email

کسی دنیا دار نے حضرت لقمان سے پوچھا:۔
’’آپ فلاں خاندان کے غلام رہے ہیں تو پھر یہ مرتبہ، یہ عزت اور ناموری! وہ کون سے عوامل تھے جن کی وجہ سے آپ کو یہ بلند مرتبہ ملا؟‘‘
آپ نے فرمایا:۔
’’راست گوئی، امانت میں خیانت نہ کرنا، ایسی گفتگو اور ایسے عمل سے گریز کرنا جس سے مجھے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا، جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر حرام فرما دیا ہے ان سے قطعی گریز کرنا، لغو باتوں سے پرہیز کرنا، حلال رزق پیٹ میں ڈالنا۔ جو ان سادہ باتوں پر مجھ سے زیادہ عمل کرے گا، وہ مجھ سے زیادہ عزت پائے گا۔ اور جو آدمی میرے جتنا عمل کرے گا وہ مجھ جیسا ہوگا“۔
درسِ حیات: احکاماتِ خداوندی پر عمل کرنے سے دنیا و آخرت میں بلند مرتبہ حاصل ہوتا ہے۔
(مولانا جلال الدین رومی۔”حکایاتِ رومی“)

عقل اور عمر

عمر بن عبدالعزیز (717ء۔ 720ء) کے ہاں ایک وفد آیا، ایک نوجوان کچھ کہنے لگا تو عمر نے کہا: تم خاموش رہو اور کسی بزرگ کو بولنے دو۔ نوجوان نے جواب دیا: اے امیرالمومنین! عقل و دانش کا تعلق سن وسال سے نہیں، ورنہ آپ کی مسند پر کوئی بزرگ تر آدمی فائز ہوتا۔ خلیفہ کو یہ نکتہ بہت پسند آیا اور نوجوان کو شاباش دی۔
(ماہنامہ چشمِ بیدار۔ اکتوبر 2018ء)

خواہش

پیرس کی ایک مسجد میں ایک بچہ داخل ہوا۔ امام مسجد سے کہا: ’’میری ماں کہتی ہے کہ مجھے اپنے اسکول میں داخل کرو‘‘۔
امام صاحب نے پوچھا: ’’آپ کے ساتھ کوئی بڑا نہیں؟‘‘ بچے نے کہا: ’’میری ماں باہر کھڑی ہے‘‘۔ امام صاحب باہر آئے۔ اس بچے کی والدہ انگریز تھی۔ پوچھنے پر بتایا کہ وہ مسلمان نہیں ہے۔ ”پھر آپ اپنے بچے کو مسلمانوں کی مسجد میں کیوں داخل کرنا چاہتی ہیں؟“ امام مسجد نے پوچھا۔ انگریز عورت نے کہا: ’’میرے پڑوس میں ایک مسلم گھر ہے، اُن کے بچے جب مسجد سے پڑھ کر گھر آتے ہیں تو اپنی ماں کا بہت زیادہ ادب کرتے ہیں، اس کے ہاتھ چومتے ہیں اور اس کے سامنے ایسے ادب سے چلتے ہیں جیسے کسی ملکہ کے سامنے فوجی ادب سے چلتے ہیں۔ جب وہ کھڑی ہوتی ہے تو اس کے بچے ادب سے اُس کے سامنے کھڑے رہتے ہیں، اور جب وہ بیٹھ جاتی ہے تو اُس کے بچے اُس کے سامنے زمین پر بیٹھ جاتے ہیں۔
میری بڑی خواہش ہے کہ میرا بیٹا اسی طرح ادب کرے اور میں اس کے لیے ملکہ جیسی بنوں۔ اس لیے میں چاہتی ہوں کہ آپ میرے بیٹے کو بھی اپنی مسجد میں داخل کریں۔“ (محمد دلاور محسن۔ بشکریہ: المقری)۔

حاتم کی فیاضی

ایک دفعہ حاتم بنو عنزہ کے خیموں کے پاس سے گزرا تو اس کی نظر ایک شخص پر پڑی جو رسیوں میں بندھا گرم ریت پر پڑا تھا۔ حاتم نے کیفیت پوچھی تو معلوم ہوا کہ وہ ایک جنگی قیدی ہے جس کا فدیہ دینے والا کوئی نہیں۔ حاتم نے سردارِ قبیلہ سے کہا کہ اسے آزاد کردیجیے اس کا فدیہ میں ادا کروں گا۔ سردار نے کہا کہ میں فدیہ پہلے لوں گا۔ حاتم نے کہا: تو پھر آپ اس قیدی کی جگہ مجھے یہاں باندھ کر رکھیں اور اسے آزاد کردیں تاکہ یہ میرے قبیلے کو میری چادر دکھا کر فدیہ کی رقم لے آئے۔ سردار نے یہ بات مان لی، قیدی کو چھوڑ دیا اور وہ رقم لے آیا۔

زبان زد اشعار

اچھی صورت بھی کیا بُری شے ہے
جس نے ڈالی بُری نظر ڈالی
(غالب)
……٭٭٭……
اٹھانا خود ہی پڑتا ہے تھکا ٹوٹا بدن فخریؔ
کہ جب تک سانس چلتی ہے کوئی کندھا نہیں دیتا
(زاہد فخریؔ)
……٭٭٭……
اے ذوقؔ کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا
بہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سے
(ذوقؔ)
……٭٭٭……
انیس دَم کا بھروسہ نہیں ٹھہر جائو
چراغ لے کر کہاں سامنے ہوا کے چلے
(میر انیس)

Share this: