میں ان کے لیے روتا ہوں، جو چلے گئے

Print Friendly, PDF & Email

امام غزالیؒ دس برس کے بعد لوٹ کر آئے تو پانچ سو دینار کے جبّے اور عربی گھوڑے کے بجائے، دو دینار کی قمیص پہنے، ایک خچر پہ سوار تھے۔ ہجرت اس حال میں کی تھی کہ استادِ زمانہ تھے۔ گھر سے نکلتے تو دو ڈھائی سو طالبِ علم اور استاد ہم قدم ہوتے۔ واپس آئے تو فقر ہی شعار تھا۔ پہلی بار اپنی کتاب عوامی زبان فارسی میں لکھی ”احیاء العلوم“۔ اب اپنے عہد میں اٹھنے والے ہر سوال کا جواب انہوں نے دیا۔ طوس کے ایک چھوٹے سے گھر میں بچوں کو پڑھایا کرتے مگر امام کہلائے۔ آنے والے زمانوں کے امام بھی۔ ماہیتِ قلب پہ کبھی کوئی سوال کرتا تو عربی کا ایک شعر پڑھا کرتے: جو گزر گیا، سو گزر گیا۔ اپنی ذات سے انہیں اب کوئی غرض نہ تھی بلکہ مقصدِ اولیٰ سے، مالک سے اور مالک کی مخلوق سے۔

طلوع مہر، شگفتہ سحر، سیاہی شب
تیری طلب، تجھے پانے کی آرزو، ترا غم

آخری ایام میں اقبالؔ کی تمنا تھی کہ اپنے قلب و دماغ کی سرگزشت لکھیں۔ لکھ ڈالتے تو دنیا ہمیشہ باقی رہنے والی ایک دستاویز کو دیکھتی، مگر وہ سرکارﷺ کی امت، خاص طور پہ مسلم برصغیر کے مستقبل پہ غور وفکر میں غلطاں رہے۔ ایسی برکت اللہ نے انہیں بخشی کہ باید و شاید۔ کبھی کسی شاعر نے کسی سماج کو اس طرح نہ بدلا تھا، جس طرح انہوں نے۔ جوانی میں ایک اور طرح کی شاعری کیا کرتے، پھر ان موضوعات کو اجاگر کیا جو کبھی شاعری کا عنوان تھے ہی نہیں۔ اوّل وہ داغؔ ؔ کے شاگرد تھے۔ فارسی اور جدید انگریزی شعرا سے متاثر، مناظرِ فطرت کے مصور۔

اے ہمالہ اے فصیلِ کشورِ ہندوستاں
چومتا ہے تری پیشانی کو جھک کر آسماں

پھر اس مقام پہ پہنچے کہ خود بھی حیران ہوئے۔

سرود رفتہ باز آید کہ ناید
نسیمے از حجاز آید کہ ناید
سر آمد روزگارِ ایں فقیرے
دگر دانائے راز آید کہ ناید

اب میں زندگی کو الوداع کہتا ہوں۔ فکرمند ہوں کہ نسیمِ حجاز اب آئے گی یا نہیں۔ دوسرا دانائے راز ہندوستان کے بت کدے کو نصیب ہو گا یا نہیں؟

عمر ہا در کعبہ و بت خانہ می نالد حیات
تا ز بزمِ عشق یک دانائے راز آید بروں

زمانوں تک زندگی عبادت گاہوں میں روتی ہے، تب آسمانوں سے ایک رازداں اہلِ زمیں کو نصیب ہوتا ہے۔ وجدان کہتا ہے اور قرائن یہ بتاتے ہیں کہ کبھی کوئی واقعہ رونما ہوا۔ کسی شب شاعر نے حضورِ پروردگار میں گریہ کیا۔ تب فکر و نظر کے آفاق روشن ہوئے۔ ایسی روانی کہ کوئی نظیر نہیں ملتی۔ نصف شب کو جاگ اٹھتے، علی بخش کے لیے تالی بجاتے۔ کاغذ اور قلم منگاتے۔ ایک ذرا سے تامّل کے بغیر، اوراق پہ روشنی اترنے لگتی۔ آدمی کا کوئی ہنر ہے اور نہ کامرانی۔ عطا و بخشش ہوتی ہے، عطا و بخشش۔ چرواہے بادشاہ ہوجاتے ہیں بلکہ بادشاہوں سے بڑھ کر۔ عمر فاروقِ اعظم ؓنے کہا تھا: ہم کیا تھے؟ اسلام نے ہمیں عزت بخش دی۔ کہا: اونی چولا پہنے، میں اونٹ چرایا کرتا اور میرا باپ مجھے مارتا کہ سلیقہ نہیں۔ اپنے ایک گورنر کو معزول کرتے ہوئے رنج سے ارشاد کیا تھا: تیری ماں تجھے روئے، وہ تجھے چرواہے کے سوا کیا بناتی۔ آدمی نہیں جانتا اور غور نہیں کرتا۔ راولپنڈی کی ایک محترم خاتون، جو ایک ممتاز کشمیری لیڈر کی خوش دامن ہیں، میاں محمد نوازشریف کے ہاں تشریف لے گئیں۔ وضع داری کا انہوں نے مظاہرہ کیا۔ برائے احترام محترمہ کلثوم نواز اور محترمہ مریم نواز بھی کھانے کی میز پر موجود تھیں۔ اچانک وہ بولے: کشمیریوں کی پوری تاریخ نے مجھ سے بڑا لیڈر پیدا نہیں کیا۔ وہ اکل کھری، بڑبولی خاتون۔ تاب اس میں کہاں تھی۔ بولی: میاں صاحب، آپ کو یہ بات نہ کہنا چاہیے تھی۔ کشمیریوں میں اقبالؔ ہو گزرے ہیں۔ میاں صاحب حکم لگانے کی کوشش کرتے ہیں، علم اور ادراک کے بغیر۔ اہلِ علم کی صحبت کبھی نصیب نہ ہوئی۔ کتاب کبھی پڑھی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ ڈاکٹر طاہر القادری، شریف خاندان کی مدد سے جو اجاگر ہوئے۔ سنسنی پھیلانے کا، چندہ جمع کرنے کا فن سیکھا۔ ارب پتی بنے تو شیخ الاسلام ہوگئے، اور اب نیلسن منڈیلا کے مقام پر فائز ہونے کے آرزومند ہیں۔
سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کبھی ان کے لیے نمونہ عمل تھے، پھر آیت اللہ خمینی اور اب نیلسن منڈیلا۔ ارے بھائی، ہیرو وہ آدمی ہوتا ہے، جو خدمت میں یکسو ہوجائے، عظمت کا آرزومند نہیں۔ اہلِ عظمت چیختے کبھی نہیں۔ ہیجان کا شکار نہیں ہوتے۔ سودائے عشق اور ہے، وحشت کچھ اور شے۔ مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا، فرمایا: اب فیصلہ ہوگا کہ یہ جمہوری ملک ہے یا نہیں؟ اسٹیبلشمنٹ سے آپ کا تنازع اپنی جگہ مگر جمہوریت؟ کیا یہ جمہوری پولیس ہے؟ جمہوری عدالتیں؟ کیا آپ کی جماعت جمہوری ہے؟ لیڈر دیوتا اور بادشاہت خاندانوں کی۔ بلاول زرداری ذوالفقار علی بھٹو کے مجاور ہیں، اسفند یار باچا خان کے۔ مولانا فضل الرحمٰن مفتی محمود کے وارث۔ محمود اچکزئی اپنے آبا کے۔ محترمہ مریم نواز عالی جناب کی۔ جنرل پرویز مشرف اپنے انجام کو پہنچے۔ جنابِ زرداری، شریف خاندان اور ان کے بعد عمران خان چند برسوں میں جا پہنچیں گے۔ صوفی تو کیا، شاعر وہ باکمال تھا، حسین بن منصور حلّاج۔ اس نے کہا تھا: میں ان کے لیے روتا ہوں، جو چلے گئے اور ان کے لیے جو راستوں میں سرگرداں ہیں۔
(ہارون رشید۔ روزنامہ92،12جنوری2021ء)

کیا ہم وہاں جارہے ہیں جہاں عراق،افغانستان اور لیبیا پہنچ چکے ہیں؟۔

آج آپ کی خدمت میں بہت ہی اہم اور تشویش ناک بات کرنے کی ہمت کررہا ہوں۔ ملکی حالت کا آپ کو پورا علم ہے۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ ہر پانچواں شخص بے روزگار اور فاقہ کشی کا شکار ہے۔ درآمدات، برآمدات سے دگنی ہیں اور ملک کا نظام غیرممالک میں مقیم پاکستانیوں کے بھیجے ہوئے فنڈز سے چل رہا ہے، اور جو کمی ہے وہ ورلڈ بیک، IMF اور مغربی ممالک سے قرض لے کرپوری کی جارہی ہے۔ حکومت اور تمام ادارے ایک ہی زبان بول رہے ہیں۔ قانون کی فراہمی اور امن و امان کی صورتِ حال میں بہتری نہیں بلکہ بدتری آرہی ہے۔ نہ آپ کی جان اور مال محفوظ ہے، نہ آپ کو انصاف مل رہا ہے، اور نہ ہی ملنے کی اُمید ہے۔ حکمرانوں کے خیالات اور تصورات یکجا ہوگئے ہیں، اور یہ ملک کے لیے سخت خطرہ ہے۔ یہ سوچ کر ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم وہاں جارہے ہیں جہاں عراق، افغانستان اور لیبیا پہنچ چکے ہیں۔ عوام بُرے حالات سے بیزار ہورہے ہیں اور مزید بیزار ہوجائیں گے، اس لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، ورنہ قرض بہت بڑھ جائے گا تو ہم اس کی واپسی کے قابل نہ رہیں گے۔ ہمارے بینک کام کرنا بند کردیں گے۔ ہم غیر ملکی تجارت نہیں کرسکیں گے۔ عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ یہ وہ وقت ہوگا جب ہمارے بین الاقوامی دشمن ہم کو وہ شرائط ماننے پر مجبور کریں گے جن کا تعلق ہمارے ملک کی سلامتی سے ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے ان تمام برے حالات کے باوجود اپنے ملک کی سلامتی کے لیے ہر قربانی دی ہے۔ یہ ایٹمی صلاحیت انہی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ اپنے ملک کی بقاء اور سلامتی کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ موجودہ حکمرانوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی بہترین صلاحیتیں ملک کی بقاء اور دشمنوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے میں صرف کریں۔
(ڈاکٹر عبدالقدیر خان۔ جنگ 11جنوری2021ء)

Share this: