اسلامی تہذیب اور چین۔۔۔۔ علمی تعلق

Print Friendly, PDF & Email

ترجمہ: ناصر فاروق

(آخری حصہ)

دیگر ذرائع جوعظیم تعداد میں ہیں، چینی صنعت و حرفت کے اعلیٰ معیار پر گواہ ہیں، اور اُن کا وہ اثر جو مسلمان مصنفین پر پڑا ہے، ظاہر کرتے ہیں۔ یہ مسلمان چینی تکنیکی مہارتوں اور اُن ایجادات کے گرویدہ تھے جو وہاں سے درآمد کی جارہی تھیں۔ یہ کہانیاں بتاتی ہیں کہ چینی دستکار اور فنکارکمال پر تھے۔ چینی ہنرمندی کا مسلمان فن کاروں پر یہ اثر ہوا کہ وہ چینی طرز کی اشیاء خود تیار کرنے لگے، جس کی جھلک اسلامی فنی شاہکاروں میں آسانی سے دیکھی جاسکتی ہے۔
بات جب نظری سائنس کی جانب آتی ہے تو کہانی ذرا مختلف رنگ اختیار کرلیتی ہے۔ چینی ٹیکنالوجی اور ایجادات کے اسلامی دنیا اور پھر وہاں سے یورپ میں تیز پھیلاؤ کے مقابلے میں نظری سائنس ایک پراسرار غیر مرئی دیوارکے عقب میں چھپی محسوس ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ جب ہم چینی طالب علم (جو بغداد تحصیلِ علم کے لیے آیا تھا)کی کہانی پر یقین کرنا بھی چاہیں، جو یونانی علوم کا املا اور ترجمہ کرنا چاہتا تھا، جو ایک ماہ میں جالینوس کا وہ سارا علم ِطب چین ساتھ لے جانا چاہتا تھا، وہ علم کہ جس کا دسویں صدی کے بغداد میں بڑا چرچا تھا، ہم قدرے اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ یونانی علمِ طب چین کے آزاد نظام الادویہ سازی پر واضح طور پر اثرانداز نظر نہیں آتا۔ یہ ’’غیر مرئی‘‘ دیوار شاید دونوں جانب سے حائل ہوگئی تھی۔ جیسا کہ ہم قرونِ وسطیٰ اور قدیم چین کے عمدہ نظامِ فلکیات کے ضمن میں دیکھتے ہیں، کہ جن میں یونانی اصولِ گرہن کے بجائے کہ جس میں مسلمان بھی یونانیوں کا اتباع کررہے تھے، ہمارے دورِ جدید کا خط استوا سے متعلق نظام (equatorial coordinate system) حرکت میں نظر آتا ہے۔ یہ چینی نظام فلکیات ’’غیر مرئی دیوار‘‘ پار کرکے مغرب کی جانب نہیں جاسکا تھا۔ یہاں تک کہ سولہویں سترہویں صدی میں جب Jesuits (عیسائی مبلغین) نے چین میں قدم رکھے، تب جاکر یہ علمی تاریخ سامنے آئی۔ علم کونیات میں چینی ترقی کے باوجود قرون وسطیٰ کی تاریخ بتاتی ہے کہ سال1267ء کے آس پاس ایک فارسی ماہر فلکیات جمال الدین (چینی زبان میں Cha-ma-lu-ting) مراغہ کی درس گاہ سے اپنے ساتھ فلکیاتی آلات چین لے گیا تھا، جن کی چینی زبان میں دستاویزی تفصیل سامنے آچکی ہے۔ تاہم، نیدھم (Needham) ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے بڑی احتیاط سے اس ساری صورتِ حال کو دستاویزی صورت دی ہے، آلات کے وہ عربی نام جنہیں چینی زبان میں اُسی طرح منتقل کیا گیا تھا، ان کی تفصیل آج بھی موجود ہے۔ لہٰذا اس معاملے میں نیدھم انسٹی ٹیوٹ سے اتفاق ناگزیر ہے کہ اسلامی دنیا سے چین علم فلکیات کی منتقلی کے لیے کی گئی ساری کاوشوں کے باوجود ’’مسلم آلاتِ فلکیات کا چینیوں پر براہِ راست اثر نظر نہیں آتا‘‘۔ اس کی وضاحت شاید چینی سائنسی اسلوب میں مضمر ہے، اور زیادہ اہم وجہ اس کی قدامت بھی ہوسکتی ہے۔
چین کا اسلامی دنیا سے ساتویں، آٹھویں صدی میں رابطہ ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب اسلامی دنیا کے دروازے سارے عالمی علوم پر وا ہوگئے تھے، ہر جانب سے علمی روایات کا بہاؤ تیز ہوچکا تھا۔ چینی سائنس دان… خواہ وہ ریاضی داں ہوں یا ماہرینِ فلکیات، یا پھر ماہرینِ ادویہ یا کیمیا داں… اپنے کاموں میں پہلے ہی سے مصروف تھے، اور کائنات کی ایک مربوط وضاحت کررہے تھے۔ چین کی قدیم تہذیب سائنسی اور معاشرتی زندگی میں کمال ہم آہنگی پیدا کرچکی تھی۔ اس مرحلے پر بیرونی نظریات کے اثرات نہ ہونے کے برابر تھے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ تکنیک کا کوئی تبالہ ہو ہی نہ سکا تھا۔ انفرادی سطح پر ٹیکنالوجیکل آئیڈیاز، جوکسی تہذیب کے تصورِ جہاں پر مجموعی طور پر اثرانداز نہیں ہوتے، اختیار کیے گئے تھے۔ تاہم یہ عام سائنسی سرگرمیوں اور نظریات میں کوئی کلیدی تبدیلی نہ لاسکے تھے۔ چینیوں نے اسکرو استعمال کیا، گھڑی سازی اختیار کی، کرینک شافٹ کا آئیڈیا لیا، جیسا کہ نیدھم ریسرچ میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ چینیوں کا آسمانی نظام اور فطرت کے بارے میں تصورات بالکل نہ بدل سکے تھے۔
قرون وسطیٰ کے دور میں چین کا سفر کرنے والے مسلمان سیاحوں نے وہاں سے کوئی ایسا سائنسی نظریہ یا متن حاصل نہیں کیا کہ جس سے دونوں جانب کی سائنسی تحقیق پر کوئی فیصلہ کن اثر پڑا ہو، تاہم وہ وہاں سے بڑی تعداد میں ’’ادویاتی اجزاء‘‘ لے کر لوٹتے تھے۔ چینی کے ظروف اور دھاتی اشیاء کی بڑی درآمد ہوئی، جن کی اسلامی دنیا میں بڑی نقلیں تیار کی گئیں۔ ریشم اور کپڑے کی انواع واقسام چین سے اسلامی دنیا کا حصہ بنیں، اور ایسا ہی کچھ کاغذ کی درآمد اور استعمال کے معاملے میں ہوا۔
فطری طور پر یہ مسافر اپنے ساتھ اس دور کے عجیب دیس کی بہت سی کہانیاں بھی لے کر لوٹے۔ بارہویں صدی کے جغرافیہ داں الادریسی نے اُن تجارتی اشیاء کی فہرست تیار کی ہے جو دورانِ سفر ملیں، ایسی پچیس اشیاء وہ سمندری راستے سے واپسی پر عدن لایا تھا۔ ان اشیاء میں مخمل، مسالے، خوشبوئیں، ناریل، اوردھات سے بنی کچھ اشیاء شامل تھیں۔ اُس نے ’’ریوند چینی(ایک پودا)‘‘ (rhubarb)کا خاص ذکر کیا ہے، جسے مسلمان تاجروں نے مسلسل درآمد کیا۔ یہ rhubarb ادویہ سازی میں بہت مفید تھا۔ جن مسلمانوں نے یہ پودا درآمد کیا، اُنھوں نے چینیوں سے اس کے طبی استعمال کا طریقہ باقاعدہ سیکھا تھا۔
سب سے مشہور مسلمان سیاح ابن بطوطہ نے چودہویں صدی میں چین سے کاغذ کا بطور کرنسی استعمال سیکھا، جس کا اب تک کہیں رواج نہیں ہوا تھا۔ ابن بطوطہ نے وہاں کی عجیب وغریب دنیا کے کئی قصے بیان کیے ہیں۔ سب سے زیادہ جس چیز نے ابن بطوطہ کو متاثر کیا، وہ چینیوں کا فنِ مصوری تھا، وہ کسی بھی فرد کی صورت کینوس پر منتقل کردیا کرتے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ اس اعلیٰ فن کو محض غیر ملکی مجرموں کی گرفتاری کے لیے استعمال کرتے تھے۔ الادریسی لکھتا ہے کہ چینی بادشاہ ہندوستانی بادشاہوں کی طرح فن مصوری میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے تھے، اپنے بچوں میں اس کی تربیت کا اہتمام کرتے تھے، اور اس کے لیے بہترین استاد مقرر کرتے تھے۔
بعد کی صدیوں میں، چین اور اسلامی تہذیب میں نظریات اور علمی ترقی کا وہ دور بھی آیا کہ علم الادویہ میں، علم فلکیات، اور مشاہداتی وتجرباتی استعمالات کے معاملے میں یہ امتیاز کرنا مشکل ہوگیا کہ کون دوسرے سے کتنا اکتساب کررہا تھا۔ اس طرح کے دو طرفہ علمی اثرات کا تعین ممکن نہیں۔ تاہم ایک بات یقینی ہے: ٹیکنالوجیکل ایجادات جو چین میں ہوئیں، اسلامی دنیا سے ہوتی ہوئی باقی دنیا تک پہنچیں۔ چین کی مغربی سرحدوں سے آگے قائم اسلامی دنیا کا یہ احسان ہے کہ وہ چینی علوم کی عالمی ترویج و ترسیل کا ذریعہ بن گئی۔

Share this: