گوجرانوالہ:جرائم پیشہ افراد کے نرغے میں

Print Friendly, PDF & Email

گیس کا بحران

بجلی کے بعد گوجرانوالہ میں گیس کا بحران کھڑا ہوگیا ہے۔ سوئی گیس حکام کے مطابق سسٹم میں صرف 4300 ملین مکعب فٹ گیس رہ گئی ہے، اگر گیس مزیدکم ہوئی توسسٹم آپریشنل رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ حکام کے مطابق گیس سے بجلی بنانے والی نان ایکسپورٹر اور ایکسپورٹ صنعتوں کوگیس کی فراہمی معطل کردی، گیس کی مزیدکمی ہوئی تو تمام صنعتوں کوگیس سپلائی بندکردی جائے گی۔
گوجرانوالہ میں گزشتہ ہفتے معروف مذہبی اسکالر علامہ ابتسام الٰہی ظہیر کے بیٹے صاحب زادہ قیم الٰہی ظہیر کی دعوتِ ولیمہ ہوئی جو ایک سیاسی تقریب میں بدل گئی۔ اس میں مذہبی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی جن میں علامہ محمد احمد لدھیانوی (سربراہ اہل سنت و الجماعت پاکستان)، پروفیسر ساجد میر (امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان)، لیاقت بلوچ (مرکزی رہنما جماعت اسلامی پاکستان)، علامہ طارق محمود یزدانی (چیئرمین مرکزی جمعیت اہل حدیث عالمی پاکستان)، علامہ معتصم الٰہی ظہیر، سید سبطین شاہ نقوی،حافظ انعام الرحمٰن یزدانی، علامہ ہشام الٰہی ظہیر، حافظ عابد الٰہی، صاحب زادہ موذن الٰہی ظہیر، حافظ محمد علی یزدانی، فیصل افضل شیخ (صدر اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان)، کاشف نواز (ناظم سیاسی امور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان)، مولانا عبدالباسط شیخوپوری، قرآن وسنہ موومنٹ پاکستان کامونکے کے رہنما ذاکر اللہ ہنجرا، حافظ ابوبکر ایوب، حافظ ساجد وکیل، علامہ یونس ریحان (امیر متحدہ جمعیت اہل حدیث لاہور)، حافظ سلمان اعظم، ملک افضل شیرازی، مدثر رحمانی، نعیم صدیق بھٹہ، عثمان ریاض، وقاص ظہیر اوکاڑوی، عثمان یزدانی، علی ظہیر حیدری، شفقت حسین میرپوری، رفیق ربانی، سعید بھٹی، ثناء اللہ ظہیر، ڈاکٹر صلاح الدین، منیر قمر،میاں عامر بشیر، ابوبکر باجوہ، شیخ یاسر،عثمان معاویہ، حافظ عبیداللہ ارشد، بابر سلفی، قسیم شیخوپوری شامل تھے۔
دنیا بھر میں پہلوانوں کے شہر کے طور پر جانا جانے والا گوجرانوالہ کچھ عرصے سے جرائم پیشہ افراد کے شدید نرغے میں دکھائی دیتا ہے، یوں تو ماضی میں بھی یہاں جرائم کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، لیکن بدقسمتی سے پچھلے کچھ عرصے سے کرائم ہسٹری دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ پولیس کی گرفت جرائم پیشہ افراد پر کمزور پڑ چکی ہے۔وہ وارداتیں جن کے مدعی پولیس سے مدد کے لیے پہنچے اور ایف آئی آر درج کرائی، اس کی شرح میں اضافہ اپنی جگہ… ورنہ متعدد وارداتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے مدعی پولیس تک جانے کے بجائے لٹنے کے بعد سیدھا اپنے گھر کی راہ لیتے ہیں، کیونکہ عام طور پر پولیس میں رپوٹ درج کرانے کے باوجود سوائے طفل تسلیوں کے کچھ ہاتھ نہیں آتا، جبکہ شہریوں کی نظر میں پو لیس دہشت کی علامت ہی رہی ہے۔ پولیس شہریوں کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام نظر آرہی ہے۔ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے بلند بانگ دعوے کرنے والے پولیس افسران کی ناقص پالیسیوں کے باعث اسٹریٹ کرائمز میں اضافہ ہوچکا ہے۔

Share this: