اسلام لانے کا مطلب

رشد و ہدایت
رشد و ہدایت
Print Friendly, PDF & Email

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺ اللہ نے فرمایا: ’’ایک آدمی کے جھوٹا ہونے کا یہ ثبوت ہی کافی ہے کہ
وہ جو کچھ سنے (بلاتحقیق) اسے کہتا پھرے‘‘۔ (مسلم)

سوال یہ ہے کہ اسلام لانے کا مطلب کیا ہے؟ کیا اسلام لانے کا یہ مطلب ہے کہ جو آدمی بس زبان سے کہہ دے کہ میں مسلمان ہوں یا مسلمان بن گیا ہوں، وہ مسلمان ہے؟ یا اسلام لانے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک برہمن پجاری بغیر سمجھے بوجھے سنسکرت کے چند منتر پڑھتا ہے اسی طرح ایک شخص عربی کے چند فقرے بغیر سمجھے بوجھے زبان سے ادا کردے، اور بس وہ مسلمان ہوگیا؟ آپ خود بتایئے کہ اس سوال کا آپ کیا جواب دیں گے؟ آپ یہی کہیں گے ناں کہ اسلام لانے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعلیم دی ہے اُس کو آدمی جان کر، سمجھ کر، دل سے قبول کرے، اور اس کے مطابق عمل کرے۔ جو ایسا کرے وہ مسلمان ہے، اور جو ایسا نہ کرے وہ مسلمان نہیں ہے۔

پہلی ضرورت۔۔۔ علم

یہ جواب جو آپ دیں گے، اس سے خودبخود یہ بات کھل گئی کہ اسلام پہلے علم کا نام ہے، اور علم کے بعد عمل کا نام ہے۔ ایک شخص علم کے بغیر برہمن ہوسکتا ہے، کیوں کہ وہ برہمن پیدا ہوا ہے اور برہمن ہی رہے گا۔ ایک شخص علم کے بغیر جاٹ ہوسکتا ہے، کیوںکہ وہ جاٹ پیدا ہوا ہے اور جاٹ ہی رہے گا۔ مگر ایک شخص علم کے بغیر مسلمان نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ مسلمان پیدائش سے مسلمان نہیں ہوا کرتا، بلکہ علم سے ہوتا ہے۔ جب تک اس کو یہ علم نہ ہو کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کیا ہے، وہ اس پر ایمان کیسے لاسکتا ہے اور اس کے مطابق عمل کیسے کرسکتا ہے؟ اور جب وہ جان کر اور سمجھ کر ایمان ہی نہ لایا تو مسلمان کیسے ہوسکتا ہے؟ پس معلوم ہوا کہ جہالت کے ساتھ مسلمان ہونا اور مسلمان رہنا غیر ممکن ہے۔ ہر شخص جو مسلمان کے گھر میں پیدا ہوا ہے، جس کا نام مسلمانوں کا سا ہے، جو مسلمانوں کے سے کپڑے پہنتا ہے، اور جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، حقیقت میں وہ مسلمان نہیں ہے، بلکہ مسلمان درحقیقت صرف وہ شخص ہے جو اسلام کو جانتا ہو اور پھر جان بوجھ کر اس کو مانتا ہو۔ ایک کافر اور ایک مسلمان میں اصلی فرق نام کا نہیں کہ وہ رام پرشاد ہے اور یہ عبداللہ ہے، اس لیے وہ کافر ہے اور یہ مسلمان۔ اسی طرح ایک کافر اور ایک مسلمان میں اصلی فرق لباس کا بھی نہیں ہے کہ وہ دھوتی باندھتا ہے اور یہ پاجامہ پہنتا ہے، اس لیے وہ کافر ہے اور یہ مسلمان۔ بلکہ اصلی فرق ان دونوں کے درمیان علم کا ہے۔ وہ کافر اس لیے ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ خداوندِ عالم کا اُس سے اور اُس کا خداوندِ عالم سے کیا تعلق ہے، اور خالق کی مرضی کے مطابق دنیا میں زندگی بسر کرنے کا سیدھا راستہ کیا ہے۔ اگر یہی حال ایک مسلمان کے بچّے کا بھی ہو تو بتاؤ کہ اس میں اور ایک کافر میں کس چیز کی بنا پر فرق کرتے ہو؟ اور کیوں یہ کہتے ہو کہ وہ تو کافر ہے اور یہ مسلمان ہے؟
حضرات! یہ بات جو میں کہہ رہا ہوں اس کو ذرا کان لگا کر سنیے اور ٹھنڈے دل سے اس پر غور کیجیے۔ آپ کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ خدا کی یہ سب سے بڑی نعمت جس پر آپ شکر اور احسان مندی کا اظہار کرتے ہیں، اس کا حاصل ہونا اور حاصل نہ ہونا، دونوں باتیں علم پر موقوف ہیں۔ اگر علم نہ ہو تو یہ نعمت آدمی کو حاصل ہی نہیں ہوسکتی۔ اور اگر تھوڑی بہت حاصل ہو بھی جائے تو جہالت کی بنا پر ہروقت یہ خطرہ ہے کہ یہ عظیم الشان نعمت اس کے ہاتھ سے چلی جائے گی۔ محض نادانی کی بنا پر وہ اپنے نزدیک یہ سمجھتا رہے گا کہ میں ابھی تک مسلمان ہوں، حالانکہ درحقیقت وہ مسلمان نہ ہوگا۔ جو شخص یہ جانتا ہی نہ ہو کہ اسلام اور کفر میں کیا فرق ہے، اور اسلام اور شرک میں کیا امتیاز ہے، اس کی مثال تو بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص اندھیرے میں ایک پگڈنڈی پر چل رہا ہو۔ ہوسکتا ہے کہ سیدھی لکیر پر چلتے چلتے خودبخود اس کے قدم کسی دوسرے راستے کی طرف مڑ جائیں اور اس کو خبر بھی نہ ہو کہ میں سیدھی راہ سے ہٹ گیا ہوں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ راستے میں کوئی دجال کھڑا ہوا مل جائے اور اس سے کہے کہ ارے میاں، تم اندھیرے میں راستہ بھول گئے، آؤ میں تمہیں منزل تک پہنچادوں۔ بے چارہ اندھیرے کا مسافر خود اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا کہ سیدھا راستہ کون سا ہے، اس لیے نادانی کے ساتھ اپنا ہاتھ اس دجال کے ہاتھ میں دے دے گا، اور وہ اس کو بھٹکا کر کہیں سے کہیں لے جائے گا۔ یہ خطرات اس شخص کو اسی لیے تو پیش آتے ہیں کہ اس کے پاس خود کوئی روشنی نہیں ہے اور وہ خود اپنے راستے کے نشانات کو نہیں دیکھ سکتا۔ اگر اس کے پاس روشنی موجود ہو تو ظاہر ہے کہ نہ وہ راستہ بھولے گا اور نہ کوئی دوسرا اس کو بھٹکا سکے گا۔ بس اسی پر قیاس کرلیجیے کہ مسلمان کے لیے سب سے بڑا خطرہ اگر کوئی ہے تو یہی کہ وہ خود اسلام کی تعلیم سے ناواقف ہو، خود یہ نہ جانتا ہو کہ قرآن کیا سکھاتا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہدایت دے گئے ہیں۔ اس جہالت کی وجہ سے وہ خود بھی بھٹک سکتا ہے اور دوسرے دجال بھی اس کو بھٹکا سکتے ہیں، لیکن اگر اس کے پاس علم کی روشنی ہو تو وہ زندگی کے ہر قدم پر اسلام کے سیدھے راستے کو دیکھ سکے گا، ہر قدم پر کفر اور شرک اور گمراہی اور فسق وفجور کے جو ٹیڑھے راستے بیچ میں آئیں گے ان کو پہچان کر ان سے بچ سکے گا، اور جو کوئی راستے میں اس کو بہکانے والا ملے گا تو اس کی دوچار باتیں ہی سن کر وہ خود سمجھ جائے گا کہ یہ بہکانے والا آدمی ہے، اس کی پیروی نہ کرنی چاہیے۔

علم کی اہمیت

بھائیو! یہ علم جس کی ضرورت میں آپ سے بیان کررہا ہوں، اس پر تمہارے اور تمہاری اولاد کے مسلمان ہونے اور مسلمان رہنے کا انحصار ہے۔ یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے کہ اس سے بے پروائی کی جائے۔ تم اپنی کھیتی باڑی کے کام میں غفلت نہیں کرتے، اپنی زراعت کو پانی دینے اور اپنی فصلوں کی حفاظت کرنے میں غفلت نہیں کرتے، اپنے مویشیوں کو چارہ دینے میں غفلت نہیں کرتے، اپنے پیشے کے کاموں میں غفلت نہیں کرتے، محض اس لیے کہ اگر غفلت کرو گے تو بھوکے مر جاؤ گے اور جان جیسی عزیز چیز ضائع ہوجائے گی۔ پھر مجھے بتاؤ کہ اس علم کے حاصل کرنے میں کیوں غفلت کرتے ہو جس پر تمہارے مسلمان بننے اور مسلمان رہنے کا دارومدار ہے؟ کیا اس میں یہ خطرہ نہیں کہ ایمان جیسی عزیز چیز ضائع ہوجائے گی؟ کیا ایمان، جان سے زیادہ عزیز چیز نہیں ہے؟
تم جان کی حفاظت کرنے والی چیزوں کے لیے جتنا وقت اور جتنی محنت صرف کرتے ہو، کیا اس وقت اور محنت کا دسواں حصہ بھی ایمان کی حفاظت کرنے والی چیزوں کے لیے صَرف نہیں کرسکتے؟ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ تم میں سے ہر شخص مولوی بنے، بڑی بڑی کتابیں پڑھے اور اپنی عمر کے دس بارہ سال پڑھنے میں صرف کردے۔ مسلمان بننے کے لیے اتنا پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے ہر شخص رات دن کے چوبیس گھنٹوں میں سے صرف ایک گھنٹہ علمِ دین سیکھنے میں صَرف کرے۔ کم از کم اتنا علم ہر مسلمان بچے اور بوڑھے اور جوان کو حاصل ہونا چاہیے کہ قرآن جس مقصد کے لیے اور جو تعلیم لے کر آیا ہے اس کا لبِ لباب جان لے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز کو مٹانے کے لیے اور اس کی جگہ جو چیز قائم کرنے کے لیے تشریف لائے تھے اس کو خوب پہچان لے، اور اس خاص طریقِ زندگی سے واقف ہوجائے جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے مقرر کیا ہے۔ اتنے علم کے لیے کچھ بہت زیادہ وقت کی ضرورت نہیں ہے، اور اگر ایمان عزیز ہوتو اس کے لیے ایک گھنٹہ روز نکالنا کچھ مشکل نہیں۔

Share this: