امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیسے؟۔

Print Friendly, PDF & Email

امریکہ سے آئے ہوئےنوجوان بیرسٹر دائود غزنوی کی رائے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ اور دنیا کے مختلف علاقوں میں انتہائی گھنائونے جرائم میں سزا یافتہ 84 افراد کی سزائیں معاف کرکے یا ان میں بڑی تخفیف کرکے منصبِ صدارت سے سبکدوش ہوگئے۔ اگرچہ انہیں ہماری پی ڈی ایم کی طرح 2018ء کے انتخابات میں زبردست دھاندلی کی شکایت ہے جس طرح کی شکایت تحریک انصاف کو 2013ء کے انتخابات میں تھی۔ صدر ٹرمپ نے جاتے جاتے اپنی اس شکایت اور برہمی کا اظہار بھی کیا ہے، لیکن امریکی نظام میں ایک ڈسٹرکٹ جج نے بھی اُن کی شکایت کو قابلِ غور نہیں سمجھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جن 84 افراد کی سزائیں معاف کی ہیں وہ انتہائی سنگین جرائم میں ملوث ہیں اور تمام عدالتی کارروائی کے بعد امریکہ کی اعلیٰ ترین عدالتیں ان جرائم میں اُن کی سزائوں کی توثیق کرچکی تھیں۔ سزا میں معافی پانے والوں میں وہ چار امریکی فوجی بھی شامل ہیں جنہوں نے عراق میں انتہائی بہیمانہ طریقے سے 12 معصوم عراقی شہریوں کو سرِعام قتل کیا تھا۔ ان پر نہ صرف یہ جرم ثابت ہوگیا تھا بلکہ امریکہ کی اعلیٰ ترین عدالتوں نے اُن کی سزائوں کی توثیق بھی کردی تھی۔ ان مجرموں کی سزا کی معافی پر اقوام متحدہ کی جنگی جرائم اور انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ نے شدید احتجاج کیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ سزائوں میں اس معافی کی روایت سے بے گناہ شہریوں پر غاصب فوجوں کے ظلم و جبر کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
سزائوں میں معافی یا تخفیف کی سہولت پانے والوں میں کوئی ایک بھی پاکستانی شامل نہیں، بلکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل پر جاتے ہوئے امریکی صدر نے غور کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا، جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ خود حکومتِ پاکستان یا پاکستان کے کسی ادارے یا تنظیم نے اس معاملے کو صدر ٹرمپ کے سامنے اُٹھانے کی زحمت ہی نہیں کی۔ چنانچہ برسوں سے پڑی ہوئی اس اپیل کو زیر غور ہی نہیں لایا گیا۔ انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد امریکی روایت کے مطابق برسرِاقتدار صدر 20 جنوری تک معمول کے امور نمٹاتا ہے اور رحم کی اپیلوں پر فیصلے ترجیحی بنیادوں پر کرتا ہے۔ اگر اس موقع پر پاکستانی حکومت اور امریکہ میں پاکستانی سفارت خانہ کوشش کرتا تو عافیہ صدیقی کی اپیل بھی کم از کم زیر غور تو آسکتی تھی۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس کے برعکس قانونی امور میں وزیراعظم کی ناک کے بال اور مشیر کے عہدے پر متمکن بابر اعوان نے عافیہ صدیقی کے خاندان کو یہ کہہ کر رخصت کردیا کہ ہم نئے صدر جوبائیڈن سے عافیہ کی سزا معاف کرا لیں گے۔ جاتے ہوئے صدر سے تو رابطہ ہی نہیں کیا جارہا، البتہ آنے والے صدر سے کسی دلیل کے بغیر سزا ختم کرانے کا لولی پاپ دیا جارہا ہے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی جسے پاکستان کا ایوانِ بالا سینیٹ قوم کی بیٹی قرار دے چکا ہے اس کا کیس پاکستانی حکمرانوں نے جس بے دلی سے لڑا ہے اس طرح تو بکے ہوئے وکیل بھی کیس نہیں لڑتے۔ ملک کے اندر عوام الناس کی سطح پر اس معاملے کو ایک جذباتی معاملے کے طور پر اٹھایا گیا، یقیناً پاکستانی عوام کے لیے یہ اپنی ایک بے گناہ بیٹی کا جذباتی مسئلہ تھا۔ اس معاملے نے گہرا مذہبی رنگ بھی اختیار کیا۔ اس کی بھی جائز وجہ موجود تھی کہ عافیہ کا جرم یہ تھا کہ وہ ایک مسلمان خاتون ہے اور اپنے مسلمان ہونے پر فخر کرتی ہے۔ وہ دینی شعائر کی بڑی حد تک پابند اور ان شعائر کی ترویج و اشاعت پر یقین رکھتی ہے۔ اس طرح عوامی سطح پر یہ قومی غیرت کے ساتھ ایک دینی اور جذباتی مسئلے کے طور پر پہلے دن سے موجود ہے، اور آج بھی اس ملک کے لوگ اور پوری دنیا کے مسلمان اس معاملے کو دینی غیرت و حمیت کا معاملہ سمجھتے ہیں۔ عافیہ کی رہائی کے لیے ان بنیادوں پر پاکستانی عوام نے مسلسل کوششیں کیں، دینی جماعتوں نے اسے ہمیشہ زندہ رکھا، اور دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں نے بھی اس کی حمایت کی۔ لیکن یہ مسئلہ قانونی اور انسانی حقوق کا بھی ایک معاملہ ہے۔ عافیہ کے معاملے میں امریکہ نے انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں کیں اور جدید اور نام نہاد مہذب دنیا اس پر خاموش تماشائی بنی رہی۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان کی اُس وقت کی حکومت کی ایما پر امریکی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی نے کراچی سے اغوا کیا، جو ہر اعتبار سے غیر قانونی عمل اور ایک آزاد شہری کے حقوق کی پامالی تھی۔ پھر اسے غیر قانونی طور پر افغانستان منتقل کردیا گیا، جو پاکستان ہی نہیں، بین الاقوامی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی تھی۔ یہاں امریکی فوجیوں نے اس کے ساتھ انتہائی غیر انسانی سلوک کیا۔ تفتیش کے تمام غیر قانونی و غیر اخلاقی حربے استعمال کیے، مگر کوئی ایسا ثبوت حاصل نہ کرسکے جس سے خود اسے دہشت گرد ثابت کیا جاسکے، دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ اس کے رابطے ثابت ہوسکیں۔ وہاں دورانِ تفتیش اس پر ایک امریکی فوجی سے بندوق چھین کر فائر کرنے کا ایک جعلی مقدمہ قائم کیا گیا، اور پھر گوانتاناموبے لے جاکر اسے کچھ عرصے بعد امریکہ منتقل کردیا گیا۔ مگر پاکستانی حکومت جو اُس کے کراچی سے اغوا میں معاون بنی تھی اس نے نہ اپنے شہری کی افغانستان منتقلی پر، اور نہ وہاں سے امریکہ منتقلی پر احتجاج کیا، نہ اُس کے انسانی حقوق پر آواز اٹھائی، اور نہ اس کی قانونی بنیادوں پر مدد کی۔ چونکہ اُس وقت کے صدر پرویزمشرف نے تو اپنی کتاب میں اسے اپنی حکومت کا ایک کارنامہ قرار دیا ہے اس لیے وہ اس کی رہائی یا انسانی حقوق کے لیے آواز کیوں اٹھاتی! البتہ اپوزیشن خصوصاً عمران خان، جماعت اسلامی اور دینی جماعتوں نے اس ظلم کے خلاف احتجاج اور مظاہرے ضرور کیے۔ پاکستان میں اُن کی فیملی نے عدالتوں کے دروازے بھی کھٹکھٹائے لیکن عافیہ کو انصاف نہیں مل سکا، اور اس طرح پاکستان کی یہ بیٹی 17 سال سے امریکی جیلوں میں ظلم و سفاکی کا شکار ہے۔ بدقسمتی سے پرویزمشرف کے بعد کی حکومتوں نے اس معاملے پر زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
ہماری موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کی طرح کے روایتی، غیر سنجیدہ رویوں کا مظاہرہ کررہی ہے۔ دراصل ہمارے حکمران امریکہ اور امریکی فیصلہ سازوں سے بلاوجہ خوف زدہ ہیں اور اُن کی ناراضی کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ ان کا خیال ہے کہ امریکی حکومت اور عوام کی نظر میں ایک دہشت گرد اور لیڈی القاعدہ کے لیبل والی خاتون کی بات کرنے سے امریکی اُن سے خفا ہوجائیں گے۔ حالانکہ سفارت کاری تو ہوتی ہی ایسے معاملات میں ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ حساس معاملات کو دنیا سفارت کاری ہی سے حل کرتی ہے۔ کیا امریکی حکومت نے ریمنڈ ڈیوس کو اس طرح تنہا چھوڑ دیا تھا جس طرح ہماری حکومتوں نے عافیہ کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا ہے؟ شاید تیرہ سال گزرنے کے بعد خود امریکی حکومتوں اور فیصلہ سازوں کی عافیہ کے بارے میں حساسیت کم ہوچکی ہو۔
اس وقت حکمرانوں کے نزدیک عافیہ کیس ایک ’’ڈیڈ ایشو‘‘ ہے، اور ان کے خیال میں امریکی صدر سے معافی کے سوا اسے ریلیف دلانے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ جبکہ بعض دوسرے راستے بھی موجود ہیں، اگر حکمران اور ہماری وزارتِ خارجہ ان پر غور کریں تو ڈاکٹر عافیہ کو کچھ نہ کچھ ریلیف ضرور مل سکتا ہے۔ حال ہی میں امریکہ سے آئے ہوئے ایک نوجوان بیرسٹر دائود غزنوی ان امکانات پر بار بار بات کررہے ہیں۔ اُن کی رائے میں عافیہ کیس کوئی سیاسی معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس وقت خالصتاً انسانی حقوق کا مسئلہ اور قانون کا معاملہ ہے۔ ان کے نزدیک کوئی امریکی صدر عافیہ کو ریلیف نہیں دے سکے گا، کیونکہ امریکی حکومتیں امریکی معاشرے میں عافیہ کو خوف کی علامت کے طور پر پیش کرچکی ہیں۔ ایسے کیس میں ریلیف دینے سے ان کا پورا بیانیہ دھڑام سے زمین پر آگرے گا، اور امریکی معاشرہ سخت ردعمل کا اظہار کرے گا۔ دوسرے اگر کوئی امریکی صدر عافیہ کو معافی دینے یا تخفیف ِسزا پر راضی بھی ہوجائے تو وہ اس کے جواب میں پاکستان سے بھی بہت کچھ چاہے گا۔ عمومی رائے یہ ہے کہ امریکی حکومت جواب میں شکیل آفریدی کی رہائی چاہے گی اور پاکستانی حکومت اور ادارے اس کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ اس لیے واحد راستہ قانون، انسانی حقوق اور عافیہ کی صحت کی صورتِ حال کا بچتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ امریکی عدالت نے تقریباً دس ماہ تک عافیہ پر اس لیے مقدمہ نہیں چلایا تھا کہ اس کی ذہنی حالت ایسی نہیں تھی جس میں وہ اپنا دفاع کرسکے۔ اس عرصے میں اُسے کسی امریکی جیل میں نہیں بلکہ ٹیکساس کے کارسویل میڈیکل سینٹر میں رکھا گیا۔ اور امریکی عدالت سے 86 سال کی سزا کے بعد بھی وہ اسی سینٹر میں ہے۔ گویا اس کی شدید علالت ہر طرح سے ثابت ہے، اور اس علامت کے باوجود اسے بطور قیدی بھی بہت سے حقوق نہیں مل رہے۔ دائود غزنوی کے مطابق اگر حکومتِ پاکستان ایسے شہری کے سرپرست کے طور پر ویانا کنونشن کی بعض دفعات کے تحت اس کا معاملہ اسی عدالت میں اٹھائے جہاں سے اسے سزا ہوئی ہے تو انسانی حقوق اور اس کی شدید علالت کی طبی بنیادوں پر ہی عدالت اسے ریلیف دے سکتی ہے، یہ اس عدالت کا اختیار ہے۔ ایسی صورت میں اسے واپس پاکستان لایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی باقی سزا پاکستان میں مکمل کرے۔ تاہم اس کے لیے پاکستانی حکومت کو اس کی حفاظت کی ذمہ داری لینا ہوگی۔ دائود غزنوی ان بنیادوں پر کام کررہے ہیں اور خاصے پُرامید نظر آتے ہیں۔ وہ عافیہ کے کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھی پیش ہوچکے ہیں اور امریکہ میں عافیہ کے وکیل چارلس سوفٹ کو پاکستان بھی لاچکے ہیں۔ چارلس سوفٹ یہ کیس اب بھی بلامعاوضہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ امریکی عدالتوں سے بہت سے ایسے افراد کو ریلیف دلا چکے ہیں جن پر دہشت گردی کے الزامات تھے، اور ان میں سے بیشتر دوسرے ممالک کے مسلمان ہی تھے۔ دائود غزنوی نے عافیہ کی میڈیکل رپورٹس اور امریکہ میں اس کے مقدمے کی تمام کارروائی کو کتابی شکل میں Aafia Unheardکے نام سے شائع بھی کیا ہے جس کا مارچ یا اپریل میں ’’عافیہ… محرومِ شنوائی‘‘ کے نام سے اردو ترجمہ بھی آرہا ہے۔ اس کتاب میں چارلس سوفٹ کے علاوہ انسانی حقوق کے عالمی علَم بردار نوم چومسکی، مائیکل گوگل اور معروف پاکستانی قانون دان ایس ایم ظفر کی آراء بھی شامل ہیں۔ امید کرنی چاہیے کہ حکومتِ پاکستان اور وزارتِ خارجہ اس موجود قانونی راستے پر غور کریں گے، اور امریکی عدالت میں عافیہ کی رہائی کے لیے قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ نئے صدر سے رحم کی اپیل پر فیصلہ آنے میں خاصی تاخیر ہوسکتی ہے، اور ممکن ہے کہ اس راستے سے ریلیف نہ مل سکے۔

Share this: