میڈیا پالیسی 2020ء: مقبوضہ کشمیر کی صحافت اور صحافیوں کے لیے ایک نیا محاذ!۔

Print Friendly, PDF & Email

مشہور امریکی براڈ کاسٹر اور صحافی والٹر کرونیکائیٹ نے کہا تھا:’’آزادیِ صحافت جمہوریت کے لیے ضروری نہیں بلکہ آزادیِ صحافت ہی جمہوریت ہے‘‘۔
خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہنے والے ملک بھارت نے پچھلے سال مئی کے مہینے میں اپنے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر کے لیے ’’میڈیا پالیسی 2020‘‘ جاری کی۔ یہ پہلی باضابطہ میڈیا پالیسی ہے جو بھارت کی کسی ریاست کے لیے الگ سے تیار کی گئی ہے۔ یہ میڈیا پالیسی بھارت کی جانب سے کشمیریوں کا گلا گھونٹنے اور جدید دنیا کے بنائے گئے تمام قوانین اور حقوق سلب کرنے کا وہی تسلسل نظر آتی ہے جس کا آغاز 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ساتھ ہی پوری طاقت سے کیا گیا تھا۔
میڈیا پالیسی کے 53 صفحات پر مشتمل نکات پر تنقیدی نگاہ ڈالی جائے تو اس نئی پالیسی کا مقصد صرف یہ نظر آتا ہے کہ ’’خبریں‘‘ عوام تک وہی جانی چاہئیں جو حکومت پھیلانا اور بتانا چاہتی ہے۔ اور وہ خبریں جو حکومت کے خلاف جاتی ہوں یا جن میں ریاستی مظالم کا ذکر ہو، ان کو ’’جعلی خبریں‘‘ (فیک نیوز) کہہ کر روک لیا جائے۔ اس پالیسی کا اجراء ایسے وقت پر کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر پولیس نے دو کشمیری صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر کاٹی اور کئی صحافیوں کو پوچھ گچھ کے لیے تھانوں میں بلایا۔ سینئر صحافی اور مصنف گوہر گیلانی اور فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرہ کو کالے قانون Unlawful Activities Prevention Act (UAPA) کے تحت گرفتار کرلیا گیا تھا۔
بہت سے کشمیری صحافیوں کا خیال ہے کہ اس کا مقصد یہ تھا کہ نئی میڈیا پالیسی کے اجراء سے پہلے ہی صحافیوں کو اتنا خوف زدہ کردیا جائے کہ وہ اس پالیسی کے خلاف کوئی احتجاج ہی نہ کرسکیں۔ ریاستی حکومت نے 5 اگست 2019ء کے بعد ’’مقامی کشمیری میڈیا‘‘ کو مکمل طور پر اپاہج کردیا۔ معلومات اور خبروں کے تمام ذرائع کو محدود یا مکمل بند کردیا تھا۔ صحافیوں کا مکمل انحصار حکومتی میڈیا سینٹر پر ہوگیا، کیونکہ پوری وادی میں انٹرنیٹ کو بند کردیا گیا۔ 6 ماہ بعد 2G انٹرنیٹ کھولا گیا مگر ساتھ ہی 350 سے زیادہ خبروں کی ویب سائٹس کو بلاک کردیا گیا۔ کشمیر ٹائمز کی ایڈیٹر انورادھا بھاسن کی جانب سے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن ڈالی گئی کہ مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش کا خاتمہ کیا جائے۔ سپریم کورٹ بجائے اس کے کہ انسانی حقوق کے اس معاملے پر اپنا فیصلہ سناتی، اُس نے اس معاملے کو ایک ’’ریویو کمیٹی‘‘ کے سپرد کرکے اپنی جان چھڑالی۔ جولائی 2020ء میں ریاستی حکومت نے ’’سیکورٹی خدشات‘‘ اور ’’وطن مخالف کارروائی‘‘ کا عذر دیتے ہوئے انٹرنٹ کی بندش میں اگست 2020ء تک کے لیے توسیع کردی۔ اس سے پہلے کہ راقم اس بے رحم ’’میڈیا پالیسی‘‘ کے اہم نکات اور مندرجات پیش کرے، ہم یہاں قارئین کی معلومات کے لیے ایک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا بنایا ہوا چارٹ پیش کررہے ہیں۔ اس چارٹ میں پورے بھارت کی مختلف ریاستوں میں انٹرنیٹ کی رفتار کا موازنہ کیا گیا ہے۔ مذکورہ چارٹ پر نظر ڈالتے ہی پتا چل جاتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کے استعمال کو 5 اگست 2019ء سے پہلے ہی سے مکمل کنٹرول کیا جارہا ہے، اور لوگوں کے معلومات کی رسائی کے حق کو ریاستی ہتھکنڈوں کے ذریعے محدود کردیا گیا تھا۔

صحافت جبر کے گھیرے میں:۔
مقبوضہ کشمیر میں رپورٹنگ کرنے والے صحافی ہمیشہ ہی اس دبائو میں رہ کر کام کرتے ہیں کہ ان کو کبھی بھی کسی خبر کی وجہ سے ہراساں کیا جاسکتا ہے۔ ان پر حملہ ہوسکتا ہے، یا وہ گرفتار بھی ہوسکتے ہیں۔ (اس دبائو سے متعلق ’رپورٹر ود آئوٹ بارڈر‘ کی ایک مختصر مگر جامع تحقیق جو کہ مقبوضہ کشمیر کے صحافیوں کے بیانات پر مشتمل ہے، کا حوالہ اس مضمون میں الگ سے دیا گیا ہے) ۔
اس طرح کے ریاستی جبر کے ماحول میں اس بات پر یقین کیا جاسکتا ہے کہ ’میڈیا پالیسی‘ جبر کے اندھیروں کو مزید گہرا ہی کرے گی۔ 15 مئی 2020ء کو 53صفحات کی یہ پالیسی جاری کی گئی تو اس میں واضح طور پر میڈیا ہائوسز اور صحافیوں کے لیے نمایاں انتباہ موجود تھے۔ ڈپارٹمنٹ آف انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشن کو مکمل اختیار دیا گیا کہ وہ اخبارات اور جرائد کو اشتہارات دینے سے پہلے اخبارات و جرائد کے ایڈیٹر، پبلشر اور ادارتی بورڈ کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرے، اور یہی نہیں بلکہ کارکن صحافیوں کی بھی مکمل ’’پس منظر رپورٹ‘‘ تیار کی جائے۔ اس ساری کارروائی کے ’مثبت‘ نتائج آنے کے بعد ہی سرکاری اشتہارات کا اجراء کیا جائے۔ میڈیا پالیسی میں واضح طور پر لکھا ہے کہ
’’ڈپارٹمنٹ آف انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشن پرنٹ، الیکٹرونک اور ڈیجیٹل میڈیا کے مواد کا جائزہ لے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ’’جعلی خبریں، سرقہ، غیر اخلاقی، وطن مخالف اور قوم دشمن مواد‘‘ موجود نہ ہو۔ کوئی بھی فرد یا ادارہ جو جعلی خبروں اور غیر اخلاقی اور وطن مخالف سرگرمی میں ملوث پایا گیا تو اس میڈیا ہائوس یا فرد پر پابندی لگادی جائے گی۔ کسی بھی ایسے میڈیا ہائوس کو سرکاری اشتہارات نہیں دیے جائیں گے جو تشدد کو ابھارے یا بھارت کی خودمختاری اور سالمیت کو چیلنج کرے۔‘‘
اوپر دیے گئے اقدامات کو جائز قرار دینے کی توجیح اگلے صفحات میں اس انداز میں دی گئی کہ ان ظالمانہ اقدامات کا ملبہ بھی پاکستان پر ہی ڈالا جائے۔ پالیسی بنانے والے سرکاری بابو مزید لکھتے ہیں کہ:
جموں وکشمیر میں سیکورٹی ترجیح ہے، کیونکہ امن عامہ کے سنگین مسائل ہیں۔ یہ خطہ اپنے پڑوسیکی جانب سے شروع کی گئی ’’پراکسی وار‘‘ لڑرہا ہے۔ ایسے حالات میں یہ ناگزیر ہے کہ ’’وطن مخالف‘‘ اور ’’قوم مخالف‘‘ عناصر کو مکمل قابو میں رکھا جائے تاکہ کشمیر کا امن کوئی تباہ نہ کرسکے۔‘‘
۔2018ء کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں 1,094 رجسٹرڈ اخبارات اور جرائد تھے، تاہم اتنے متحرک میڈیا کو انٹرنیٹ کی بندش نے اپاہج کردیا۔ حکومت کی میڈیا پالیسی نے آسانی سے یہ طے کردیا کہ وہ ’’تکلیف دہ سچائی‘‘ سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں اگر انٹرنیٹ کو بند کردیا جائے یا اس کی رفتار کم کردی جائے۔ پالیسی نے ’’مواصلات کے نئے ذریعوں‘‘ کو اپنی ترجیحات میں شامل تو کرلیا لیکن حکومت اور اداروں کا نظریہ یہ ہے کہ مواصلات کے نئے ذرائع شہریوں کو صرف وہ معلومات اور خبر دیں جو حکومت ان تک پہنچانا چاہتی ہے۔ یعنی ذرائع ابلاغ کو ’’سچائی‘‘ نہیں بلکہ ’’منتخب کیا گیا سچ‘‘ لوگوں تک پہنچانا چاہیے۔
آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ایک ماہ بعد اور مقبوضہ وادی میں معلومات کے ذریعوں کی مکمل بندش کے بعد فری اسپیچ کلیکٹو (FSC) نے ایک مفصل رپورٹ اس بارے میں جاری کی کہ وادی میں ابلاغ اور معلومات تک رسائی کو روکنے کے بعد کیسے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ:۔
’’جموں و کشمیر سے رپورٹنگ اور مقامی ذرائع سے خبروں کی ترسیل نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کا یہ بیانیہ کہ ’’سب ٹھیک ہے‘‘ ہر جانب سے بتایا جارہا ہے۔ سرکاری مؤقف کہ ’’نیا کشمیر‘‘ بن رہا ہے، اس کی گردان مودی نواز میڈیا کی جانب سے مستقل جاری ہے۔ اس کے برعکس پوری وادی میں بہرا کردینے والی خاموشی ہے اور مقبوضہ کشمیر کی ’’آوازیں‘‘ غائب ہوچکی ہیں۔ کشمیریوں کو لگ رہا ہے کہ ان کے ساتھ دھوکا کیا گیا ہے۔ کشمیری غصے اور تنائو کی کیفیت میں ہیں۔ ایسا لگتا ہے حکومت اور عوام میں اعتماد کا فقدان ہے۔ حکومت کا ابلاغ کے ذریعوں اور اس کے عمل کی نگرانی مکمل غیر جمہوری اور نقصان دہ ہوگی۔ صرف طاقت وروں کی آواز کو سنایا جارہا ہے۔ کمزوروں کی آواز جو کہ سچ کی آواز ہے اس کو خاموش کیا جارہا ہے۔ صحافیوں اور سول سوسائٹی کے افراد کے خلاف مقدمے بنائے گئے، ان میں سے اکثر لوگوں کو ان کی سوشل میڈیا کی پوسٹوں کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد سے ہی سوشل میڈیا کو بھی قابو میں کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ 13مئی 2020ء کو وزارتِ اطلاعات نے ’’سوشل میڈیا پالیسی‘‘ کے ایک ضمیمے کا بھی اجراء کیا۔ اس کے مطابق صرف ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو سرکاری اشتہارات ملیں گے جو ایک ہی ’’ڈومین‘‘ اور نام سے کم از کم چھے ماہ تک چلائے جائیں گے، اور کم از کم 25 ملین لوگ پورے بھارت سے ایک ماہ اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوں گے۔ ان کا مواد قوم مخالف، ریاست مخالف، غیر شائستہ اور فحش نہ ہو۔ اگر اس طرح کا مواد پایا گیا تو وزارت کے اداروں کے پاس اس پلیٹ فارم کو بند کرنے کا یا قابلِ اعتراض مواد ختم کرنے کا مکل اختیار ہوگا۔‘‘ (وزارت اطلاعات و نشریات 2020ء)
میڈیا پالیسی میں نمایاں طور پر لکھا ہے کہ کسی بھی میڈیا ہائوس (الیکٹرونک، پرنٹ، ڈیجیٹل) کو سرکاری اشتہارات دینے سے پہلے DIPR مواد کا جائزہ لے گا، اور اگر کوئی بھی ادارہ جعلی خبروں یا ریاست مخالف سرگرمی میں ملوث پایا گیا تو ایسے میڈیا ہائوس کو اشتہارات نہیں دیے جائیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے کہ کون سی خبر جعلی ہے اور کون سی خبر ریاست یا ملک مخالف ہے، اس کا مکمل اختیار DIPR کو ہی دے دیا گیا، یعنی وہی گواہ اور وہی منصف!۔
بقول ایک انگریزی اخبار کے ایڈیٹر: ’’اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ ایک بیوروکریٹ یا پولیس افسر یہ فیصلہ کرے گا کہ خبر کیا ہے اور کیا نہیں!‘‘(دی وائر، 17جولائی 2020ء)
آرویلین منظرنامہ:۔
انٹرنیٹ کی مکمل بندش کے ساتھ ساتھ مدیران اور صحافیوں کو مسلسل ہراساں کرنے کی پالیسی نے مقبوضہ کشمیر کے میڈیا کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ صحافتی تنظیموں نے ’میڈیا پالیسی‘ پر مکمل خاموشی اختیار کرلی۔ پورے مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پالیسی کے خلاف 6 جولائی2020ء کو صرف ایک مظاہرہ کیا گیا۔ مقبوضہ وادی سے باہر بھی صورت حال بہت زیادہ حوصلہ افزا نہیں تھی، چند بھارتی اخبارات نے اپنے اداریوں میں کشمیر میڈیا پالیسی پر تنقید کی۔ انڈین ایکسپریس نے اپنے اداریے میں جس کا عنوان ’’سچائی کی وزارت‘‘ تھا، اس پالیسی پر کھل کر تنقید کی۔ اخبار لکھتا ہے:۔
’’واضح طور پر جموں و کشمیر کی انتظامیہ کے لیے جمہوری حکومت کا نظریہ اس سے یکسر مختلف ہے جس کا وعدہ بھارت کے آئین میں کیا گیا ہے۔ ایسے وقت میں جب کہ جمہوری اور سیاسی آوازیں جموں و کشمیر میں ختم ہوتی جارہی ہیں، اس نئی میڈیا پالیسی کا مقصد مقبوضہ کشمیر کے بیانیے کو مکمل کنٹرول کرنا ہے۔‘‘
(انڈین ایکسپریس، 2020ء)
حیران کن طور پر پریس کونسل آف انڈیا (PCI) جس کو عام طور پر بغیر دانت کا شیر کہا جاتا ہے، اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ’کشمیر میڈیا پالیسی‘ پر سوموٹو لے گی۔ مگر کونسل نے خود کو صرف ’’جعلی خبروں‘‘ کے حوالے سے پالیسی میں دی گئی شقوں تک محدود رکھا۔ 16 جولائی 2020ء کو پریس کونسل آف انڈیا نے کشمیر حکومت اور سیکرٹری انفارمیشن سے جواب مانگا۔ پریس کونسل نے کہا کہ ’جعلی خبروں‘ کے بارے میں فیصلے کا اختیار سرکاری اہلکاروں کو دینے کا مطلب ہے کہ وہ فیصلہ کریں گے جو خبر حکومت کے مفاد میں نہیں وہ جعلی ہے۔ یہ صورت حال مقامی میڈیا کو آزادی سے کام کرنے سے روکے گی۔
’قوم مخالف‘ میڈیا کے لیے اشتہارات ندارد:۔
میڈیا کو دبائو اور قابو میں رکھنے کے لیے اشتہارات کا استعمال کوئی نیا خیال یا تجربہ نہیں۔ کشمیر کے نمایاں اخبارات میں سرکاری اشتہارات پالیسی کے اجراء سے پہلے ہی بند کردیے گئے تھے۔ جبکہ ’کشمیر ٹائمز‘ اور ’رائزنگ کشمیر‘ کو گزشتہ ایک دہائی سے سرکاری اشتہارات نہیں دیے جارہے ہیں۔ فروری 2019ء میں دو نمایاں اور قابل قدر انگریزی اخبار ’گریٹر کشمیر‘ اور ’کشمیر ریڈر‘ کے سرکاری اشتہارات روک لیے گئے۔ بھارتی اخبارات کی خبروں کے مطابق 2010ء میں مرکزی حکومت کی وزارت داخلہ نے ایک مراسلہ دوسری وزارتوں کو بھیجا جس میں کہا گیا کہ کشمیر کے انگریزی اخبارات کے سرکاری اشتہارات فوراً روک لیے جائیں اور ان کی مالی امداد بند کی جائے۔ ان اخبارات میں کشمیر ٹائمز، گریٹر کشمیر اور رائزنگ کشمیر جیسے مؤقر روزنامے شامل تھے۔ اور مراسلے میں مبینہ طور پر اس کی وجہ بھارت مخالف اور حکومت مخالف پروپیگنڈا بتائی گئی۔ کشمیر ریڈر واحد اخبار ہے جو 2006ء سے اس بندش کی زد میں ہے۔
’رائزنگ کشمیر‘ کے قتل ہوجانے والے ایڈیٹر شجاعت بخاری نے اپنے اخبار کے ایک اداریے میں لکھا تھا کہ ’’کچھ اخبارات کو پچھلے کئی سال سے صرف اس لیے بلیک لسٹ کردیا گیا کیونکہ ان کا مؤقف تنقیدی تھا‘‘۔
اکتوبر2017ء میں وزارتِ داخلہ نے ایک اور مراسلے کے ذریعے جموں و کشمیر حکومت کو کہا کہ ’’کشمیر میں جو اخبارات حکومت مخالف یا قوم مخالف کالم اور مضامین چھاپیں ان سے سختی سے نمٹا جائے۔ ایسے اخبارات کو کوئی سرکاری اشتہار نہ دیا جائے‘‘۔
راجیہ سبھا میں ایک سوال (نمبر869) کے جواب میں حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ پورے بھارت میں 5,642 اخبارات سرکاری اشتہارات کے اہل ہیں، ان میں سے صرف جموں و کشمیر کے 120اخبارات ہیں۔ لیکن حکومتی ترجمان نے راجیہ سبھا کو یہ بتانے سے گریز کیا کہ سرکاری اشتہارات حاصل کرنے کی ’’اہلیت‘‘ کا معیار کن باتوں پر منحصر ہوتا ہے۔ مشہور قانون دان راجیو دھوان کے مطابق حکومت کا سرکاری اشتہارات دینے میں اتار چڑھائو صرف ایمرجنسی دور (1975-77ء) تک ہی محدود نہیں رہا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ جو اخبارات حکومت سے اشتہارات کی بھیک مانگتے ہیں نہ اُن اخبارات کی آواز آزاد ہوتی ہے اور نہ اُن کی رائے!۔
یہ حقیقت ہے کہ بالعموم پورے بھارت میں اور بالخصوص جموں و کشمیر میں ریاست کے چوتھے ستون (پریس) اور حکومت کے تعلقات میں کوئی توازن نہیں رہا۔ مقبوضہ کشمیر میں تو توازن مکمل طور پر حکومتی پلڑے میں ہوگا تو آپ زندہ رہ سکیں گے، وہ بھی ’ان‘ کی شرائط پر۔ اگر آج گوئبلز زندہ ہوتا تو وہ بھی جموں و کشمیر کے لیے اس نئی میڈیا پالیسی کو دیکھ کر شرما جاتا، یا شاید کسی وقت وہ اپنی قبر کی تہوں سے منہ نکال کر نریندر مودی کے حق میں دست بردار ہونے کا اعلان کردے!۔

کشمیر: ایک سال جس نے کشمیر میں صحافت کا گلا گھونٹا

۔5 اگست 2019ء کے روز جب آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرکے نہ صرف جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا گیا، بلکہ ساتھ ہی ساتھ آزادیِ صحافت اور اظہارِ رائے پر بھی شب خون مارا گیا۔ ایک سال پورا ہونے پر 5 اگست 2020ء کو صحافیوں کی عالمی تنظیم ’رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز‘ (RSF) نے جموں و کشمیر میں آزادیِ صحافت اور کارکنان و صحافیوں کے حالات جاننے کے لیے چند کشمیری مقامی صحافیوں اور اخبارات کے مدیران سے گفتگو کی، تاکہ صورتِ حال کا تجزیہ کیا جاسکے۔ فرائیڈے اسپیشل کے قارئین کے لیے یہاں اس مضمون کی تلخیص پیش کی جارہی ہے۔ زیر نظر تاثرات انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرکے یہاں دیے جارہے ہیں۔
رپورٹرز ود آئوٹ بارڈر کے جنوبی ایشیا کے سربراہ ڈینیل نے اس مضمون کے آغاز میں لکھا ہے کہ:۔
’’پچھلے ایک سال سے مقامی کشمیری صحافی، کسی جہنمی کے طور پر کام کررہے ہیں‘‘۔
صحافیوں کو ہراساں کرنے کے حوالے سے RSF کو بتایا گیا کہ تین کشمیری صحافیوں کو تین دنوں میں بغیر کسی ایف آئی آر یا شکایت کے گرفتار کرلیا گیا۔
فری لانس صحافی سید علی صفوی کے مطابق: ’’صحافیوں کو ہراساں کرنے، اور گھنٹوں پولیس اسٹیشن میں بٹھا کر رکھنے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ ’’انتظامیہ‘‘ معلومات کے بہائو کو روکنا چاہتی ہے‘‘۔
ایک اور صحافی رہبر، جو کہ ویب سائٹ دی وائر سے منسلک ہیں، کا کہنا ہے کہ: ’’تفتیشی صحافت اور رپورٹنگ کرنا اب کشمیر میں ناممکن ہوتا جارہا ہے، کیونکہ سرکاری اہلکار اور حکومتی نمائندے صحافیوں سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتے، اور نہ ہی کسی معاملے پر اپنا مؤقف دینا چاہتے ہیں۔‘‘
قاضی شبلی جو کہ ’دی کشمیریات‘ کے ایڈیٹر ہیں ان کو 31 جولائی2019ء کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق انہیں سری نگر جیل میں رکھا گیا تھا، مگر پولیس نے اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔ ان کو اپریل 2020ء میں نو ماہ بعد رہا کیا گیا اور وجہ یہ بتائی گئی کہ انہوں نے حکومت کے خلاف ایک ٹویٹ کیا تھا۔
میڈیا پالیسی کے اجراء کے صرف ایک ماہ بعد جولائی میں ’دی کشمیر والا‘کے چیف ایڈیٹر فہد شاہ کو ان کی ایک خبر پر پولیس تھانے بلایا گیا۔ یہ دوسرا موقع تھا جب فہد شاہ کو ان کے جریدے میں شائع کی گئی اسٹوریز کی وجہ سے پولیس نے بلایا۔
ایک اور صحافی نصیر گنائی جو کہ 10 سال سے کشمیر میں صحافت کررہے ہیں، انہوں نے ’الجزیرہ‘ کو بتایا:۔
۔’’9 فروری 2020ء کو کشمیر کی کائونٹر انسرجنسی فورس نے مجھے بلایا اور چار گھنٹے تک مجھ سے تفتیش کی۔ انہوں نے میرا فون اور لیپ ٹاپ لے لیا اور بتایا کہ ہم دیکھیں گے کہ آپ کن لوگوں کو ای میل کرتے ہیں اور کن سے رابطے میں ہیں‘‘۔
کشمیر پریس کلب کے مطابق ایک ماہ میں 10 سے زیادہ واقعات صحافیوں کو ڈرانے یا ہراساں کرنے کے ہوئے ہیں۔

Share this: