کشمیر کو بھارت کے چنگل سے آزاد ہونا چاہیئے

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کے خدشات موجود ہیں
کشمیریوں کے پاس مزاحمت کے سوا کوئی راستہ نہیں
معروف دانشور، کشمیر میڈیا سروس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر

شیخ تجمل الاسلام کا مسئلہ کشمیر پر خصوصی انٹرویو

شیخ تجمل الاسلام کا تعلق وادی کشمیر سے ہے۔ آپ کی کشمیر اور اس سے متعلقہ ایشوز، سیاست اور جدوجہد پر گہری اور عمیق نظر ہے۔ آپ جموں و کشمیر کے سب سے بڑے شہر سری نگر میں1954ء میں پیدا ہوئے۔ اسی خوب صورت مقام پر پلے بڑھے اور یونیورسٹی تک تعلیم حاصل کی۔ ایک عرصے سے پاکستان میں تحریک آزادیِ کشمیر کے لیے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔1999ء سے کشمیر میڈیا سروس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں اور مسئلہ کشمیر پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ شیخ تجمل الاسلام مقبوضہ وادی میںکئی سال تک اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ رہے۔ اس دوران آپ نے کشمیر میں ایران کے اسلامی انقلاب کی طرز کا انقلاب برپا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک عالمی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا، جس پر بھارت سیخ پا ہوا اور اُس نے اس کانفرنس کو بزور طاقت روک دیا، شیخ تجمل اور ان کے کچھ ساتھی گرفتار ہوئے، کچھ جلاوطن ہوئے اور کچھ زیر زمین چلے گئے۔ اور اس کے بعد پھر یہ تحریک بتدریج آگے بڑھتی چلی گئی۔ شیخ تجمل الاسلام سری نگر میں روزنامہ ’’اذان‘‘کے چیف ایڈیٹر کے علاوہ کئی ہفت روزوں اور روزناموں میں مدیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ سری نگر میں ہی وکالت بھی کی۔ 1975ء میں شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے معاہدے کے خلاف، اور اس کے مضر اثرات کو لوگوں پر آشکارا کرنے کے لیے خاصا کام کیا۔ اس سلسلے میں آپ ایک مؤثر آواز تھے۔ متعدد بار قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، جس کے بعد آپ کو وادی سے پاکستان کی جانب ہجرت کرنی پڑی۔ آپ طویل عرصہ نیپال میں افسو نامی ادارے سے وابستہ رہے اور دعوتِ دین کے کاموں میں خاصے متحرک رہے۔ پاکستان میں انسٹی ٹیوٹ آف کشمیر افیئرز(IKA)کی بنیاد رکھنے والے بھی آپ تھے۔ بعد میں کشمیر میڈیا سروس میں شامل ہوئے اور اب تک اس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے پر کام کر رہے ہیں۔ کئی قومی اور بین الاقوامی سیمیناروں میںکشمیر کے موضوع پر لیکچر دے چکے ہیں۔ کشمیر سے متعلق انگریزی ماہنامہ Insight Kashmir کے مدیراعلیٰ ہیں۔ اسی طرح کشمیر سے متعلق تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے حوالے سے ایک ویب سائٹ بھی آپ کی زیر نگرانی فعال ہے۔ آپ سے ہم نے کشمیر کی تحریک اور اس کے پس منظر سمیت موجودہ صورت حال پرچند سوالات کیے جس سے یقیناً قارئین کو مسئلہ کشمیر، موجودہ حالات اور مستقبل کے امکانات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

……٭……٭……٭……٭……

فرائیڈے اسپیشل: کشمیر ہاتھ سے کیسے گیا تو آپ اس پر تاریخی تناظر میں کیا کہیں گے؟
شیخ تجمل الاسلام: انڈین نیشنل کانگریس کا برصغیر کی تقسیم سے قبل ہی یہ منصوبہ تھا کہ وہ کشمیر کو مستقبل کے بھارت کا حصہ بنائے۔ کانگریسی راہنما جواہر لعل نہرو اور موہن داس کرم چند گاندھی کی خواہش تھی کہ کشمیر نئی اسلامی ریاست پاکستان کا حصہ نہ بن پائے۔ کانگریسی راہنمائوں کی سازشوںکے نتیجے میںکشمیر کی قیادت میں دراڑیں پڑیں۔ جموںو کشمیر میں مسلمانوں کی ایک مضبوط اور فعال تنظیم مسلم کانفرنس تھی جسے نیشنل کانفرنس میں بدلا گیا۔ اس واقعے سے قیادت بھی تقسیم ہوئی اور لوگ بھی تقسیم ہوئے۔27اکتوبر 1947ء کو بھارتی فوجیوں نے جموں و کشمیر پر قبضہ کیا اور پاکستان ردعمل میں کوئی فوجی اقدام کرنے سے قاصر رہا۔ شیخ محمد عبداللہ کشمیری عوام کے ایک بڑے حصے پر اپنا اثر و نفوذ رکھتے تھے اور پنڈت جواہر لعل نہرو ان کو شیشے میں اتارنے میں کامیاب ہوچکے تھے۔ شیخ عبداللہ نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کے مشوروں کو ٹھکرا دیا۔ تقسیم کے وقت ریڈکلف ایوارڈ کے تحت جب سرحدیں متعین کرنے کا کام کیا گیا تو مشرق اور مغرب دونوں طرف دھاندلی کی گئی۔ پنجاب کا ضلع گورداسپور بھارت کو دیا گیا، جبکہ بائونڈری کمیشن کے پاس ایسا کرنے کا کوئی جوا ز نہیں تھا۔ ایسا انگریزوں اور کانگریسی راہنمائوں کی ملی بھگت سے ہوا۔ اس طرح بھارت کو جموں وکشمیر تک پہنچنے کا راستہ مل گیا، ورنہ کوئی اور زمینی راستہ تھا ہی نہیں۔ جموں و کشمیر کے مہاراجا ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ الحاق کیا جبکہ دستاویزِ الحاق ایک متنازع دستاویز بن چکی ہے۔ یہ الحاق تقسیم کے اصولوں کی روح کے بھی خلاف تھا اور کشمیری عوام کی خواہشات کے برعکس بھی۔ برصغیر جنوبی ایشیا کی تقسیم کے بعد بھی بھارتی راہنمائوں کی سازشوں کا سلسلہ جاری رہا، وہ وعدے کرتے رہے اور توڑتے رہے۔ انہوںنے لوگوں کو دھوکے میں رکھاکہ الحاق عارضی ہے اور جموں وکشمیر کے حتمی فیصلے کے لیے رائے شماری کا انعقاد ہوگا۔ لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ کانگریس نے کشمیری عوام کی تحریک کو آگے بڑھنے ہی نہیں دیا۔ دوسری طرف کشمیر میں ہمیشہ جبر کا ماحول رہا، ابتدا سے ہی پاکستان کو چاہنے والوں کے ساتھ مظالم کا سلسلہ جاری رہا۔ اس بات کا اعتراف بھی غلط نہ ہوگا کہ شیخ عبداللہ بھی عوام کو دھوکا دیتے رہے۔ وہ کانگریسی نظریات کے حامل شخص تھے، قائداعظم کے نظریات کے حامی نہیں تھے، اور اُن کا رجحان کشمیر کو بھارت کے ساتھ جوڑنے کی طرف تھا۔ وہ اپنے شخصی مفادات کے لیے مختلف اوقات میں مختلف نعرے لگاتے رہے۔ پہلے نیشنل کانفرنس بنائی، پھر باضابطہ طور پر رائے شماری کا مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوںکے مطابق لوگوں سے پوچھا جائے کہ وہ کس ملک کے ساتھ جانا چاہتے ہیں۔ کشمیری عوام اُن کے بہکاوے میں آتے رہے۔کشمیری قیادت کشمیر کی آزادی کے لیے کوئی مثالی قیادت نہیں تھی، یعنی یہ بھی اس مسئلے کے حل میں ایک رکاوٹ تھی۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کشمیر میں ہمیشہ کچھ محدود اثر رسوخ والے گروہ موجود رہے جو آزادی کے لیے کوشش کرتے رہے، اور عوام کی بھی یہی خواہش تھی کہ بھارتی قبضے سے نجات حاصل کریں۔
فرائیڈے اسپیشل: مسئلہ کشمیر کے حل میں حائل رکاوٹیں کیا ہیں؟
شیخ تجمل الاسلام: مسئلہ کشمیر کے حل میں حائل رکاوٹوں میں بھارت کا زیادہ طاقتور ہونا، بھارتی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کشمیر میں بڑے پیمانے پر موجودگی، اور مقبوضہ کشمیر کے عوام تک بھارت کی براہِ راست رسائی ہونا شامل ہیں۔ پاکستان کو اس طرح کی رسائی کشمیری عوام تک نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے۔ بھارت مقبوضہ وادی میں اپنے کٹھ پتلی اور گماشتے بناتا رہا۔ پیسے، مراعات اور سہولیات کی بنیاد پر اپنے حامی بناتا رہا۔ دوسری جانب پاکستان کی کمزوریاں اپنی جگہ رہیں۔ 1971ء کا سانحہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا جب پاکستان کا ایک بازو ہی کٹ گیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان جس قدر مضبوط رہتا کشمیریوں کے لیے آزادی کی منزل اسی قدر قریب ہوتی۔ ادھر بین الاقوامی سطح پربھی وعدے پورے نہیں ہوئے۔ عالمی اداروں نے سردمہری کا مظاہرہ کیا۔ سات دہائیاں گزرنے کے باوجود اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ سرد جنگ کے دوران مسئلہ کشمیر کی صورت حال امریکہ اور سوویت یونین کے لیے موافق رہی۔ یہ سب رکاوٹیں مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کا باعث بنیں۔
فرائیڈے اسپیشل: پچھلے کچھ عرصے سے مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں کئی قسم کے فارمولے منظر عام پر آچکے ہیں، ان پرآپ کی کیا رائے ہے؟
شیخ تجمل الاسلام: میرے خیال میں کسی سنجیدہ حلقے سے کوئی بھی قابلِ غور فارمولا سامنے نہیں آیا۔ ڈکسن پلان ایک فارمولا دیتا تھا، لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ باقی کئی فارمولے زیرغور رہے لیکن کوئی جگہ نہ بنا سکے۔ ابھی تک وہی فارمولا ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں نے دیا ہے، یعنی رائے شماری کے ذریعے اس بات کا تعین کیا جائے کہ کشمیری عوام بھارت کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔ یہ ایک منصفانہ فارمولا ہے۔ اصل معاملہ بھارت کی ضد اور اس کے استعماری عزائم کا ہے۔ وہ اس مسئلے کے حل میں بنیادی رکاوٹ ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: اس پس منظر میں بھارت بار بار شملہ معاہدے کا حوالہ دیتا ہے۔ کیا اس معاہدے کا گلگت بلتستان سے کوئی تعلق ہے؟ یا یہ معاہدہ صرف مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کے حوالے سے ہی ہے؟
شیخ تجمل الاسلام: شملہ معاہدہ 1972ء میں ایک خاص پس منظر میں ہوا۔ پاکستان دولخت ہوچکا تھا اور اُس وقت شملہ معاہدے کا ہونا بھی ایک بڑی بات تھی۔ اس معاہدے کا براہِ راست کوئی تعلق گلگت بلتستان کے ساتھ نہیں ہے۔ البتہ اس کی پہلی ہی شق میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہوں گے۔ یہ بھی کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ البتہ اس معاہدے نے نہ بین الاقوامی قراردادوں کو منسوخ کیا اور نہ ایسا ہوسکتا تھا۔ معاہدے نے دوسرے راستے بھی مسدود نہیں کیے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 103کے مطابق اگر دو ملک کسی بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کرچکے ہیں تو وہ معاہدہ ان کے آپسی دوطرفہ معاہدے پر حاوی ہوگا۔ یہ بات صریحاً غلط ہے کہ شملہ معاہدے نے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کو غیر مؤثر کیا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: بھارت کو مقبوضہ کشمیر، سرکریک اور سیاچن پر بامعنی مذاکرات کی دعوت پاکستان کی طرف سے اکثر دی جاتی ہے۔ آپ کی رائے میں بات چیت کی بنیاد کیا ہو؟ یا موجودہ حالات میں ہمیں یک طرفہ طور پر بات چیت کے لیے زیادہ بے چین نہیں ہونا چاہیے؟
شیخ تجمل الاسلام: ابھی تک مقبوضہ کشمیر میں زمینی صورت حال اس حد تک تبدیل نہیں ہوئی کہ بھارت ’اسٹیٹس کو‘ کو بدل دینے پر آمادہ ہو۔ جبکہ کشمیر کے حوالے سے اُس کے لیے روزبروز اندرونی اور بیرونی اعتبار سے حالات سنگین سے سنگین تر ہورہے ہیں۔ پاکستان کا بیانیہ تو یہی ہے کہ دو ملکوں کے درمیان کشیدہ صورت حال کا اصل سبب مسئلہ کشمیر ہے، باقی مسائل ثانوی ہیں۔ البتہ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کو بھارت کے لیے مزید مشکل ہونے دیں، وہ خودبخود مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے پر آمادگی دکھائے گا۔ اس اعتبار سے اوّلین ترجیح اس بات کو حاصل ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی تحریک مزاحمت کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کیا جائے۔
فرائیڈے اسپیشل:آج اگر کشمیر میں جدوجہد ہے، اور دنیا اس کو مسئلہ کشمیر کے عنوان سے جانتی ہے، تو اس کی وجہ صرف اور صرف سید علی گیلانی اور مجاہدینِ کشمیر ہیں۔ آپ سید علی گیلانی کے بغیر اس تحریک کو کس طرح سے دیکھتے ہیں؟
شیخ تجمل الاسلام: جدوجہدِ آزادی کا اہم عنصر جموں و کشمیر کے آزادی پسند عوام کی قربانیاں ہیں۔ ان کا عزم، حوصلہ اور ارادہ ہے۔ ان کی خواہشات کی ترجمانی جس کسی نے کی اُس کو انہوں نے محبوب رکھا اور اس پر اعتماد کیا۔ جناب سید علی گیلانی کشمیری عوام کی خواہشات کی پوری بے باکی کے ساتھ ترجمانی کرتے رہے ہیں۔ لہٰذا وہ کشمیری عوام کے محبوب راہنما ہیں۔ مجاہدین نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے بھارت کے لیے زبردست مشکلات پیدا کیں اور کشمیری عوام کو نئی امید عطا کی۔ لہٰذا کشمیری عوام ان کی پشت پر کھڑے رہے۔ قائدین کے بدلنے سے اس تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ بنیادی اعتبار سے اس تحریک میں عوام کا جذبہ اور ان کا یہ فیصلہ شامل ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو، وہ بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف مزاحمت کرتے رہیں گے۔
فرائیڈے اسپیشل: مشرقی تیمور میں ریفرنڈم جن حالات میں ہوا، اور بعد میں جو کچھ ہوا اُس سے قطع نظر یہ اس امر کی مثال ہے کہ کسی علاقے کے لوگوں کی مرضی معلوم کرکے اس کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے۔ کشمیر اور اس کی مماثلت تلاش کی گئی تو امریکہ کے محکمہ خارجہ نے دونوں کو الگ الگ مسئلہ قرار دیا۔ حالانکہ بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ اہلِ کشمیر سے اُن کی مرضی معلوم کی جائے اور اُن کو حقِ خودارادیت دیا جائے۔ اگر مشرقی تیمور سے انڈونیشی افواج کا انخلا ہوسکتا ہے تو کشمیر سے بھارتی افواج کا انخلا کیوں نہیں ہوسکتا؟
شیخ تجمل الاسلام: یہ دُہرے معیارات ہیں۔ امریکہ اور دیگر طاقتوں کے پاس اپنی دلیلیں ہیں، لیکن عدل و انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ تمام انصاف پسند قوتیں کشمیر کے مسئلے کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرانے کی حامی بنیں۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی ساکھ پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے، اور اُن بڑی طاقتوں کی ساکھ پر بھی جو خود کو جمہوریت پسند ظاہر کرتی ہیں۔ دنیا میں ظلم و ستم کا جو راج ہے وہ خود انہی طاقتوں کی منافقت کا شاخسانہ ہے، بلکہ کئی اعتبار سے خود ان کی ایما پر ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: اس پس منظر میں سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ خود اپنی قراردادوں پر عمل کروانے کے لیے اس فارمولے پر کیوں آگے نہیں بڑھتی؟
شیخ تجمل الاسلام: جموں و کشمیر کے معاملے پر جو بین الاقوامی قراردادیں موجود ہیں، ان کے بارے میں یہ بحث لایعنی ہے کہ یہ قراردادیں اقوام متحدہ کے چارٹر کے چیپٹر 6 میں ہیں یا 7میں۔ ان بین الاقوامی قراردادوں کی حیثیت وعدوں اور معاہدوں کی ہے۔ ان وعدوں پر عمل درآمد کرانا اقوام متحدہ کی بھی ذمہ داری ہے اور بھارت اور پاکستان کی بھی۔ بدقسمتی سے اقوام متحدہ کے فیصلوں پر مخصوص عالمی طاقتوں کی مرضی اثرانداز ہوتی ہے، جو اپنی پالیسیاں اپنے مفادات کے پیش نظر بناتی ہیں۔ ان کا مفاد ابھی تک اس میں جڑا رہا ہے کہ یہ مسئلہ حل طلب رہے۔ لہٰذا حل نہیں ہوسکا۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ صریحاً ایک ظلم ہے کہ اقوام متحدہ نام کا ادارہ اب تک اپنی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کرا سکا۔
فرائیڈے اسپیشل: بھارت کشمیر میں اپنے ظلم کو بڑھاتا چلا گیا ہے، اُس کا خیال تھا کہ اس طرح سے وہ کشمیر کی تحریک آزادی کو کچل دے گا، لیکن اس کے ظلم کے نتیجے میں کشمیر کی تحریک ختم ہونے کے بجائے اور توانا ہوگئی، اس کا کیا سبب ہے؟
شیخ تجمل الاسلام: بھارت کے عزائم امتدادِ زمانہ کے ساتھ کشمیریوں پر مزید آشکارا ہورہے ہیں۔ کشمیری عوام کو اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ انہوں نے 1947ء میں ہی بھارت کو مسترد کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ درست تھا۔ جموں و کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، اور یہ فیصلہ ان کے نظریات، تہذیب اور دین کا بھی ہے اور ان کے جذبات کا بھی۔ اگرچہ کشمیریوں کی آزادی کا سفر بہت لمبا ہوگیا، اور یہ سات دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے، لیکن انہوں نے ہمیشہ آزادی اور غلامی کو اپنی زندگی اور موت کا معاملہ سمجھا۔ بھارت جس قدر ظلم کشمیریوں پر تحریک آزادی کو دبادینے کے لیے کرتا رہا، اتنا ہی کشمیری عوام کا اپنی تحریکِ آزادی پر ایمان مضبوط ہوتا گیا۔ بھارت نے کیا کچھ نہیں کیاکہ کشمیر کے لوگ اس کے قبضے کو قبول کریں! آگے بھی وہ چاہے کچھ کرلے، جموں وکشمیر کے عوام اس کے قبضے کو کبھی دل سے قبول نہیں کریں گے۔ کشمیر پر بھارتی قبضے کے پیچھے نہ کوئی اخلاقی جواز ہے، نہ قانونی۔ جبکہ کشمیری عوام کی تحریک آزادی مضبوط اخلاقی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہے۔ 5اگست 2019ء کو بھارت نے دفعہ370 اور دفعہ35-A کو منسوخ کرکے جموں و کشمیر کو اپنے اندر مکمل طورپر ضم کردیا۔ اس اقدام کے بعد تو کلی طور پر کشمیری عوام کے لیے واپسی کے سارے راستے ختم ہوگئے اور ان کے لیے مزاحمت کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ ہندوتوا کے فلسفے نے تو کشمیری عوام کے اس فیصلے پر مہرِ تصدیق ثبت کی کہ وہ بھارت کے ساتھ نہیں رہیں گے۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا اہلِ کشمیر کی بدنصیبی یہ ہے کہ انہیں ان کا مقدمہ ٹھیک اور درست لڑنے والے وکیل نہیں ملے؟
شیخ تجمل الاسلام: یہ بات جزوی طور پر درست ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا خود بھی شکار رہا ہے۔ حق تو یہ ہے کہ جموں و کشمیر کا تنازع تکمیلِ پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ پاکستان کے وجود پر ایک سوالیہ نشان رکھنے کے لیے بھارت نے جموں و کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھا۔ پاکستان سیاسی، اقتصادی اور نظریاتی اعتبار سے کمزور رہا تو اس کے بہت سارے اسباب میں مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا بھی ایک سبب ہے۔ کشمیر کی تحریکِ آزادی کا اہم عنصر جموں و کشمیر کے عوام کی پاکستان کے ساتھ عقیدت اور محبت ہے۔ یہ تحریک کشمیری عوام کی ثابت قدمی اور ان کی قربانیوں کے نتیجے میں بھی زندہ رہی اور پاکستان کی وکالت کی وجہ سے بھی۔ البتہ کمزوریاں رہیں جو ملکوںکی حکمت عملی میں رہتی ہیں۔ پوری دنیا کو یہ مقدمہ اچھی طرح معلوم ہے، اور وہ اس مقدمے کی تنقیحات سے بھی بخوبی واقف ہے۔ البتہ نام نہاد عالمی برادری اس مسئلے کو انصا ف اور عدل کی بنیاد پر حل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ مسئلہ اصلاً وکالت کا نہیں ہے، بلکہ جانب دارانہ منصفی کا ہے، جو اہلِ ہوس کے ہاتھ میں ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے حوالے سے آرٹیکل370 کے خاتمے نے کشمیری عوام کے غصے کو اور بڑھایا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ کشمیریوں کا ابلتا ہوا خون کسی بھی لمحے باہر نکل کر دنیا کی دو متحارب نیوکلیئر طاقتوں کے درمیان تباہ کن جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔ آپ اس خطرے کو کس طرح سے دیکھتے ہیں؟
شیخ تجمل الاسلام: اس کے خدشات ضرور ہیں اور دنیا کو اس بات کا ادراک ہے۔ دونوں ملک کئی بار جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے اور جنگ مشکل سے ٹلی۔ یہ بیانیہ درست ہے کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے جنوبی ایشیا کا خطہ جنگ کی ہولناکیوں کا شکار ہوسکتا ہے، اور کشمیری عوام اور پاکستان دنیا کی توجہ اسی خطرے کی طرف مبذول کرارہے ہیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ جنگ چھڑ گئی تو بعد میں اس کو روکنا کسی کے ہاتھ میں نہیں ہوگا۔ یہ معاملہ اس لیے زیادہ ہی حساسیت رکھتا ہے کہ بھارت اور پاکستان دونوں ایٹمی قوتیں ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل:کشمیر کی تحریکِ آزادی آج جہاں کھڑی ہے اس کے تناظر میں آپ اس تحریک کی کامیابی کے سلسلے میں کتنے پُرامید ہیں اور آپ کی امید کی کیا بنیاد ہے؟
شیخ تجمل الاسلام: جموں و کشمیر کی تحریک آج جس جگہ پر ہے وہاں سے واپسی کی کوئی گنجائش نہیں۔ کشمیر کو بہرحال بھارت کے چنگل سے آزاد ہونا ہے۔ اس کے بہت سارے عوامل ہوسکتے ہیں۔ کئی بڑی طاقتیں ٹوٹ چکی ہیں، بھارت کیوں نہ ٹوٹے؟ ہندوتوا کا فلسفہ خود بھارت کے ٹوٹنے کا سبب بن جائے گا۔ آر ایس ایس اور بی جے پی بھارت کو تباہی کے دہانے کی طرف لے جارہی ہیں۔ بھارت کے لیے جموں و کشمیر کو کنٹرول کرنا مشکل بن گیا ہے۔ یہ صورت حال 1989ء سے برابر قائم ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں اپنی پسند کی سیاسی سرگرمیاں برپا کرنے میں ناکام ہورہا ہے۔ بھارت کے اندر کی سوسائٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ بھارت کی 19 ریاستوں میں علیحدگی پسندی کی تحریکیں ہیں، اور اُس کے ہمسائے اُس سے تنگ آچکے ہیں۔ بھارت 1947ء میں ایک ملک کی حیثیت سے ابھرا، لیکن ایک مصنوعی اسٹیٹ کی صورت میں۔ یہ اس طرح پہلے کبھی متحد نہیں تھا اور نہ رہ سکتا ہے۔ انہی حالات میں جموں و کشمیر کا بھی فیصلہ ہوگا۔ البتہ یہ کب ہوگا؟ یہ وقت بتائے گا، اور آئندہ کے حالات اس بات کو سمجھنے میں مزید آسانی پیدا کریں گے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 5 اگست2019ء کے بعد بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے صورت حال بدل چکی ہے۔ پہلے اس مسئلے کا تعارف ہماری ضرورت تھی، اب دنیا کا کوئی ملک نہیں جو اس بات کو اپنی ضرورت محسوس نہ کرتا ہو کہ وہ مسئلہ کشمیر پر اپنی کوئی پالیسی وضع کرے۔ مسئلہ کشمیر پر اب تحقیق کی جارہی ہے، مقالے لکھے جارہے ہیں، کتابیں تصنیف ہورہی ہیں، اور دن بدن مسئلہ کشمیر کے مختلف گوشے دنیا پر کھلتے جارہے ہیں۔

Share this: