۔5 فروری یوم یکجہتی کشمیر

Print Friendly, PDF & Email

کیا کشمیر جہاد کے بغیر آزاد ہوسکتا ہے؟

پاکستانی حکمرانوں کی کمزوریوں کی تاریخ

یہ پاکستان کی قومی زندگی کا ایک اہم اور بڑا سوال ہے کہ کیا کشمیر جہاد اور مزاحمت کے بغیر آزاد ہوسکتا ہے؟ اس چھوٹے سے سوال کا جواب ایک تفصیل میں ہے۔
قرآن مسلمانوں سے کہتا ہے کہ تم ان مظلوم مسلمانوں کی مدد کیوں نہیں کرتے جو مشکل سے دوچار ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ تم ہر حال میں اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کے لیے نکلو۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بار قائداعظم نے کہا تھا کہ اگر بھارت نے اپنی مسلم اقلیت پر ظلم کیا تو پاکستان خاموش نہیں رہے گا بلکہ وہ بھارت کی مسلم اقلیت کی مدد کے لیے بھارت میں ’’مداخلت‘‘ کرے گا۔ ظاہر ہے کہ مداخلت کا مطلب فوجی مداخلت ہے۔ قائداعظم کے اس خیال کی بنیاد پر وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ قائداعظم بھارت کی مسلم اقلیت کی مدد کے لیے بھارت میں مداخلت کرتے تو وہ اُس کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے بھی کشمیر میں فوجی مداخلت کرتے جس کو انہوں نے پاکستان کی ’’شہ رگ‘‘ قرار دیا تھا۔ بدقسمتی سے قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بعد جو حکمران پاکستان کی تقدیر کے مالک بنے انہوں نے قائداعظم کی شخصیت کے جوہر کو یکسر فراموش کردیا۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کے حکمران پاکستان اور اہلِ کشمیر کے غدار ثابت ہوئے۔ 1962ء میں چین بھارت کا ایک زیادہ قوی حریف تھا، چنانچہ بھارت پاکستان کی سرحد کے ساتھ تعینات فوجیوں کی بڑی تعداد کو ہٹاکر چینی سرحد پر لے گیا۔ چین کی قیادت نے یہ دیکھا تو انہوں نے جنرل ایوب خان سے کہا کہ آپ کے لیے ایک ’’تاریخی موقع‘‘ پیدا ہوا ہے، آگے بڑھیے اور بھارت سے اپنا کشمیر چھین لیجیے۔ یہ واقعتاً ایک ’’تاریخی موقع‘‘ تھا۔ ذرا سی مزاحمتی قوت سے بھارت کو شکست دے کر اُس سے کشمیر چھینا جا سکتا تھا۔ مگر امریکہ کو چین کے مشورے کا علم ہوگیا۔ امریکہ نے جنرل ایوب کو پیغام دیا کہ آپ بھارت سے کشمیر چھیننے کی کوشش نہ کریں، صبر سے کام لیں، چین بھارت جنگ کو ختم ہونے دیں، ہم کشمیر کے مسئلے کو پاک بھارت مذاکرات کے ذریعے حل کرا لیں گے۔ جنرل ایوب کی ’’اسلامیت‘‘ کیا، ’’پاکستانیت‘‘ بھی قوی ہوتی تو وہ امریکہ کے جھانسے میں نہ آتے۔ مگر وہ امریکہ سے ڈر گئے اور انہوں نے بھارت سے کشمیر چھیننے کا نادر موقع ضائع کردیا۔ چین بھارت جنگ ختم ہوئی تو امریکہ کہیں موجود نہ تھا۔ اُس نے کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے بامعنی مذاکرات کی معمولی سی کوشش بھی نہ کی۔
جنرل ضیا الحق کے زمانے میں اہلِ کشمیر کو پیغام دیا گیا کہ آپ اپنی تحریک کو تحرّک کی بلند سطح پر لے آئیں گے تو پاکستان کشمیر میں مداخلت کے ذریعے آپ کی مدد کرے گا۔ یہ بات ہمیں ایک بہت اہم اور باخبر شخصیت نے خود بتائی۔ اہلِ کشمیر نے اپنی تاریخ میں کبھی مسلح مزاحمت نہیں کی تھی، مگر جنرل ضیا الحق کے پیغام نے کشمیریوں کی تاریخ کو بدل دیا۔ کشمیریوں نے ہتھیار اٹھا لیے اور بھارت اپنے سات لاکھ فوجیوں کو مقبوضہ کشمیر میں لانے پر مجبور ہوگیا۔ مگر اہلِ کشمیر نے پاکستان کی قیادت کو اُس کا وعدہ یاد دلایا تو ان سے کہا گیا کہ کشمیر کے لیے پاکستان کو دائو پر نہیں لگایا جا سکتا۔ سوال یہ ہے کہ کشمیر پاکستان سے الگ کب ہے؟ کشمیر تو پاکستان کا وہ حصہ ہے جس پر بھارت نے بزور طاقت قبضہ کیا ہوا ہے۔ کشمیر قائداعظم کے الفاظ میں پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کیا پاکستان کی شہ رگ کی آزادی بھی پاکستان کے لیے خطرہ ہے؟ قائداعظم زندہ ہوتے تو وہ کشمیر کی آزادی کے لیے کشمیر میں ضرور مداخلت کرتے… عسکری مداخلت۔ مگر جنرل ضیا الحق اور ان کے رفقاء قائداعظم سے بھی زیادہ بڑے ’’لیڈر‘‘ تھے۔ ان سے زیادہ بڑے ’’مدبر‘‘ تھے۔ ان سے زیادہ بڑے ’’پاکستانی‘‘ تھے۔
جنرل پرویز مشرف نے اپنے دورِ حکومت میں درجنوں حماقتیں کیں، مگر ان کا کارگل آپریشن شاندار تھا۔ اس آپریشن سے ہزاروں بھارتی فوجی پاکستان کے محاصرے میں آگئے تھے، اور ان کے پاس دو ہی امکانات تھے۔ ایک امکان یہ تھا کہ وہ پاکستان کے آگے ہتھیار ڈالیں۔ دوسرا امکان یہ تھا کہ وہ بھوک اور سردی سے مر جائیں۔ یہ دونوں امکانات بھارت کے لیے شرمناک تھے۔ تجزیہ کیا جائے تو یہ کشمیر کی آزادی کا ایک اور نادر موقع تھا۔ بھارت کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے؟ بھارت نے اپنی تاریخ میں کبھی بھی امریکہ سے کھلی مدد نہیں مانگی تھی، مگر کارگل آپریشن نے بھارت کو امریکہ کے در کا بھکاری بنادیا۔ بھارت نے امریکہ سے کہا کہ وہ کارگل میں پاکستان کے محاصرے سے اس کی جان چھڑائے۔ پاکستان کو اس مرحلے پر امریکہ کے دبائو کی مزاحمت کرنی چاہیے تھی اور کشمیرکی آزادی پر اصرار کرنا چاہیے تھا، مگر میاں نوازشریف امریکی دبائو کے آگے اسی طرح ڈھیر ہوگئے جیسے جنرل ایوب ڈھیر ہوئے تھے۔ انہوں نے میدانِ جنگ کی فتح کو شکست میں تبدیل کرکے رکھ دیا۔ اس طرح کشمیر کی آزادی کا ایک اور موقع ضائع ہوگیا۔ ایک وقت تھا کہ پاکستان ایٹمی طاقت نہیں تھا۔ طاقت کا ایک ہولناک عدم توازن پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود تھا۔ مگر اب پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ اس کے پاس پونے تین ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل ہیں۔ پاکستان بھارت کے تمام اہم عسکری اور غیر عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ مگر پاکستان کے حکمران آج بھی بھارت کی طاقت سے خوف زدہ ہیں۔
مسلمانوں کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کی عظمت اور عالمی فتوحات میں جہاد اور مزاحمت کا بنیادی کردار ہے۔ مسلمانوں کے لیے جہاد ’’جنگ‘‘ نہیں ہے۔ جہاد اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے اعلان اور نفاذ کا ایک بہت بڑا آلہ ہے۔ یہ جہاد ہی تھا جس نے طاقت کے ہولناک عدم توازن کے باوجود مسلمانوں کو غزوۂ بدر میں فتح سے ہمکنار کیا۔ یہ جہاد اور مسلمانوں کا شوقِ شہادت ہی تھا جس نے مسلمانوں کی ’’آسمانی امداد‘‘ کا اہتمام کردیا۔ یہ جہاد ہی تھا جس نے حضرت عمرؓ کے زمانے میں وقت کی دو سپرپاورز کو منہ کے بل گرا کر اسلام اور مسلمانوں کوعالمی طاقت بنایا۔ یہ جہاد ہی تھا جس نے اقبال سے کہلوایا:۔

چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

یہ مزاحمت تھی جس نے ٹیپو سلطان کو تاریخ کا زندہ کردار بنا دیا۔ یہ سراج الدولہ کی مزاحمت ہی تھی جس نے اُس کے بارے میں شاعر سے ہمیشہ زندہ رہنے والا یہ شعر کہلوایا:۔

غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دِوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزری

یہ مسلمانوں کی جہادی روح تھی جس نے 1857ء کی جنگِ آزادی خلق کی۔
پاکستان کا قیام تاریخ کے ’’ناممکنات‘‘ میں سے تھا۔ اس لیے کہ وقت کی واحد سپرپاور سلطنتِ برطانیہ اور بھارت کی ہندو اکثریت دونوں قیامِ پاکستان کے حق میں نہ تھے۔ اس پر طرہ یہ تھا کہ مسلمان ایک ’’قوم‘‘ نہیں تھے، ایک ’’بھیڑ‘‘ تھے۔ وہ رنگ، نسل، زبان، جغرافیہ، فرقے اور مسلک کی بنیاد پر تقسیم تھے۔ 1946ء تک پنجاب پر یونینسٹ پارٹی کا قبضہ تھا، اور یونینسٹ پارٹی انگریزوں کی آلۂ کار اور کانگریس کی اتحادی تھی۔ صوبہ سرحد یعنی کے پی کے پر 1946ء تک سرحدی گاندھی یعنی غفار خان کا حکم چل رہا تھا۔ مگر قائداعظم کے ’’مزاحمتی کردار‘‘ نے ’’ناممکن‘‘ کو ’’ممکن‘‘ کردکھایا۔ قائداعظم کے مزاحمتی کردار نے پاکستان کو ’’عدم‘‘ سے ’’وجود‘‘ میں لا کر رکھ دیا۔ یہ صرف پاکستان کا معاملہ نہیں۔ الجزائر میں الجزائر کے باشندوں کی بے مثال مزاحمت نے بالآخر فرانس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ الجزائر کی تحریکِ مزاحمت مذاق نہیں تھی۔ اس تحریک میں دس لاکھ سے زیادہ مسلمان شہید ہوئے۔ افغانستان کی تاریخ جہاد اور مزاحمت کے تاریخ ساز ہونے کی گواہ ہے۔ افغانستان میں وقت کی سپرپاور سوویت یونین کے خلاف جہاد شروع ہوا تو ہم جامعہ کراچی کے طالب علم تھے، اور جامعہ میں ہمارے سیکولر اور سوشلسٹ دوستوں کا حلقہ ہم سے کہا کرتا تھا کہ اس جہاد کی کامیابی کا کوئی امکان ہی نہیں، اس لیے کہ سوویت یونین وقت کی دو سپرپاورز میں سے ایک ہے۔ اُن کے نزدیک مجاہدین 19 ویں صدی کے ہتھیاروں سے سوویت یونین کی مزاحمت کررہے تھے، اور ان کی مزاحمت کے کامیاب ہونے کا دور دور تک امکان نہ تھا۔ مگر دس سال کے جہاد نے وقت کی سپرپاور سوویت یونین کو منہ کے بل گرا دیا۔ یہاں تک کہ سوویت یونین بکھر کر رہ گیا اور اس کا نظریہ سوشلزم اس طرح ختم ہوا جیسے وہ کبھی موجود ہی نہ تھا۔ سوویت یونین کو شکست ہوئی تو یہاں سے اسلام دشمن عناصر نے ایک نئی دلیل گھڑی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں سوویت یونین کی شکست اسلام اور مسلمانوں کی فتح تھوڑی ہے، بلکہ یہ تو امریکہ اور اُس کے اتحادیوںکی فتح ہے۔ چنانچہ نائن الیون کے بعد جب امریکہ افغانستان میں آیا تو بعض ’’اسلام پسندوں‘‘ تک کی یہ رائے تھی کہ اب افغانستان میں وہی ہوگا جو امریکہ چاہے گا۔ مگر طالبان کے بے مثال جہاد اور مزاحمت نے وقت کی واحد سپرپاور امریکہ کو بدترین شکست سے دوچار کیا، یہاں تک کہ امریکہ اُن طالبان سے مذاکرات کی بھیک مانگتا ہوا پایا گیا جنہیں وہ دہشت گرد اور تہذیب دشمن طاقت کہا کرتا تھا۔ یہ ایک تاریخی ریکارڈ ہے کہ اسلام کی مزاحمتی طاقت نے حضرت عمرؓ کے دور میں ہی نہیں عہدِ جدید میں بھی دو سپرپاورز کو شکست سے دوچار کیا۔ اس طرح جہاد اپنی تاریخ کے طویل سفر میں دنیا کی چار سپرپاورز کو منہ کے بل گرا چکا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ دنیا کی پوری تاریخ میں ایسی کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔ کیا اس تناظر میں کسی صاحبِ شعور کو اس بات پر رتی برابر بھی شبہ ہوسکتا ہے کہ کشمیر صرف جہاد اور مزاحمت ہی سے آزاد ہوسکتا ہے۔
یہ حقیقت راز نہیں کہ جس طرح مزاحمت نے اسرائیل کے مقابلے پر مٹھی بھر فلسطینیوں کو زندہ رکھا ہوا ہے، اسی طرح کشمیریوں کی مزاحمت نے مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان کے جرنیلوں اور سول قیادت نے کشمیریوں کو تنہا چھوڑا ہوا ہے۔ پاکستان کا حکمران طبقہ کشمیریوں کے لیے بیانات دینے اور تقریریں کرنے کے سوا کچھ نہیں کررہا۔ عمران خان خود کو کشمیریوں کا سفیر کہتے ہیں مگر کشمیریوں کی مزاحمت ’’افراد کی مزاحمت‘‘ ہے۔ کشمیر کی آزادی کے لیے افراد کی مزاحمت سے زیادہ ’’ریاست کی مزاحمت‘‘ کی ضرورت ہے۔ بھارت ڈیڑھ سال سے کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ مسلمانوں کو ’’لاک ڈائون‘‘ کی مار مار رہا ہے۔ ڈیڑھ سال کا لاک ڈائون مذاق نہیں۔ کورونا کے معمولی سے لاک ڈائون نے دنیا میں کروڑوں لوگوں کا پلیتھن نکال کر رکھ دیا ہے۔ لیکن بھارت صرف لاک ڈائون ہی کا ہتھیار استعمال نہیں کررہا، اِس سال موسم سرما میں برف باری ہوئی تو بھارت نے کشمیر کی سڑکوں اور گلیوں سے برف صاف نہیں کی جس سے لاکھوں لوگوں کے لیے آمدورفت ناممکن ہو ئی۔ لاک ڈائون کے نفسیاتی اثرات کے ضمن میں بھی کشمیر کے حوالے سے تشویش ناک خبریں آرہی ہیں۔ لاک ڈائون نے کشمیریوں میں ڈپریشن کے مرض کو بہت بڑھا دیا ہے جس سے کشمیر میں ہارٹ اٹیک کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو اس سلسلے میں عمران خان کی سفارت کا کوئی مفہوم ہی نہیں۔ اصول ہے کہ چیونٹی کو چپل سے اور ہاتھی کو گرز سے مارا جاتا ہے، مگر پاکستان کے حکمران بھارت کے ہاتھی کو بیانات کی چپلوں سے مارنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ظاہر ہے ان چپلوں سے ہاتھی کے جسم کی صرف گرد صاف ہورہی ہے۔

Share this: