گندی سیاست میں جماعت اسلامی کے اجلے لوگ

Print Friendly, PDF & Email

پی ٹی آئی کے اراکینِ خیبر پختون خوا اسمبلی کی وڈیو لیک ہوئی جس میں چند ارکانِ اسمبلی کو نوٹوں کی گڈیاں لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اُن پر یہ الزام لگایا گیا کہ اُن اراکین کا تعلق اُس گروپ سے تھا جس نے گزشتہ سینیٹ الیکشن میں کروڑوں روپے لے کر اپنا ووٹ بیچا۔
اگرچہ یہ واقعہ چند سال پرانا ہے، لیکن اس وڈیو نے پہلے سے گندی سیاست کو مزید غلیظ کردیا ہے۔ جن اراکینِ اسمبلی کو کروڑوں روپے لیتے دکھایا گیا، اُن میں سے کچھ نے یہ الزامات سامنے آنے پر پریس کانفرنسوں میں قرآن پاک کو ہاتھ میں اُٹھا کر کہا تھا کہ یہ الزامات جھوٹے ہیں اور اُنہوں نے کوئی پیسہ نہیں لیا۔
یہ ہے رویہ ہمارے اُن سیاسی لیڈروں کا، جنہیں عوام منتخب کرکے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں تاکہ اس ملک کا مستقبل سنورے، لیکن یہ سیاست دان ملک یا عوام کا مستقبل سنوارنے کے بجائے اپنا مستقبل سنوارنے کے لیے ایسے ایسے گھٹیا کام کرتے ہیں کہ سیاست کے نام سے نفرت ہوجاتی ہے۔
اِن میں اتنی شرم اور حیا بھی نہیں کہ اگر انہوں نے سیاست کو پیسہ کمانے کا ذریعہ بنا ہی لیا ہے اور حلال و حرام کا فرق بھی بھول گئے ہیں تو قرآن پاک کو بیچ میں کیوں لاتے ہیں؟ جب یہ الزام لگا تھا تو ان اراکینِ اسمبلی کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے تھی۔ چلیں کل اگر کچھ نہیں کیا گیا تو آج ہی اس لیک وڈیو کے بعد تمام ذمہ داران کو گرفتار کرلیا جائے… یعنی پیسہ لینے والوں، دینے والوں اور جنہوں نے سیاست دانوں کی یہ منڈی سجائی، یہ عمران خان حکومت کی ذمہ داری ہے، چاہے اِس اسکینڈل میں اُن کے کسی اہم وزیر یا کسی رکنِ اسمبلی کا ہی نام کیوں نہ آرہا ہو۔
پیسہ لینے والوں نے وفاقی وزیر پرویز خٹک اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پر الزام لگایا کہ یہ دونوں اِس غلیظ لین دین میں شامل تھے۔ اگر یہ سچ ہے تو انہیں بھی گرفتار کیا جائے۔ لیکن مجھے معلوم ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا، کیوں کہ عمران خان کو بھی Electablesکی ضرورت ہے، اور وہ اُس خوابوں کی دنیا سے باہر آچکے جہاں رہ کر وہ اصولوں کی بات کرتے تھے، اب وہ اِس حقیقت کو تسلیم کرچکے ہیں کہ اپنے چاہے کرپٹ ہوں، اُنہیں بچایا جاتا ہے، جس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ یا تو خاموشی اختیار کرلی جائے، یا انکوائری کا حکم دے کر اپنے من پسند افراد کی کمیٹی بنادی جائے کہ وہ معاملے کا کھوج لگائے، جبکہ اصل مقصد معاملے کو ٹالنا ہوتا ہے۔
نیب اور اس کے چیئرمین جاوید اقبال کو تو یہ لیک وڈیو دکھائی ہی نہیں دے رہی ہوگی، کیوں کہ اگر اس معاملے میں اُنہوں نے دلچسپی لے لی تو وزراء سمیت حکمران پارٹی کے اہم رہنماؤں پر ہاتھ ڈالنا پڑے گا جس کا ابھی تک اُن میں حوصلہ نہیں۔
جب ان کی توجہ اِس طرف ہوگئی تو پھر نیب کی پھرتیاں دیکھیے گا کہ کیسے دیے گئے ٹارگٹس کے حصول یعنی اُنہیں پکڑنے کے لیے کیسے کیسے جھوٹے سچے کیس بنائیں گے۔ اپوزیشن سے بھی کوئی توقعات نہیں، کیوں کہ پی پی پی ہو یا نون لیگ، یا مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت… اُن کے تو اپنے اراکینِ اسمبلی موجودہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں لوٹے بن گئے جس کی وجہ سے اکثریت میں ہونے کے باوجود وہ ناکام ہوئے۔ ان سیاسی پارٹیوں کی طرف سے کہا گیا کہ وہ اپنے اپنے ایسے اراکینِ اسمبلی کے خلاف کارروائی کریں گی جنہوں نے پارٹی ڈسپلن کے خلاف ووٹ دیا، لیکن عملاً کچھ نہ ہوا۔ جماعت اسلامی کے سوا شاید ہی کوئی سیاسی جماعت ہو جو سیاست میں پیسے کے کھیل سے پاک ہو۔
اگر جماعت اسلامی اپنے لوگوں کی تربیت کرتی ہے اور اُن کی اچھی شہرت کی بنیاد پر اسمبلیوں کے لیے ٹکٹ دیتی ہے تو دوسری سیاسی جماعتیں خصوصاً تحریک انصاف، نون لیگ اور پی پی پی جیسی بڑی سیاسی جماعتیں سیاست کو اس گندگی اور غلاظت سے پاک کرنے کے لیے باکردار لوگوں کو اسمبلیوں میں کیوں نہیں لاتیں؟ ایسا کیوں ہے کہ سیاسی لوٹوں کو ہی یہاں کامیاب ترین سیاست دان سمجھا جاتا ہے، جبکہ ایسے افراد کے لیے سیاسی جماعتوں کو اپنے دروازے بند کردینے چاہئیں۔ سیاست میں دولت کا لین دین وہ بیماری ہے جو پھیلتی ہی جارہی ہے اور سینیٹ کے الیکشن میں چلنے والا پیسہ تو اس خرابی کا ایک پہلو ہے۔
سیاست کو اگر اس غلاظت سے پاک کرنا ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اچھے اور باکردار لوگوں کو آگے لایا جائے اور Electablesکی سیاست کو دفنا دیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو سیاست ایک گالی بن کر رہ جائے گی۔
(انصار عباسی۔ جنگ، 11فروری2021ء)

بڑے لوگ

جناب سلیم الرحمان پچھلے چھے سات عشروں سے تخلیق میں مصروف ہیں۔ وہ سویرا جیسے اعلیٰ پائے کے ادبی جریدے کے مدیر، کئی اہم کتابوں کے مترجم اور لکھاری ہیں۔ ہومر کی شہرئہ آفاق کتاب ’’اوڈیسس‘‘ کا انہوں نے ’’جہاں گرد کی واپسی‘‘ کے نام سے کمال ترجمہ کیا۔ ”مشاہیر یونان“ اور جوزف کونریڈ کی کتاب کا ترجمہ ”ظلمتِ شب“ بھی انہی کی تخلیق ہے، ایک دلچسپ شگفتہ ہسپانوی ناولٹ کا ترجمہ بھی کیا۔ نظم کے بہت عمدہ شاعر ہیں۔ احمد جاوید صاحب کے بقول سلیم صاحب اکیسویں صدی کے بہت اہم اور بڑے نظم گو شاعر ہیں۔ ان کے کتابوں پر لکھے ریویو اپنی مثال آپ ہیں۔ سلیم الرحمان صاحب بھی اُن لوگوں میں سے ہیں جن سے میری ابھی تک ملاقات نہیں ہوئی، مگر دل میں ان کے لیے بے پناہ تکریم اور احترام ہے۔ وجہ وہی کہ انہوں نے اپنی شرائط پر زندگی گزاری۔ تمام عمر علمی، ادبی کاموں میں مشغول رہے۔ اپنی ضروریات اتنی محدود رکھیں کہ علمی مصروفیات میں خلل نہ پڑے۔ چند سال پہلے ان کا نام تمغاءِ حُسنِ کارکردگی کے لیے تجویز کیا گیا، اس کے ساتھ نو، دس لاکھ روپے نقد بھی دئیے جاتے ہیں۔ سلیم الرحمان صاحب نے ایوارڈ لینے سے انکار کردیا۔ ان کا اصولی موقف ہے کہ ادیب کو کسی بھی قسم کا حکومتی ایوارڈ نہیں لینا چاہیے۔ آج کے دور میں یہ افسانوی بات لگتی ہے کہ کوئی ادیب اپنی اس سچی کمٹمنٹ کی وجہ سے اتنا بڑا ایوارڈ اور ایک ملین کے قریب نقد رقم لینے میں دلچسپی نہ لے۔ سید قاسم محمود بھی ایسے ہی ایک شخص تھے۔ مجھے ان کے انتقال کے بعد ان کے ایک دوست نے بتایا کہ ایک بار انہوں نے اپنے کالم میں سید قاسم محمود کو پرائیڈ آف پرفارمنس دینے کا مطالبہ کیا۔ اس کے دو تین دن بعد قاسم محمود سے کسی تقریب میں ملاقات ہوئی تو سید صاحب کھنچے کھنچے محسوس ہوئے۔ وہ صاحب حیران تھے، ان کا خیال تھا کہ کالم کی داد ملے گی، یہاں تو الٹ حساب ہوا۔ بعد میں کسی نے بتایا کہ سید قاسم محمود صاحب نے اس بات کا برا منایا۔ وہ بھی ادیب کی علم و ادب سے سچی کمٹمنٹ کے قائل تھے اور اس ضمن میں حکومتی ایوارڈز لینے کے حق میں نہیں تھے۔ خوش قسمتی سے صحافیوں میں سے بھی اکا دکا سہی، مگر ایسی مثالیں مل جاتی ہیں۔ حسین نقی لیفٹ کے بڑے سینئر صحافی ہیں، اللہ ان کی صحت میں برکت عطا فرمائے، وہ بھی ایسے ہی کھرے اور اجلے شخص ہیں۔ لاہور پریس کلب کے ہر ممبر کو پنجاب حکومت کی جانب سے صحافی کالونی میں پلاٹ دیا گیا۔ یہ بطور پالیسی لاہور، اسلام آباد، ملتان ہر جگہ دیا گیا۔ اس میں سیاسی رشوت کا پہلو بھی شامل نہیں تھا۔ حسین نقی نے پلاٹ لینے سے انکار کردیا، ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس ذاتی گھر موجود ہے، اس لیے مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ یاد رہے کہ آج کل اس پلاٹ کی قیمت ایک کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے۔ ایم اے نیازی نے بھی ایسا کیا۔ ایسا کرنا کوئی ضروری نہیں تھا، تاہم اگر کوئی یہ موقف اپنائے اور پھر اس کی خاطر اپنا مالی نقصان کرائے تو اس کی تکریم بنتی ہے۔
(عامر خاکوانی۔روزنامہ 92،منگل 16 فروری 2021ء)

Share this: