یہ لشکری زبان ہے یا لشکرِ فرنگ؟ ۔

Print Friendly, PDF & Email

میرؔ و غالبؔ ہی کیا؟ اب تو بابائے اُردو مولوی عبدالحق کا شمار بھی اگلے وقتوں کے لوگوں میں ہونے لگا ہے۔مولوی ہی صاحب پر کیا موقوف، اب تو اگر حمید نظامی مرحوم یا ذوالفقار علی بخاری مرحوم بھی عالمِ بالا سے اُتر آئیں اور ہمارے اخبارات کی خبریں پڑھیں یا ہمارے نشریاتی اداروں سے خبریں سنیں اور دیکھیں تو گھبرا کر دوبارہ پرواز کرجائیںکہ یا مظہر العجائب! یہ کون سی بولی یہاں بولی جارہی ہے؟ جس زبان کو اقبال اشہرؔ نے میرؔ کی ہمراز، غالبؔ کی سہیلی اور خسروؔ کی پہیلی قرار دیا ہے، یہ وہ جانِ حیا تو نہیں۔ یہ تو کوئی بے حیا فرنگن ہے۔
برصغیر میں مدتوں فرنگ، فرنگی اور فرنگن کے القاب ایسے لہجے میں بولے گئے جو کسی طرح تحسین و احترام کا لہجہ نہیں کہا جا سکتا۔ مثلاً:۔
’’ارضِ ہند پر کسی نے تاجرانِ فرنگ کو دن میں تارے دکھائے تو وہ شیرِ میسور فتح علی خان ٹیپو سلطان تھے‘‘۔
’’میاں صاحب زادے! یہ کیا فرنگیوں کا سا حلیہ بنا کر آگئے؟‘‘
’’نواب زادے ولایت گئے تو وہاں سے ایک فرنگن کو اپنے ساتھ لِوا لائے‘‘۔ وغیرہ وغیرہ۔امیرؔمینائی کا یہ شعر بھی دیکھیے:۔

کیا گرم ہے کہ کہتے ہیں خوبانِ لکھنؤ
لندن کو جائیں وہ جو فرنگن کے یار ہیں

فرنگ کا لفظ (’ف ‘اور’ ر‘ دونوں پر زبر)در اصل جرمن لفظ فرانکس (Franks)کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔فرانکس جرمن قبائل کے ایک اتحاد کا نام تھا۔یہ جرمن قبائل دریائے رھائن اور دریائے ویسر کے درمیان آباد تھے۔ان فرانکس قبائلیوں نے پانچویں صدی عیسوی میں ’گال‘ کو تہ و بالا کرکے فتح کرلیا تھا۔فتح کرچکے تو’گال‘سے گال بھڑا کر اسے ’فرانس ‘کر ڈالا۔ (’’گالی‘‘ کا لفظ اس کے بعد ہی ایجاد ہوا ہوگا۔) عربی و فارسی میں یہ لفظ افرنج اور فرنج کے طور پر رائج ہے۔ اردو میں بھی جرمنوں، فرانسیسیوں اور انگریزوں سمیت تمام یورپیوں کو فرنگی یا افرنگی کے نام سے پکارا گیا اور پورے یورپ کو افرنگ، فرنگ یا فرنگستان کہا گیا۔ اقبالؔ کے ہاں یہ لفظ خوب استعمال ہوا:۔

آہ مکتب کا جوانِ گرم خوں
ساحرِ افرنگ کا صیدِ زبوں

جرمنی کے فلسفی شاعر نطشےؔ کو للکارتے ہوئے اقبالؔ نے کہا:۔

اگر ہوتا وہ مجذوبِ فرنگی اس زمانے میں
تو اقبالؔ اس کو سمجھاتا مقامِ کبریا کیا ہے

فرنگیوں کی اولاد کو پہلے ’’فرنگی بچہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ اب اگرچہ کہا نہیں جاتا، مگر سمجھا تو اب بھی جاتا ہے۔ برصغیر پر فرنگیوں کے طویل تسلط کے دوران میں سرکاری زبان بھی فرنگی زبان رہی اور تعلیم کی زبان بھی۔ سرکاری زبان تو قیامِ پاکستان کے بعد بھی انگریزی ہی رہی۔ آئین پاکستان کی کھلی خلاف ورزی اور عدالتِ عظمیٰ پاکستان کے صریح حکم سے سرتابی کا یہ عالم ہے کہ آج بھی فرنگی زبان ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سرکاری زبان ہے۔ مگر حصولِ پاکستان کے بعد ضیاء الحق کے زمانے تک کم ازکم سرکاری تعلیمی اداروں کا نصاب اُردو میں تھا۔ بعد کے ادوار سے بنیادی اور ابتدائی تعلیم بھی زبانِ فرنگ میں دی جانے لگی۔ یوں ایک نسل کی نسل اردو سے نابلد ہوگئی، اور ستم یہ کہ انگریزی بھی نہ آئی۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم۔ نہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کے رہے۔
جس طرح ملک بھر میں جا بجا مشینی مُرغبانی کی صنعت پھیل گئی ہے اور تن درست و توانا اور مقوی دیسی مرغ نایاب ہوتے جا رہے ہیں، اُسی طرح وطن عزیز کی ہر گلی میں ایسے تعلیمی اداروں کی صنعتِ مُرغبانی بھی فروغ پا رہی ہے جو ’’اینگلو اُردو‘‘ بولنے والے چوزوںکی صنعتی پیمانے پر پیداوار کا فرض پورا کیے جارہے ہیں۔ پس زندگی کے ہر شعبے کی طرح یہی تیار مال ابلاغیات کے شعبوں کو بھی میسر ہے۔
مطبوعہ اور برقی ذرائع ابلاغ قومی زندگی میں تعلیمی اداروں سے کم اہم نہیں۔ بچوں، بوڑھوں، مردوں، عورتوں اور خواندہ و ناخواندہ افراد سمیت ملک کی پوری آبادی کی ذہن سازی اور رائے عامہ کی تشکیل یہی کرتے ہیں۔ تکرار و تواتر سے شائع اور نشر ہونے والا مواد لوگوں کا طرزِ زندگی تبدیل کردیتا ہے۔ قوم کے قلب و ذہن پر یہ لوگ نقشِ حق بھی بٹھا سکتے ہیں اور نقشِ باطل بھی۔ آزاد و خودمختار، مستحکم، ترقی یافتہ، باکردار اور خوش حال پاکستان کی تشکیل کے لیے اہل دانش و بینش کو ذرائع ابلاغ کی تعلیم و تربیت پر قرار واقعی توجہ دینی چاہیے۔
پچھلے دنوں ہمیں ایک سماجی ماہرِابلاغیات ملے۔ اردو کے ذخیرۂ الفاظ سے اپنی اور دوسروں کی ناواقفیت کی وسیع سرحدیں سمیٹنے اور سکیڑنے پر آمادہ ہونے کے بجائے وہ مزید پھیل گئے۔ دلیل دینے لگے:۔
’’اردو لشکری زبان ہے۔ انگریزی الفاظ استعمال کرنے سے اردو کا وجود خطرے میں پڑے گا نہ اس کی توقیر کم ہوگی‘‘۔
عرض کیا: ’’بجا فرمایا۔ اردو لشکری زبان ہے۔ دیگر زبانوں کی طرح انگریزی زبان سے بھی اردو نے لاتعداد الفاظ قبول کیے ہیں۔ مگر لشکری زبان ہونے کا یہ مطلب کہاں سے نکل آیا کہ صرف اور صرف فرنگی الفاظ کا لشکر ہی اپنی لغت سے کود کود کر اردو میں دندناتا پھرے اور دُند مچایا کرے۔ صاحب! یہ لشکری زبان ہے یا لشکرِ فرنگ؟‘‘
سوچیے تو سہی! کیا یہ اردو کی بے توقیری نہیں کہ اس کے عام فہم اور مانوس الفاظ کو لشکر بدر کرکے ہر اردو لفظ اور ہر اردو اصطلاح کی جگہ فرنگی الفاظ و اصطلاحات کو رائج کرنے کی کوشش کی جائے؟ ابھی چند روز قبل اردو زبان میں نشر ہونے والے ایک خبرنامے میں، جسے مذکورہ نشریاتی ادارہ بڑے فخر سے نیوز بلیٹن قرار دے رہا تھا ’پرائم منسٹر کے سیکورٹی اسکواڈ‘ کا ذکر کیا گیا۔ اب بتائیے، خبرنامے کونیوز بلیٹن کہنے سے اردو کی توقیر میں بھلا کتنا اضافہ ہوگیا؟ اور ’وزیراعظم کا حفاظتی دستہ‘ کہنے پر سلامتی کو کیا خطرہ لاحق ہوسکتا تھا؟
ایک خبر کی سُرخی تھی: ’’سینیٹ الیکشنز میں ممبرز کے ریٹ لگنا شروع ہوگئے‘‘۔
یہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا بیان ہے۔ ممکن ہے کہ وزیر موصوف نے اپنے مخالفین کی توقیر کم کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے یہی الفاظ استعمال کیے ہوں۔ لیکن اگر اخبار یہ سُرخی یوں لگاتاکہ:’’ایوانِ بالا کے انتخابات میں اراکین کے دام لگنا شروع ہوگئے‘‘ تو اراکین کی بے توقیری توشاید جوں کی توں ہوتی، مگر اخبار، مدیر اخبار اور اردو کی توقیر کم نہ ہونے پاتی۔ سب سے دلچسپ فقرہ تو ایک خاتون خبر خواں نے ایک افسوسناک خبر پڑھتے ہوئے چلاّ چلاّ کر ادا کیا: ’’مسنگ ماؤنٹینئرز کا سرچ آپریشن جاری ہے‘‘۔
یہ خبر تحریر کرنے والے نے کمال مہارت سے اس جملے میں ’’کا‘‘ اور ’’جاری ہے‘‘ شامل کرکے اسے اردو کا فقرہ بنادیا۔ ورنہ اگر ’’لاپتا کوہ پیماؤں کو تلاش کرنے کا عمل جاری‘‘ ہوتا تو شاید اردو کی توقیر پہاڑوں کی بلندیوں تک نہ پہنچ پاتی۔
ایک نوآموز تجزیہ نگار نے جو حکمراں جماعت کے حامی بھی ہیں، اپنے تجزیاتی مضمون میں ’’اپوزیشن کی ریلیز ہونے والی اسپیچز‘‘ کے لتے لیے ہیں۔ حالاں کہ اگر لتے ہی لینے تھے تو ’’حزبِ اختلاف کے جلسوں یا جلوسوں میں کی جانے والی تقاریر‘‘ کے لیتے۔آسانی ہوجاتی۔
آخر میں ایک خبر ہماری وزارتِ اطلاعات و نشریات کے لیے، جس کا کام اب شاید حکومت کے مخالفین پر طعنہ زنی ہی رہ گیا ہے۔ یہ خبر آج سے دس، گیارہ برس پہلے (23دسمبر 2010ء کو) ’’بی بی سی اردو‘‘ کے برقی صفحے پر شائع ہوئی تھی:۔
’’چین نے اپنے قومی ذرائع ابلاغ پر انگریزی زبان استعمال کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ اس پابندی کا اطلاق اخبارات، سماجی ذرائع ابلاغ اور تمام نشریاتی و اشاعتی اداروں پر ہوگا۔ چین کے سرکاری اشاعتی ادارے نے کہا ہے کہ غیر ملکی الفاظ کی ملاوٹ سے خالص چینی زبان آلودہ ہورہی ہے۔ چینی الفاظ کا استعمال ہی درست اور معیاری طریقہ ہے۔ غیر ملکی زبانوں کے مختصر الفاظ اور ’’چینگلش‘‘ سے پرہیز ضروری ہے (’’چینگلش‘‘ چینی زبان اور انگلش کے ملغوبے کوکہتے ہیں)۔ اگر کہیں کوئی غیر ملکی اصطلاح استعمال کرنی پڑے تو چینی زبان میں اس کی وضاحت کرنا لازمی ہوگا‘‘۔

Share this: