سیاست میں فوج کی مداخلت

Print Friendly, PDF & Email

افسانہ یا حقیقت

قائداعظم نے جس عسکری قیادت کو سول معاملات میں مشورہ دینے کے بھی قابل نہ سمجھا وہ قائداعظم کے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ’’عسکری برہمن‘‘ بن کر کھڑی ہوگئی، اور اس نے پوری قوم کو ’’سول شودروں‘‘ میں تبدیل کردیا

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور نہ فوج کے کسی سے بیک ڈور رابطے ہیں۔ اگر کسی کے پاس ’’ثبوت‘‘ ہیں تو سامنے لائے۔ وہ بتائے کہ کون کس سے رابطے کررہا ہے اور کس نے کس سے بات کی۔ سیاست دان سیاست کرتے رہیں، آپس میں سیاسی عمل جاری رکھیں لیکن فوج کے حوالے سے چہ میگوئیاں اور قیاس آرائیاں نہ کریں۔ جنرل بابر افتخار نے دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’تحقیق کے بغیر فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹیں‘‘۔
(روزنامہ دنیا۔ 9 فروری 2021ء)
راویانِ روایت کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ قیامِ پاکستان سے ذرا پہلے پیش آیا۔ قائداعظم کو فوجیوں نے رات کے کھانے پر مدعو کیا۔ کھانے سے پہلے غیر رسمی گفتگو شروع ہوگئی اور ایک سینئر فوجی اہلکار نے قائداعظم سے کہاکہ آپ نے جنرل گریسی کو پاک فوج کا سربراہ بنادیا، آپ اس سلسلے میں مقامی اعلیٰ فوجی اہلکاروں سے مشورہ کرلیتے تو اچھا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مقامی اہلکاروں میں بھی جوہرِ قابل موجود ہے۔ راویانِ روایت کے مطابق قائداعظم اس بات پر سخت ناراض ہوئے، انہوں نے کہاکہ پاکستان میں قوم کی تقدیر کے فیصلے سول قیادت کرے گی۔ انہوں نے ’’مشورہ‘‘ دینے والے سے کہاکہ اگر آپ کے یہی خیالات ہیں تو آپ ازراہِ عنایت پاکستان آنے کی کوشش نہ کریں۔ قائداعظم نے یہ کہا اور کھانا کھائے بغیر واپس لوٹ گئے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ قائداعظم نے جس عسکری قیادت کو سول معاملات میں مشورہ دینے کے بھی قابل نہ سمجھا وہ قائداعظم کے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ’’عسکری برہمن‘‘ بن کر کھڑی ہوگئی، اور اس نے پوری قوم کو ’’سول شودروں‘‘ میں تبدیل کردیا۔ برہمنوں کی تاریخ ہے کہ وہ صرف طاقت کے مراکز پر قابض نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے زندگی اور اہم امور کی ’’تعبیر‘‘ پر بھی قبضہ کرلیا۔ پاکستان کے ’’عسکری برہمنوں‘‘ کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ایک جانب وہ طاقت کے تمام اہم مراکز پر قابض ہیں، دوسری جانب انہوں نے قومی زندگی اور اس سے متعلق اہم امور کی تشریح و تعبیر کو بھی قابو میں کیا ہوا ہے۔ یہ ہمارے ’’عسکری برہمن‘‘ ہیں جو طے کرتے ہیں کہ ہمیں کتنے فیصد جمہوریت اور کتنے فیصد فوجی آمریت درکار ہے۔ ’’عسکری برہمن‘‘ طے کرتے ہیں کہ کون ’’محب وطن‘‘ ہے اور کون ’’غدار‘‘ ہے۔ عسکری برہمن طے کرتے ہیں کہ ہمیں امریکہ کو کس وقت کتنا ’’پوجنا‘‘ ہے۔ ’’عسکری برہمن‘‘ طے کرتے ہیں کہ ’’جہاد‘‘ کب ’’حلال‘‘ اور کب ’’حرام‘‘ ہوجاتا ہے۔ عسکری برہمن طے کرتے ہیں کہ کب کسی کو ’’مجاہد‘‘ کہنا ہے اور کب اس مجاہد کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دینا ہے۔ غور کیا جائے تو جنرل افتخار کا بیان بھی قومی زندگی کی تعبیر پر عسکری برہمنوں کے غلبے کی ایک علامت ہے۔ سورج نصف النہار پر ہے اور جنرل افتخار کہہ رہے ہیں کہ سورج کہیں موجود ہے تو دکھایا جائے۔ فوج 1954ء سے سیاست میں دخیل ہے اور جنرل افتخار کہہ رہے ہیں کہ اس سلسلے میں کسی کے پاس ثبوت ہے تو پیش کرے۔ سیاست میں جرنیلوں کی مداخلت اتنی زیادہ ہے کہ خواجہ میر درد کا شعر یاد آجاتا ہے۔ خواجہ میر درد نے فرمایا ہے:۔

جگ میں آ کر اِدھر اُدھر دیکھا
تُو ہی آیا نظر جدھر دیکھا

قوم جب 1958ء کے بعد سے اب تک کی سیاست پر نظر ڈالتی ہے تو اسے ہر طرف جرنیلوں کی مداخلت نظر آتی ہے۔ مگر جنرل افتخار کہہ رہے ہیں کہ کوئی ثبوت ہے تو دکھائو۔ ارے صاحب! قوم کی تین دہائیاں مارشل لا کھاگئے، اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا؟ اقبال مصورِ پاکستان اور قائداعظم بانیِ پاکستان ہیں، اور ان دو شخصیات کے ایک فقرے سے بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان مارشل لا یا فوجی آمریت کے لیے بنا تھا۔ اقبال نے کہا ہے:۔

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحرِ بیکراں سے زندگی

اس شعر میں ’’بندگی‘‘ کا مطلب ’’غلامی‘‘ ہے۔ غلامی انگریزوں کی ہو یا امریکیوں کی… جرنیلوں کی ہو یا جاگیرداروں اور وڈیروں کی… غلامی، غلامی ہوتی ہے، اور وہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے بہتے دریا کو ’’جوئے کم آب‘‘ بنادیتی ہے۔ قائداعظم نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ پاکستان بن گیا ہے اور اب انسانی روح تخلیقی کارنامے دکھانے کے لیے آزاد ہوگئی ہے۔ مگر ہمارے فوجی آمروں اور جرنیلوں نے قوم کے تخلیقی بہائو کو ہمیشہ اپنے لیے خطرہ سمجھا۔ انہوں نے ہمیشہ معاشرے میں آزادیِ اظہار پر پابندیاں لگائیں۔ انہوں نے ہمیشہ معاشرے میں ’’خوف کی فصل‘‘ کاشت کی۔ انہوں نے ہمیشہ ’’جنرل پوجا‘‘ کو عام کیا۔ انہوں نے ہمیشہ معاشرے اور ریاست میں ’’عسکری برہمنیت‘‘ کی ’’فوقیت‘‘، اور ’’بالادستی‘‘ کے خیال کو آگے بڑھایا۔ قائداعظم نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ قرار دیا تھا، مگر ہمارے جرنیلوں نے پاکستان کو ’’عسکری برہمنوں‘‘ کا قلعہ بناکر رکھ دیا ہے۔
پروفیسر غفور صرف جماعت اسلامی کے رہنما نہیں تھے، وہ ایک ایسے پاکستانی تھے جن کے وجود میں پاکستان کی محبت خون بن کر دوڑتی تھی۔ چنانچہ ان کی اصابتِ فکر پر پوری طرح اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ ایک بار ہماری پروفیسر صاحب سے پاکستان کے ماضی، حال اور مستقبل پر بات ہورہی تھی، تو پروفیسر صاحب نے فرمایا کہ ہماری قومی تاریخ کا آدھا حصہ تو مارشل لائوں کی نذر ہوگیا، باقی آدھے حصے کا حال یہ ہے کہ جرنیل پردے کے پیچھے بیٹھ کر ڈوریاں ہلاتے نظر آتے ہیں۔ یعنی ملک میں جب نام نہاد جمہوریت ہوتی ہے تو بھی اس پر مارشل لا ہی کا سایہ ہوتا ہے۔ یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ جنرل ضیا الحق تقریباً گیارہ سال ملک پر مسلط رہے۔ وہ گئے تو 58(2)B کو آئین کا حصہ بنا گئے۔ آئین کی یہ شق طویل عرصے تک جمہوری اور سول حکومتوں کے سر پر لٹکی رہی اور انہیں ہلاک کرتی رہی۔ کہنے کو جنرل ضیا الحق کہیں نہیں تھے مگر 58(2)B کی صورت میں وہ ہر طرف موجود تھے، اور وہ 58(2)B کے ذریعے یکے بعد دیگرے پانچ جمہوری حکومتوں کو کھا گئے۔ اس کے باوجود جنرل افتخار پوچھ رہے ہیں کہ سیاست میں فوج کی مداخلت کا کوئی ثبوت ہے تو پیش کیا جائے۔
جنرل حمید گل اسلام پسند بھی تھے اور سر سے پیر تک ’’پاکستانیت‘‘ میں بھی ڈوبے ہوئے تھے۔ ہماری ایک بار انٹرویو کے سلسلے میں ان سے ملاقات ہوئی تو ہم نے ان سے پوچھا کہ جنرل صاحب یہ فرمائیے کہ پاکستان فوج کے لیے ہے یا فوج پاکستان کے لیے ہے؟ جنرل صاحب چاہتے تو کہتے کہ فوج پاکستان کے لیے ہے، پاکستان فوج کے لیے نہیں ہے۔ مگر انہوں نے کہا کہ میرے پاس تمہارے سوال کا جواب نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ جنرل حمیدگل نے جو کہا، کیوں کہا؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ فوج ملک اور اس کے پورے نظام پر چھائی ہوئی ہے۔ جنرل حمیدگل اس کا انکار کرتے تو جھوٹے کہلاتے۔ جنرل حمیدگل کے حوالے سے یہ بات بھی تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ انہوں نے آئی جے آئی کے نام سے ایک سیاسی اتحاد بنانے کا اعتراف کیا۔ یہ اعتراف بھی سیاست میں فوج کی مداخلتِ بے جا کا ایک ٹھوس ثبوت ہے۔
سقوطِ ڈھاکا کے وقت بریگیڈئیر صدیقی آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر تھے۔ انہوں نے کچھ سال پہلے جیو کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جنرل یحییٰ نے 1970ء کے انتخابات میں شیخ مجیب کی جماعت کو شکست سے دوچار کرنے کے لیے مولانا بھاشانی کو دو کروڑ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ مولانا بھاشانی کی جماعت مشرقی پاکستان کے دیہی علاقوں میں بہت مقبول تھی، اور اگر وہ شیخ مجیب کی عوامی لیگ کے مقابل آجاتی تو شیخ مجیب اکثریت حاصل نہ کرسکتا۔ تاہم صدیقی صاحب نے کہا کہ جنرل یحییٰ نے مولانا بھاشانی کو دو کروڑ روپے نہ دیے۔ انٹرویو کرنے والے نے سوال کیا کہ اس کا سبب کیا تھا؟ متحدہ پاکستان کے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ اس کا سبب یہ تھا کہ جنرل یحییٰ ملک توڑنے کا فیصلہ کرچکا تھا۔ یہاں کئی امور کی نشاندہی ضروری ہے۔ 1970ء کے انتخابات کو شفاف سمجھا جاتا ہے، مگر بریگیڈیئر صدیقی کے بیانات سے ثابت ہے کہ جنرل یحییٰ نے ان کو بھی آلودہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ یہ الگ بات کہ انہوں نے اس منصوبے پر خود ہی عمل نہ کیا، شاید اس لیے کہ بریگیڈئیر صدیقی کے بقول جنرل یحییٰ ملک توڑنے کا فیصلہ کرچکے تھے۔ پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل مرزا اسلم بیگ خود اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کو پہلی بار حکومت فوج اور بے نظیر میں سمجھوتے کے بعد دی گئی۔ بے نظیر نے فوج کی شرائط تسلیم کیں تب پاکستان کی وزیراعظم بنیں۔ آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ سپریم کورٹ میں حلفیہ بیان دے چکے ہیں کہ انہوں نے جنرل مرزا اسلم بیگ کی ہدایت پر سیاست دانوں میں کروڑوں روپے تقسیم کیے۔ سوال یہ ہے کہ سیاست میں فوج کی مداخلت اور کیا ہوتی ہے؟ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ’’افسانہ‘‘ یہ ہے کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی۔ ’’حقیقت‘‘ یہ ہے کہ فوج سیاست میں مداخلت کرتی ہے۔
لیکن یہاں ایک سوال اور بھی ہے۔ پاکستان کے عسکری برہمنوں کو سیاست میں مداخلت کا حق کیوں حاصل ہے؟ ترکی فوج طویل عرصے تک سیاست میں مداخلت کرتی رہی ہے۔ اس کا ایک سبب یہ ہے کہ ترکی کی فوج نے ترکی کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، چنانچہ وہ خود کو ’’لبریشن آرمی‘‘ تصور کرتی ہے۔ اتفاق سے پاک فوج کا قیام پاکستان کے سلسلے میں کوئی کردار نہیں ہے، کیونکہ 1940ء سے 1947ء تک پاکستان کی کوئی فوج ہی نہ تھی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہمارے عسکری برہمنوں کو عسکری برہمنیت کے مظاہرے کا کوئی حق ہی نہیں ہے۔
پاکستان کے جرنیلوں کی کارکردگی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ بہت اہل، عبقری یا Genius ہیں۔ ملک پر چار جرنیلوں نے حکومت کی اور ملک کا کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہ ہوا، بلکہ جنرل یحییٰ کے دور میں آدھا ملک ہی ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ چنانچہ اہلیت و صلاحیت اور ذہانت کی بنیاد پر بھی جرنیل سیاست، سیاست کھیلنے کے حق دار نہیں۔ یہ حقیقت بھی راز نہیں کہ جرنیلوں کو پاکستان جہیز میں نہیں ملا، بلکہ پاکستان قائداعظم کی بے مثال قیادت اور برصغیر کی ملّتِ اسلامیہ کے تحرّک کا حاصل ہے۔ چنانچہ جرنیلوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ سیاست کو اپنے اشاروں پر نچائیں۔
جرنیلوں نے اگر ملک کو عسکری یا معاشی طاقت بنادیا ہوتا تو کہا جاتا کہ سیاست میں ان کی مداخلت کا جواز ہے۔ مگر پاکستان کا ایٹمی پروگرام ایک سول حکمران ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کیا۔ پاکستان کا ایٹم بم ایک سول سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر نے بنایا۔ رہی معیشت، تو پاکستان دنیا کی پچاس معیشتوں میں بھی شامل نہیں۔
جرنیل پاکستان کی سول قیادت کی کرپشن اور نااہلی کی شکایت کرتے ہیں، اور یہ شکایت بجا ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان کے اکثر کرپٹ اور نااہل سیاست دان فوج کی نرسری سے آئے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب کی کابینہ کا حصہ تھے، وہ جنرل ایوب کو ’’ڈیڈی‘‘ کہتے تھے اور ’’ڈیڈی‘‘ کے بغیر وہ بھٹو نہیں بن سکتے تھے۔ میاں نوازشریف جنرل جیلانی اور جنرل ضیاء الحق کی نوازشات کا حاصل ہیں۔ ایک ایسا شخص جس کے پاس نہ دل ہے، نہ دماغ ہے، نہ علم ہے، نہ ذہانت ہے، نہ کردار ہے… وہ مدتوں تک ہماری تقدیر کا مالک بنا رہا۔ الطاف حسین اور ایم کیو ایم جیسی بلائیں بھی جرنیلوں نے تخلیق کیں۔ جنرل بابر افتخار کا یہ خیال بہت نیک ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ جنرل بابر سے پوچھا جانا چاہیے کہ فوج تو امریکہ میں بھی ہے مگر امریکہ کا کوئی جنرل یہ نہیں کہتا کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ فوج تو برطانیہ اور جرمنی میں بھی ہے مگر ان کے جرنیل بھی یہ نہیں کہتے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ فوج تو بھارت میں بھی ہے، مگر بھارت کا کوئی جرنیل یہ نہیں کہتا کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملکوں کی فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی، چنانچہ وہ سیاست کے حوالے سے زیر بحث بھی نہیں آتی۔

Share this: