مسئلہ کشمیر: عالمی و علاقائی دباؤ

Print Friendly, PDF & Email

بھارت پسپائی کے لئے ’’محفوظ راستے‘‘کی تلاش میں

بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے لوک سبھا میں جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2021کی منظوری کے موقع پر مناسب وقت پر جموں وکشمیر کی یونین ٹیریٹری کی حیثیت ختم کرتے ہوئے ریاستی حیثیت کی بحالی کا اعلان کیا ہے۔ بھارتی اپوزیشن نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس ترمیمی بل سے حکومت جموں وکشمیر کی ریاست کو دوبارہ بحال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ جس پر امیت شاہ نے وضاحت کی کہ ان کی حکومت مناسب وقت پر ریاستی حیثیت بحال کردے گی۔ امیت شاہ کے اس اعلان سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت عالمی دبائو کی تاب نہ لاتے ہوئے جموں وکشمیر کی ریاست کو نگلنے میں ناکامی کے بعد اب اسے اُگلنے کی راہیں تلاش کررہا ہے۔ کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے بعد واحد وجہ نزع اسٹیٹ سبجیکٹ کا قانون رہ جاتا ہے۔ اسٹیٹ سبجیکٹ کا قانون بحال ہونے کے بعد مقبوضہ علاقے کی 4 اگست 2019ء کی پوزیشن بحال ہوجاتی ہے۔
امیت شاہ کے اس بیان سے پہلے کئی واقعات تسلسل سے رونما ہورہے تھے۔ پانچ اگست کے فیصلے کے خلاف سب سے بڑا ردعمل پاکستان کی طرف سے بھارت کے ساتھ تمام تعلقات کو منقطع کرنا تھا۔ دوایٹمی طاقتوں کے درمیان ترکِ تعلقات کا یہ انداز 73 سالہ تاریخ میں پہلی بار دیکھنے کو ملا تھا۔ امریکہ، چین اور دوسری عالمی طاقتیں جنوبی ایشیا کی دو دیرینہ حریف ہمسایہ ایٹمی طاقتوں کے درمیان ابلاغ اور روابط کے اس خلا اور خلیج کی متحمل نہیں ہوسکتیں۔ دونوں ملکوں کے تعلقات کی یہ کیفیت عالمی طاقتوں کے لیے ایک دبائو اور چیلنج کے طور پر موجود تھی۔ پاکستان نے بھارت سے بات چیت اور تعلقات کو پانچ اگست کے اقدام کی واپسی سے مشروط کررکھا تھا۔ پانچ اگست کے بعد معاملے کی سنگینی کو بڑھانے والا دوسرا قدم چین کی لداخ میں پیش قدمی تھی، اور چین نے اعلانیہ طور پر کہا کہ لداخ کو یونین ٹیریٹری بنانے سے چین کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا ہوگئے تھے اس لیے چین نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر ’’اپنے‘‘ ہی علاقے میں اگلی پوزیشنیں سنبھالیں۔ اس طرح پانچ اگست کے اقدام نے خطے میں کشیدگی کے ایک خاموش کردار چین کو متحرک ہوکر کردار ادا کرنے کی راہ دکھلا دی، اور اس سے خطے کی برسوں سے چلی آنے والی کشیدگی ایک نئے رخ پر چل پڑی۔
یہ بھی اقوامِ عالم کے لیے ایک پریشان کن صورتِ حال تھی۔ بھارت میں مغربی سرمایہ کاروں کا بے تحاشا پیسہ لگا ہوا ہے، اور چین اور پاکستان کے ساتھ بھارت کے تصادم کی صورت میں یہ سب کچھ غتربود ہونے کے خطرات موجود تھے۔ پھر چین اور بھارت کے درمیان کسی تصادم میں ان ملکوں کو ایک واضح لائن لینا پڑتی جو ان کے لیے کسی طور سودمند نہ تھا۔
تیسرا اور اہم نکتہ یہ تھا کہ کشمیر کے بھارت نواز لیڈروں نے بھی پانچ اگست کے اقدام کو قبول نہیں کیا۔ ان میں سے اکثر رہنما امریکہ اور برطانیہ جیسے ملکوں کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔ کشمیر میں عسکریت کے ہنگامہ خیز دور کے بعد جب انتخابی اور سیاسی عمل بحال ہوا تو اس کی براہِ راست نگرانی امریکی کررہے تھے، اور اس سیاسی عمل کے نتیجے میں فاروق عبداللہ کشمیر کے وزیراعلیٰ بنے تھے۔ اسی طرح من موہن سنگھ اور جنرل پرویزمشرف کے درمیان جو امن عمل امریکی ایما پر شروع ہوا تھا اُس میں کشمیری شراکت دار شخصیات کا نام مفتی سعید اور محبوبہ مفتی تھا۔ اس لیے پانچ اگست کے بارے میں حریت پسندوں سے زیادہ ان بھارت نواز رہنمائوں کی رائے اہم سمجھی جارہی تھی۔ یہ تین ایسے عوامل ہیں جنہیں عالمی سطح پر نظرانداز کرنا قطعی ممکن نہیں۔
پانچ اگست کے بعد کشمیر میں کچھ بدلا نہیں جبکہ حالات پہلے سے زیادہ خراب ہوگئے۔ کشمیری پنڈتوں کی واپسی ایک خواب ہی رہی، جموں کے ہندو بھی ٹاٹا اور برلا کے ہاتھوں اپنی زمینیں، اور بہاری اور بنگالی ہندو شہریوں کے ہاتھوں ملازمتیں چھن جانے کے خوف کا شکار دکھائی دینے لگے۔ بھارتی سپریم کورٹ پانچ اگست کے فیصلے کے خلاف رٹ کو نہ منظور کرکے سماعت کرتی ہے، نہ مسترد کرتی ہے… اور یوں وہ کشمیریوں کو امید و بیم کے دوراہے پر کھڑا رکھے ہوئے ہے۔ ان حالات میں بھارت کے پاس نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن والی صورتِ حال ہے۔
اب یوں لگتا ہے کہ بھارت کو پانچ اگست کے فیصلے سے پسپائی کے لیے ایک محفوظ اور باعزت راستہ دینے کا مرحلہ قریب آرہا ہے۔ پانچ اگست کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چین بھارت تنازعے کا اونٹ ایک مخصوص کروٹ بیٹھنے لگا ہے۔ دونوں ملک اپنی پرانی پوزیشنوں پر واپس اور نو مینز لینڈ کی بحالی کے کچے پکے معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ یہ پہلی فیس سیونگ کہلا سکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان پانچ فروری کو آزادکشمیر میں کھڑے ہوکر بھارت کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، اس کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اس دعوت کا اعادہ کرچکے ہیں۔ بھارت کی طرف سے بظاہر اس دعوت پر بے اعتنائی کے رویّے کا مظاہرہ کیا جاچکا ہے، لیکن اس جانب پیش رفت کرنے کے لیے بھارت پر دبائو بھی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں فورجی انٹرنیٹ بحال ہوچکا ہے اورعدالتوں نے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار ہونے والے قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ فیس سیونگ کا ایک اور مظاہرہ بھارتی پارلیمان کے اجلاس میں کشمیر کے دو بھارت نواز رہنمائوں فاروق عبداللہ اور غلام نبی آزاد کا ایک ہی سانس میں بھارت کی حمایت کا دم بھرنا، اپنی وفائوں کا یقین دلانا، اور پانچ اگست کے اقدامات کی واپسی کا مطالبہ کرنا تھا۔ غلام نبی آزاد اور نریندر مودی میں تو آنسوئوں اور نیک جذبات کا تبادلہ ہونا بھی’’فیس سیونگ اسکرپٹ‘‘ کا حصہ دکھائی دے رہا تھا۔ ایسے میں’’را‘‘کے سابق سربراہ اے ایس دلت کا ایک اہم انٹرویو سامنے آیا ہے۔ بھارتی اخبار نیشنل ہیرالڈ کو دئیے گئے انٹرویو میں مسٹر اے ایس دلت کا کہناتھا: ۔
’’بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 پہلے ہی کھوکھلا ہوچکا تھا، اس آرٹیکل کے خاتمے سے بھارت کو کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ اس سے کشمیریوں کی مایوسی بڑھ گئی۔ کشمیر کے مین اسٹریم لوگ بھی اس آرٹیکل کے خاتمے سے خوش نہیں‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’کشمیر کو صرف سیکورٹی کے انداز میں نمٹایا جارہا ہے، حالانکہ یہ ایک سیاسی، جذباتی اور نفسیاتی مسئلہ ہے۔ جلد یا بدیر حکومت کو اس سے اتفاق کرنا پڑے گا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت رکنی نہیں چاہیے۔ بات چیت لازمی ہے۔ جب بات چیت شروع ہوگی تو کئی مسئلے حل ہوں گے۔‘‘

Share this: