طیفِ نظر

Print Friendly, PDF & Email

اردو زبان کے مسائل پر لکھے گئے کالموں کا انتخاب

مصنف : سید روح الامین
صفحات : 128 قیمت:300روپے
ناشر : عزت اکادمی گجرات

جناب سید روح الامین خوب آدمی ہیں، ہمہ وقت اسلام، پاکستان اور اردو کے لیے بھاگ دوڑ میں مصروف رہتے ہیں، اور دامے، درمے، سخنے اعلیٰ مقاصد کے لیے اپنی توانائیاں صرف کرتے ہیں۔ ڈاکٹر رشید امجد تحریر فرماتے ہیں:۔
’’بابائے اردو مولوی عبدالحق اور ڈاکٹر سید عبداللہ کے بعد روح الامین ہمارے دور میں اردو کا جھنڈا بلند کیے جس محبت کا نعرہ لگا رہے ہیں، اس کے بارے میں پروفیسر فتح محمد ملک کہتے ہیں: ’’سید روح الامین ہماری قومی زبان اردو کے سچے اور پکے عاشق ہیں‘‘۔ اردو زبان پر اس وقت جو پیغمبری کا وقت ہے اس میں روح الامین کی یہ کاوشیں بند دروازوں پر دستک ہیں۔ ہمارے پالیسی ساز ادارے جس طرح اردو کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں اس دور میں روح الامین کا یہ کام جہاد کا درجہ رکھتا ہے۔ ڈاکٹر محمد علی صدیقی کی رائے میں ’’انہوں (روح الامین) نے اپنی تحقیقی کاوشوں میں بڑی دقتِ نظر کا ثبوت دیا ہے۔ مجھے یہ لگ رہا ہے کہ سید روح الامین نے اردو کے لیے ایک مکتبہ محبت کھول لیا ہے‘‘۔ سید روح الامین نے ایک مقصد کو سامنے رکھ کر موضوع کا تعین کرکے کام کا آغاز کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے کام میں معیار بھی ہے، پیغامِ محبت بھی اور اردو کی اہمیت کے احساس کو جگانا بھی‘‘۔
ڈاکٹر معین الدین عقیل کی رائے ہے:۔
’’روح الامین صاحب کی محنت وجستجو اور ذوق و شوق کو میں مختلف صورتوں میں دیکھتا رہا ہوں۔ ہمیشہ کوئی نہ کوئی منصوبہ ان کے پیش نظر رہتا ہے اور وہ اس کی تکمیل میں اس طرح مصروف رہتے ہیں کہ جیسے اسے تکمیل تک پہنچانے کے بعد ہی انہیں چین نصیب ہوگا۔ لسانیات، زبان، ادب، اقبال اور خاص طور پر اردو زبان اور اس کی لسانی خصوصیات، اس کا مزاج اور اس کی انفرادیت، اس کی قومی اور ادبی حیثیث… یہ سب ایسے پہلو ہیں جن کے حوالے سے یہ سوچتے بھی ہیں اور لکھتے بھی ہیں، اور اپنے احساسات اور مطالعات کو ادبی و علمی دنیا کے سامنے مناسب صورتوں میں پیش بھی کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تصانیف کی تعداد کچھ کم نہیں، اور جن کے منظرعام پر آنے کا تسلسل بھی کم نہیں ہوتا۔ اردو کے تعلق سے جو کچھ انہوں نے لکھا اور علمی دنیا میں پیش کیا وہ تصانیف کی شکل میں ’’اردو ہے جس کا نام‘‘، ’’اردو ایک نام محبت کا‘‘، ’’اردو بطور ذریعہ تعلیم‘‘، ’’اردو لسانیات کے زاویے‘‘، ’’اردو کے لسانی مسائل‘‘، ’’اردو تاریخ و مسائل‘‘، ’’اردو کے دھنک رنگ‘‘ ہمارے علم میں ہیں۔ معلوم نہیں مزید اور کیا کیا گل روح الازمین صاحب اردو کے حوالے سے کھلاتے رہیں گے۔ ان سب کو ابھی سے خوش آمدید۔
فی الوقت زیر نظر ان کی کاوش بھی تمام تر اردو کے بارے میں ہے، جو اگرچہ بنیادی طور پر اردو ہی کے تعلق سے ہے لیکن چوں کہ یہ ان کے تحریر کردہ کالموں کا مجموعہ ہے اس لیے اس میں موضوعات کے لحاظ سے ایک بہت وسیع تر تنوع بھی نظر آتا ہے۔ ان کالموں میں جہاں اردو کی حیثیت و اہمیت سامنے آتی ہے وہیں وہ مسائل بھی سامنے آتے ہیں جن سے اردو کا آج کل سامنا ہے اور ان ہی کالموں کے تحریر کیے جانے کا عرصہ ہے جب عدالتِ عظمیٰ پاکستان نے ملک میں دستورِ پاکستان (1973ء) کی دفعہ 251(1) کے عدم نفاذ پر ایک دردمند اور باشعور پاکستانی شہری جناب کو کب اقبال خواجہ کی ایک درخواست کو پذیرائی بخشتے ہوئے بجاطور پر ان ذمے داروں کے بارے میں جو استفسار کیا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ آئین کی اس دفعہ کا نفاذ اب تک نہ ہوسکا؟ اور اس کے ذمے دار کون کون ہیں؟ چیف جسٹس جناب جواد ایس خواجہ نے جناب کوکب اقبال صاحب کی درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے عمّالِ حکومت سے استفسار کیا کہ قومی زبان کے عدم نفاذ کا ذمے دار کون ہے؟ قبل ازیں ایک ایسی ہی درخواست 1991ء میں عدالتِ عالیہ لاہور میں جناب محمد اسمٰعیل قریشی ایڈووکیٹ نے دائر کی تھی، جو وہیں فائلوں میں دبی ہوئی ہے اور اس پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی کہ اس کی زد بھی اُسی طبقے پر پڑتی تھی جو قومی زبان کا نفاذ اس ملک میں نہیں چاہتا۔ چنانچہ اس وقت بھی یہی ہوا کہ جسٹس جواد ایس خواجہ کے واضح حکم کے باوجود اردو کا نفاذ کسی بھی سطح پر نہ ہوسکا اور مختلف حیلے بہانے سامنے آتے رہے، اور اب تو گویا نفاذ کا یہ معاملہ بھی رفت گزشت ہی ہوچکا! اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔
ہمارے ملک اور ہماری قوم کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ دورِ اوّل کے قائدین کے اِس دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد ملک و قوم کو یہاں کوئی ایسا قائد اور رہنما نہ ملا جو قوم و ملک کے عین مفاد کے مطابق قومی زبان کو اس ملک میں نافذ کرنے کی اہمیت کو سمجھتا، اس کا شعور رکھتا اور اس کے نفاذ کے لیے سنجیدہ و عملی اقدامات کرتا۔ جمہوری حکومتوں نے یہ تو کیا کہ ہر آئین میں اردو کے قومی زبان ہونے اور اسے آئین کی ایک شق قرار دینے میں تامل نہ کیا اور اسے آئین کا حصہ بنایا، لیکن اسے نافذ کرنے کی بابت کسی حکومت یا حکمراں نے اپنے دور میں کوئی سنجیدہ اور مؤثر پیش قدمی کبھی نہ کی۔ صرف جنرل ضیا الحق کا دور ایک استثنائی مثال ہے کہ ’’جمہوری‘‘ حکمرانوں کے مقابلے میں اس ’’آمر‘‘ نے نہ صرف قومی زبان کی اہمیت و افادیت کا کھل کر اعتراف کیا، بلکہ اسے بہ حیثیت ذریعہ تعلیم اور بطور دفتری زبان نافذ کرنے کی ضرورت کو محسوس بھی کیا اور ہر دو کے نفاذ کے لیے عملی اقدامات بھی کیے۔ سابقہ حکومتوں نے اردو کی ترقی کے لیے چند ادارے ضرور قائم کیے، لیکن کوئی ایسا ادارہ قائم نہ کیا جسے اردو کی ترقی سے بڑھ کر اردو کے نفاذ یا اس کی ترویج کا کام سپرد ہوا ہو، جیسا ضیا الحق نے اپنے دورِ حکومت کے دوسرے ہی سال ’’مقتدرہ قومی زبان‘‘ قائم کرکے ملک کی تاریخ میں نہایت منفرد اور قابل قدر کام کیا، جسے پچھلی ’’جمہوری‘‘ حکومت نے ختم ہی کردیا کہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری! اسے ختم کرکے اردو کے ایک عام اور بے اثر سے ادبی ادارے کی حیثیت دے کر ’’ادارۂ فروغ قومی زبان‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جیسے اس طرح کے متعدد اداروں کے ہونے کے باوجود اس کی کوئی ضرورت باقی رہ گئی تھی! ’’مقتدرہ قومی زبان‘‘ کا خاتمہ دراصل اس سابقہ ’’جمہوری‘‘ حکومت کا کھلا اعلان تھا کہ اس ملک میں قومی زبان کے نفاذ کی کوئی ضرورت نہیں۔ ظاہر ہے یہ فیصلہ اسی سیاسی جماعت کی حکومت کا تھا جس نے ماضی میں سندھ میں قومی زبان کے نفاذ کو سرکاری سطح پر سارے صوبوں سے ہٹ کر ایک دعوتِ مقابلہ دیا، یا چیلنج کیا تھا، اور بلوچستان، صوبہ سرحد اور پنجاب کی طرح، جنہوں نے کھلے دل سے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دے دیا تھا، سندھ میں سرکاری زبان بننے نہ دیا‘‘۔
ڈاکٹر صاحب نے تفصیل سے اظہارِ خیال کیا ہے، جگہ کی تنگی آڑے آتی ہے ورنہ اس قابل ہے کہ وہ قارئین کرام کی خدمت میں پیش کیا جائے۔
کتاب میں جن موضوعات پر کالم شامل کیے گئے ہیں وہ درج ذیل ہیں:۔
علامہ محمد اقبال اور اردو، قائداعظم محمد علی جناح اور اردو، اردو بطور ذریعہ تعلیم، اردو بذریعہ تدریس کی اہمیت، پرائمری سطح پر انگریزی لازمی کیوں؟ اردو لسانیات، لارڈ میکالے کی اردو دشمنی، اردو… ہماری پیاری زبان، تیرا ہی دل نہ چاہے تو باتیں ہزار ہیں!، اردو اور دو قومی نظریہ، حیرت ہے! پاکستان میں ذریعہ تعلیم انگریزوں کی زبان؟، قومی زبان کا نفاذ… صدرِ پاکستان کے نام کھلا خط، اردو… ایک نام محبت کا، ذریعہ تعلیم انگریزی کیوں؟ اردو کیوں نہیں؟، قومی ترقی اور قومی زبان، قومی زبان کی اہمیت، اردو ہے جس کا نام، اردو میں سائنس کی تدریس، قومی زبان اردو سے بے اعتنائی… قائداعظم سے بے وفائی، ہمارا نصابِ تعلیم نظریۂ پاکستان سے ہم آہنگ ہے؟، اردو ذریعہ تعلیم کیوں ناگزیر ہے!، ہمارا نصابِ تعلیم اسلامی اقدار اور قومی ثقافت کا ترجمان ہے؟، ’’قومی زبان کا نفاذ‘‘ اور سیاسی پارٹیوں کا انتخابی منشور!، حضرت قائداعظم ہمارے حکمران اور قومی زبان اردو، علامہ اقبالؒ کا تصورِ تعلیم، چیف جسٹس صاحب نفاذِ اردو کے لیے بھی نگران جج مقرر کریں!، سرسید احمد خاں اور اردو ذریعہ تعلیم، زبان و لسان کی ماہیت اور اہمیت۔
نفاذِ اردو کے بارے میں آئین 1973ء کا متن
251 (1) The National Language of Pakistan is Urdu, and arrangements shall be made for its being used for official and other purposes within fifteen years from the commencing day.
(2) Subject of clause (1)
The English language may be used for official purposes untill arragements are made for its replacement by Urdu.
(3) Without prejudice to the status of the national language, a Provincial Assembly may be law prescribe measures for the teaching, promotion and use of a provincial language in addition to the national language.
اردو ترجمہ
(1) 251 پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور دفتری اور دوسرے مقاصد کے لیے اس کو استعمال کرنے کے لیے آئین کی تاریخ اجراء سے پندرہ سال کے اندر ضروری انتظامات کیے جائیں گے۔
(2) شق (1) کے تحت جب تک انگریزی کو اردو سے بدلنے کے لیے انتظامات نہ کیے جا سکیں، انگریزی زبان دفتری مقاصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔
(3) قومی زبان کی حیثیت کو متاثر کیے بغیر صوبائی اسمبلی اردو کے ساتھ ساتھ صوبائی زبان کی تدریس ترقی اور استعمال کے لیے بذریعہ قانون ضروری اقدامات کر سکتی ہے۔

مکاتیب ڈاکٹر محمد حمید اللہ
بنام محمد طفیل (پیرس)

مرتب : ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
صفحات : 232 قیمت:400 روپے
ناشر : قرطاس: فلیٹ نمبر A-15 گلشن امین ٹاور، گلستان جوہر بلاک 15، کراچی
موبائل : 0321-3899909
ای میل : saudzaheer@gmail.com
ویب گاہ : www.qirtas.com.nr

زیر نظر کتاب میں ڈاکٹر محمد حمیداللہ کے 76 خطوط محمد طفیل صاحب کے نام، اور 26 خطوط محمد طفیل بنام رفیع الدین ہاشمی، 7 خطوط عبدالرحمٰن بزمی بنام محمد طفیل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر محمد حمیداللہ سے خصوصی گفتگو جو ایک مصاحبہ ہے جو اُن کی پوتی سدیدہ عطا اللہ نے کیا۔ یہ انٹرویو لندن کے رسالے Impact International کے شمارہ جنوری۔ مارچ 2003ء میں شائع ہوا تھا، اس کا اردو ترجمہ محمد عبدالحسیب صاحب نے کیا، جو ماہنامہ تہذیب الاخلاق علی گڑھ کے شمارہ اپریل 2018ء میں چھپا تھا۔ آخر میں ڈاکٹر صاحب کے خطوط کے عکوس لگائے گئے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب نابغۂ روزگار شخصیات میں سے تھے، وہ ایسے عالمِ باعمل تھے جن سے امتِ مسلمہ کی عزت و وقار میں اضافہ ہوا۔ وہ پہاڑی کا چراغ اور زمین کا نمک تھے، زندہ جنتی تھے۔ ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔
’’ڈاکٹر محمد حمیداللہ (1908ء تا 2002ء) کا شمار بلاشبہ ملتِ اسلامیہ کے ان روشن فکر اور تابندہ دماغ اصحاب میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے علم و عمل کی تابانی سے کئی نسلوں کو مستنیر کیا۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی تصنیفی اور تالیفی زندگی پون صدی سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ ان کے قلم سے ایسے ایسے جواہر پارے منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوئے جن کی تابناکی اور چمک دمک نے قلب و نگاہ کی دنیا کو روشن کیا۔ ان کی تصانیف و تالیفات اور تراجم و تدوینات کی تعداد ایک سوستّر سے زیادہ ہے۔ انہوں نے مختلف دینی، علمی، اخلاقی، سماجی، ادبی اور تہذیبی موضوعات پر سیکڑوں مقالات قلم بند کیے، جنہیں علمی و ادبی اور مذہبی و دینی حلقوں میں قبولِ عام کی سند عطا ہوئی۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ عالمگیر شہرت کی حامل شخصیت تھے۔ عالمِ اسلام میں خاص طور پر انہیں نہایت عزت و احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
اس مجموعۂ مکاتیب کے جامع اور مرتب ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی ہمارے عہد کی فیض رساں اور علم پرور شخصیت ہیں۔ اقبال کے سچے عقیدت کیش اور اقبالیات کے ماہر اور عارف ہونے کے باعث وہ علمی اور ادبی دنیا میں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد حمیداللہ کی طرح ان کی زندگی بھی علم و عمل کی روشن مثال ہے۔ ڈاکٹر ہاشمی اپنے عہد کے جن اکابر سے دلی محبت اور ذہنی قربت رکھتے ہیں، ان میں ڈاکٹر محمد حمیداللہ کا نامِ نامی بھی شامل ہے۔ انہیں ڈاکٹر صاحب سے ایک دوبار ملنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ وہ ڈاکٹر محمد حمیداللہ کے شخصی اوصاف اور ان کے علمی کارناموں کے مداح اور عاشق ہیں۔ یہی قلبی اور ذہنی وابستگی ان خطوط کی جمع آوری کا محرک ہے۔
مکاتیب کا یہ مجموعہ مکتوب نگار اور مکتوب الیہ کی زندگی کے کئی اہم واقعات، معاملات اور افکار و خیالات کا زریں مرقع ہے۔ ڈاکٹر محمد حمیداللہ تشہیرِ ذات اور اپنے علمی کمالات کے اظہار سے ہمیشہ محترز رہے، اس وجہ سے ان کے معمولاتِ حیات اور شخصی احوال سے کم کم لوگ ہی آشنا ہیں۔ اس لحاظ سے بھی زیر نظر مجموعۂ خطوط نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں ڈاکٹر محمد حمیداللہ کے عادات و خصائل، انداز و اطوار اور ان کے روز و شب کے احوال کی سچی تصویریں جمع ہیں، جو ان کے حوالے سے کام کرنے والے محققین اور طالب علموں کے لیے ہمیشہ معاون رہیں گی۔
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے ان قیمتی اور نادر مکاتیب کی تلاش، ترتیب اور اشاعت کا اہتمام جس ذوق و شوق اور محنت و محبت سے کیا ہے، اس پر علمی دنیا ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔ پاکستان کے علمی و ادبی حلقوں میں محمد طفیل کے نام اور کام سے شاید ہی کوئی واقف ہو، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کا چوں کہ ان کے ساتھ تعلق اور دوستانہ رشتہ کئی دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے، اس لیے وہ ان کی خدمات اور ڈاکٹر محمد حمیداللہ کے ساتھ ان کے قریبی تعلق سے پوری طرح آشنا تھے، اور اسی آشنائی کے باعث وہ اس ذخیرۂ مکاتیب کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، ورنہ یہ گنجینۂ گراں بہا کنجِ خمول میں پڑا رہ جاتا۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے ضمیمے میں اپنے نام محمد طفیل، اور محمد طفیل کے نام ان کے دوست عبدالرحمٰن بزمی کے خطوط شامل کیے ہیں، جو اپنی الگ علمی حیثیت کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر محمد حمیداللہ کے خطوط کی تفہیم میں معاون و مددگار ہیں۔ مکتوب نویسی کی دم توڑتی روایت میں اتنے بہت سارے علمی خطوط کی اشاعت یقیناً معرکے کا کام ہے۔

Share this: