بزرگ شہریوں کے حقوق

Print Friendly, PDF & Email

سندھ اسمبلی میں 2016ء میں منظور کیا گیاسندھ سینئرسٹیزنز ویلفیئر ایکٹ 2014ء ابھی تک نافذ العمل نہ ہوسکا

بزرگ شہری ایک اچھے معاشرے کا مفید حصہ ہوتے ہیں، جو اپنے زمانے کے گرم و سرد حالات گزار کر جن تجربوں سے گزرتے ہیں بعد میں آنے والے ان تجربوں سے بچ سکتے ہیں۔ چنانچہ ان کے مشورے، تجاویز بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں، جس کی روشنی میں اصلاحِ معاشرہ کے لیے کیے جانے والے اقدامات مؤثر اور مفید ہوسکتے ہیں۔ مگر افسوس کہ موجودہ نام نہاد ترقی یافتہ معاشرے میں انہیں وہ اہمیت حاصل نہیں رہی جس کے وہ متقاضی تھے۔ آج ہم اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر ڈالیں تو ایسے بے شمار بزرگ شہری دکھائی دیں گے جو معاشرے کی بے حسی کا شکار ہیں۔ ان میں عام بزرگ شہریوں کے علاوہ اپنے عہد میں اپنے اپنے شعبوں کے معروف ترین لوگ بھی ملیں گے۔ آئے دن اخبارات اور ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں آتی رہتی ہیں کہ نامور ادیب، شاعر، نامور کھلاڑی، نامور فنکار، نامور بیوروکریٹ، نامور سیاست دان تنہائی اور کسمپرسی میں مبتلا ہیں۔ ان دل ہلادینے والی خبروں کے بعد بھی معاشرے کی بے حسی میں کوئی کمی نہیں آتی۔
خوش آئند امر یہ ہے کہ ابھی کچھ صاحبِ دل اصحاب اور ادارے موجود ہیں جو اس ضمن میں اپنے طور پر جدوجہد کررہے ہیں۔ ایدھی اولڈ ایج ہومز، دارالسکون، ہیلپ ایج انٹرنیشنل و دیگر اداروں کی کارکردگی ہمارے سامنے ہے۔ ہیلپ ایج انٹرنیشنل کی جانب سے اربابِ اختیار کو بار بار توجہ دلانے پر سندھ اسمبلی نے 2016ء میں سندھ سینئر سٹیزنز ویلفیئر ایکٹ 2014ء منظور کیا جس کے تحت سینئر سٹیزنز کا مطلب صوبہ سندھ کے مستقل رہائشی بزرگ ہیں جن کی عمر 60 سال یا اس سے زائد ہو۔ ان بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ’’بزرگ شہریوں کی کونسل‘‘ کا قیام بھی اس ایکٹ کا حصہ ہے۔ ایکٹ 5 میں کونسل کے عوامل میں ایسے اقدامات کرنا ہے جو بزرگ شہریوں کی فلاح وبہبود، ان کی بہتری اور معاشرے میں شرکت کے حوالے سے ضروری ہوسکتے ہیں۔ ان امور کے لیے پالیسیاں تشکیل دینا بھی اس کا بنیادی کام ہے۔ کونسل قومی زندگی میں بزرگ شہریوں کی شرکت کو فروغ دے گی اور زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کی مہارتوں، تجربات کو بروئے کار لائے گی۔ بزرگ شہریوں کی فلاح وبہبود کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر غیر سرکاری اداروں اور تنظیموں کے ساتھ رابطہ رکھے گی۔ بزرگ شہریوں کی جسمانی، ذہنی، روحانی، سماجی اور معاشی بہتری کی خاطر ان کے لیے رہائشی عمارتیں اور گھر بنائے گی۔ بزرگ شہریوں کو ضروری خدمات اور فوائد فراہم کرنے کے لیے ’’سینئر سٹیزن کارڈ‘‘ جاری کرے گی۔ علاج معالجے اور صحت کی مفت خدمات کے علاوہ حکومت کے اسپتالوں، ڈسپنسریوں اور طبی مراکز کے متعلقہ میڈیکل افسروں کی تجویز کردہ ادویہ بھی مفت فراہم کرے گی۔ بزرگ شہریوں کے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اپنے ذاتی استعمال اور خدمات کے لیے سازوسامان، ادویہ اور اشیائے ضروریہ کی خریداری پر 25 فیصد رعایت دے گی۔ تخلیقی مراکز، سنیما، تھیٹر، ہوٹلوں، تفریحی مقامات، ریستوران، کھانے کی جگہوں اور رہائشی عمارتوں جیسے مقامات پر رعایت دے گی۔ متعلقہ محکموں اور تنظیموں سے پنشن کی مراعات اور دوسرے واجبات کے حصول کے لیے ریٹائرڈ بزرگ شہریوں کو معاونت فراہم کرے گی۔ بزرگ شہریوں کے انتقال پر مقامی کونسل کی جانب سے تکفین و تدفین کی خدمات فراہم کرے گی۔ ایکٹ کی شق 7 کے تحت حکومت کسی بزرگ شہری کی فلاح وبہبود اور ترقی کی غرض سے کونسل کو کوئی دوسرا کام یا ضروری سرگرمی کرنے کی ذمہ داری سونپ سکتی ہے۔
صوبہ سندھ میں 5 سال گزر جانے کے بعد بھی یہ ایکٹ نافذ نہ ہوسکا۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 2017ء میں بزرگ شہریوں کی آبادی 6.5 فیصد تھی جس میں 2050ء تک 12 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ اربابِ اقتدار کو بار بار توجہ دلانے کے لیے متعدد سینئر سٹیزنز تنظیمیں اس بارے میں آواز اُٹھا رہی ہیں اور میڈیا کی توجہ بھی اس اہم ایشو کی جانب دلاتی چلی آرہی ہیں۔ گزشتہ دنوں سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن اور ہیلپ ایج انٹرنیشنل نے ’’بزرگوں کے حقوق کا تحفظ، آگاہی اور میڈیا کا کردار‘‘ کے موضوع پر ورکشاپ کا اہتمام کیا جس میں شرکاء نے متفقہ طور پر سندھ سینئر سٹیزنز ویلفیئر ایکٹ کے فوری عملی نفاذ کا مطالبہ کیا۔
مذہبی، سماجی، سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کو اس اہم مسئلے پر مل کر بھرپور آواز اٹھانا ہوگی۔

Share this: