عالمی یوم خواتین:’’استحکام خاندان‘‘ریلی

Print Friendly, PDF & Email

جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی نظام میں خاتون کا استحصال ہورہا ہے

حامد ریاض ڈوگر
۔8مارچ… خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ملک کے دیگر شہروں کی طرح لاہور میں بھی ریلیاں نکالی گئیں اس موقع پر پاکستانی معاشرہ کو تقسیم کرنے کی واضح کوشش دیکھنے میں آئی ایک جانب مغربی دنیا کے عطا کردہ ایجنڈے کو مسلط کرنے کی علم بردار خواتین، عورت کی آزادی، کا نعرہ لے کر سڑکوں پر تھیں جب کہ دوسری جانب معاشرے میں حیا اور وفا، عورت کی عزت، وقار، خاندان کے استحکام اور اسلام پر عمل ہی میں اپنی بقا کی متلاشی خواتین بھی اپنے رب کے عطا کردہ حقوق کے حصول کی خاطر میدان عمل میں تھیں تاہم دونوں میں فرق نمایاں تھا۔ ایک جانب تعداد اگرچہ بہت کم تھی مگر ہائو ہو کا ہنگامہ کانوں کے پردے پھاڑ رہا تھا دوسری جانب شرافت اور متانت کا غلبہ تھا، حجاب اور حیا کی حدود میں رہتے ہوئے قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں دلیل سے بات کرنے کا طرز عمل نمایاں تھا۔
پہلے گروہ کے ’’عورت مارچ‘‘ کا آغاز لاہور پریس کلب سے ہوا جو پنجاب اسمبلی پہنچ کر ختم ہوا۔ اس ’’عورت مارچ‘‘ میں مرد بھی پیش پیش رہے۔ پلے کارڈ اٹھائے مظاہرین نے جنسی تشدد کے خاتمے، مساوی حقوق، وراثت میں جائز حق اور قومی وسائل میں حصہ مختص کرنے کا مطالبہ کیا۔اس میں طلبا و طالبات این جی اوز کے علاوہ خواجہ سرا بھی شریک ہوئے تاہم نامور خواتین نظر نہیں آئیں۔ اس موقع پر ٹیبلو پیش اور تقاریر کی گئیں۔ مقررین نے جسمانی خود مختاری، اسقاط حمل،خواتین کے استعمال کی مصنوعات پر ٹیکس میں چھوٹ اور خواجہ سرائوں کو صحت کی سہولیات تک مساوی رسائی کا مطالبہ کیا۔مقررین نے مزید مطالبہ کیا کہ شعبہ صحت کے ہر ادارے میں جنسی ہراسانی پر کمیٹیاں بنائی جائیں، کام آنے والے ہنر اور رضا مندی پر مشتمل تعلیم کو نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ بچوں کو اپنے جسم پر اپنے اختیار کے متعلق سکھایا جا سکے اور زیادتی کے واقعات میں کمی لائی جا سکے۔ شرکاء نے مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے، میرا جسم میری مرضی، پدر شاہی اب نہیں چلے گی، اسلام نے عورت کو حقوق دیئے مرد کب دے گا؟، ماں ہوں، بہن ہوں، گالی نہیں ہوں، تعلیم اور صحت کی فراہمی جیسے نعروں پر مبنی پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ چند خواتین ڈھول بجا کر آزادی کے نعرے لگاتی اور بھنگڑا ڈالتی رہیں، خواجہ سرا ناچ کر حقوق مانگتے نظر آئے۔
دوسری جانب با حجاب و با حیا خواتین نے باوقار انداز میں جماعت اسلامی شعبہ خواتین کے زیر اہتمام ’’استحکام خاندان‘‘ ریلی کا اہتمام کیا جو ناصر باغ سے شروع ہو کر انار کلی بازار چوک میں پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی کی قیادت جماعت اسلامی خواتین کی رہنما انٹرنیشنل ویمن یونین کی صدر، سابق رکن قومی اسمبلی و اسلامی نظریاتی کونسل، قاضی حسین احمد مرحوم کی صاحبزادی ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، ناظمہ ضلع لاہور ڈاکٹر زبیدہ جبین اور دیگرخواتین رہنمائوں نے کی۔ ریلی میں خواتین اور بچیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے قومی و جماعت اسلامی کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔ بینرز اور کتبوں پر استحکام خاندان کے حق میں اور عریانیت کے کلچر کے خلاف نعرے درج تھے۔
ریلی کی شرکاء خواتین سے خطاب کے دوران امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے خواتین کو حق وراثت، حق ملکیت، حق نکاح ، حق تعلیم وملازمت دینے کا حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عورت کی محرومی اور مفلوک الحالی کے خاتمہ کا واحد حل اسلام کے زریں اصولوں پر پاکستانی معاشرہ کی تعمیر ہے۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ پاکستانی معاشرہ میں گنے چنے لوگوں کی جانب سے حقوق خواتین کے نام پر مغربیت کو پھیلانے کے کلچر کی حوصلہ شکنی کرے۔ ملک کی اسلامی نظریاتی اساس کے خلاف سازشیں آزادی کے فوری بعد شروع ہوگئی تھیں جن میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ جماعت اسلامی اور پاکستان کے کروڑوں افراد جن کے آباؤ اجداد نے مملکت اسلامی کے حصول کے لیے جان ومال کی قربانیاں دیں ،نام نہاد مغربی نظریات اوران کی ترویج کو ہرگز قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے ان عوامل پر جو پاکستان کے اسلامی معاشرہ میں عورت کی پسماندگی کا باعث بن رہے ہیں روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عورت کی آزادی کامطلب اسے تعلیم و صحت کی سہولتوں اور روزگار کے مواقع کی فراہمی اور اس کی عزت و ناموس کا تحفظ ہے ناکہ شرم و حیا اور حرمت کا خاتمہ۔ قانون سازی کے باوجود ملک میں ونی،قرآن سے شادی اور کاروکاری جیسی فرسودہ رسوم موجود ہیں۔ جہیز کی لعنت کا خاتمہ نہیں ہوا۔ غریب کی بیٹی جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھر میں بیٹھی بوڑھی ہوجاتی ہے۔ خواتین کو تعلیمی اور کام کرنے والے اداروں میں ہراساں کیا جاتا ہے ۔ بچیوں اور خواتین کی عصمت دری کے لرزاں خیز واقعات ہوتے ہیں اور ظالم تھانوں اور عدالتوں سے بچ نکلتے ہیں۔ ایسے عناصر کو آج تک نشان عبرت نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بچیوں کی تعلیم کے لیے وفاق اور صوبوں میں خصوصی بجٹ مختص کیا جائے۔ خواتین کو اسلامی اصولوں کے مطابق نکاح کا حق دیا جائے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی نظام میں خاتون کا استحصال ہورہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے دین کی ترویج واشاعت کے لیے خواتین کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ظہوراسلام سے لے کر آج تک عظیم مسلمان خواتین نے جن میں امہات المومنین، نبی رحمت ﷺکی صاحبزادیاں اور صحابہؒ کی بیویاں، بیٹیاں ، بہنیں اورمائیں شامل تھیں، ہر میدان میں قربانیاں دیں یہی وجہ ہے کہ دین ہم تک پہنچا۔ انہوں نے قیام پاکستان کے لیے بھی محترمہ فاطمہ جناح اور دیگر خواتین کی عظیم قربانیوں کا ذکر کیا اور پاکستانی خواتین سے اپیل کی کہ وہ ان کے نقش قدم کو اپناتے ہوئے ملک وملت کی ترقی کے کیے کردار ادا کریں۔ امیر جماعت اسلامی نے علما ء سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے دروس اور خطبات جمعہ میں عورت کی عظمت و تقدس پر بات کریں اور مغربی کلچر کے قلع قمع کے لیے کردار ادا کریں۔
امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے اپنے خطاب میں مادر پدر آزادی معاشرے کی اخلاقی اقتدار کو پامال کرنے اور تباہی کے دہانے پر پہنچانے کی سازش ہے جس کو کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ امیر جماعت ضلع لاہور میاں ذکر اللہ مجاہد نے بھی خطاب کیا۔
اب تک جماعت اسلامی کی خواتین عموماً اس میدان میں تنہا مادر پدر آزادی کے دعوے داروں کا مقابلہ کرتی نظر آتی تھیں مگر اب مقام شکر ہے کہ دیگر خواتین تنظیمیں بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کر رہی ہیں۔ چنانچہ امسال یوم خواتین پر تحفظ ناموس رسالت محاذ کے زیر اہتمام بھی پریس کلب تا اسمبلی ہال ’’پیغام شرم و حیا‘‘ مارچ کیا گیا۔ مارچ کی شرکا خواتین نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے پردگی، عریانی اور اخلاقی بے راہ روی کی بھر پور مذمت کی۔ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مسز صاحبزادہ رضائے مصطفی نقشبندی نے کہا کہ مسلم معاشرے سے حیا کو ختم کرنے والی خواتین مسلم معاشرہ کے شفاف چہرے پر سیاہ دھبہ ہیں۔ مسز مفتی منیب قادری نے کہا ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی تعلیمات کا عملی نفاذ کیا جائے۔ مسز نعیم جاوید نوری نے کہا ہر سطح پر خواتین اور بچیوں کے تعلیمی ادارے علیحدہ کئے جائیں۔ مسز مفتی عمران حنفی نے کہا پاکستانی خواتین غیر ملکی قوتوں کی آلہ کار این جی اوز کے ورغلانے اور بہکانے میں نہ آئیں۔ مسز مشتاق فیضی اور مسز محمد علی نقشبندی نے کہا کہ ہمارے ٹی وی چینلز سوشل میڈیا اخبارات و رسائل پاکستانی کلچر کو فروغ دیں۔

Share this: