انسانیت کش جرائم کی عالمی عدالت

Print Friendly, PDF & Email

اسرائیل پر زور نہیں چلتا

بارہ سال کے بحث مباحثے کے بعد انسانیت کُش جرائم کے ذمہ داروں کو سزا دینے والی عالمی عدالت International Criminal Court یا آئی سی سی نے کثرتِ رائے سے فیصلہ دے دیا کہ 1967ء کے بعد قبضہ کیے جانے والے عرب علاقے غزہ، غرب اردن کا مغربی کنارا اور مشرقی بیت المقدس آئی سی سی کے دائرئہ اختیار میں ہیں۔ عدالت ان علاقوں میں انسانی حقوق کی ممکنہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے متولی (Prosecutor)تعینات کرسکتی ہے۔ تاہم فیصلے میں بہت صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ آئی سی سی کو ریاستی حدود کے تعین یا علاقائی تنازعات پر رائے دینے کا اختیار نہیں۔
آئی سی سی ایک عالمی عدالت ہے جس کا کام بین الاقوامی نوعیت کے جرائم، نسل کُشی، انسانیت کے خلاف اقدامات اور جارحیت سے متعلق قضیے نمٹانا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیراہتمام اٹلی کے دارالحکومت روم میں جولائی 1998ء میں ایک سفارتی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں عالمی جرائم کی شفاف تحقیقات کی غرض سے ایک عدالت کے خدوخال پر غور کیا گیا۔ کئی مشاورتی اجلاسوں کے بعد بنیادی اصول پر اتفاق ہوگیا جسے ”ضابطہِ روم“ یاRome Statute کا نام دیا گیا۔ اس اصول کے تحت یکم جولائی 2002ء کو آئی سی سی کا قیام عمل میں آیا۔ تادم تحریر دنیا کے 123 ممالک خود کو اس عدالت کے سامنے جواب دہ سمجھتے ہیں، جبکہ ہندوستان، پاکستان، اسرائیل، چین، امریکہ اور روس سمیت 42 ممالک آئی سی سی کو تسلیم نہیں کرتے۔ دوسری طرف ضابطہ روم کے تحت اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کی قانونی جغرافیائی حدود آئی سی سی کے دائرئہ اختیار میں شامل ہیں۔ یعنی عمل داری یا Jurisdictionآئی سی سی کو تسلیم کرنے سے مشروط نہیں۔ یہ عدالت ہالینڈ کے شہر دی ہیگ (The Hague) میں مقدمات کی سماعت کرتی ہے۔ آئی سی سی کے قاضی القضاۃ کو صدر کہا جاتا ہے، جن کی معاونت کے لیے دو نائب صدور ہیں۔ عدالت کے قاضیوں کی تعداد 12 ہے۔ شکایات کی تفتیش و تحقیق اور فردِجرم کی تیاری کے لیے Chief Prosecutor کی سربراہی میں اعلیٰ پائے کے متولی بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
یہ ادارہ دارفر (سوڈان) قتلِ عام، کانگو میں نسل کُشی، بوسنیا قتلِ عام، برما، افغانستان وغیرہ کے معاملات اٹھا چکا ہے۔ آئی سی سی نے لیبیا کے سابق سربراہ کرنل قذافی اور سوڈان کے سابق صدر عمرالبشیر سمیت چالیس سے زیادہ افراد کے وارنٹ جاری کیے۔ تاہم بڑی قوتوں کی جانب سے انکار کی بنا پر یہ عدالت اب تک غیر موثر ہے۔
۔2009ء میں مقتدرہ فلسطین نے ”اپنے ملک“ پر آئی سی سی کی عمل داری تسلیم کرنے کا اعلان کیا جس کے ساتھ ہی فلسطینی مقتدرہ نے الزام لگایا کہ اسرائیل اس علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے، اور اسرائیلی فوج کی بعض کارروائیاں فلسطینیوں کی نسل کُشی کے مترادف ہیں۔ لیکن متولی کے دفتر نے تحقیقات کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کردی کہ فلسطین ایک آزاد ریاست نہیں، چنانچہ آئی سی سی کے دائرئہ اختیار سے خارج ہے۔ تین سال بعد نومبر 2012ء میں اقوام متحدہ نے ایک قرارداد منظور کرلی جس کے تحت مقتدرہ فلسطین کو اقوام متحدہ میں مبصر کا درجہ دے دیا گیا، جس کے بعد مقتدرہ فلسطین نے ایک بار پھر آئی سی سی کا دروازہ کھٹکھٹایا اور2014ء میں آئی سی سی کی چیف پراسیکیوٹر محترمہ فاتو بن سودہ (Fatou Bensouda) نے رائے دی کہ اقوام متحدہ سے مبصر کا درجہ حاصل ہونے کے بعد ضابطہِ روم کے تحت فلسطینی علاقے بھی آئی سی سی کی عمل داری میں آگئے ہیں۔ اسرائیل نے آئی سی سی کے موقف کو ترنت مسترد کردیا۔ اسرائیلی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ فلسطین خودمختار ریاست نہیں اور نہ اسرائیل آئی سی سی کو تسلیم کرتا ہے۔
گیمبیا کی ساٹھ سالہ فاتو بن سودہ عالمی قانون، خاص طور سے انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کُشی سے متعلق عالمی قوانین کی ماہر ہیں۔ وہ گیمبیا کی وزیر انصاف اور اٹارنی جنرل رہ چکی ہیں۔ محترمہ کو 2004ء میں آئی سی سی کے چیف جسٹس فلپ کرش کی سفارش پر ڈپٹی پراسیکیوٹر نامزد کیا گیا، اور انھوں نے روانڈا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی کامیابی سے تحقیق کرکے کئی ملزمان کے خلاف فردِ جرم مرتب کی۔ جون 2012ء میں بن سودا صاحبہ آئی سی سی کی چیف پراسیکیوٹر مقرر کی گئیں۔ مضبوط اعصاب کی مالک افریقی خاتون نے اسرائیلی حکومت کے موقف کو غیر منطقی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مقبوضہ عرب علاقوں کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرلیا جائے تو علاقے میں انسانی حقوق کی پاس داری اسرائیل کی ذمہ داری ہے، جبکہ ابتدائی شواہد سے پتا چلتا ہے کہ تل ابیب اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ بن سودہ صاحبہ نے اسرائیل کی مخالفت کے باوجود 2015ء کے آغاز میں تحقیقات شروع کردیں۔
اپنی ابتدائی رپورٹ میں بن سودا نے کہا کہ غرب اردن، غزہ اور مشرقی بیت المقدس میں جنگی جرائم کا ارتکاب ہورہا ہے۔ رپورٹ میں اسرائیلی وزارتِ انصاف کا ایک بیان بھی نقل کیا گیا جس میں اسرائیلی حکومت نے کہا تھا کہ ان کے ملک میں جنگی جرائم کے مرتکبین کو قرارِ واقعی سزا دینے کے لیے سخت قوانین موجود ہیں اور اسرائیلی محکمہ انصاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ محترمہ بن سودا نے کہا کہ انھیں اسرائیل کی جانب سے بھیانک جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاری اور انھیں عدالت میں پیش کرنے کی کوئی رپورٹ نہیں ملی۔ چیف پراسیکیوٹر کے مطابق بعض حلقوں نے حماس اور دوسرے مسلح فلسطینی دھڑوں پر بھی جنگی جرائم کا الزام لگایا ہے اور آئی سی سی ان الزامات کی بھی شفاف تحقیقات کرے گی۔
اسرائیلی وزیراعظم ابتدائی رپورٹ پر آپے سے باہر ہوگئے اور انھوں نے آئی سی سی کی جانب سے فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم کی تحقیق کو مشرق وسطیٰ کی ”اکلوتی جمہوریت“ کو بدنام کرنے کی سازش قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ صداقت و انصاف کے لیے ایک سیاہ دن ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے تحقیقات کو یہودکش یا Anti-Semitismقراردیا۔ سابق امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو بھی سخت مشتعل تھے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو ناانصافی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جرمنی نے آئی سی سی کی تحقیقات کی حمایت کی، جبکہ دوسرے یورپی ممالک نے خاموشی اختیار کرلی۔
گزشتہ برس اپریل تک تحقیقات خاصی آگے بڑھیں اور محترمہ بن سودا نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ شواہد کے محتاط تجزیے سے اندازہ ہوتا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم کا ارتکاب ہورہا ہے اور ضابطہ روم کے تحت آئی سی سی کو ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانا چاہیے۔ اب عدالت کے فل بینچ نے مقبوضہ عرب علاقوں پر آئی آی سی کی عمل داری تسلیم کرتے ہوئے بن سودا صاحبہ کو تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔
اس فیصلے کے بعد 3 مارچ کو محترمہ بن سودا نے کہا کہ ان کی ٹیم خوف و طمع کے بغیر فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم اور نسل کُشی کی شفاف اور منصفانہ تحقیقات کررہی ہے جس کے مکمل ہوتے ہی ذمہ داروں پر فردِ جرم عائد کردی جائے گی۔ آئی سی سی پراسیکیوٹر آفس نے حماس کی کچھ سرگرمیوں کو بھی مشکوک قراردیا ہے، جس پر حماس کے ترجمان حمزہ قاسم نے تحقیقات کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر ان کا کوئی ساتھی یا گروہ جنگی جرائم میں ملوث ثابت ہوا تو حماس انھیں گرفتار کرکے آئی سی سی کے حوالےکردے گی۔
دوسری طرف اسرائیل نے ایک بار پھر ان تحقیقات کو یہود دشمن قرار دے کر مسترد کردیا ہے اور ماضی کی طرح امریکہ نے بھی اس معاملے پر اسرائیل کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ کے وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے عالمی عدالت کے فیصلے پر ”افسوس“ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج کے خلاف تحقیقات عالمی عدالت کے دائرئہ اختیار سے باہر ہے۔ فاضل وزیرخارجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ اسرائیل عالمی عدالت کو تسلیم نہیں کرتا لہٰذا تحقیقات اسرائیل کے اندرونی معاملے میں مداخلت کے مترادف ہے۔
۔3 مارچ کو تحقیقات کے بارے میں آئی سی سی کے فیصلے کے ساتھ ہی امریکہ کی نائب صٖدر کملا ہیرس نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو سے فون پر بات کرتے ہوئے اسرائیلی قیادت کو یقین دلایا کہ آئی سی سی کی جانب سے تحقیقات کے معاملے پر امریکہ اسرائیلی موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ محترمہ ہیرس نے کہا کہ فلسطینی علاقے آئی سی سی کی عمل داری سے باہر ہیں اور عالمی عدالت کو ان علاقوں میں ہونے والے واقعات کی تحقیقات کا حق حاصل نہیں۔ ایک نکتہ یہ بھی اٹھایا جارہا ہے کہ علاقے میں اردن کے سوا کوئی بھی ملک آئی سی سی کو تسلیم نہیں کرتا۔ فلسطین کے چار میں سے تین پڑوسی یعنی مصر، شام اور لبنان بھی آئی سی سی کے رکن نہیں۔
اسرائیل کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ وہ انسانی حقوق اور انصاف و قانون کے عالمی اداروں کو تسلیم نہیں کرتا۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی (HRW)، مزدوروں کے حقوق، یکساں اجرت اور محنت کشوں کے خلاف نسلی، مذہبی اور صنفی امتیاز کے سدباب کے لیے کام کرنے والے ادارے ILO، حتیٰ کہ اسرائیل عالمی ادارئہ صحت پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کرچکا ہے، اور اس ہٹ دھرمی کو امریکہ بہادر کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
برسوں کی ناکہ بندی سے غزہ میں غذائی صورت حال سخت تشویش ناک ہوچکی ہے۔ بجلی کی بندش سے گھر اور بلدیات کے نلکوں میں پانی نہیں آرہا۔ شہر میں گندگی کے ڈھیر لگے ہیں اور وبائی امراض پھوٹ پڑنے کا خطرہ ہروقت سر پر منڈلا رہا ہے۔ آئے دن کی اسرائیلی بمباری نے بڑے علاقے کو کھنڈر بنادیا ہے۔ اسپتال اور اسکول تقریباً ختم اور آب نوشی کے ذخائر تباہ ہوچکے ہیں۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کے ذرائع نے متنبہ کیا تھا کہ اگر غزہ کی ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو بھوک اور بیماری سے ایک خوفناک انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ مسلم و عرب ممالک کے اسرائیل سے تعلقات نے جہاں فلسطینیوں کو سفارتی طور پر تنہا کردیا ہے، وہیں عرب ممالک نے اپنے فلسطینی بھائیوں کی اعانت بھی تقریباً ختم کردی ہے۔
گزشتہ سال عرب ممالک نے فلسطین کو صرف 4 کروڑ ڈالر کی مدد فراہم کی، جبکہ 2019ء میں یہ رقم 27 کروڑ ڈالر کے قریب تھی۔ سعودی عرب فلسطینیوں کو ساڑھے 17 کروڑ ڈالر فراہم کرتا تھا لیکن 2020ء میں ریاض نے صرف سوا تین کروڑ ڈالر کا عطیہ دیا۔ مجموعی طور پر عالم اسلام نے 2019ء میں فلسطینیوں کو 53 کروڑ 83 لاکھ ڈالر کی مدد فراہم کی تھی جو گزشتہ سال کم ہوکر 37کروڑ ڈالر رہ گئی، حالانکہ کورونا وائرس کی وجہ سے فلسطینیوں کو اضافی مدد کی ضرورت ہے۔ غزہ میں اب تک کورونا کی جدرین کاری (Vaccination) شروع نہیں ہوسکی۔ گزشتہ دنوں مقتدرہ فلسطین نے غزہ کے لیے 1000 ٹیکے مختص کیے تھے، لیکن تادم تحریر اسرائیلی کابینہ نے اس کی منظوری نہیں دی۔ مقتدرہ فلسطین کے مالی بحران کا یہ حال ہے کہ کئی مہینوں سے سرکاری ملازمین کو تنخواہیں نہیں مل سکیں۔
جب کسی بھی عدالت کے سامنے جواب دہی سے انکار ریاستی پالیسی بن جائے تو کئی دہائی پرانے اس تنازعے اور خونریزی کا اختتام کیوں کر ممکن ہو؟ امریکہ نے آئی سی سی کے فیصلے پر لیبیا اور سوڈان کو دہشت گرد ملک قرار دے کر ان پر بدترین پابندیاں لگادیں، لیکن وہ اسی عدالت کو فلسطین میں جاری انسانی حقوق کی خلاف وزری کی تحقیقات کا مجاز نہیں سمجھتا۔ سیاسی، معاشی، معاشرتی بلکہ بنیادی انسانی حقوق سے محروم لاکھوں فلسطینی دادرسی کے لیے اب کون سا دروازہ کھٹکھٹائیں؟ مغربی دنیا اس بات پر فخر کرتی ہے کہ قانون کی بالادستی ان معاشروں کی پہچان ہے، لیکن ان مہذب لوگوں کو فلسطینیوں کی انصاف سے محرومی پر کوئی تشویش نہیں۔ عدالت تک رسائی انسان کا بنیادی حق ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر سمیت دنیا کے ہر دستور میں عدلیہ تک رسائی کو مسدود و محدود کرنا بدترین جرم ہے، جسے حصولِ انصاف کی راہ میں رکاوٹ یا Obstruction of Justice کہا جاتا ہے۔ امریکہ کے سابق صدور رچرڈ نکسن اور بل کلنٹن کے مواخذوں میں جو فردِ جرم عائد کی گئی تھی اس کا بنیادی نکتہ ہی Obstruction of Justice تھا۔ صدر نکسن کے معاملے میں ثبوت اتنے واضح تھے کہ گلوخلاصی کے لیے وہ مستعفی ہوگئے اور مواخذے کی نوبت نہ آئی۔ صدر ٹرمپ کے خلاف پہلے مواخذے اور 2016ء کے انتخابات میں روسی مداخلت پر وفاقی تحقیقاتی ادارے FBI نے جو رپورٹ جمع کرائی تھی اس میں بھی امریکی صدر کے خلاف انصاف کی راہ میں رکاوٹ کے دس الزامات لگائے گئے۔
آئی سی سی کو فلسطینی علاقوں میں تحقیق سے روکنا انصاف کی راہ میں رکاوٹ کی بدترین شکل ہے جس کا اسرائیل کے ساتھ امریکہ بھی مرتکب ہورہا ہے۔ وزیراعظم بن یامین کی اس ہٹ دھرمی سے اُن فلسطینیوں کی حوصلہ شکنی ہورہی ہے جو طاقت کے جواب میں تشدد کے بجائے تنازعات کو بات چیت اور ثالثی کے ذریعے حل کرنے کے حامی ہیں۔

اب آپ مسعود ابدالی کی پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.com اور ٹویٹر Masood@MasoodAbdaliپربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

گیس استعمال کرنے والوں نے گیس کے کنویں خرید لیے

حب پاور کمپنی (حبکو) نے اطالوی کمپنی ای این آئی (eni)کے پیداواری اثاثے خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ حبکو پاکستان میں بجلی بنانے والا پہلا اور سب سے بڑا نجی ادارہ یا IPPہے۔ حب (بلوچستان) کے علاقے کنڈ اور نارووال (پنجاب) کے کارخانوں میں گیس اور تیل سے چلنے والے پلانٹ (RFO) نصب ہیں۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر کی لاریب انرجی کے 75 فیصد حصص بھی حبکو کی ملکیت ہیں۔ لاریب انرجی منگلا ڈیم کی نہروں میں چھوڑے جانے والے پانی سے بجلی بناتی ہے۔ قابلِ تجدید یا Renewableتوانائی کے اس بندوبست کو Run-off-river Hydel Based Power Production کہا جاتا ہے۔ ادارے کی مجموعی پیداواری صلاحیت 2920 میگا واٹ ہے۔ ایندھن کی فراہمی کے لیے حبکو تھر میں کوئلے کی تلاش و ترقی کا کام بھی کررہی ہے۔ اس مقصد کے لیے تھر انرجی کے نام سے ذیلی ادارہ قائم کیا گیا ہے اور کانوں کے دہانوں پر کوئلے سے چلنے والا کارخانہ لگانے کی تیاری تکمیل کے مراحل میں ہے۔
ای این آئی کی پاکستان آمد 2000ء کے آخر میں ہوئی جب اس نے برطانوی ادارے London and Scottish Marine Oil یا ”لاسمو“ (Lasmo)کو خرید لیا، اور لاسمو پاکستان کے اثاثے ای این آئی کے نام ہوگئے۔ ای این آئی نے ضلع دادو میں بھٹ اور بھدرا کے مقام پر گیس کے نئے میدان دریافت کرنے کے علاوہ آسٹرین کمپنی او ایم وی (OMV)، بی ایچ پی (BHP) اور دوسرے ملکی اور غیرملکی اداروں سے مشارکے کے ذریعے اپنے اثاثوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔ کادنواری، ساون اور زمزمہ گیس میدان ان مشارکوں کی چند مثالیں ہیں۔
گزشتہ برس ای این آئی کی گیس پیداوار کا تخمینہ 37 ارب مکعب فٹ (bcf)تھا۔ گیس کے ساتھ اکثر کنووں سے تیل کی بھی کچھ مقدار حاصل کی جاتی ہے۔ تیل اور گیس کی مجموعی پیدوار (Hydrocarbon) کا سالانہ حجم 70 لاکھ بیرل (boe)تھا۔ بحیرہ عرب میں کیکڑا کنویں کی کھدائی سے ای این آئی کو سارے ملک میں زبردست شہرت حاصل ہوئی۔ ای این آئی قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں بھی سرگرم ہے اور بھٹ کے مقام پر شمسی توانائی کا ایک جدید ترین مرکز زیرتعمیر ہے۔ خیال ہے کہ Photovoltaicکے اصول پر یہاں سے فضا کو آلودہ کیے بغیر 20 میگاواٹ برقی توانائی حاصل ہوگی۔
حبکو کی جانب سے سودے کی جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں اس کے مطابق ای این ائی کے پیداواری اثاثے اور تلاش و ترقی کے وسائل یعنی Upstream Operarations خریدے جائیں گے۔ صنعت سے غیروابستہ احباب کی وضاحت کے لیے عرض ہے کہ تیل اور گیس کو زمین کی گہرائیوں سے سطح تک لانے کی سرگرمیوں کو Upstreamکہا جاتا ہے۔ جبکہ خام تیل کی صفائی اور تقسیم کو Downstreamکا نام دیا گیا ہے۔ بھٹ شمسی توانائی مرکز سمیت قابلِ تجدید توانائی کے وسائل اور تنصیبات بھی مجوزہ معاہدے کا حصہ ہیں۔سودے کی سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ ای این آئی کے مقامی ملازمین نئی کمپنی میں برابر کے شریک ہوں گے۔ کارکنوں نے اپنی تنخواہوں اور مراعات کے عوض ای این آئی کے حصص حاصل کیے ہیں۔ کچھ محنت کشوں نے تنخواہوں اور بعد ازملازمت مراعات کی قربانی کے ساتھ ملکیت حاصل کرنے کے لیے نقد رقوم بھی دی ہیں۔ اب نئے ادارے میں حبکو کی ملکیت 50 فیصد ہوگی جبکہ بقیہ نصف کے مالک ملازمین ہوں گے۔
کمپنی کے اعلامیے میں سودے کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں، لیکن کہا جارہا ہے کہ نئی کمپنی پر واجب الادا قرض اور دوسری مالیاتی ذمہ داریاں حبکو اپنے سر لے گی۔ اس اعتبار سے یہ ای این آئی کے کارکنوں کے لیے ایک پُرکشش بندوبست ہے۔
خریداری سے جہاں حبکو کو اپنے بجلی کے کارخانے کے لیے گیس میسر آجائے گی وہیں بھٹ شمسی توانائی کے تجربے اور تنصیبات سے قابلِ تجدید ایندھن کا کام تیز ہوگا۔ ای این آئی کے ملک سے جانے کی بنا پر کارکنوں کے روزگار خطرے میں تھے۔ اس سودے کے نتیجے میں نوکریاں محفوظ ہوجائیں گی۔
تاہم حبکو کے سر پر لٹکتی ایک مہلک تلوار سوئی سدرن اور ای این آئی کے درمیان گیس فروخت کا معاہدہ (GSA)ہے جس کے تحت ای این آئی اپنی گیس سوئی سدرن کو فروخت کرنے کی پابند ہے۔ کیا تیل اور گیس کی مقتدرہ (OGRA) حبکو کو گیس کی کچھ یا ساری مقدار خود استعمال کرنے کی اجازت دے گی؟

Share this: