خوفِ خدا

Print Friendly, PDF & Email

حضرت ربعی ابن خراش رحمتہ اللہ علیہ ایک جلیل القدر تابعی ہیں۔ انہوں نے ساری زندگی کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ جب تک مجھے آخرت میں اپنا مقام معلوم نہ ہوجائے میں ہرگز نہیں ہنسوں گا۔ چنانچہ ساری زندگی نہیں ہنسے۔ وفات کے وقت ان کو ہنستے ہوئے دیکھا گیا۔ اسی طرح ان کے بھائی ربیع ابن خراشؒ نے بھی قسم کھائی کہ جب تک مجھے معلوم نہ ہوجائے کہ میں جنتی ہوں یا دوزخی اُس وقت تک نہیں ہنسوں گا۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کو غسل دینے والے کا بیان ہے کہ جب تک ہم ان کو غسل دیتے رہے وہ برابر ہنستے رہے۔ ان دونوں حضرات کے بھائی مسعود ہیں جنہوں نے اپنی وفات کے بعد کلام کیا تھا۔ گویا سارا کنبہ نور علیٰ نور تھا۔
(مفتی محمد تقی عثمانی۔ تراشے)

ایک بادشاہ کی نصیحت

شام کے بادشاہ سیف الدین ابوبکر عادل ایوبی (1196ء۔ 1218ء) نے اپنے ایک عامل کو لکھا:۔
’’جب دینے لگو تو زیادہ کو کم سمجھو، اور لیتے وقت کم کو زیادہ خیال کرو۔ سخی کی راحت دینے میں ہے، اور بخیل کی لینے میں۔ حریص کو امین نہ بنائو اور جھوٹے سے مشورہ نہ کرو، کیونکہ دیانت حرص کے ساتھ اور خلوص کذب کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتے‘‘۔
(ماہنامہ چشم بیدار، اکتوبر 2018ء)

جہالت کا اندھیرا

ایک دفعہ چند آدمی ہندوستان سے ایک ہاتھی کسی دوسرے ملک میں لے گئے، اس علاقے کے لوگوں نے ہاتھی نہیں دیکھا ہوا تھا۔ ان آدمیوں نے ہاتھی کو ایک تاریک کمرے میں باندھ دیا۔ لوگوں کو جب ہاتھی کے متعلق پتا چلا تو وہ جوق درجوق اس مکان کی طرف جانے لگے۔ تاریک کمرہ اور ہاتھی بھی سیاہ فام۔ دیکھنے والوں کا ہجوم تھا لیکن ہاتھی دیکھنے کا شوق اندھیرے پر غالب آیا۔ جب آنکھوں سے کچھ نہ دکھائی دیا تو ہاتھوں سے ٹٹول کر قیاس کرنے لگے۔ جس شخص کے ہاتھ میں ہاتھی کا کان تھا اُس نے کہا یہ تو ایک بڑا سا پنکھا معلوم ہوتا ہے، اور جس شخص کا ہاتھ اس کی پشت پر تھا اُس نے کہاکہ یہ تو مثل تخت ہے، اور جس شخص کا ہاتھ اس کے پائوں اور ٹانگوں کو لگا اُس نے ٹٹول کر کہا نہیں آپ لوگ غلط کہتے ہیں یہ تو مثل ستون ہے، اور جس کا ہاتھ اس کی سونڈ پر پڑا اُس نے کہا تم سب لوگ غلط کہتے ہو یارو! یہ حیوان تو نلوے جیسا ہے۔
غرض ہر شخص کا دعویٰ تھا کہ ہاتھی ویسا ہی ہے جیسا اس نے ٹٹول کر جانا بوجھا ہے۔ ہر ایک کی ٹٹول الگ تھی۔ کسی نے کہا ’’الف‘‘ اور کسی نے ’’ب‘‘ کہا۔ مگر ہاتھی کی ابجد سے کوئی بھی واقف نہ تھا۔ ہاں اگر ان کے ہاتھوں میں اندھیرا دور کرنے والی شمع روشن ہوتی تو یہ سارے اختلافات ختم ہوجاتے اور انہیں پتا چل جاتا کہ ہاتھی کی شکل و شباہت کیسی ہے۔
درسِ حیات: ان ظاہری آنکھوں کی بینائی بھی تیرے ہاتھ کی طرح ہے، تُو اس کے ذریعے پورے ہاتھی کی شناخت نہیں کررہا۔ اپنی آنکھوں سے جہالت کا اندھیرا دور کر۔

عشقِ رسولؐ کی شمع جلا لو دل میں
بعد مرنے کے بھی لحد میں اُجالا ہو گا

(مولانا جلال الدین رومیؒ۔ حکایات ِرومیؒ)

صحبت

٭بروں کی ہم نشینی سے تنہائی بدرجہا بہتر ہے۔ (حضرت ابوبکر صدیقؓ)۔
٭بدکاروں کی صحبت سے بچا رہ، کہ برائی برائی سے جلد مل جاتی ہے۔ (حضرت علی مرتضیٰؓ)۔
٭تیری غفلت کی علامت اہلِ غفلت کے پاس بیٹھنا ہی ہے۔ (حضرت غوث الاعظمؒ)۔

زبان زد اشعار

اندھیری شب ہے سفر کا ارادہ رکھتے ہیں
یہ اور بات کہ منزل نہ جادہ رکھتے ہیں
(انوار فیروز)
……٭٭٭……
اُڑنے کو پَر نہ تول کہ باہر ہوا ہے تیز
کھڑکی کے پٹ نہ کھول کہ باہر ہوا ہے تیز
(پرکاش فکری)
……٭٭٭……
اک ذرا خم ہو کہ میں پیشِ ستم گر بچ گیا
میری پگڑی گر گئی لیکن مرا سر بچ گیا
(عرفان صدیقی)
……٭٭٭……
اندھیری رات ہے سایہ تو ہو نہیں سکتا
یہ کون ہے جو مرے ساتھ ساتھ چلتا ہے
(انجم خیالیؔ)
……٭٭٭……
اپنی مٹی پہ ہی چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگِ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جائو گے
(اقبال عظیم)

Share this: