پاک بھارت اور مسئلہ کشمیر مذاکرات کی بحالی

Print Friendly, PDF & Email

قرض اور کمزور معیشت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، یہی کمزوری ہمیں اقوام عالم کے نقشے پر ایک ترقی یافتہ ملک اور قوم کی صف میں کھڑا نہیں ہونے دے رہی، اسی کے باعث دنیا ہم سے وہ بات بھی منوا رہی ہے جسے ہمارا دل اور دماغ قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل، مسلم دنیا سے ترجیحی تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی نکتہ ہیں، اس کے بغیر ہماری خارجہ پالیسی کا کوئی وجود ہی نہیں، مگر ہماری کمزور معیشت اس راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ گزشتہ ہفتے تین اہم ترین واقعات ہوئے ہیں جن پر سیر حاصل گفتگو ہونی چاہیے، ان میں براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ، سیکورٹی ڈائیلاگ، اور پاک بھارت مذاکرات میں پیش رفت شامل ہیں۔ تاہم تیسرا موضوع نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا، ایک سال سے اس پر کام ہورہا تھا، قطرہ قطرہ پانی گراکر اب پتھر توڑا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی درپردہ کوششوں اور امریکی صدر جوبائیڈن انتظامیہ کے دبائو کے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سمیت تمام باہمی تنازعات کے حل کے لیے دو طرفہ مذاکرات شروع ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ تنازع جموں و کشمیر کا حتمی حل بھی تلاش کیا جائے گا، اس کے علاوہ تجارت کی بحالی اور دونوں ملکوں میں سفیروں کی دوبارہ تقرری بھی ہوسکتی ہے، کنٹرول لائن پر جنگ بندی کا اقدام بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ 2003ء میں پرویزمشرف دور میں اس پر اتفاق ہوا تھا۔ باہمی مذاکرات کے لیے جس ایجنڈے پر گفتگو ہونے جارہی ہے یہ ایجنڈا بھی نوازشریف کے دوسرے دور میں دونوں ملکوں کے سیکرٹری خارجہ سطح کے مذاکرات کے دوران ہی طے ہوا تھا، اب پرویزمشرف فارمولے کو نئی حکمت عملی کے غلاف میں آگے بڑھایا جائے گا۔ پاکستان بلاشبہ نہایت حساس قسم کے معاملات میں لپٹی ہوئی خارجہ پالیسی لے کر چلنے والا ملک ہے۔ ہمیں ایک جانب بھارت، دوسری جانب افغانستان جیسے ملک سے گرم ہوا آتی ہے اور اس خطے میں امریکہ کے مفادات کے جھکڑ بھی سہنے پڑتے ہیں۔ ہمارے لیے مسلم دنیا سے اچھے تعلقات کے لیے ایران اور افغانستان سے بگاڑ بھی ممکن نہیں۔ حالیہ پیش رفت سے کچھ امکان پیدا ہوا ہے کہ نئی دہلی اور اسلام آباد ہائی کمشنرز کی بحالی پر متفق ہوجائیں۔ یہ عمل اگست 2019ء سے معطل چلا آرہا ہے۔ اقوام عالم کی خواہش پر باہمی تجارت سمیت مرحلہ وار بات چیت ہوگی۔ اسلام آباد میں نیشنل ڈائیلاگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جو کہا تھا کہ بھارت کو مسئلہ کشمیر حل کرنا ہوگا، نیز پاک بھارت کشیدگی کی بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے اور وقت آگیا ہے کہ ماضی کو دفن کرکے مستقبل کی طرف بڑھیں، اسے بھی اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا جارہا ہے۔ آبی تنازعات بھی پاک بھارت تعلقات میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں، مگر دونوں ملکوں کے سندھ طاس کمشنروں کے مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔ یہ عمل تین سال سے معطل تھا۔ اب یہاں اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کو یہاں تک لانے کے لیے آئی ایم ایف کے ذریعے ہمارا بازو کیسے مروڑا گیا؟ وفاقی کابینہ نے آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق دو نئے صدارتی فرامین کے مسودے منظور کیے ہیں، ان کے نفاذ کے بعد عوام پر 290 ارب روپے کے ٹیکسوں کا مزید بوجھ پڑے گا اور مہنگائی میں یقینی طور پر مزید تیزی آئے گی۔ وفاقی کابینہ کا منظور کردہ ایک آرڈیننس ٹیکس قوانین میں ترمیم سے متعلق ہے۔ مجموعی طور پر 140ارب روپے کی انکم ٹیکس چھوٹ ختم کی جارہی ہے۔ دوسرا آرڈیننس بجلی کے صارفین پر سرچارج لگانے کے لیے لایا جارہا ہے، جس سے 150ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ دونوں آرڈیننس کابینہ کے اجلاس کے بجائے گشتی مراسلت کے طریقے سے منظور کرائے گئے ہیں، جبکہ پارلیمنٹ میں قانون سازی تو اس پورے دور میں برائے نام ہی ہوئی ہے۔ پارلیمنٹ کو بائی پاس کرکے صدارتی آرڈیننس IMF کی مرضی کے منی بجٹ کے مترادف ہے۔ اس صدارتی آرڈیننس کی آڑ میں بجلی کے نرخ بڑھانے کے لیے نیپرا کو وزیراعظم اور ان کی کابینہ کی پیشگی اجازت لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی، اور اب نیپرا آزاد ہے، وہ جب چاہے گا بجلی کی قیمت میں اضافہ کرسکے گا۔ وفاقی کابینہ کے فیصلوں کے مطابق بجلی کی فی یونٹ قیمت میں تقریباً چھے روپے کا اضافہ ہوگا، جس سے صارفین پر ڈیڑھ سو ارب روپے کا مزید بوجھ پڑے گا۔ تازہ خبر یہ ہے کہ گیس کمپنیوں کے مطالبے پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے گیس کی قیمت دگنی کرنے کی سفارش کردی ہے، جس سے گیس صارفین پر ایک کھرب پانچ ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ بجٹ ابھی آیا نہیں مگر مہنگائی کا تازیانہ عوام کی کمر پر برسا دیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے بھی شرح سود سات فی صد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے اقدامات کے نفاذ سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قومی معیشت میں بہتری کے حکومتی دعووں کے باوجود روز افزوں مہنگائی اور بے روزگاری نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کررکھی ہے۔ وزیراعظم اور ان کے معاشی ماہرین ایک مدت تک لوگوں کو یقین دلاتے رہے کہ حکومت نے مہنگائی کا نوٹس لے لیا ہے، لیکن گندم اور چینی کے اسکینڈل سامنے آنے اور تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں ان کے اسباب اور ذمہ داروں کی نشان دہی کردیے جانے کے بعد بھی ان اشیاء کے نرخوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے لیے تو سب کچھ ہورہا ہے لیکن عوام کے لیے کچھ نہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت معیشت، خارجہ امور اور ملک کے دیگر اہم شعبوں میں بھی کہیں نظر نہیں آئی۔ جس طرح کی سیاسی صورت حال ملک میں رہتی ہے اور ہے، اسے ذہن میں رکھا جائے تو ہر حکومت کے آخری دو سال اپوزیشن کے روایتی سیاسی ہنگاموں کی نذر ہوجاتے ہیں، اور یہ کام ملک میں شروع ہوچکا ہے۔ یہاں اگر ایک لمحے کے لیے رک کر جائزہ لیا جائے کہ حکومت نے اب تک کیا کھویا اور کیا پایا ہے، یہی سوال اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم اور اس اتحاد سے باہر حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کے سامنے رکھ دیا جائے تو تجزیہ کرنے میں آسانی رہے گی۔ بات یہاں سے شروع کرلیتے ہیں کہ اس نظام کی خالق مشینری حکومت سے متعلق کیا سوچ رہی ہے؟ خبر یہ ہے کہ سب کچھ اچھا نہیں ہے، بے چینی بھی ہے اور قدرے کچھ امور پر ناراضی اور فاصلے بھی ہیں، مگر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ وزیراعظم عمران خان سے یہ بات کہی جارہی ہے کہ وہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں، آصف علی زرداری حکومت اور اپوزیشن کے مابین پُل بننے کو تیار ہیں۔ یہ صورتِ حال حکومت کو تسلیم کرنا پڑے گی، دوسری صورت میں حکومت کو سخت حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ تحریک انصاف کو جب اقتدار دیا گیا تو سوچ یہی تھی کہ معیشت، امور خارجہ، دفاعی شعبہ اور اطلاعات سب مل کر یکسوئی کے ساتھ کام کریں گے، مگر حکومت ہاتھ بٹانے میں ناکام رہی۔ بھارت، افغانستان، ایران، چین، اور امریکہ سمیت خارجہ امور کے تمام معاملات براہِ راست انہیں حل کرنا پڑرہے ہیں، انہیں بھی کچھ مشکلات ہیں اسی لیے تو حکومت سے کہا گیا کہ وہ اپوزیشن سے ہاتھ ملائے، مگر وزیراعظم اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں، وزیراعظم کا مؤقف ہے کہ اپوزیشن پہلے روز سے ہی نہیں چلنے نہیں دے رہی، لہٰذا فیصلہ کرلیا کہ تحریک انصاف کی لیڈرشپ کی حکمت عملی یہ رہے گی کہ اپوزیشن کے خلاف کرپٹ اور چور کی گردان کرتی رہے، تاکہ وہ سخت اور ناقابلِ قبول بیانیہ اختیار کرنے پر مجبور رہے اور حکومت اس کا فائدہ اٹھاتی رہے۔ اب جہاں تک پی ڈی ایم کا تعلق ہے، اس میں پیپلزپارٹی کے پاس سندھ کی حکومت ہے، لہٰذا وہ کوئی ایسا کام نہیں کرے گی جس سے سندھ حکومت کی گردن پر پائوں آئے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) شدید ردعمل اس لیے دکھا رہی ہے کہ اسے حکومت سے نکالنے کے بعد احتساب کے نظام کے سامنے پھینک دیا گیا ہے، مسلم لیگ(ن) پنجاب بھی ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہے، نوازشریف کو بھی بچانا چاہتی ہے اور جارحیت کرتے ہوئے آنکھیں بھی دکھا رہی ہے، اُس کی ساری توجہ اس پر ہے کہ وہ پنجاب کی سیاسی قوت بنی رہے۔ پی ڈی ایم کی تیسری جماعت جے یو آئی ہے، یہ پی ڈی ایم میں ہوتے ہوئے بھی تنہا ہے، اسے رنج ہے کہ اسلام آباد کا دھرنا جس وعدے پر ختم کرایا گیا اس پر عمل نہیں ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کی ہر ممکن کوشش ہے کہ اسے فیصلہ کن کردار مل جائے۔ یہ ہدف پانے کے لیے اسے یہ طے کرنا ہوگا کہ نوازشریف کا رویہ کیا ہوگا؟ معاملہ اسی پر رکا ہوا ہے۔ امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج کے اعتبار سے پی ڈی ایم اور خصوصاً مسلم لیگ(ن) کسی حد تک مطمئن تھی کہ نئی امریکی انتظامیہ مداخلت کرے گی اور اس کا رویہ وزیراعظم عمران خان کے لیے صدر ٹرمپ جیسا نہیں ہوگا، لیکن چونکہ معاملہ افغانستان میں امن سے جڑا ہوا ہے، لہٰذا نئی امریکی انتظامیہ اپنی خواہش کے باوجود پی ڈی ایم کے لیے ماحول سازگار نہیں بناسکی، یہ بات پی ڈی ایم کے لیے کسی حد تک مایوسی کا باعث بھی بن رہی ہے۔ پیپلز پارٹی میں حال ہی میں ایک بحرانی کیفیت آئی تھی کہ بلاول بھٹو لانگ مارچ، پارلیمنٹ سے استعفوں سمیت کئی امور پر مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز کے بہت قریب چلے گئے تھے، مگر آصف علی زرداری اور پارٹی کی معتدل مزاج لیڈرشپ نے انہیں اب پیچھے کردیا ہے، اور پی ڈی ایم کے لیے فیصلوں کا اختیار اب آصف علی زرداری نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔
nn

Share this: