کا علمی کام (Severus Sebokht) ساویرا سابوخت

Print Friendly, PDF & Email

سائنس۔۔۔ اسلام سے پہلے قدیم سُریانی سائنس۔۔۔ آخری حصہ

میں نہیں مانتا خدا کہیں ہے! مرا جسم میرا ہے۔ مری سوچ میری ہے۔ مرا ارادہ میری مرضی ہے۔ میںجو چاہوں کروں، میں آزاد ہوں۔ نہ مجھ سے کوئی سوال کرسکتا ہے! میں کسی کو کیوں جواب دوں؟ یہ میری زندگی ہے۔ میں کسی کا خیال کیوں کروں؟ کوئی جزا نہیں !کوئی سزا نہیں! کوئی انجام کوئی ابتدا نہیں! سب یوں ہی حادثاتی ہے۔ میں کیوں کسی کا لحاظ کروں؟ کیوں کسی کا کوئی پاس کروں؟ جب کسی بات کا کوئی صلہ نہیں، پھرکیوں کسی نیکی کی تگ و دو کروں؟ یہ ماں باپ کا احترام کیا ہے؟ بہن بھائیوں سے محبت کیسی؟ شادی کا جھنجھٹ کیوں؟ بال بچے کیوں؟ کسی خاندان کی کوئی ضرورت کیوں؟ معاشرہ، تمدن، تہذیب سب دیو مالائی ڈھکوسلے ہیں۔ میں اک جانور ہوں جیسے سب جانور ہیں! سب ازخود چل رہا ہے۔ کوئی اخلاقیات نہیں ہیں! یہ سب بے کار باتیں ہیں۔ سب طاقت کا کھیل ہے! زیادہ سے زیادہ قوت حاصل کرو، اور دوسروں پرحکم چلاؤ! انسانی حقوق وقوق کچھ نہیں! جمہوریت، آمریت، اشتراکیت، لبرل ازم، اور یہ سارے نظریات سب بکواس ہیں، بس اصل چیز طاقت ہے۔ اپنی قوم، اپنے گروہ کے گرد دائرہ کھینچو، اپنی بقاء اور تحفظ کی خاطر انتظامی اخلاقیات پرچلو، اور باقی سب کے وسائل اور توانائیاں چھین لو، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ساری کائنات میں سناٹا چھایا ہے، مریخ تک دیکھ لیا، کہیں کوئی خدا نہیں ہے! کہیں کوئی معنی نہیں! سب الل ٹپ ہے۔
یہ ہے مغرب کا فلسفہ زندگی۔ ڈیکارٹ سے اسٹیفن ہاکنگ تک، یہی مغرب کا تصورِ خدا ہے۔ پانچ صدیوں سے یہی’’انکارِ خدا‘‘ فرد سے خاندان، خاندان سے معاشرہ، اور معاشرہ سے تہذیب، اور انسانی دنیا کی بتدریج تباہی و بربادی سامنے لارہا ہے۔ یہی فلسفۂ زندگی، یہی تصورِ خدا جزائر انڈمان سے جزائر کیریبین تک، کالی کٹ ہندوستان سے بنگال کے انسانی بحران تک، جرمن کونسنٹریشن کیمپ سے ہیروشیما کی تباہی تک، سرد جنگ کی سردمہری سے افغانستان پرچڑھائی تک، نائن الیون سے گوانتاناموبے تک، عافیہ صدیقی سے آمنہ جنجوعہ تک، موسم کی تباہی سے جنگلی حیات کی معدومیت تک، ایڈز سے کورونا وبا تک، اور سلیکون ویلی سے مصنوعی ذہانت (artificial intelligence)کے غرے تک، یہی فلسفہ زندگی، یہی تصورِ خدا ہرہر بداعمالی کی جڑ ہے۔ نٹشے نے درست کہا تھا کہ ’’(عیسائیت کا) خدا مرچکا ہے، کیونکہ ہم نے اسے مار دیا ہے‘‘۔ جب سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں چرچ کی مطلق العنانیت کمزور پڑی، لوگوں نے چرچ کی اندھی تقلید چھوڑ کرسائنس کی اندھی پیروی شروع کردی تھی، اور مذہب کی ’’مذمت‘‘ کے لیے وائی کنگز اور مسیحیت کا فاترالعقل تصورِ خدا ساتھ کرلیا تھا، یہی ہر مذہب کے خلاف مغرب کا ہتھیار ہے۔
دنیائے جدید کے سب سے بڑے سائنسی پیشوا اسٹیفن ہاکنگ، جنہیں مذہب اور الٰہیات کی الف ب کا علم نہیں، اُن سے جب سوال ہوا کہ خدا کہیں ہے؟ سیدھا جواب دینے کے بجائے اُلٹا، ٹیڑھا سوال رکھ دیاکہ ’’سوال ہے کہ کائنات جس طرح خلق ہوئی، کیا وہ خدا کی تخلیق تھی یا دیگرکوئی اسباب تھے؟ ہم نہیں سمجھ سکتے! یا پھر یہ سائنس کا کوئی قانون تھا؟ مجھے دوسری بات پر یقین ہے۔ اگرآپ پسند کریں، سائنس کے قوانین کو ’’خدا‘‘ کہہ لیں، مگر یہ ذاتی نوعیت کا خدا نہ ہوگا کہ جس سے ہم مل سکیں یا کوئی سوال ہی کرسکیں‘‘۔ گویا سائنس کو ’’خدا‘‘ مان لینے پر انھیں کوئی اعتراض نہیں، ایسی صورت میں انہیں فطری قوانین میں ’’لگا بندھا‘‘ خدا بھی قبول ہے۔ مگرانبیاء اور رسولوں کا خدا، قرآن حکیم کا قادرِ مطلق انہیں قبول نہیں۔ کیونکہ اس خدا سے ان کا کوئی تعارف ہی نہیں۔ اس باب میں کوئی مطالعہ، کوئی تحقیق، کوئی علم ہی نہیں۔
یہی ہے وہ فکری فساد، جس کے شجرِ خبیثہ کے برگ و بار نئے سنگین سوالوں کی صورت سامنے آرہے ہیں۔ وہ زمین جہاں خدا کا انکار ہے، کیا وہاں انسان رہنے کے لائق رہ گیا ہے؟ نہیں! اسٹیفن ہاکنگ نے اعتراف کیا ہے کہ انسان زمینی نظام سے ہم آہنگ نہیں رہا ہے، زمین اُس کے لیے تنگ ہوچکی ہے، اور اب وہ مریخ پرنوآبادیاتی نظام کی تیاری کررہا ہے۔ وہاں دنیا کی اشرافیہ کی ناجائز آبادکاری کی جائے گی، اور تیسری دنیا کی مخلوق کو زمین پر مرنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا جائے گا۔ وہ دنیا جسے انسان کے لیے ہم آہنگ بنایا گیا، اُس کے چلنے پھرنے کے لیے زمین ہموار کردی گئی، سبزہ اگایا گیا، پہاڑ جمادیے گئے کہ کہیں زمین ڈگمگا ہی نہ جائے، اور اُن میں برکتیں رکھ دی گئیں، چشمے رواں کیے گئے، بادل اٹھادیے گئے، بارش برسا دی گئی، سارا سامانِ زیست مہیا کردیا گیا، مگر انسان ان نعمتوں سے ہم آہنگ نہ ہوسکا، خدائی سے ہم آہنگ نہ ہوسکا، دنیائے جدید کا یہ نامراد انسان کائنات میں اورکہاں پناہ پائے گا؟ وہ کائنات جو اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ خدائی سے ہم آہنگ ہے۔
آج انسانی دنیا میں خدا کہیں ہے؟ ہرطرف انکار ہے، فساد ہے، جسمانی امراض ہیں، ذہنی امراض ہیں، جنسی امراض ہیں، روحانی امراض ہیں، ہرطرف غلامی ہے، ہر جانب سوال ہیں۔ کہیں کوئی جواب نہیں۔ آدمی کی اپنی زندگی اپنی نہیں۔ کسی عمل کی کوئی اہمیت نہیں، کوئی معنی نہیں۔ ہر طرف حادثے ہیں، خودکشی ہے۔ کہیں محبت، کہیں سکون نہیں۔کہیں نفس مطمئن نہیں، کہیں اطمینان نہیں۔ کہیں کوئی جنسی تمیز نہیں۔ کوئی فطری امتیاز نہیں، کوئی فطری شناخت نہیں۔ ساری کائنات میں سوائے زمین کے کہیں کوئی فتنہ، کوئی فساد نہیں۔
لا الٰہ الااللہ… نہیں! نہیں کوئی الٰہ، سوائے اللہ رب العزت۔ اُسی خدا کی قسم! سوائے اُس کے کہیں کوئی معنی نہیں، کہیں کوئی زندگی نہیں۔ کوئی زمین، کوئی آسمان، کوئی زمان ومکاں نہیں۔ کوئی جسم، کوئی مادہ نہیں۔ کوئی مرضی، کوئی خیال نہیں۔ کوئی حکمت، کوئی کمال نہیں۔ کوئی سوال سوال نہیں، کوئی جواب جواب نہیں۔ کچھ حادثاتی نہیں، کچھ اتفاقی نہیں۔ کسی انسان کی کوئی ہستی نہیں۔ کسی کا کوئی زور نہیں۔ کوئی خلاق نہیں۔ کسی کا کوئی اقتدار نہیں۔ سارے عالم میں سوائے اللہ رب العزت کے، کسی کا کوئی اختیارنہیں۔ کہیں کچھ بے معنی نہیں، کہیں کچھ الل ٹپ نہیں۔ سارا عالم آیاتِ الٰہی کا نغمۂ توحید ہے۔
مری زندگی، مری دنیا، مری زمین، مری کائنات سب خدا سے ہے۔ مرا جسم مرے خالق کا ہے۔ مری روح مرے خدا کی ہے۔ مری مرضی مرے خدا کی مرضی ہے۔ جو خدا چاہے وہی مری چاہت ہے۔ میں خدا کا بندہ وغلام ہوں۔ سب کچھ اُس نے دیا ہے، وہ سب کا سوال کرسکتا ہے۔ مرا کچھ نہیں ہے، مجھے ہر بات کا جواب دینا ہے۔ جزا بھی ہے سزا بھی ہے۔ پیدائش ہے، موت بھی ہے۔ رشتوں کی پہچان ہے۔ ماں کی ممتا ہے، باپ کی شفقت ہے، خاندان کی برکتیں ہیں، معاشرہ بندی کی نعمتیں ہیں۔ ہم سب انسان ہیں، جنہیں بہترین ساخت پر پیدا کیا گیا۔ ہم میں سب سے بہتر وہ ہیں جن کے اخلاق سب سے بہتر ہیں۔ ہم میں کا کمزور طاقت ور، اور طاقت ور کمزور ہے۔ ہمارے حقوق ہمارے فرائض ہیں۔ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم، کسی گروہ نہیں، بلکہ سارے انسانوں، تمام عالم کے لیے رحمت ہی رحمت ہیں۔
یہ ہے اسلام کا فلسفۂ زندگی۔ یہ ہمارا تصورِ خدا ہے۔ آدم علیہ السلام سے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تک، فتح مکہ سے فتح بیت المقدس تک، قرآن حکیم سے حدیث وروایت تک، امام غزالیؒ سے ابن تیمیہؒ تک، دارالحکمت سے جامعہ قروین تک، ابن سینا سے عمر خیام تک، ابن شاطر دمشقی سے مؤید العرضی تک، بخارا سے تاشقند تک، معاشرہ سازی سے تہذیب و تمدن تک، عثمانی فتوحات سے مغلیہ سلطنت تک، سراج الدولہ سے حیدر علی اور ٹیپو سلطان تک، افغان جہاد سے عراقی دار و رسن تک… ہرہرفتح، ہرہر درگزر، ہرہر انصاف، ہرہرعمل کی جڑ یہی فلسفۂ زندگی، یہی تصورِ خدا ہے۔
جہاں خدا ہے وہیں زندگی ہے، وہیں معنی ہیں، وہیں تہذیب ہے، وہیں امن ہے، وہیں فلاح ہے، وہیں نفس مطمئن ہے۔
جہاں انکارِ خدا ہے، زمین وہاں تنگ ہورہی ہے، ماحول مضطرب ہورہا ہے، موسم بگڑ رہا ہے، سمندر بپھر رہے ہیں، فضا جھلس رہی ہے، زندگی مررہی ہے، نفس منتشر ہے، نفوس میں انتشار ہے۔

Share this: