مشفق خواجہ احوال و آثار

Print Friendly, PDF & Email

کتاب:مشفق خواجہ احوال و آثار
مصنف: ڈاکٹر محمود احمد کاوش
صفحات:
1082 قیمت: 1600 روپے
قرطاس، فلیٹ نمبرA-15، گلشنِ امین ٹاور، گلستانِ جوہر بلاک 15، کراچی :
موبائل:0321-3899909
ای میل:saudzaheer@gmail.com
ویب سائٹ:www.qirtas.co.nr

مشفق خواجہ ،احوال و آثا
مشفق خواجہ کا اصل نام عبدالحئی تھا، ان کے والد خواجہ عبدالوحید تھے۔ یہ کتاب ڈاکٹر محمود احمد کاوش کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جو انہوں نے ڈاکٹر اورنگ زیب عالم گیر کی نگرانی میں تحریر کیا۔ اس سے قبل مشفق خواجہ پر تین تحقیقی مقالات لکھے جاچکے تھے۔ جناب شاہ نواز فاروقی نے شعبۂ ابلاغِ عامہ، جامعہ کراچی سے ایم اے (ابلاغیات) کی سطح کا مقالہ لکھا۔ ان کے مقالے کا عنوان تھا:
’’مشفق خواجہ کی سیاسی فکاہیہ کالم نویسی… ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ‘‘۔
جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے، اس مقالے کا موضوع مشفق خواجہ کی سیاسی فکاہیہ کالم نگاری تھا۔ اس کے بعد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد سے جناب وحید الرحمٰن نے ’’خامہ بگوش کی ادبی کالم نگاری‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھ کر ایم فل (اردو) کی ڈگری حاصل کی۔ اس مقالے میں مشفق خواجہ کے کالموں کے صرف ایک مجموعے (خامہ بگوش کے قلم سے) کے حوالے سے اُن کی کالم نگاری کا جائزہ لیا گیا ہے۔ تیسرا مقالہ جناب محمد قاسم نے ’’مشفق خواجہ بطور مدون‘‘ کے زیر عنوان اورینٹل کالج، لاہور سے لکھا۔ ایم اے (اردو) کی سطح کے اس مقالے میں مشفق خواجہ کی تدوینات کا اجمالاً جائزہ لیا گیا ہے۔
ڈاکٹر محمود احمد کاوش تحریر فرماتے ہیں:
’’مشفق خواجہ ایک نابغۂ روزگار شخصیت تھے۔ مبداء فیاض نے انہیں ذہنِ رسا سے خوب نوازا تھا۔ اعلیٰ درجے کے تخلیقی جوہر اور تحقیقی نظر دونوں کا کسی ایک شخصیت میں پایا جانا معجزے سے کم نہیں ہوتا۔ مشفق خواجہ کی ذات میں یہ دونوں صلاحیتیں بدرجۂ اتم موجود تھیں۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اُن کی تخلیقی اپج کو اُن کی تحقیقی ژرف نگاہی پر ترجیح دی جائے، یا اُن کے تحقیقی کارناموں کو اُن کی تخلیقات سے بہتر سمجھا جائے۔ تحقیق ہو یا تدوین، شاعری ہو یا طنز و مزاح، دیباچہ نگاری ہو یا تبصرہ نگاری، ترجمہ نویسی ہو یا مکتوب نویسی… وہ ہر جگہ اپنی انفرادیت کے جھنڈے گاڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی انہی نادر خوبیوں کی بنا پر میں انہیں تخلیق و تحقیق کا خواجہ لکھ رہا ہوں۔ یہ مقالہ مشفق خواجہ کی حیات اور ادبی کارناموں کا احاطہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔‘‘
ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر تحریر فرماتی ہیں:
’’مشفق خواجہ کو ایک فرد کہیں، نابغہ کہیں، ایک ادارہ کہیں یا ایک دور… بہرحال تاریخِ ادبِ اردو کا یہ باب 21 فروری 2005ء کو بند ہوا۔ تب سے آج تک اُن پر مسلسل لکھا جارہا ہے اور ان تحریروں نے اُن کے تذکرے کی راہوں کو سنسان نہیں ہونے دیا:
رہ گزر دل کی نہ پل بھر کو بھی سنسان ہوئی
قافلے غم کے گزرتے رہے اکثر کیا، کیا
محمود احمد کاوش نے بھی خواجہ صاحب پر یہ کام کرکے دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کرلیا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’مشفق خواجہ: احوال و آثار‘‘ ان کا پی ایچ ڈی کے لیے لکھا گیا مقالہ ہے۔ جامعات میں ہونے والی بعض تحقیقات اس قابل ہوتی ہیں کہ انہیں واقعتاً ’’تحقیق‘‘ کا درجہ دیا جائے۔
ڈاکٹر اورنگ زیب عالم گیر کی زیر نگرانی کیے گئے اس سیر حاصل کام میں مشفق خواجہ کی سوانح، زندگی کے متنوع پہلو، ان کی تحقیقی و تدوینی خدمات، ادبی کالم نگاری، شاعری، مکتوب نگاری، متعلقاتِ مشفق خواجہ اور تمام تر علمی و ادبی خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ علم و ادب اور تحقیق و تدوین کی اس ’’جناتی‘‘ شخصیت کا کماحقہٗ احاطہ کرنے کے لیے محمود احمد کاوش جیسے ’’جناتی‘‘ اسکالر کی ضرورت تھی۔
ادارۂ قرطاس سے یہ معیاری کام اس اطمینانِ قلب کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے کہ مشفق خواجہ کی حیات و آثار کے حوالے سے یہ کتاب قارئین کو اس موضوع پر لکھی گئیں بیشتر کتب سے بے نیاز کردے گی‘‘۔
مصنف کتاب کا نام محمود احمد ہے، قلمی نام محمود احمد کاوش ہے، تاریخ پیدائش 3 فروری 1963ء، جائے پیدائش موضع موہلن تحصیل شکر گڑھ ضلع سیالکوٹ، تدریسی سفر کا آغاز ایچی سن کالج لاہور (1992ء)، موجودہ ملازمت پرنسپل قائداعظم اکیڈمی فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ نارووال۔ درسی کتب کے علاوہ ان کی مطبوعہ کتب میں ’’اردو اور اس کی تدریس‘‘، ’’اردو کی مختصر آپ بیتیاں‘‘، ’’حواشی اور اضافہ مصنفہ مشفق خواجہ‘‘، ’’مصاحبات مشفق خواجہ‘‘ (ترتیب و حواشی)، ’’قافلے اجالوں کے‘‘ (شخصی خاکے)، ’’مشفق خواجہ احوال و آثار‘‘ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 12 کتب زیر ترتیب ہیں۔
کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ باب اول میں سوانح اور شخصیت پر تحقیق ہے، باب دوم میں مشفق خواجہ کی تحقیقی و تدوینی خدمات پر معلومات ہیں، یہ باب تین فصول پر منقسم ہے: اردو میں تحقیق و تدوین کی روایت، محقق کے اوصاف، تحقیق کے فائدے، اور اردو میں تحقیق و تدوین پر بحث ہے۔
فصل دوم میں مشفق خواجہ کی تحقیقی خدمات (الف) جائزۂ مخطوطات اردو، (ب) تحقیق نامہ، (ج) پرانے شاعر نیا کلا،م (د) غالب اور صغیر بلگرامی، (ہ) غالب اور تلامذۂ غالب۔ فصل سوم: مشفق خواجہ کی تدوینی خدمات (الف) تذکرۂ خوش معرکۂ زیبا، (ب) اقبال، (ج) نگارستانِ بشیر، (د) فرمانِ سلیمانی، (ہ) صبا اکبر آبادی کے مراثی، (ہ) انتخابِ میر۔
باب سوم: مشفق خواجہ بحیثیت طنز و مزاح نگار۔ اس میں پانچ فصلوں میں بحث ہے۔ فصل اوّل: طنز و مزاح اور اردو کالم نگاری، دوم: مشفق خواجہ بحیثیت طنز و مزاح نگار، سوم: خامہ بگوش کے تنقیدی تصورات، چہارم: معلوماتی، تجزیاتی اور تحقیقی کالم، پنجم: طنز و مزاح کا اسلوب۔
باب چہارم: مشفق خواجہ بحیثیت شاعر۔ باب پنجم: مشفق خواجہ بحیثیت مکتوب نگار۔ باب ششم: مشفق خواجہ کی متفرق علمی و ادبی خدمات۔ باب ہفتم: مشفق خواجہ کا ادبی مقام و مرتبہ۔
مقالہ بڑی محنت سے لکھا گیا ہے، خوب صورت طبع کیا گیا ہے۔ مجلّد ہے، رنگین سرورق سے مزین ہے، اردو کی لائبریری میں وقیع و ثمین اضافہ ہے۔

Share this: