ڈاؤ یونیورسٹی میں جگر کا پہلاآٹو ٹرانسپلانٹ کامیاب

Print Friendly, PDF & Email

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں 28 سالہ صادق شاہ کے جگر کا آٹو ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر سعید قریشی کا اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ آٹو ٹرانسپلانٹ میں مریض کا جگر باہر نکال کر اسے کینسر سے پاک کیا جاتا ہے۔ آٹو ٹرانسپلانٹ پاکستان کے نامور سرجن پروفیسر فیصل ڈار کی نگرانی میں کیا گیا، مریض کے جگر میں مصنوعی شریانیں ڈال کر جگر واپس لگا دیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں اس وقت صرف 20 آٹو ٹرانسپلانٹ ہوئے ہیں، اس سال ہم نے ڈاؤ میں جگر کے تین کامیاب ٹرانسپلانٹ کرلیے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر فیصل ڈار کی نگرانی میں ڈاکٹر جہانزیب اور ڈاکٹر اقبال سمیت دیگر ماہرین نے ٹرانسپلانٹ کیے ہیں، اگلے چند ہفتوں میں مزید تین افراد کے لیے لیور ٹرانسپلانٹ کرنے جارہے ہیں۔ مریض کا کہنا تھا کہ میرے جگر میں خون کا دانا تھا جو تیزی سے پھیل رہا تھا، میں بہت تکلیف میں تھا، ڈاو اسپتال کا پتا چلا، یہاں علاج کے لیے آیا جہاں میرا ٹرانسپلانٹ کیا گیا ہے، آپریشن کامیاب رہا ہے، خوشی محسوس کررہا ہوں۔

Share this: