تحفظ ناموس رسالت ،عوام کا احتجاج اور ریاستی طاقت کا استعمال

Print Friendly, PDF & Email

حکومت نے سو جوتے بھی کھائے اور سو پیاز بھی۔ خود کو عقلِ کُل سمجھنے والوں نے اپنی نااہلی کا بھرپور مظاہرہ کیا اور ایک ہفتے تک پوری قوم کو شدید ترین اذیت میں مبتلا رکھنے کے بعد منگل کو علی الصبح سحری کے وقت قوم کو یہ خوش خبری سنائی گئی کہ تحریک لبیک کی قیادت سے علماء اور حکومتی وفد کے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔ فریقین کے مابین تیسری بار جو معاہدہ طے پایا ہے اس کی رو سے حکومت نے فوری طور پر یعنی منگل 20 اپریل ہی کو قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلاکر فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد اسمبلی میں پیش کرنے کے علاوہ تحریک لبیک (جسے حکومت چند روز قبل ہی اپنے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کالعدم قرار دے چکی ہے) کے قائدین اور کارکنوں کے خلاف دہشت گردی سمیت تمام مقدمات ختم کردیئے جائیں گے۔ فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے تحریک کے تمام لوگوں کے نام خارج کردیئے جائیں گے اور تمام گرفتار شدگان کو رہا کردیا جائے گا، جب کہ فریق ثانی یعنی کالعدم تحریک لبیک لاہور میں اپنے مرکز مسجد رحمۃ اللعالمین سمیت ملک بھر سے دھرنے ختم کردے گی۔ فریقین کے مابین یہ ایک ہی نوعیت کا، کم و بیش ایک ہی جیسے الفاظ اور شقوں پر مشتمل تیسرا معاہدہ ہے۔ پہلا معاہدہ تحریک لبیک کے فیض آباد میں دھرنے کے بعد 16 نومبر 2020ء کو طے پایا تھا۔ اس دھرنے میں تحریک کے بانی امیر خادم حسین رضوی اپنی معذوری اور علالت کے باوجود خود شریک تھے، حکومت نے دھرنا ختم کرانے کے تمام حربوں اور کوششوں میں ناکامی کے بعد تحریک سے معاہدہ کیا تھا جس میں تین ماہ کے اندر فرانسیسی سفیر کو پاکستان بدر کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، اس معاہدے کے کچھ ہی دنوں بعد خادم حسین رضوی صاحب اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے، تاہم مینارِ پاکستان لاہور پر ان کے جنازے میں لوگوں کی بہت بھاری تعداد میں شرکت نے تحریک کی زبردست قوت کو آشکار کیا۔ بہرحال تحریک کی مجلس شوریٰ نے مرحوم کے صاحبزادے حافظ سعد حسین رضوی کو نیا امیر منتخب کرلیا، جنہوں نے اپنے والد کے کیے ہوئے معاہدے پر ہر صورت عمل کرانے کے عزم کا اظہار کیا۔ تین ماہ مکمل ہونے کے قریب تھے مگر حکومت نے اپنے وعدے اور معاہدے پر عمل درآمد کی جانب ایک قدم پیش رفت بھی نہیں کی تھی، چنانچہ حکومت نے مہلت ختم ہونے سے ہفتہ عشرہ قبل تحریک کی قیادت سے مذاکرات کا ڈول ڈالا اور اسے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے دو ماہ کی مزید مہلت دینے پر آمادہ کرلیا۔ پہلے معاہدے پر اُس وقت کے وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ اور وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے دستخط کیے تھے، جب کہ دوسرے معاہدے پر جو 11 فروری 2021ء کو تکمیل کو پہنچا نئے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے دستخط کیے۔ نئے معاہدے میں باقی باتیں تو کم و بیش پہلے معاہدے والی ہی تھیں البتہ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے لیے دو ماہ کے اندر ایک قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، یہ دو ماہ 20 اپریل 2021ء کو پورے ہونا تھے، یہ تاریخ قریب سے قریب تر آ رہی تھی مگر حکومت کی جانب سے وعدہ پورا کرنے کے ضمن میں کوئی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آرہی تھی۔ چنانچہ تحریک کی مجلس شوریٰ نے 20 اپریل سے تقریباً دس روز قبل اپنا اجلاس منعقد کرکے حکومت کو وعدے کی یاد دہانی کرائی اور اعلان کیا کہ اگر 20 اپریل کی شب بارہ بجے تک کوئی پیش رفت نہ کی گئی تو بارہ بج کر ایک منٹ پر تحریک کے کارکنان اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کردیں گے۔ حکومت نے اپنے وعدے کی تکمیل کے ضمن میں کوئی یقین دہانی کرانے یا مزید مہلت وغیرہ کی خاطر تحریک سے مذاکرات یا گفت و شنیدکا سلسلہ شروع کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور 12 اپریل کو تحریک کے امیر حافظ سعد حسین رضوی کو اُس وقت گرفتار کرلیا جب وہ علامہ اقبال ٹائون لاہور میں ایک تاجر کا جنازہ پڑھانے کے بعد واپس روانہ ہورہے تھے۔ اس یک طرفہ گرفتاری پر تحریک لبیک کے کارکنان نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ حکومت کی جانب سے ذرائع ابلاغ پر اس گرفتاری یا اس سے متعلق کسی بھی خبر کے نشر کیے جانے پر سخت پابندی کے باوجود یہ خبر ملک بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، کارکنان احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور ہر شہر اور قصبے میں ٹریفک کا نظام درہم برہم کردیا۔ پولیس نے جان بوجھ کر ان کے مقابل آنے سے گریز کیا، یا وہ واقعی بے بس تھی، بہرحال پورے ملک میں شاہراہیں لبیک کے نعرے لگاتے کارکنوں کے کنٹرول میں چلی گئیں۔ اس دوران بہت سے نامناسب اور ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں میں جوانب کے جانی نقصان کی متضاد اطلاعات سامنے آتی رہیں۔ حکومت نے آئو دیکھا نہ تائو… فوری طور پر انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا اور ریاستی رٹ ہر صورت قائم رکھنے کے دعووں کے ساتھ فوری طور پر پابندی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ اس پابندی کے لیے جن دلائل کا سہارا لیا گیا اور جو جواز پیش کیے گئے ان کو بنیاد بنایا جائے تو خود تحریک انصاف اور شیخ رشید احمد کی عوامی مسلم لیگ بھی کالعدم قرار پانا چاہیے تھیں، کیونکہ ابھی چند ہی سال قبل 2014ء میں ملک کی تاریخ کا طویل ترین 126 روزہ دھرنا وفاقی دارالحکومت کے حساس ترین علاقے میں خود وزیراعظم عمران خان اور وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی قیادت میں دیا گیا تھا، جس کے دوران قومی اسمبلی اور پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارتوں کے گیٹ توڑ کر ان پر قبضہ کرنے کی کوششیں کی گئیں، ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی تضحیک کی گئی اور باوقار عہدوں پر موجود شخصیات پر جس طرح دشنام طرازی جناب عمران خان نے اپنی تقاریر میں کی، پولیس اہلکاروں کے ساتھ جو سلوک اس احتجاج کے دوران ہوا، اور سب سے بڑھ کر جس طرح کھلے الفاظ میں ’’جلائو، گھیرائو، مارو، مرجائو‘‘ کے انتہائی اشتعال انگیز الفاظ شیخ رشید احمد صاحب نے اپنی تقریروں میں استعمال کیے، تحریک لبیک کے موجودہ احتجاج کے دوران تو اس کے عشر عشیر بھی دیکھنے میں نہیں آیا، حالانکہ حقیقت یہ بھی تھی کہ موجودہ احتجاج کی دعوت بھی خود حکومت نے اپنے وعدے اور معاہدے کی خلاف ورزی اور تحریک کے امیر کی گرفتاری کے ذریعے خود ہی دی تھی۔ بہرحال تحریک لبیک کے کارکنوں نے حکومت کی تمام تر سختیوں کے باوجود مزاحمت کی ایسی مثال پیش کی جس کی کوئی مثال ماضی میں کم ہی تلاش کی جا سکتی ہے۔
مختصر یہ کہ حکومت تحریک کو کالعدم قرار دینے کے بعد بھی اپنے رویّے میں استقامت دکھانے میں ناکام رہی۔ تمام یک طرفہ کارروائیوں، پروپیگنڈے اور اعلانات کے باوجود آخر 19 اپریل کو علمائے کرام کے تعاون سے ازسرنو مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قرآن بورڈ کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا اور مولانا ابوالخیر زبیر کی قیادت میں علماء کے وفد نے صاحبزادہ سعد حسین رضوی سے ملاقات کی۔ مذاکرات کم و بیش سات گھٹنے جاری رہے، اس دوران افطار اور نمازوں کی ادائیگی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ بعد ازاں یہ مذاکرات پنجاب اسمبلی کے سامنے واقع 90 شاہراہ قائداعظم منتقل ہوگئے جہاں گورنر پنجاب، اور وزیر داخلہ پنجاب راجا بشارت بھی شریکِ مذاکرات ہوگئے۔ آخر سحری کے وقت قوم کو یہ خوش خبری سنائی گئی کہ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔
ان سطور کی اشاعت تک ممکن ہے اس ضمن میں کوئی حتمی شکل سامنے آجائے، تاہم اب تک کے حالات کی روشنی میں نئے معاہدے پر عمل بھی ممکن نظر نہیں آتا، کیونکہ فرانسیسی سفیر کی پاکستان بدری حکومت کے بس میں نظر نہیں آتی، اس کے لیے جس جرأت، عزم اور استقامت کی ضرورت ہے حکومت کے حلقوں میں اس کا شدید فقدان ہے۔ قرارداد اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں، پیپلز پارٹی نے اجلاس میں شریک نہ ہونے کا اعلان کردیا ہے، مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام سے بھی تعاون کی توقع نہیں کی جا سکتی، خود حکمران جماعت اور اس کے اتحادی اس معاملے میں بری طرح تقسیم سے دوچار ہیں… اس لیے اس بیل کے منڈھے چڑھنے کا امکان بہت کم ہے، اس کے بعد حالات کیا کروٹ لیتے ہیں، اس سے متعلق کوئی اچھی توقع رکھنا آسان نہیں۔ اس ساری صورت حال میں سوال یہ بھی ہے کہ حکومت نے اگر یہی کچھ کرنا تھا جو نئے معاہدے میں کیا گیا ہے تو پھر ایک ہفتے تک قوم کو سولی پر کیوں لٹکائے رکھا گیا؟ پولیس اور مظاہرین کے جس جانی و مالی نقصان کی اطلاعات فریقین کی جانب سے فراہم کی جاتی رہی ہیں، اس کو آخر کس طرح جائز قرار دیا جائے گا؟ اس ایک ہفتے کے دوران بہنے والا خون کس کی گردن پر ہے؟ مذاکرات ہی کرنا تھے تو صورت حال کو بگاڑنے کا مشورہ کس نے دیا تھا؟ کیا اسے حکمران طبقے کی نااہلی اور ناعاقبت اندیشی کے سوا کوئی نام دیا جا سکتا ہے؟

Share this: