غلطی ہائے مضامین

Print Friendly, PDF & Email

روزے گلے پڑگئے
ہفتۂ رفتہ کی بات ہے۔ قومی اخبارات میں اور ٹی وی چینلوں پر ایک سیاسی Upset ہوجانے کا بڑا چرچا رہا۔ واضح رہے کہ یہ چرچا اردو اخبارات اور اردو نشریات میں ہوتا رہا۔ کچھ عرصہ پہلے تک اردو میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ہر قسم کا ’اَپ سیٹ‘ انگریزی ہی میں ہوتا تھا۔ اردو میں تو الٹ پھیر ہوتا تھا۔ غیر متوقع شکست ہوجاتی تھی۔ ایک شکست پر سارا نتیجہ الٹ جاتا تھا۔ یا پھر اچانک کوئی بچھی بچھائی سیاسی بساط پلٹ جاتی تھی، جما جمایا سیاسی اتحاد ’’درہم برہم‘‘ ہوجاتا تھا۔ مگر ایک روز ہم نے ایک نام وَر نظامت کار کو ’’دھرم بھرم‘‘ کہتے سن لیا۔ اُسی روز اپنی رائے سے رجوع لائے کہ ’اَپ سیٹ‘ ہی ٹھیک ہے۔ بات دین دھرم تک پہنچ جائے تو کسی دن ’’دھرم بھرشٹ‘‘ بھی ہوسکتا ہے۔
اسی ضمن میں ایک اہم سیاسی رہنما کی غیر اہم سیاسی بے بسی پر ایک مہم جُو سیاسی تجزیہ نگار نے ایک اخبار میں ایک سیاسی مضمون باندھا۔ مگر صاحبِ مضمون نے مضمون کا عنوان غیر سیاسی باندھ دیا۔ عنوان اس ضرب المثل سے باندھا:
’’گئے تھے نماز بخشوانے، روزے گلے پڑ گئے‘‘
لیجیے، بات پھر دین دھرم تک پہنچگئی۔ ’کہاں تک بچوگے، کہاں تک بچائیں؟‘ سرخی پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مضمون میں مذکور و مفرور رہنما نے نماز کو اپنی گوناگوں سیاسی مصروفیات کے اکھاڑوں میں ہر سیاسی چال کا اَڑنگا پایا۔ سو، بینک سے لیے ہوئے قرضوں کی طرح نماز بھی معاف کرانے چلے گئے۔ شاید گئے بھی نیب کے دفتر۔ وہاں سے نماز تو معاف نہ ہوئی، اوپر سے روزے بھی رکھنے کا حکم مل گیا، اور یہ حکم نامہ فریم کروا کر اُن کے گلے میں لٹکا دیا گیا۔ لو جی، سیاسی سرگرمیوں پرایک نیا اَڑنگا لگ گیا۔ ہُن نمازاں پڑھو تے روزے رکھو۔
’اَڑَنگا‘ کہ جس میں الف اور ’ڑ‘ دونوں پر زبر ہے، دراصل پہلوانوں کی کُشتی کا ایک پیچ ہے (داؤ پیچ میں سے ایک پیچ)۔ اِس پیچ میں حریف کی ٹانگ میں اپنی ٹانگ اَڑا کر اُس کو گرا دیتے ہیں اور اِسے کہتے ہیں اَڑَنگا لگانا۔ مجازاً ہر قسم کے رخنے، رکاوٹ اور جھمیلے کو اَڑنگا کہا جاتا ہے۔ اَڑنگے پر برطانوی حکومتِ ہند کا ایک اَڑنگا یاد آگیا۔ سرکارِ انگلیشیہ کی جانب سے جب سرکاری دفاتر میں انگریزی لباس پہننا قانوناً لازم کردیا گیا توشیخ کو اس حُلیے میں دیکھ کر اکبرؔ کی ہنسی نکل گئی:
اس اکھاڑے میں اَڑنگے دیکھ کر قانون کے
شیخ نے تہمد سے ہجرت کی طرف پتلون کے
اَڑنگے کے سوا ہمیںمذکورہ ضرب المثل کی کوئی معنویت نظر نہیں آتی۔ کون، کب، کہاں اور کس سے نماز بخشوانے گیا؟ ذرا سوچیے تو سہی۔ پھرنماز بخشوانے کے نتیجے میںکیوں کر روزے گلے پڑگئے؟ بھلا بتائیے تو سہی۔ قارئین کے اس بھرے مجمع میں ہے کوئی بھائی جس کے پاس اس سوال کا کوئی جواب موجود ہو؟ اگر ہو تو ہاتھ کھڑا کرکے آواز دے۔
یہ ’’بخشوانا‘‘ بھی خوب ہے۔ فارسی مصدر ’’بخشیدن‘‘ (عنایت کرنا، معاف کردینا، مفت میں عطا کردینا وغیرہ) سے اردو میں بڑے دلچسپ دلچسپ محاورے بنے، قصور بخشوانے اور دودھ بخشوانے سے لے کر قرآن پڑھ کر بخشنے اور نماز بغیر پڑھے بخشوا لینے تک۔ گناہوں کی مغفرت کے لیے بھی بخشش ہوجانے اور بخش دیے جانے کا لفظ عام ہے۔ دیکھیے ذوقؔ نے چہرے کے تل سے کیا نکتہ نکالا ہے:
مدّاحِ خالِ رُوئے بتاں ہوں مجھے خدا
بخشے تو کیا عجب کہ وہ نکتہ نواز ہے
’بخش دو‘ کا ایک مطلب جان چھوڑدو بھی ہے۔ بخشو بی بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا۔ ہمارے بھائی اقبال الرحمٰن قمرؔ فاروقی فرماتے ہیں:
میرے غم کو غمِ مسلسل کر ہی دیا غم خواروں نے
بخشو صاحب، باز آئے ہم اچھی یہ غم خواری کی
(شعر کا دوسرا مصرع پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاعر اپنے عزیز دوست خدا بخش عرف بخشُو کو آج بخشے گا نہیں۔)
بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ذکر تھا اُس ضرب المثل کا جس کو لوگ باگ بے سوچے سمجھے استعمال کرجاتے ہیں۔تجزیہ نگار صاحب نے توشایداپنا سنا سنایافقرہ جوں کا توں عنوان کے طور پر ٹھونک دیا۔ مگریہ ضرب المثل ماضی بعید سے کچھ اس طرح استعمال کی جاتی رہی ہے: ’’گئے تھے نمازیں بخشوانے، اُلٹے روزے گلے پڑ گئے‘‘۔ یہ مَثَل ایسی صورتِ حال پر چسپاں کی جاتی ہے جب کوئی شخص کسی مصیبت سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے، پُرانی کے ساتھ ساتھ ایک نئی مصیبت میں بھی پھنس جائے۔اوّل تو ایسا کوئی واقعہ کبھی اور کہیں رُونما ہی نہیں ہواکہ نماز بخشوانے سے روزے گلے پڑگئے ہوں، جسے اس ضرب المثل میں مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ دوم دین کی بنیادی عبادات کو ’مصیبت‘ کے طور پر پیش کرنا علما ہی میں نہیں عامۃ المسلمین میں بھی ایک گستاخانہ رویہ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر دینی شعائر کا مذاق اڑایا جائے یا استہزائیہ انداز اختیار کیا جائے تو سورہ توبہ کی آیات 65 اور 66 کی رُو سے یہ معاملہ کفر تک جا پہنچتا ہے۔سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے اصرار پر پچاس نمازیں کم کروا کر پانچ نمازوں تک لانے کا معاملہ سفرِ معراج کا ہے۔ معراج کا واقعہ مکۂ معظمہ میں پیش آیا، جب کہ روزے اس واقعے کے کئی برس بعد سن 2 ہجری میں مدینۂ منوّرہ میں فرض ہوئے۔ ’’گئے تھے نمازیں بخشوانے…‘‘ کہہ کر مذاق اڑانا ایمان سے محروم کرسکتا ہے اور تمام نیک اعمال اورعبادات کے ضائع جانے کا سبب بن سکتا ہے۔ محترم مفتی منیب الرحمٰن صاحب سے استفتاء کیا جا سکتا ہے۔
اردو کے اچھے اچھے محاورے ترک کر دیے گئے۔ مگر بُرے محاورے نہ جانے کیوں ترک نہیں کیے جاتے۔
صاحبانِ ایمان پروقت کی پابندی کے ساتھ فرض کی جانے والی ’’صلوٰۃ‘‘کے لیے فارسی زبان میں لفظ ’’نماز‘‘ استعمال کیا گیا(’ن‘ پر زبر ہے) یہی لفظ اردو میں بھی آگیا۔ لفظ ’’نماز‘‘ کے لغوی معانی میں پوجا پاٹھ ، سرجھکانے، ماتھا رگڑنے یا پیشانی گھسنے جیسے تمام مراسمِ عبودیت شامل ہیں۔ جیسا کہ داغؔ صاحب نے اپنے اسی قسم کے تجربات کی روشنی میں ایک دن شیخ صاحب کو طعنہ دیاتھا:
کب کسی در کی جبہہ سائی کی
شیخ صاحب نماز کیا جانیں
’جبہہ سائی‘(جَب ہَہ سَائی) کا مطلب ہے ماتھا ٹیکنا، کسی کی چوکھٹ پر پیشانی رگڑنا یا سجدہ کرنا۔ مگر اب اردو میں لفظ ’نماز‘ صرف اور صرف اسلام کے اہم رُکن ’صلوٰۃ‘ کے مفہوم میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اردو کے روزمروں اور محاوروں میں بھی اب نماز کے یہی معنی ہیں۔ مثلاً پنج وقتہ نمازی، نماز قائم کرنا، نماز پڑھنا، حضورِ قلب سے نمازادا کرنا، جس کے نہ کرنے پرزاہد کو طعنہ دیتے ہوئے آتش ؔدوڑ لیے:
اِک دن حضورِ قلب سے ہوتی نہیں ادا
زاہد تری نماز کو میرا سلام ہے
پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ نمازِ جمعہ، نمازِ عیدین، نمازِ جنازہ، نمازِ استسقا، نمازِ شکرانہ اور نمازِ قصر وغیرہ سب سے مراد صلوٰۃ ہی ہے ۔ ’’استسقا‘‘ کا لفظی مطلب ہے پانی طلب کرنا۔ بارش کے لیے دعا کرنے کو ’نمازِ استسقا‘ پڑھی جاتی ہے۔ اب یہاں ناسخؔ نے بھی زاہد کو ایک طعنہ دے مارا:
پڑھ چکے زاہد نمازیں مینھ برستا ہی نہیں
دامنِ تر اب تو اے ساقی نچوڑا چاہیے
نمازِ قصر سے مراد وہ نماز ہے جو سفر میں مختصر کرکے پڑھی جاتی ہے، یعنی چار رکعت والی نمازوں کی صرف دو رکعت ادا کرتے ہیں۔ بے چارے راسخؔ اس سے بھی محروم رہے:
ہوتی نمازِ قصر یہاں کس طرح ادا
واعظ میں بتکدے میں تھا لیکن مقیم تھا
محاورے تو اور بھی بہت سے ہیں جن کے ترک کی شدید ضرورت ہے۔ مثلاً زمانۂ قدیم سے ایک اور محاورہ چلا آرہا ہے ’صلواتیں سنانا‘۔ لغات میں اس کا مطلب لکھا ہے: بُرا بھلا کہنا، گالیاں دینا، دشنام یا فضیحتا کرنا وغیرہ۔
خود میر محمد تقی صاحب اعلیٰ اللہ مقامہٗ المعروف بہ میر تقی میرؔ جیسے ’حاملِ عزتِ سادات‘ شاعر کا یہ شعر ہے:
پڑھتا تھا میں تو سبحہ لیے ہاتھ میں درود
صلواتیں مجھ کو آ کے وہ ناحق سنا گیا
جب کہ’صلوات‘ کا مطلب بھی درود شریف ہی ہے۔ حسنِ کلام کے لیے درود کا لفظ اس شعر کے پہلے مصرعے میں استعمال بھی ہوا ہے۔ محرم کی مجالس میں ہر دل لگتی بات پر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم یا آلِ رسولؐ کا ذکر آجانے پر آج بھی یہ نعرہ لگتا ہے: صلوات بر محمدؐ و آلِ محمدؐ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے مقدس لفظ کو’ گالیوں‘ کے لیے پہلی بار استعمال کرنے والا کون ناپاک شخص تھا؟ اگرچہ کچھ لوگ لکھتے وقت احتیاطاً املا بدل دیتے ہیں، ’ص‘ کی جگہ’س‘ لکھ دیتے ہیں، مگر بولتے وقت تو تلفظ وہی رہتا ہے۔ اردو میں تو ’ص‘ اور’ س‘ کی صدا میںسدا سے کوئی فرق نہیں رہا۔

Share this: