کوئٹہ: سرینا ہوٹل دھماکا

Print Friendly, PDF & Email

دہشت گردوں کا ہدف چینی حکام تھے

افغانستان جب تک امریکی تسلط اور بھارتی اثر و نفوذ کے زیراثر رہے گا اور تختِ کابل پر اشرف غنی اور ان جیسے دوسرے بیٹھے رہیں گے، تب تک افغانستان اور پاکستان میں امن کی صبح طلوع نہ ہوگی۔ کابل انتظامیہ کا جمہوری اور عوام کی حکمرانی کا نعرہ فریب اور دنیا کو ورغلانے کی ناکام کوشش ہے۔ دراصل یہ کابل کی سرزمین پر جھوٹوں، قابضین تخریب و فریب کاروں کا اکٹھ ہے۔ 29 فروری 2020ء کو دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے پر دستخط نے انہیں کرب میں مبتلا کردیا ہے، اور نئی دہلی کے حکمرانوں، ان کے پالیسی ساز اور جاسوسی اداروں کے حکام کے پیٹ میں شدت سے مروڑ اٹھا ہے۔ ان پر واضح ہے کہ امریکی اور نیٹو افواج کی واپسی کے بعد ان کے سارے تخریبی منصوبوں و پالیسیوں کی مزید گنجائش نہیں رہے گی۔
پاکستان کے اندر تخریب اور پُرامن فضا میں خلل ڈالنا کابل اور نئی دہلی کی قطعی پالیسی ہے۔ دوحہ معاہدہ ہوا اور امن کی جانب پیش قدمی شروع ہوئی تو تخریب و دہشت گردی کے ان سرچشموں نے کابل اور افغانستان کے دوسرے منطقوں میں تعلیمی اداروں، اسپتالوں، رفاہی و فلاحی مراکز پر حملے شروع کرا دیئے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد، صحافیوں، اساتذہ، علماء، مساجد کے خطباء اور سیاسی افراد کو مارنے کے واقعات کو دوام دیا۔ افغانستان کے شمال کے اندر ملیشیائوں کی تربیت اور انہیں مسلح کرنے پر سرعت کے ساتھ کام شروع کردیا۔ پاکستان کے اندر مسلح گروہ، حتیٰ کہ صوبہ سندھ کا علیحدگی پسند مسلح گروہ ان کی آغوش میں ہے۔ قدم آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کی پشتون آبادیوں میں پشتون لسانی سیاسی گروہ قائم کردیا گیا، جس سے بعض پشتون جماعتوں کے رہنما بھی وابستہ ہیں، یعنی تحریک طالبان پاکستان، سندھی و بلوچ شدت پسند تنظیمیں، حتیٰ کہ داعش کا سرچشمہ بھارت کا جاسوسی ادارہ اور کابل کی این ڈی ایس ہے۔ این ڈی ایس پوری طرح بھارتی جاسوسی ادارے کی ماتحت ہے۔
کوئٹہ میں واقع 3 ستارہ سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں خودکش دھماکے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے قبول کرلی ہے۔ 21 اپریل 2021ء کو اس حملے کا ہدف پاکستان میں متعین چین کے سفیر نونگ رونگ، کراچی میں متعین چینی قونصل جنرل اور اس کے ساتھ سفارت خانے اور قونصل خانے کے دوسرے چینی حکام تھے۔ یہ وفد کوئٹہ کے سرکاری دورے پر آیا ہوا تھا۔ اس وفد نے گورنر امان اللہ یاسین زئی، وزیراعلیٰ جام کمال، کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی، صوبائی وزراء اور سیاسی رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں۔ چینی وفد اسی ہوٹل میں مقیم تھا، البتہ دھماکے کے وقت عشائیہ پر گیا ہوا تھا۔ چینی سفیر کی ہوٹل واپسی اور دھماکے میں محض چند منٹ کا وقفہ تھا۔کالعدم ٹی ٹی پی کے دعوے کے برعکس اس حملے میں ہوٹل کے عملے سمیت 5 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوئے، جن میں محکمہ وائلڈ لائف کے آفیسر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ایمل خان کاسی کی ایک ماہ بعد شادی طے تھی، اور شاہ زیب یوسف زئی سرینا ہوٹل کے شفٹ منیجر تھے۔ جاں بحق باقی تین افراد میں ایک پولیس اہلکار اور ہوٹل کے دو محافظ تھے۔
چینیوں پر یہ پہلا حملہ نہیں ہے، ان پر گوادر اور حب میں حملے ہوچکے ہیں، چینی انجینئرزقتل ہوچکے ہیں۔ دالبندین میں چینی ماہرین کی بس پر کالعدم بی ایل اے خودکش کار بم حملہ کرا چکی ہے۔ اسی کالعدم بی ایل اے نے کراچی میں قائم چینی قونصل خانے پر حملہ کیا۔ گوادر کے پی سی ہوٹل میں گھسنے والے بلوچ شدت پسندوں کا ہدف بھی گوادر پورٹ اور وہاں کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے چینی ماہرین اور دوسرا عملہ تھا۔ یاد رہے کہ ان مذہبی و قوم پرست مسلح گروہوں اور سیاسی تنظیموں کے تانے بانے ملتے ہیں، انٹیلی جنس اداروں نے مارچ کے مہینے میں دہشت گردی کی ممکنہ سرگرمی کی اطلاع دی تھی، افغانستان کے پاکستان سے متصل سرحدی علاقے اسپن بولدک میں ٹی ٹی پی کے ایک اہم کمانڈر اور این ڈی ایس کے ایک اہلکار کے درمیان گفتگو ہوئی تھی۔ ان عملیات کے لیے یہ گروہ معلومات اور منصوبوں کا اشتراک کرتے ہیں، چنانچہ ان کے ذریعے مقصد پاکستان میں امن کی صورت حال تہہ و بالا کرنا تو ہے ہی، کسی بھی طرح موجودہ کابل انتظامیہ کی بقا کو یقینی بنانا بھی ہے، تاکہ بھارت کا دخل بدستور قائم رہے۔ بھارت اور اُس کے ہم نوائوں کو تکلیف افغان طالبان کے ساتھ حزبِ اسلامی سے بھی ہے۔ حزبِ اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار اکتوبر 2020ء میں پاکستان کے سرکاری دورے پر آئے تھے۔ یہاں صدرِ پاکستان عارف علوی، وزیراعظم عمران خان اور دوسرے سیاسی و حکومتی رہنمائوں سے انہوں نے ملاقاتیں کیں۔ پیش ازیں عبداللہ عبداللہ، احمد ولی مسعود، یونس قانونی، استاد محقق، جمعیت اسلامی کے سربراہ صلاح الدین ربانی بھی پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں۔ وقتاً فوقتاً وہاں کے سیاسی لوگ اور کابل حکومت کے نمائندے بھی دورہ کرتے رہتے ہیں، مگر گلبدین حکمت یار ہی کی آمد ان پر بجلی بن کر گری۔ ’’فنڈڈ سیاسی گروہ‘‘ اور لوگوں نے اس دورے کو حسبِ خواہش معنی دینے کا گمراہ کن ابلاغ شروع کردیا۔ افغان طالبان اور حزبِ اسلامی افغانستان کی بڑی اور مؤثر سیاسی جماعتیں ہیں جن کی وطن کی خودمختاری اور آزادی کے لیے بے پناہ قربانیاں ہیں، اور پھر یہ دونوں جماعتیں ان فنڈڈ گروہوں و افراد کو جوتے کی نوک پر بھی نہیں رکھتیں۔ افغان طالبان اور حزبِ اسلامی کا نصب العین واضح اور اعلیٰ ہے۔
بڑا تھانیدار امریکہ ہے کہ جس کے تسلط کے تحت افغانستان کے اندر نصف درجن مسلح گروہ پل رہے ہیں، جنہوں نے خاص کر پاکستان کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ باوجود اس کے کہ امریکہ طالبان سے کہتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین امریکی مفادات (باقی صفحہ 41پر)
کے خلاف استعمال نہ ہو، دوحہ معاہدے میں لکھا گیا ہے کہ وہ یعنی طالبان کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ افغان سرزمین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال کرے۔ درحقیقت امریکی سرپرستی میں افغان سرزمین پاکستان اور دوسرے ملکوں کے خلاف استعمال ہوئی ہے بلکہ اب تک ہورہی ہے، کوئٹہ سرینا ہوٹل دھماکا اس کی تازہ تمثیل ہے۔ یہ غیر معمولی واقعہ تھا جس کے لیے نہایت گہرائی کے ساتھ ٹھیک ٹھیک منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ چینی سفیر ’’نونگ رونگ‘‘ کی معیت میں وفد کی کوئٹہ میں مصروفیات، آمد و رفت کے اوقاتِ کار کی پوری جانچ کرلی گئی تھی۔ خود کش بمبار بارودی مواد، بال بیرنگ اور لوہے کے ٹکڑوں سے بھری گاڑی لے کر گیا تھا۔ آتش گیر کیمیکل سی فور کا استعمال کیا گیا تھا تاکہ ہدف یقینی زد و لپیٹ میں لایا جائے۔

Share this: