پنجاب: اسلام کو تعلیمی نصاب سے خارج کرنے کی سازش

Print Friendly, PDF & Email

گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے پنجاب میں اسلامیات کی کتاب کے سوا دیگر تمام مضامین کی نصابی کتب سے اسلامی معلومات، حمد و نعت، سیرتِ طیبہ، سیرتِ صحابہؓ اور قرآن و حدیث پر مبنی مواد نکال دینے سے متعلق سرکاری نوٹیفکیشن پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے، جس کے بعد گورنر کی ہدایت پر متعلقہ محکمے نے اپنا یہ نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے۔ یہ معاملہ چند روز قبل جنگ اور دی نیوز کے سینئر صحافی انصار عباسی کی رپورٹ کے ذریعے منظرعام پر آیا تھا، جس کے بعد دینی و سیاسی حلقوں نے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے کسی بھی صورت ناقابلِ قبول قرار دیا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ملک کو سیکولر بنانے کے عالمی ایجنڈے پر تیزی سے کام ہورہا ہے، یکساں نصابِ تعلیم کی آڑ میں اردو، مطالعہ پاکستان ، تاریخ اور دیگر مضامین سے اسلامی تعلیمات کا اخراج قبول نہیں کریں گے۔ صوبہ خیبر اور پنجاب میں جس نصاب کو رائج کرنے کا اعلان کیا گیا ہے وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق نہ ہوا تو بھرپور احتجاج اور اسے واپس لینے پر مجبور کریں گے۔ جماعت کے نائب امیر اور ملی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ سیکولر لابی اور لادین عناصر کی طرف سے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نصابی کتب میں موجود اسلامی مواد کو خارج کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں، اسلام کے خلاف صف آراء مختلف قوتیں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے ریاستی اداروں کو استعمال کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ آئین کی دفعہ 220 کے تحت نصاب میں شامل اسلامی عقائد اور موضوعات کا اطلاق غیر مسلموں پر نہیں ہوتا۔ لیاقت بلوچ نے متنازع نوٹیفکیشن کی اساس شعیب سڈل پر مشتمل ایک رکنی کمیشن کی رپورٹ میں شامل سفارشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں اسلام کے بنیادی عقائد اور اسلامی نظام زندگی سے متعلق موضوعات کے بارے میں سفارشات جہالت اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔ لیاقت بلوچ نے واضح کیا کہ ملک کے دستور کی رو سے پارلیمنٹ، عدلیہ اور دیگر تمام ریاستی ادارے اسلامی نظریے کے تشخص اور آئین میں موجود اسلامی شقوں کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں، ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی جانب سے کیے گئے فیصلے کو غلط طور پر مسلم اکثریت کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے جس پر پورا ملک سراپا احتجاج ہے۔
وزیراعظم کے اپنے معاونِ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی حافظ طاہر محمود اشرفی اور تمام مکاتبِ فکر کے دیگر علماء نے بھی اس معاملے پر صدائے احتجاج بلند کی۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے پہلے مرحلے پر اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کی اور انہیں معاملے کی نزاکت اور سنگینی کا احساس دلایا۔ اس ملاقات میں چودھری پرویز الٰہی نے وضاحت کی کہ نظریۂ پاکستان کے منافی کوئی بھی قدم پاکستان کی اساس اور کلمۂ طیبہ کے پرچم کے نیچے جدوجہد کے خلاف ہوگا، پنجاب اسمبلی سے پاس کردہ ایکٹ پر تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور اقلیتی ارکان کے دستخط موجود ہیں، لہٰذا اسلامی کتب میں شامل شریعتِ اسلامیہ اور تاریخِ اسلام سے اقلیتوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں، اللہ رب العالمین ہے اور رسول کریم رحمۃ للعالمینؐ ہیں، یہ ملک اسلام کی وجہ سے قائم ہے، اسلامی تعلیمات کو کسی صورت نصاب سے نہیں نکالا جا سکتا، تاریخِ پاکستان اسلام اور اس کے لیے جدوجہد کرنے والے اکابرین کے ساتھ وابستہ ہے، نصابی کتب سے بانیانِ پاکستان کی اسلام اور مسلمانوں کے لیے خدمات کو کیسے نکالا جا سکتا ہے! پرویزالٰہی اور طاہر اشرفی نے اتفاق کیا کہ ایک رکنی اقلیتی کمیشن کی نصابِ تعلیم سے اسلامی تعلیمات اور تاریخ اسلام کو نکالنے کی سفارشات نہایت نامناسب ہیں جس سے ملک کے اندر انتشار اور فساد پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ طاہر اشرفی نے کہا کہ اسلام تمام انسانیت کے حقوق کا محافظ ہے اور اس کی تعلیمات امن و سلامتی پر مبنی ہیں، اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت اسلام، آئین اور ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے لیکن اکثریت کے حقوق کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے، غیر مسلم طلبہ اگر اسلامی تعلیم اور تاریخ کا مطالعہ نہیں کرنا چاہتے تو اُن کے پاس پڑھنے یا نہ پڑھنے کا اختیار موجود ہے۔
اگلے مرحلے میں حافظ طاہر محمود اشرفی علماء کے ایک نمائندہ وفد کے ہمراہ گورنر محمد سرور کے پاس پہنچے اور ان کی قیادت میں چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد، وفاق المدارس کے سربراہ مولانا حنیف جالندھری، مرکزی جماعت اہلحدیث پاکستان کے سربراہ علامہ زبیر احمد ظہیر، مفتی عاشق حسین، جامعہ نعیمیہ کے سربراہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، جامعہ رحمانیہ کے سربراہ مولانا امجد خان، اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن سید حبیب الرحمٰن عرفانی سمیت دیگر نے ملاقات کی اور پنجاب کے تعلیمی نصاب سے اسلامیات کے سوا دیگر کتابوں سے اسلامی مواد نکالنے کے حکومتی اقدامات کے بارے میں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ گورنر پنجاب نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے شعیب سڈل کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد فوری طور پر روک دیا، اور گورنر پنجاب کی ہدایت پر محکمہ ہیومن رائٹس اینڈ مینارٹیز نے اپنا نوٹیفکیشن واپس لیتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا، جس پر ملاقات کرنے والے علمائے کرام نے گورنر پنجاب کا بھرپور شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر چودھری سرور نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کو کسی صورت نصاب سے نہیں نکالا جائے گا۔
گورنر پنجاب کی بروقت کارروائی اور ہدایت پر متعلقہ محکمے کی جانب سے نوٹیفکیشن واپس لیے جانے کے بعد بظاہر یہ معاملہ ختم ہوگیا، مگر یہ امر تاحال تحقیق طلب ہے کہ حکومتی ذمہ داران کے علم میں لائے بغیر اس طرح کا متنازع اور غیر ذمہ دارانہ نوٹیفکیشن کس نے، کیوں اور کس کے ایما پر جاری کیا؟ گورنر اور اسپیکر پنجاب اسمبلی کے اس سے متعلق خیالات اور جذبات سطورِ بالا میں سامنے آچکے ہیں، صوبائی وزیر تعلیم مراد راس نے بھی اس سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور کابینہ کی جانب سے ایسے کسی اقدام کی منظوری دی گئی ہے نہ دی جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ جب حکومت کے تمام ذمہ داران اس متنازع نوٹیفکیش سے متعلق لاعلمی اور لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں تو پھر حکومتی صفوں خصوصاً بیوروکریسی میں وہ کون سے عناصر ہیں جو برسراقتدار لوگوں سے زیادہ بااختیار ہیں اور اپنے طور پر جو چاہتے ہیں، اقدام کر گزرتے ہیں؟ انہیں حکمرانوں کی ناراضی کا خوف ہے اور نہ ہی حکمران عملاً ایسے لوگوں کو لگام ڈالنے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ پہلا معاملہ نہیں، اس سے پہلے بھی کئی معاملات میں حکمرانوں کی بے خبری میں سرکاری افسران اپنے طور پر کسی کارروائی کے خوف سے بے پروا ہوکر ناپسندیدہ اقدامات کر گزرے ہیں، جو بعد میں حکومت کو واپس لینا پڑے۔ ابھی گزشتہ ماہ ایسا ہی ایک اہم معاملہ سامنے آچکا ہے جس میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام کے حکومتی فیصلے کی منسوخی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا تھا، جسے علم میں آنے پر حکومت کو منسوخ کروانا پڑا، مگر تعجب اس امر پر ہے کہ حکومت نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی منسوخی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے والے بیوروکریٹ کو بے نقاب کیا نہ اس کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی عمل میں لا ئی گئی۔ یہی معاملہ نصاب میں تبدیلی سے متعلق حالیہ انتہائی خطرناک نوٹیفکیشن کا ہے جس کو گورنر پنجاب نے علماء اور دینی حلقوں کے احتجاج اور توجہ دلانے پر منسوخ تو کروا دیا ہے، مگر اس حساس معاملے میں گھنائونا کھیل کھیلنے والے بیوروکریسی کے سازشی عناصر کو عوام کے سامنے لانے اور ان کے خلاف آئین اور قانون کے مطابق تادیبی کارروائی کی ضرورت یہاں بھی حکومت نے ضروری نہیں سمجھی۔ سوال یہ ہے کہ حکومت ایسے عناصر کے سامنے اس قدر بے بسی کا اظہار کرنے پر مجبور کیوں ہے؟
حالیہ حساس اور اہم نصابی تبدیلیوں کی سازش کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے 2014ء میں رونما (باقی صفحہ 41پر)
ہونے والے ایک واقعے کو جواز بناکر اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ازخود نوٹس لیا، جس کا فیصلہ 2019ء کے وسط میں سنایا گیا، اور اس فیصلے کی روشنی میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات سے متعلق سفارشات کی خاطر ایک رکنی کمیشن تشکیل دیا گیا جو سابق انسپکٹر جنرل پولیس شعیب سڈل پر مشتمل تھا۔ ان صاحب کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ آج کل مختلف بین الاقوامی اداروں اور این جی اوز وغیرہ کے لیے کام کررہے ہیں۔ بہرحال اس ایک رکنی کمیشن نے 30 مارچ 2021ء کو اپنی سفارشات پیش کردیں جن میں آئین کی دفعہ 22 کی ذیلی دفعہ ایک کا حوالہ دیا گیا کہ اِس دفعہ کے تحت کسی بھی طالب علم کو کسی دوسرے مذہب کی تعلیمات اور رسومات پر عمل کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ انہوں نے اقلیتوں کے اس آئینی حق کا ’’تحفظ‘‘ اس طرح کیا کہ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق ملک کی 96.2 فیصد اکثریت پر یہ پابندی لگادی کہ وہ اسلامیات کے سوا دیگر نصابی کتب میں اسلامی تاریخ، قرآن و حدیث، حمد و نعت، سیرت ِرسول کریمؐ اور سیرتِ صحابہؓ جیسے اسلامی موضوعات کے بارے میں معلومات حاصل نہیں کرسکتی۔ چنانچہ سفارش کی گئی کہ ان سب اسلامی امور سے متعلق مواد اور معلومات نصاب سے خارج کردی جائیں۔ محکمہ تعلیم نے ان سفارشات پر نہایت برق رفتاری سے عمل کرتے ہوئے یکم اپریل 2021ء کو پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کو خط تحریر کردیا کہ سفارشات کی روشنی میں صوبے کی نصابی کتب سے ماسوائے اسلامیات تمام اسلامی معلومات نکال دی جائیں۔ پنجاب نصاب اور ٹیکسٹ بک بورڈ کا اجلاس 19 اپریل کو منعقد ہوا جس میں محکمہ تعلیم کا یہ خط زیر غور آیا تو بورڈ کی گورننگ باڈی نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ بورڈ صوبائی حکومت کے ایکٹ 2015ء کے تحت کام کرتا ہے جس کی دفعہ 10 کی ذیلی دفعہ 2۔ ب کا یہ تقاضا ہے کہ نصاب میں موجود اسلامی تعلیمات میں کسی تبدیلی سے قبل صوبائی متحدہ علماء بورڈ سے مشاورت اور معاونت لی جائے، اسی طرح ایسی کسی تبدیلی کے لیے صوبائی کابینہ کی منظوری بھی ضروری ہے، جو حاصل نہیں کی گئی۔ مزید برآں جماعت اول سے پنجم تک کا نصاب چونکہ یکساں نصاب کی پالیسی کے تحت نیشنل کریکولم کونسل کا تیار کردہ ہے، اس لیے کونسل سے رابطہ اور منظوری بھی ضروری ہے۔ اس طرح نصاب سے خاموشی اور عجلت میں اسلامی مواد خارج کرنے کی یہ سازش طشت از بام ہوگئی، جس پر دینی حلقوں اور علمائے کرام کے زوردار احتجاج اور بروقت کارروائی کے نتیجے میں نصاب کو اسلامی مواد سے پاک تو نہ کیا جاسکا مگر یہ سازش کرنے والے قرار واقعی سزا سے محفوظ ہیں… کیوں؟ آخر کیوں؟

Share this: