تہذیبوں کا تصادم

’’تہذیبوں کا تصادم‘‘ پرانے شکاریوں کا نیا جال ہے۔ تہذیب کے معروف معنی اصلاح سے آراستہ کرنا، سلیقہ پیدا کرنا وغیرہ سمجھ میں آتے ہیں۔ توازن اور عدل و انصاف اور احترامِ آدمیت بھی اس اصطلاح کا ایک حصہ ہیں۔ ان معنوں میں اگر بالکل جانب داری کے بغیر جائزہ لیا جائے تو صرف اسلام ہی وہ دین ہے جو ان تمام باتوں کو اپنی دعوت کا حصہ بناتا ہے۔ اسلامی تہذیب کی بنیاد اسلامی عقیدہ ہی ہے۔ اس کے مقابلے میں تہذیب کے نام سے جو کچھ بھی پیش کیا جاتا ہے وہ کسی طرح بھی اس تعریف پر پورا نہیں اترتا۔ حرص و ہوس، خودغرضی، فریب کاری، وسیع پیمانے پر قتل و غارت جو نسل کُشی کی حدوں کو چھوتی ہے، مادی تہذیب کے اجزائے ترکیبی ہیں۔ جس طرح کوئی بھتہ خور گروہ کمزور لوگوں کے مال اینٹھتا ہے اسی طرح اس غیر مہذب تہذیب کے پروردہ لوگ کمزور ملکوں کے وسائل پر غنڈہ گردی سے قبضہ کرتے ہیں اور اربوں افراد کو بھوک، بیماری اور جہالت کے حوالے کرکے اپنے ملکوں کے عوام کو عیش و نشاط فراہم کرتے ہیں۔
ابتدائے آفرینش سے ہی معرکہ خیر و شر برپا ہے اور اس کو ابد تک رہنا ہے۔ اقبال نے بالکل صحیح کہا ہے کہ
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بولہبی
قرآن میں کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ کی جو تعریف کی گئی ہے اُس سے معاملہ اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ کلمہ طیبہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر اور اس کی تمام صفات پر ان کے پورے استحضار کے ساتھ ایمان کا نام ہے اور اس کی مثال ایک ایسے درخت کی سی ہے جس کی جڑیں پاتال میں اور شاخیں آسمان تک بلند ہیں۔ سکونِ قلب، صلہ رحمی، یگانگت، خلوص و محبت، شکر اور صبر اور بے شمار اس کے میٹھے پھل ہیں۔ عناصرِ فطرت اس شجرِ طیب کے لیے سازگار ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں شجرِ خبیث ایک ایسا درخت ہے جس پر ظلم، تعدی، فریب اور جھوٹ، ہر طرح کی بے انصافی کے کانٹے لگتے ہیں۔ عناصرِ فطرت اس کے لیے سازگار نہیں ہیں، مگر شیطان اور اس کی ذریت اس کی کاشت و پرداخت میں لگے رہتے ہیں، مگر اس کی جڑ استوار نہیں، اور شاخیں بلند نہیں اور بے ثمر ہیں۔ کلمہ طیبہ ازل سے ایک ہے اور ابد تک ایک ہی رہے گا، جبکہ کلمہ ہائے خبیثہ لاتعداد ہیں اور تاریخ کا کوڑے دان، ان سے بھرا پڑا ہے۔
یورپ کی اقوام کا رہن سہن، لباس، عادات و اطوار، اور روایات ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ ان کی زبانیں ایک ہی منبع سے پھوٹی ہیں، پھر ان کے درمیان عالمی جنگیں کیوں ہوئیں! اسی طرح سے خود امریکہ کے اندر جنوب اور شمال کی جنگ کی کیا توجیہ کی جاسکتی ہے! جنوبی اور شمالی امریکہ میں کیا تفریق ہے! ظاہر ہے کہ یہ ساری مفادات کی جنگ ہے۔ اس سارے فساد کی جڑ یہودی ہیں اور ہر شرارت کے ماسٹر مائنڈ وہی ہیں۔ اس تصادم نے اب اسلام کے خلاف جنگ کا روپ دھار لیا ہے، اور اسلام کو مغرب کے پروپیگنڈہ بازوں نے دہشت گردی کا مصداق بنادیا ہے۔ ہم چاہیں یا نہ چاہیں ہمیں یہ جنگ لڑنی ہے اور اس میں اللہ کی مدد اور تائید سے کامیابی بھی حاصل کرنی ہے، کیونکہ اس کے سوا کوئی دوسری صورت ممکن ہی نہیں۔
اس جنگ میں ہر پڑھا لکھا مسلمان حصہ لیتا ہے اور یہ اس کا دینی فریضہ ہے۔ اسلام دشمن قوتوں کے منصوبے کو اچھی طرح سمجھ کر اور ان کے پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کے بجائے اس کی حقیقت سے خود بھی آگاہ ہوں اور دوسروں کو بھی سمجھائیں، بلکہ پروپیگنڈے کے تمام ذرائع کو احقاقِ حق کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جائے۔
(”تہذیبوں کا تصادم“۔ شاہنواز فاروقی)

اندھیری شب ہے، جدا اپنے قافلے سے ہے تُو
ترے لیے ہے میرا شعلہ نوا قندیل

علامہ اقبال امت ِ واحدہ یا ملّتِ اسلامیہ کی متحدہ قوت سے کٹے ہوئے مسلمانوں کو تلقین کرتے ہیں کہ میرے کلام سے رہنمائی حاصل کرو، اس لیے کہ غلامی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں اپنے ملّی قافلے سے کٹ کر تم قدم قدم پر ٹھوکریں کھا رہے ہو۔ ایسے میں میرے کلام کی روشنیاں چراغِ راہ بن کر تمہاری رہنمائی کرتی اور تمہارے دلوں کو ایمانی جذبوں اور آزادی کے لطف سے روشناس کراتی ہیں۔ یوں وہ اپنے اشعار کو اندھیری راہ میں جذبے اور روشنیاں بخشنے والے چراغ قرار دیتے ہیں۔