اہل حمص کا جزیہ واپس کردیا گیا

Print Friendly, PDF & Email

بلاذریؒ نے ”فتوح البلدان“ میں نقل کیا ہے کہ جب جنگِ یرموک پیش آئی تو حضرت ابوعبیدہؓ نے شام کے مختلف علاقوں میں متعین اسلامی فوجوں کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ سب اپنے اپنے مستقر چھوڑ کر یرموک میں جمع ہوجائیں۔ مسلمانوں کی کچھ فوجیں شہر حمص میں بھی متعین تھیں جو شہر کی حفاظت کررہی تھیں، جب انہیں یرموک پہنچنے کا حکم ملا تو ان کو سب سے بڑی فکر یہ لاحق ہوئی کہ یہاں جو غیر مسلم (ذمی) آباد ہیں اُن سے ہم جزیہ (ٹیکس) وصول کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اُن کے جان و مال کی حفاظت کریں، جب فوجیں یہاں سے چلی جائیں گی تو ہم اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرسکیں گے۔ چنانچہ مسلمانوں کے امیر نے غیر مسلموں کو جمع کرکے اُن سے کہاکہ ہم نے آپ کی حفاظت کا ذمہ لیا تھا اور اس کی بنا پر جزیہ وصول کرتے تھے، اب اس مجبوری کے باعث یہ ہمارے لیے ممکن نہیں رہا، لہٰذا آپ کا جزیہ واپس کیا جاتا ہے۔ چنانچہ سب کا جزیہ واپس کردیا گیا۔ اہلِ حمص نے روئے زمین پر ایسے فاتح نہیں دیکھے تھے جو دشمنوں کے ساتھ وفاداری کا ایسا سلوک کرتے ہوں، چنانچہ اُن سب کی زبانوں پر یہ دعائیں تھیں کہ اللہ مسلمانوں کو رومیوں پر فتح عطا کریں۔
(الوحی المحمدیؐ، سید رشید رضا، ص 279 مطبعتہ المنار 1354ء) (مفتی محمد تقی عثمانی۔”تراشے“)

Share this: