بیت المقدس کی حفاظت امتِ مسلمہ کا اولین فرض ہے ،سراج الحق

Print Friendly, PDF & Email

مسئلہ فلسطین، درپیش مسائل اور امکانات پر جماعت اسلامی اسلام آباد کے تحت سیمینار کا انعقاد

فلسطین میں بے گناہ مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے، بچے، بزرگ اور جوان شہید ہورہے ہیں اور اقوام عالم خاموش ہیں، پاکستان میں ریاست مدینہ کے دعویدار بھی منہ میں انگلیاں لیے ہوئے ہیں، کشمیر کے لیے ہر جمعہ کو مظاہروں کا اعلان کرکے حکومت کہیں سوگئی ہے، کشمیر کے سفیر بھی کہیں نظر نہیں آرہے، اس ماحول میں جماعت اسلامی ملک بھر میں رائے عامہ بیدار اور ہموار کررہی ہے تاکہ ایک منظم آواز فلسطینیوں اور کشمیری عوام کے لیے اٹھائی جاسکے- جماعت اسلامی اسلام آباد نے اسی سلسلے میں یہاں الفلاح ہال میں ”مسئلہ فلسطین… درپیش مسائل اور امکانات“ کے موضوع پر سیمینار منعقد کیا، جس میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق، موتمر عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے چیئرمین سینئر سیاست دان (سینیٹر) راجا محمد ظفر الحق، پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر نیرحسین بخاری، الخدمت فائونڈیشن کے صدر عبدالشکور، ڈاکٹر عبدالباسط (سفارت کار)، ضمیر زمان (سفارت کار)، پی ٹی سی ایل کے سابق چیئرمین میاں جاوید اور اینکر پرسن حامد میر نے اظہار خیال کیا- اس موضوع پر گفتگو سننے کے لیے ہال میں تل دھرنے کی بھی جگہ نہ تھی، بھرپور میڈیا کوریج کے لیے ٹی وی کیمروں کی بھرمار تھی، تاہم اگلے روز خبر کا تقریباً بلیک آئوٹ تھا- سیمینار میں موتمر عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل راجا ظفرالحق کی گفتگو میں سوز تھا، سراج الحق کی گفتگو میں بھرپور درد تھا- سیمینار کے اختتام پر سراج الحق نے مہمانوں کو خود الوداع کیا- سیمینار کے انتظامات کی براہِ راست نگرانی جماعت اسلامی اسلام آباد کے امیر نصر اللہ رندھاوا اور قیم ضلع زبیر صفدر نے کی- سیمینار میں ایک مشترکہ اعلامیہ بھی پیش کیا گیا جسے پاکستان بزنس فورم کے صدر کاشف چودھری نے پڑھ کر سنایا۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مقررین اورشرکاء کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے کہا کہ مغربی طاقتیں اور اسلام دشمن عناصر مسلمانوں کو رنگ، نسل، ذات اور قومیت کی بنیاد پر لڑا رہے ہیں۔ عالم اسلام اپنے دشمنوں کو پہچانے اور سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے یک جان ہوجائے۔ آپسی لڑائیاں مسلمانوں کو کمزور کررہی ہیں، معاشی لحاظ سے مضبوط لیبیا میں خانہ جنگی اور شام کے بحران کا فائدہ اسرائیل اٹھا رہا ہے۔ اللہ کا حکم ہے ایک ہو جاؤ، ہمیں ایک ہونے کی ضرورت ہے۔ امت کو تقسیم کرنا یہودیوں کا ایجنڈا ہے۔ بیت المقدس کی حفاظت امتِ مسلمہ کا اولین فرض ہے۔ مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے اسلامی ممالک کو ایک مشترکہ فورس تشکیل دینی چاہیے۔ غزہ کی تعمیرنو کی تمام تر ذمہ داری او آئی سی پر عائد ہوتی ہے۔ اسلامی دنیا مغرب کی طرف نہ دیکھے اور اپنے مسائل کا حل خود تلاش کرے۔ پونے دو ارب مسلمان دنیا کی ایک عظیم طاقت ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طاقت کو پہچانا جائے اور اس کا استعمال درست جانب ہو۔ جن ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے وہ اپنا فیصلہ واپس لیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ فلسطینیوں کی جدوجہد کا ساتھ دیا جائے۔ فلسطین سے متعلق اگر دنیا نے ہمارا بیانیہ قبول کیا ہے تو ہمیں خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ مسئلہ فلسطین کے مستقل حل کی ضرورت ہے۔ کشمیر کا مسئلہ حل کیے بغیر جنوبی ایشیا میں امن ممکن نہیں۔ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ رائے دہی ملنا چاہیے۔ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، جب ہم اس کے خاتمے کی بات کرتے ہیں تو عالم اسلام کی بات کرتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر پر ہمارا مؤقف دراصل پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کا مؤقف ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان محفوظ ہو تو کشمیر کی آزادی کے لیے جان توڑ کوششیں کرنا ہوں گی- یکجہتیِ فلسطین ریلیوں میں پاکستانیوں کی کثیر تعداد میں شرکت پر ان کا شکرگزار ہوں- غزہ میں اسرائیل کی حالیہ جارحیت کے دوران جماعت اسلامی پاکستان نے ملک بھر کے عوام کو موبلائز کیا اور تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں ریلیاں، جلسے اور جلوس نکالے، جن میں بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جماعت اسلامی کی طرف سے فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے کا مقصد عالمی برادری اور پاکستان اور عالم اسلام کے حکمرانوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑنا تھا، اور دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ اگر مسلمانوں کے خلاف اسی طرح دہشت گردی جاری رہی تو اس کے ردعمل کے طور پر مسلمان عوام کے دلوں میں ناانصافی اور ظلم کے خلاف نفرت پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ دنیا حقیقت کو پہچانے اور فلسطینیوں کو ان کا حق دیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا بے حد ضروری ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ عالم اسلام کے حکمران اور خصوصی طور پر پاکستان کے حکمران اپنے عوام کی آواز کو پہچانیں اور فلسطین اور کشمیر کی آزادی کے لیے جرأت مندانہ کردار ادا کریں۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے فلسطین پر ستر ہزار سے زیادہ بم گرائے ہیں، جس کی وجہ سے پچھتر ہزار گھر تباہ ہوئے ہیں۔ سیکڑوں بچوں اور معصوم لوگوں نے غزہ پر حالیہ بمباری کے دوران جام شہادت نوش کیا۔ یہ امر انتہائی افسوس ناک ہے کہ دنیا نے اس ظلم پر صرف لفظی بیان بازی سے کام لیا اور اسرائیل کو اس کے گھناؤنے عزائم سے روکنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ انھوں نے شرکا کو بتایا کہ جماعت اسلامی نے فلسطینی مسلمانوں کی مدد کے لیے ایک فنڈ تشکیل دیا ہے اور ہم اپنے ترک بھائیوں کی مدد سے فلسطینیوں تک امداد پہنچا رہے ہیں- سراج الحق نے کہا کہ امتِ مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ اسی صورت میں ممکن ہے جب عالم اسلام کے وسائل عوام پر خرچ ہوں۔ آپس میں نفرت اور تعصب کو ترک کرکے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کی ضرورت ہے۔ مسائل کے حل کے لیے او آئی سی ایک بہترین پلیٹ فارم ہے جسے اسلامی دنیا کو درپیش چیلنجز اور مسائل کے حل کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے- دنیا بھرکی اسلامی تحریکیں اور مسلمان عوام فلسطینیوں اور کشمیریوں کی تحریک آزادی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ حماس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے والے وہی لوگ ہیں جنھوں نے ہمیشہ مغربی طاقتوں کا ساتھ دیا اور اپنوں سے غداری کی۔ اپنی قوم کو غلامی کا درس دینے والے انتہائی بزدل ہیں۔ انھوں نے قوم سے اپیل کی کہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے حل اور افغانستان میں امن کے قیام کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کرے، اور اسرائیل کو تسلیم کرنے والے مسلم ممالک اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں-؎
موتمر عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل، مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجا ظفر الحق نے مدلل گفتگو کی اور ماضی کی یادیں بھی تازہ کیں، انہوں نے اپنی گفتگو میں تاریخی حوالے دیے- انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک جارح ملک ہے اور کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان اس کا ہدف ہے- وہ ماضی میں بھی ہمیں نقصان پہنچانے کی سازش اور منصوبہ بندی کرچکا ہے- اس کی مکروہ منصوبہ بندی کی تیونس نے ہمیں اطلاع دی تھی کہ اسرائیل پاکستان پر حملہ کرنے والا ہے، اُس وقت میں نے صدر ضیا الحق کو تیونس سے ملنے والی اطلاع کے بارے میں بتایا، تو ضیاالحق نے کہا کہ انہیں بھی یہ اطلاع مل چکی ہے، تاہم مبہم سی اطلاع ملی ہے، جو بات آپ نے بتائی ہے یہ بہت واضح ہے- انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مصالحت کیسے ہوسکتی ہے؟ یہ تو جارح ملک ہے- ماضی میں مسلمان ملکوں کو مصلحت کی پالیسی سے نقصان ہوا- اب جو کچھ ہوا ہے اس پر فلسطین کی اتھارٹی کو اسرائیل کے جرائم کے خلاف عالمی عدالت سے رجوع کرنا چاہیے، اسے وہاں سے ضرور شنوائی ملے گی- ماضی میں یاسر عرفات سے بھی یہی کہا گیا تھا کہ وہ مصلحت سے کام لیں تو فلسطین آزاد ہوجائے گا، مگر وہ مصلحت اختیار کرکے بھی فلسطین آزاد نہیں کراسکے، اور اس حد تک اپنے گھر میں محصور ہوگئے کہ دن کو سورج کی روشنی بھی نہیں دیکھ سکتے تھے، حتیٰ کہ رات کو ہوا خوری کے لیے وہ اپنے گھر کی چھت پر جاتے تھے- راجا ظفرالحق نے کہا کہ جن ممالک میں جمہوریت ہے وہاں فلسطین کے عوام کی حمایت میں مظاہرے ہوئے ہیں، یعنی امریکہ، جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں بڑے مظاہرے ہوئے ہیں- یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ او آئی سی اس وقت کمزور ہوئی ہے، مگر اس کی ابتدا عراق ایران جنگ سے ہوئی- اُس وقت دونوں میں سے کوئی ملک بھی جنگ بند کرنے کو تیار نہیں تھا- یہ بات بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ جب او آئی سی بن رہی تھی تو اُس وقت جنرل یحییٰ خان نے بھارت کو اس میں شامل کرنے کی سخت مخالفت کی تھی، بلکہ بھارت کو اس میں شامل کرنے کی کوشش پر بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی تھی- انہوں نے کہا کہ حکومت نے کشمیر کے بارے میں کہا تھا کہ اس مسئلے پر ہر جمعہ کو مظاہرے ہوا کریں گے، مگر ایک دو مظاہرے ہوئے اور اس کے بعد خاموشی ہے- اب غزہ کی تعمیرنو کے لیے مصر نے پیسہ اور مشینری فراہم کی ہے، مسلم ممالک کو غزہ کی تعمیرنو کے لیے فنڈز فراہم کرنے چاہئیں-
پیپلزپارٹی کے نیر حسین بخاری نے کہا کہ مسلم دنیا فلسطین کے لیے حکمت عملی بنائے، اور اسرائیل پر دبائو بڑھائے بغیر فلسطین آزاد نہیں ہوگا. آج کل خطوں کی سیاست کی زیادہ اہمیت ہے، اس لیے ہمیں اپنے خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر عالمی امن کے لیے کام کرنا چاہیے- فلسطین کے حوالے سے ہمسایہ ممالک کی زیادہ ذمہ داری ہے تاکہ فلسطینیوں کے لیے ریلیف کا کام ہوسکے- سابق ہائی کمشنر ڈاکٹر عبدالباسط نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے اسرائیل پر دبائو ڈالا جائے- عالمی حالات کچھ زیادہ پرامید نہیں ہیں- مسلم دنیا تقسیم ہے، یہ عرب اور عجم کے علاوہ شیعہ سنی میں بھی تقسیم ہے، جب تک یہ تقسیم رہے گی کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ حل ہوگا یہ بھول جائیں- ہماری زمینی حقائق پر ضرور نظر رہنی چاہیے- انہوں نے کہا کہ غزہ کو ایک عالمی شہر بننا ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ فلسطین کا دارالحکومت اس کی مرضی کے ساتھ بنے- اینکر پرسن حامد میر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین بہت پرانے مسئلے ہیں، مفتی اعظم فلسطین نے لائن آف کنٹرول پر جاکر پیغام دیا تھا کہ وہ کشمیر بھی آزاد کرائیں گے- انہوں نے کہا کہ یوم کشمیر کی طرح یوم فلسطین بھی منانے کی روایت شروع کی جائے- الخدمت فائونڈیشن کے صدر عبدالشکور نے کہا کہ غزہ اس وقت مکمل محاصرے میں ہے، صرف خوراک اور ادویہ ہی وہاں جاسکتی ہیں، ہم اس کوشش میں ہیں کہ وہاں چھ ایمبولینس بھجوائیں- پی ٹی سی ایل کے سابق چیئرمین میاں جاوید نے کہا کہ ٹیلی کمیونیکیشن یونین ایک عرصے سے عالمی سطح پر کشمیر اور فلسطین کے لیے کام کررہی ہے، مسئلہ فلسطین کے حتمی حل تک جدوجہد جاری رہے گی- فلسطینی عوام اپنے حق کے لیے اسلحہ کے بغیر بھی لڑ رہے ہیں- سابق سفارت کار ضمیر زمان نے کہا کہ فلسطینی عوام کا بیانیہ اب دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے، رائے عامہ ان کے حق میں ہے-

Share this: