(تیسرا باب )موسمی آفتیں پانچ اہم سوال؟

Print Friendly, PDF & Email

(دوسرا حصہ)

سوال چار: ہمیں کتنی جگہ درکار ہے؟
توانائی کے کچھ ذرائع زیادہ گنجائش مانگتے ہیں۔ ہمیں اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے کتنی زمین اور پانی درکار ہوگا، یہ جاننا بہت اہم ہے۔ ہمیں اس پر خاص توجہ دینی ہوگی۔ بجلی کی کمیت کا شمار یہاں اہم ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ کتنی زمین (یا پانی اگر آپ سمندر میں ٹربائن نصب کررہے ہیں) پر کون سے ذرائع کتنی بجلی مہیا کرسکتے ہیں۔ اس کی پیمائش واٹس پر اسکوئر میٹر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ہم قدرتی ایندھن سے 500-10000 واٹس پر اسکوئر میٹر بجلی حاصل کرسکتے ہیں۔ نیوکلیئر توانائی ہمیں 500-1000واٹس پراسکوئر میٹربجلی مہیا کرسکتی ہے۔ شمسی توانائی 5-20 واٹس پر اسکوئر میٹر بجلی پیدا کرتی ہے۔ ہائیڈرو پاور (ڈیم)5-50 واٹس پر اسکوئر میٹر بجلی بناتا ہے۔ ہوا 1-2واٹس پر اسکوئر میٹر بجلی پیدا کرتی ہے۔ لکڑی اور دیگر حیاتیاتی مواد سے ایک سے بھی کم واٹ پر اسکوئر میٹر بجلی دستیاب ہوتی ہے۔ غور کیجیے، ہوا کی نسبت شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کی کمیت زیادہ ہے۔ اگر تم شمسی توانائی کے بجائے ہوا سے بجلی پیدا کرنا چاہوگے، تو زیادہ زمین درکار ہوگی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ شمسی توانائی اچھی اور ہوا کی بجلی بُری ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ دونوں ذرائع کے اپنے تقاضے اور فوائد ہیں جن پر گفتگو ہونی چاہیے۔ اب اگر کوئی تم سے کہے کہ ہوا، سورج، نیوکلیئر وغیرہ سے اتنی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے کہ جتنی ساری دنیا کی ضرورت ہے، تو پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ ان سب کے لیے کتنی زمین اور گنجائش چاہیے۔
پانچواں سوال: اس سب پر کتنی لاگت آئے گی؟
دنیا جو اتنی گرین ہاؤس گیس خارج کرتی ہے، تو اس کی وجہ موجودہ توانائی ٹیکنالوجیز کا سستا ترین ہونا ہے۔ ہمیں اپنی بہت بڑی ’توانائی معیشت‘ کو’گندگی‘ سے پاک کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کو صفر کاربن کا اہل بنانا ہوگا، اور اُس کی ایک قیمت ادا کرنی ہوگی۔ کتنی قیمت؟ چند معاملات میں لاگت کا فرق واضح ہے۔ اب اگر ہمارے پاس توانائی کے دونوں یعنی صاف اور آلودہ ذرائع موجود ہیں، تو ہم ان میں موازنہ کرسکتے ہیں۔ اکثر صفر کاربن ذرائع توانائی قدرتی ایندھن کی نسبت بہت مہنگے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قدرتی ایندھن سے پہنچنے والے نقصان کی لاگت پر نظر نہیں کی جاتی، اسے شمارنہیں کیا جاتا۔ اس لیے قدرتی ایندھن کے ذرائع اور بھی سستے لگتے ہیں۔ بہت بڑے نقصان کی اس نظر نہ آنے والی لاگت کومیں ’’گرین پریمیم‘‘ کہتا ہوں۔
موسمی تبدیلی پر ہر گفتگو کے دوران گرین پریمیم میرے ذہن میں رہتا ہے۔ اس سے کیا مراد ہے؟ اس کی کوئی ایک صورت نہیں ہے۔ اس کی بہت سی صورتیں ہیں: چند بجلی کی صورت میں ہیں، کئی ایندھن کی شکل میں پائی جاتی ہیں، اورکچھ سیمنٹ وغیرہ کی صورت میں ملتی ہیں۔ Green Premiumکے حجم کا انحصارمتبادلات میں موازنے پر ہے کہ آیا تم کس کے بدلے کس ذریعے کا استعمال کرتے ہو۔ جیسے زیرو کاربن جیٹ فیول اور شمسی توانائی سے پیدا کی جانے والی بجلی کی قیمتیں برابر نہیں ہیں۔ گزشتہ سالوں میں جیٹ فیول کی ریٹیل قیمت $2.22 فی گیلن رہی ہے۔ جیٹ طیاروں کے لیے جدید بائیو فیول، کہ جتنا بھی یہ دستیاب ہے، $5.35 فی گیلن ملتا ہے۔ یہاں صفر کاربن فیول کے لیے گرین پریمیم کا مطلب دونوں قیمتوں کا فرق دیکھنا ہے، جو$3.13 بنتا ہے۔ یہ 140فیصد سے زائد ہے۔
چند ایک جگہ یہ گرین پریمیم منفی بھی ہوسکتا ہے، صاف ستھرا ذریعہ توانائی قدرتی ایندھن سے سستا بھی پڑسکتا ہے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ تم زندگی کہاں بسر کرتے ہو۔ تم قدرتی گیس کے چولہے کی جگہ الیکٹرک ہیٹ پمپ استعمال کرسکتے ہو۔ آکلینڈ میں اس طرح کا متبادل گھر کو ٹھنڈا اور گرم رکھنے کی لاگت 14 فیصد تک کم کرسکتا ہے۔ ہوسٹن میں یہ بچت 17فیصد تک ہوجائے گی۔
تم شاید سوچو کہ منفی گرین پریمیم کے ساتھ ایک ٹیکنالوجی پہلے ہی دنیا بھر میں اپنالی گئی ہے۔ دیکھا جائے تو معاملہ یہی ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی کے تعارف اور اس کے اطلاق کے درمیان ایک بُعد ہے۔ ایک بار تم تمام بڑے صفر کاربن امکانات شمارمیں لے آؤ، سنجیدہ متبادلات پرگفتگوکا سلسلہ چل سکتا ہے۔ ہم دنیا کو ہرا بھرا کرنے کے لیے کتنا خرچہ کرسکتے ہیں؟ کیا ہم جدید بائیو فیول خریدنے جارہے ہیں، جوجیٹ فیول جتنا دگنا مہنگا ہے؟ کیا ہم دگنی قیمت میں green cement خرید سکیں گے؟
ویسے جب میں یہ پوچھتا ہوں کہ ہم اس کام میں کتنا پیسہ خرچ کرسکتے ہیں؟ میری اس ’’ہم‘‘ سے مراد ساری دنیا ہے۔ یہ محض امریکہ اور یورپ کا معاملہ نہیں ہے۔ ہمیں اسے دھیر ے دھیرے آگے بڑھانا ہے تاکہ سب کاربن فری ہوجائیں۔
میں تسلیم کرتا ہوں کہ گرین پریمیم ایک حرکت پذیر ہدف ہے۔ یہاں تخمینوں پر بہت سے مفروضات ہیں، یہاں میں نے بھی وہ مفروضات استعمال کیے ہیں جو مجھے معقول لگے۔ تاہم دیگر باخبر لوگ مختلف مفروضات پیش کرسکتے ہیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ گرین ٹیکنالوجی کی قیمت قدرتی ایندھن جتنی کم ہوسکتی ہے یا نہیں، یا اُس کے کچھ قریب بھی پہنچ سکتی ہے یا نہیں۔
مجھے امید ہے گرین پریمیم پر گفتگو کا آغاز ہمیں اُن قیمتوں تک لے جائے گا، جو ہمیں صفر کاربن تک پہنچنے میں مدد دیں گی۔ کچھ قیمتیں اتنی بھی زیادہ نہیں جتنا میں نے سوچا تھا۔ میں نے کچھ ایسا حساب کتاب کیا ہے جس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ کچھ نہ ہونے سے ہونا بہتر ہے۔ گرین پریمیم اس معاملے میں فیصلہ سازی آسان کردیتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے وقت، توجہ، اور پیسے کا بہترین استعمال ممکن بناتے ہیں۔ مختلف پریمیم کا جائزہ لے کرہم یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کون سے ’’صفر کاربن‘‘ حل ہم ممکن بنا سکتے ہیں، کیونکہ توانائی کے صاف ستھرے متبادلات خاطر خواہ سستے نہیں۔ یہ ہمیں چنداہم سوالوں کے جواب میں مددگار ہوتے ہیں:
ہم صفر کاربن تک پہنچنے کے لیے کون سے ذرائع استعمال کررہے ہیں؟
جواب: وہ ذرائع جوکم گرین پریمیم کے ساتھ ہوں، یا بغیر پریمیم کے ہوں۔ اگر ہم ایسے ذرائع استعمال نہیں کررہے، تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ’’لاگت‘‘ رکاوٹ نہیں ہے، بلکہ رکاوٹ کچھ اور ہے، جیسے بوسیدہ عوامی پالیسیاں اورکم آگاہی، یہ ہمیں اس سمت آگے بڑھنے سے روک رہی ہیں۔
ہمیں اپنی تحقیق اور لاگت کے لیے کہاں توجہ کرنے کی ضرورت ہے؟ پہلے سرمایہ کار اور ٹیکنالوجی کے ماہر موجدین کون ہوسکتے ہیں؟
جواب: جہاں کہیں بھی ہم یہ فیصلہ کرلیں کہ پریمیم بہت زیادہ ہے، وہاں ہمیں اضافی خرچہ کرنا ہوگا، اورنئی ٹیکنالوجیز، کمپنیوں اور پراڈکٹس کے لیے راستہ ہموار کرنا ہوگا، تاکہ اشیاء کی لاگت قابلِ برداشت بنائی جائے۔ وہ ملک جو تحقیق اور ترقی میں آگے ہیں، وہ نئی پراڈکٹس بنا سکتے ہیں، ان کی لاگت میں کمی لاسکتے ہیں، اور باقی دنیا کو برآمد کرسکتے ہیں۔ وہ دنیا جو پریمیم ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔
اس طرح کوئی قوم یہ نہیں کہہ سکے گی کہ کاربن کے خاتمے کی کوششیں یکساں نہیں ہیں۔ بلکہ ہوگا یہ کہ ایسی پراڈکٹس کی پیداوار میں دوڑ لگ جائے گی، اور قوتِ خرید کے قابل ایسی اشیاء سے بازار بھر جائیں گے، جوصفر کاربن تک پہنچنے میں ہماری مدد کریں گے۔
گرین پریمیم کا ایک آخری فائدہ یہ ہے: یہ پیمائش کا ایسا نظام بن سکتا ہے جو ہم پر ظاہر کرسکتا ہے کہ ’’موسمی تبدیلی‘‘ کو روکنے میں ہماری کوششیں کیسی اور کہاں ہیں؟
صفر کاربن تک پہنچنے میں مددگار ممکنہ آلات کی کیا لاگت ہوگی؟ کون سی ایجادات اور جدتیں کتنی اثرانداز ہوسکیں گی؟
گرین پریمیم ان باتوں کا جواب دیتا ہے، صفر تک پہنچنے کی لاگت بتاتا ہے، یہ ایک شعبے سے دوسرے شعبے تک الگ الگ حساب کتاب واضح کرتا ہے، اور بتاتا ہے کہ کہاں بہتر ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ مگر ایک مسئلہ ہے، ہمارے پاس ہر معاملے میں مساوی گرین متبادل موجود نہیں ہے۔ اب جیسے صفر کاربن سیمنٹ نام کی کوئی شے موجود نہیں ہے۔ اس طرح کی چیزوں میں ہم صاف توانائی کے متبادل کی لاگت کا تعین کیسے کرسکتے ہیں؟
ہم یہ خیالی تجربے سے سمجھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ’’ہم ہوا سے براہِ راست کس طرح کاربن کھینچ کر الگ کرسکتے ہیں؟‘‘ اس خیال کا ایک نام بھی ہے: “Direct Air Capture”۔ DAC ٹیکنالوجی ڈیوائس ہے جس میں ہم ہوا داخل کریں گے، وہ اس ہوا میں سے کاربن کوجذب کرلے گی اور ہوا صاف ستھری ہوجائے گی، اور تم اُسے ذخیرہ کرسکو گے۔ ڈی اے سی ایک بہت مہنگی اور بڑے پیمانے پر غیر ثابت شدہ ٹیکنالوجی ہے، لیکن اگر یہ بڑے پیمانے پر کام کرگئی، تو یہ ہر جگہ کاربن جذب کرلے گی۔ ڈی اے سی کی ایک فیسلٹی سوئٹزرلینڈ میں آپریٹ کررہی ہے۔
اس طریقہ کار پر کتنا سرمایہ خرچ ہوگا؟ یہ سمجھنے کے لیے ہمیں دو طرح کے ڈیٹا درکار ہوں گے: عالمی اخراج کی مقدار اور اس اخراج کے انجذاب پرلگنے والی لاگت۔ یہ بات ہم جانتے ہیں کہ ہر سال 51 ارب ٹن کاربن اخراج ہوتا ہے۔ اگر ایک ٹن کاربن فضا سے مٹائی جائے، گو کہ اس کی ابھی کوئی مستحکم صورت نہیں بنی، مگریہ کم از کم دوسو ڈالر فی ٹن بنے گی۔ کچھ جدت اور تبدیلی کے ساتھ، میں سمجھتا ہوں کہ سو ڈالر فی ٹن تک کمی کی توقع کی جاسکتی ہے۔
اس کا حساب کچھ یوں بنے گا: 51 ارب ٹن کاربن سالانہ کو 100 ڈالر سے ضرب دیا جائے، برابر آئے گا 5.1کھرب ڈالر سالانہ۔ دوسرے الفاظ میں جب تک ہم کاربن خارج کررہے ہیں، DAC طریقہ کار پر ہر سال 5.1کھرب ڈالرخرچ کیے جائیں گے۔ یہ رقم دنیا کی معیشت کا تقریباً6 فیصد بنتی ہے۔ یہ بہت بڑا حجم ہے۔ مگر اُس صورت حال سے بہت سستا اور بہتر ہے جو دنیا کی معیشت بند کرنے سے ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ ہم کووڈ 19 وبا کے دوران دیکھ چکے ہیں۔
جیسا کہ میں ذکر کرچکا ہوں، ڈی اے سی ٹیکنالوجی ایک خیالی تجربہ ہے، اور یہ ابھی عالمی سطح پرقابلِ عمل نہیں ہے۔ یہ بالکل واضح نہیں ہے کہ ہم کس طرح اربوں ٹن کاربن کا ذخیرہ محفوظ کرسکتے ہیں۔ ابھی اس کی کوئی عملی صورت موجود نہیں ہے۔ ہر سال 5.1 کھرب ڈالر جمع کرنا بھی سادہ معاملہ نہیں۔ ہر کوئی اپنے حصے کا سرمایہ دے گا یا نہیں، یا یہ بھی ایک سیاسی لڑائی کی نذر ہوجائے گا!
ہمیں پوری دنیا میں پچاس ہزار ڈی اے سی پلانٹ لگانے کی ضرورت پڑے گی، تاکہ کاربن اخراج پر قابو پایا جاسکے۔ واضح رہے کہ یہ ٹیکنالوجی صرف کاربن پرکام کرتی ہے۔ اس کا میتھین وغیرہ پرکوئی زور نہیں۔ یہ خاصا مہنگا سودا ہوگا۔ بہت بہتر یہ ہوگا کہ ہم کاربن اخراج میں کمی لائیں۔
بدقسمتی سے ہم ڈی اے سی سمیت کسی بھی ٹیکنالوجی کی آمد کا انتظار بالکل نہیں کرسکتے۔ ہمیں خود کو محفوظ بنانے کے لیے مسلسل کام کرنا ہوگا۔
پانچ اہم اقدامات کا خلاصہ یہ ہے:
1۔ ٹنوں اخراج کا 51 ارب ٹن سے فیصد نکالیں۔
2۔ یاد رکھیں ہمیں اُن پانچ سرگرمیوں کا متبادل حل ڈھونڈنا ہے جوکاربن اخراج کا سبب ہیں: اشیا سازی، بجلی کی پیداوار، زرعی سرگرمیاں، ماحول کر گرم ٹھنڈا رکھنا، اور نقل و حرکت
3۔ کلو واٹ برابر ایک گھر، گیگا واٹ برابر ایک عام شہر، سیکڑوں گیگا واٹ برابرایک بڑا امیر ملک
4۔ یہ سوچنا کہ اپنے کام کے لیے ہمیں کتنی جگہ درکار ہوگی
5۔ ذہن میں گرین پریمیم رکھنا، اور دیکھنا کہ کس طرح یہ درمیانے درجے کی آمدنی والے ملک کے لیے قابلِ برداشت ہوں گے۔

Share this: