دور طالب علمی کی یاد میں عزیز بگٹی… دوست، عزیز، کلاس فیلو

Print Friendly, PDF & Email

عزیز بگٹی میرا کلاس فیلو اور دوست تھا۔ 1966ء تھا جب اس سے ملاقاتیں ضرور ہوتی تھیں۔ کوئٹہ سائنس کالج تھا اور عزیز بگٹی ہاسٹل میں رہائش پذیر تھا۔ غلام محمد بگٹی بھی کلاس فیلو تھا۔ عمر بخش بگٹی سے دوستانہ ہوا تو وہ اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہوگیا۔ اسے پہلی دفعہ دیکھا تو وہ مکمل بگٹی قبائل کے لباس میں تھا، یعنی سر پر پگڑی اور سفید لباس۔ وہ کالج کے برآمدے میں کھڑا تھا اور طالب علم اسے دیکھ رہے تھے۔ اس کو پہلی دفعہ دیکھا اور اس سے ہاتھ ملایا، اپنا تعارف کرایا۔ حکیم لہڑی نے مجھے دیکھا تو کہا ’’شادیزئی اب اس کو بھی جمعیت میں لائو گے؟‘‘ میں نے کہا کہ یہ تو میرا فرض ہے کہ اس کو اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل کروں۔ میں اسلامی جمعیت طلبہ حلقہ بلوچستان کا ناظم تھا۔ جب جنرل یحییٰ خان نے ون یونٹ توڑ دیا تو صوبہ بلوچستان کو خودمختار صوبے کا درجہ دے دیا گیا۔ اس طرح بلوچستان میں اسلامی جمعیت طلبہ کا پہلا صوبائی صدر یعنی ناظمِ صوبہ بن گیا۔ شیر خان بلوچ BSO کا صوبائی صدر اور عزیز بگٹی جنرل سیکرٹری تھا۔ 1968ء تک آتے آتے میرا ذہن صوبائی معاملات میں بہت واضح تھا اور میں ون یونٹ کا مخالف تھا۔ 1968ء میں ایک بہت ہی افسوس ناک واقعہ ہوا۔ یہ شاید مئی کا مہینہ تھا کہ رات کو سائنس کالج پر پولیس نے حملہ کردیا اور زبردست فائرنگ کی۔ اس میں ظریف مارا گیا اور ہاسٹل میں رہائش پذیر طلبہ کو پولیس گرفتار کرکے لے گئی۔ عمر بخش بھی گرفتار ہوگیا تھا۔ بعد میں پرنسپل صاحب کی کوششوں سے تمام طلبہ رہا ہوگئے۔ کوئٹہ میں ایک ماہ تک کرفیو لگا رہا۔ کوئٹہ کے تمام اسکول اور کالج بند کردیے گئے۔ مئی سے لے کر دسمبر 1968ء تک تعلیمی ادارے بند تھے۔ بسم اللہ خان کاکڑ اپنی تنظیم کے کارکنوں کے ساتھ نظام ہوٹل میں سرکاری خرچے پر پڑے ہوئے تھے۔ میرا اپنے کارکنوں کے ساتھ رابطہ تھا۔ ہم نے جمعیت کا ہنگامی اجلاس بلایا جس میں کالجوں کو کھولنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ 6 دسمبر کو اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں نے جلوس نکالا۔ اس میں 60 سے 70 طلبہ تھے۔ یہ ایوب خان کے خلاف پہلا احتجاجی جلوس تھا۔ بی ایس او اور پشتون اسٹوڈنٹس خاموش تھیں۔ ہمارے جلوس کے بعد حزب اختلاف نے احتجاجی جلوس نکالا۔ اس میں نیپ، جماعت اسلامی، خاکسار پارٹی، مسلم لیگ (کونسل)، نواب زادہ کی پارٹی و دیگر شامل تھے۔ اس کے بعد پورے ملک میں ایوب خان کے خلاف جدوجہد شروع ہوگئی۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے طلبہ تنظیموں سے رابطہ کیا اور طلبہ کا جمہوری محاذ قائم کرلیا۔ اس محاذ میں اسلامی جمعیت طلبہ، بی ایس او، مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن، پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن شامل تھیں۔ اُس وقت تک ولی خان اور عبدالصمد خان میں سیاسی ہم آہنگی تھی، اور خان شہید نیپ میں شامل تھے۔ بعد میں ون یونٹ ختم ہوا تو ولی خان اور خان شہید کے راستے جدا ہوگئے اور عبدالصمد خان کی پارٹی بھٹو کے قریب چلی گئی۔
یہ اُس دور کا مختصر سا جائزہ لیا ہے تاکہ آج کے نوجوان کچھ کچھ ماضی کے حالات سے آگاہ ہوسکیں۔
خیر جان بلوچ کلوس فیلو تھا، اس سے بہت اچھے تعلقات تھے، اور عزیز بگٹی بھی حالات سے باخبر تھا۔ طلبہ اجلاس میں خیر جان بلوچ اور عزیز بگٹی نے ہمیشہ میرے مؤقف کی تائید کی۔ ہمارے ساتھ عبدالحکیم لہڑی بھی متحرک تھے۔ مجھے ان دوستوں کا مخلصانہ تعاون ہمیشہ حاصل رہا۔
1967-68ء کا دور سوویت یونین اور چین کے عروج کا دور تھا۔ نیپ کا رجحان سوویت یونین کی طرف تھا۔ اس طرح BSO بھی ایک طرح سے روس نواز تھی اور روسی لٹریچر مفت تقسیم ہوتا تھا، جس کے اثرات بہت کم تھے۔ بھٹو مرحوم اپنے آپ کو چین نواز کے طور پر متعارف کرا رہے تھے۔
پیپلز اسٹوڈنٹس اُس دور میں بن چکی تھی لیکن اس کے اثرات بہت کم تھے۔
یہ ایک مختصر تجزیہ کیا ہے تاکہ ماضی سے کچھ کچھ آگہی حاصل ہوسکے۔ ہم دوبارہ اپنے طالب علمی کے دور میں لوٹتے ہیں۔ ایوب خان کے دور میں ڈگری کالج سریاب بن گیا اور اس میں ایم اے کی کلاسیں شروع ہوگئیں۔ عزیز بگٹی، ضیا الدین ضیائی میرے کلاس فیلو تھے۔ میں ایم اے سیاسیات میں داخلہ لے چکا تھا، یوں عزیز بگٹی میرے کلاس فیلو تھے۔ عزیز بگٹی، ضیاء الدین ضیائی اور عبدالقادر بلوچ بھی میرے کلاس فیلو تھے۔ اُس وقت عبدالقادر بلوچ شاید کرنل کے عہدے پر فائز تھے۔ علی احمد کرد بھی کلاس فیلو تھے۔ حنیف بلوچ بھی ساتھ تھے۔ ایوب خان کے دور میں حنیف بلوچ بی ایس او عوامی میں چلے گئے۔ بعد میں BSO عوامی پیپلزاسٹوڈنٹس فیڈریشن میں ضم ہوگئی اور دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ ایک دھڑا سردار نواز کہلایا اور دوسرا دھڑا سردار مخالف کہلایا۔ یوں BSO پروسردار اوراینٹی سردار میں تقسیم ہو گئی۔ اس کے بعد BSO کا اپنے ماضی سے رشتہ کٹ گیا اور اس کا نظریاتی تشخص ختم ہو گیا، اور نیپ بھی ماضی کا مزار بن گئی، اور جب مجاہدین نے افغانستان میں جنرل نجیب کا تختہ الٹ دیا اور کمیونزم کو افغانستان میں تاریخ کی بدترین شکست ہوگئی تو پاکستان میں نیپ کا اپنے ماضی کے ساتھ اختتام ہوگیا، اور سوویت یونین نے افغانستان میں شکست کھائی تو کمیونزم کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ ماسکو میں عوام نے لینن کے مجسمے کو سڑکوں پر گھسیٹا، اس پر جوتے مارے اور تھوکتے رہے۔ یوں افغانستان میں مجاہدین کے ہاتھوں شکست نے کمیونزم کو روس میں دفن کردیا، اور سوویت یونین کے خاتمے سے مسلم ریاستیں آزاد ہوگئیں۔ بی ایس او کا اپنے نظریاتی ماضی سے تعلق ختم ہوگیا، اب وہ شخصیات کے ذریعے شناخت کراتی ہے۔
عزیز اپنا دورِ طالب علمی ختم ہونے کے بعد لکھنے پر مائل ہوگیا اور کئی کتابیں لکھ دیں۔ اس نے مجھے بعض کتابیں بطور تحفہ دیں اور ان پر لکھا :برائے دوست محترم امان اللہ شادیزئی 6-6-98
عزیز سے وہ تعلق قائم رہا جو طالب علمی کے زمانے میں شروع ہوا تھا۔ اس نے کالم بھی لکھے۔ ایک دفعہ نجانے کیا سوجھی کہ اس نے کالم میں مجھ پر تنقید کی۔ اس پر مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ جواب میں مَیں نے کالم لکھا جس کا عنوان تھا “You too Bugti”۔ نواب بگٹی نے پڑھا تو لطف اٹھایا، اور جب ہم دونوں اکٹھے نواب بگٹی سے ملے تو انہوں نے عزیز کو مخاطب کرکے کہا: شادیزئی کا جواب دو۔ لیکن عزیز نے قلم نہیں اٹھایا۔ میں نے ارادہ کرلیا تھا کہ عزیز نے جواب دیا تو اس کے خلاف جتنا سخت لکھ سکتا ہوں لکھوں گا۔ لیکن اس نے محاذ نہیں کھولا۔ مجھے بھی قلم روکنا پڑا۔ میرے کالموں کے جواب میں جس نے بھی جواب دیا اسے کالم کے ذریعے لاجواب کردیا، تو پھر کسی نے جواب نہیں دیا۔
عزیز بگٹی سے تعلقات تھے۔ ملاقات ضرور ہوتی تھی۔ ہم ہوٹل میں جاتے اور ماضی کے خوشگوار لمحات کو یاد کرتے۔ عزیز بگٹی کا حلقہ بہت محدود تھا۔ آخری عمر میں تو اس کا ملنا جلنا بہت کم ہوگیا تھا۔ بعض دفعہ فون کرتا تو اس سے ملاقات کے لیے چلا جاتا تھا۔ اور ہم دونوں بعض اہم واقعات جو ماضی کا حصہ بن چکے تھے، کو یاد کرتے تھے۔ (باقی صفحہ 41پر)
یوں چند خوشگوار لمحات تازہ ہو جاتے تھے۔ وہ سردیوں میں کراچی چلا جاتا تھا تو اس سے کراچی میں ملاقات ہوتی تھی۔ وہ بعض دفعہ اپنے بیٹے کے ساتھ آتا اور ہم دونوں بیت المکرم کے قریب ایک ہوٹل میں چائے پیتے تھے۔ یہ ملاقات دسمبر یا جنوری میں ہوتی تھی۔ سالِ گزشتہ کورونا کی وجہ سے کراچی نہ جا سکا اس لیے عزیز بگٹی سے ملاقات نہ ہوسکی۔ میں جب بھی فون کرتا تو جواب نہ آتا تھا۔ عزیز بگٹی نے میجر نذر حسین سے شکایت کی کہ شادیزئی صاحب فون نہیں کرتے اور ملاقات کے لیے بھی نہیں آتے۔ چند ماہ قبل ارادہ تھا کہ عزیز سے ضرور ملوں گا، ارادہ بناتا رہا لیکن نہیں جا سکا۔ چند دن قبل صبح سویرے نذر حسین کا فون آیا۔ ایک جھٹکا لگا جب انہوں نے کہا کہ عزیز بگٹی آج صبح فوت ہوگئے ہیں۔ میں اپنے کمرے میں اکیلا تھا، آنسوئوں کو نہیں روک سکا۔ عزیز بگٹی سے تعلقات کی ایک دنیا آباد تھی۔ ماضی کے لمحات چند لمحوں میں گزر گئے۔ اب ماضی ایک خواب لگتا ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت میں ڈھانک لے۔ (آمین)

Share this: