جی۔ سیون کا اجلاس: دنیا پر چند ملکوں کا تسلط اب ختم ہونا چاہیے

گروپ آف سیون (جی سیون) ممالک کا سینتالیسواں اجلاس برطانیہ میں منعقد ہوا، جس کے اختتام پر جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہم بڑے چیلنجوں پر قابو پانے اور اہم سوالات سے نمٹنے کے لیے جمہوریت کی طاقت، آزادی، مساوات، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی اقدار کو استعمال کریں گے۔ اجلاس میں چھ نکاتی ایجنڈے پر گفتگو کی گئی جس میں کورونا کی عالمی وبا کا خاتمہ، معیشتوں کی بحالی، آزادانہ تجارت، موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پانا، بین الاقوامی شراکت داری اور عالمی اقدار شامل ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے دیگر ممالک سے تعاون کیا جائے گا اور گروپ آف ٹوئنٹی (جی۔ 20) اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔ جی 7 کا یہ اجلاس 11 سے 13 جون تک جنوب مغربی برطانیہ کی کائونٹی ’کورن وال‘ میں جاری رہا۔
جی سیون دراصل امریکہ اور اُس کے اتحادیوں برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور کینیڈا کی حکومتوں کا سیاسی فورم ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر اپنی چودھراہٹ کو مضبوط سے مضبوط تر بنانا ہے۔ دنیا کے اہم امور اور بڑے بڑے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی خاطر یہ خوشنما نعروں اور دلفریب ایجنڈوں کا سہارا لیتے ہیں، جب کہ عملاً یہ ان مقاصد اور نعروں کے برعکس کام کرتے نظر آتے ہیں۔ حالیہ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں بھی جمہوریت، آزادی، مساوات، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق و اقدار جیسے خوبصورت الفاظ کا سہارا لیا گیا ہے، مگر چند دن قبل ہی اسرائیل کی غزہ پر جارحیت کے دوران پوری دنیا نے دیکھا کہ ان تمام ممالک خصوصاً امریکہ نے فلسطینیوں کی آزادی کے غاصب اور انسانی حقوق کی کھلی پامالی کے مجرم اسرائیل کی کس طرح آنکھیں بند کرکے سرپرستی کی، حتیٰ کہ امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام ارکان کی متفقہ قرارداد کو ایک دو نہیں، تین بار ویٹو کرکے ڈھٹائی اور بے حیائی کی انتہا کردی، مگر کسی کو آزادی، مساوات، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے اپنے اصول یاد نہیں آئے۔ برطانیہ میں منعقدہ حالیہ اجلاس میں بھی جی 7 کے رکن ممالک کے علاوہ یورپی یونین کے نمائندگان نے شرکت کی، جب کہ آسٹریلیا، بھارت، جنوبی افریقہ اور جنوبی کوریا کے رہنمائوں کو بطور مہمان اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا جی 7 کے ارکان اور دیگر شرکاء اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ بھارت میں کس طرح اقلیتوں کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں، بلکہ خود اکثریت یعنی ہندو مذہب میں ذات پات کی بنیاد پر کس طرح انسانیت کی تذلیل کی جاتی ہے، نچلے طبقے کے دلت اور اچھوت ہندوئوں کے ساتھ کس طرح غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے، بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ستّر برس کے دوران کون سا ظلم ہے جو معصوم کشمیری مسلمانوں پر ڈھایا نہیں گیا! اب گزشتہ تقریباً دو برس سے پورے خطے میں ظالم اور سفاک بھارتی فوج کے ذریعے لاک ڈائون اور کرفیو کی کیفیت مسلط ہے جس کے ذریعے وہاں زندگی اجیرن بنادی گئی ہے، مگر انسانی حقوق، جمہوریت، آزادی اور مساوات کے نعرے لگانے والوں نے بھارت کو اُس کے ان سنگین جرائم کی سزا دینے کے بجائے اسے مہمان کی حیثیت سے اپنے اجلاس میں مدعو کر رکھا تھا۔ آخر اجلاس کے شرکاء نے بھارت سے جی سیون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی پر جواب طلبی کی ہمت کیوں نہیں کی؟ کیا اس کی وجہ یہی نہیں کہ جی سیون اور اس جیسی دوسری تنظیمیں دراصل خود ’’کھانے کے دانت اور، دکھانے کے اور‘‘ کے منافقانہ رویّے پر عمل پیرا ہیں۔ ورنہ جن اصولوں پر عمل کی جی سیون دعوے دار ہے، خود اس کا وجود ان کی نفی کا آئینہ دار ہے۔
چین کے دفتر خارجہ نے جی سیون کے اس اجلاس اور اس کے مشترکہ اعلامیے پر شدید تنقید کی ہے۔ اس ضمن میں جاری کیے گئے چین کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمارا ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ ممالک چھوٹے ہوں یا بڑے، کمزور ہوں یا طاقت ور، امیر ہوں یا غریب… اس سے فرق نہیں پڑتا، سب برابر ہیں اور دنیا کے معاملات کو ان سب کی مشاورت سے چلایا جانا چاہیے، چند ممالک کے وضع کردہ نام نہاد اصول نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے اصولوں پر مبنی بین الاقوامی آرڈر واحد جائز عالمی نظام ہے۔ چین کے اس مؤقف کے صائب، منصفانہ اور قابلِ عمل ہونے میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔ چین کی جی سیون پر تنقید جائز اور اصولی ہے، کیونکہ چند طاقت ور ممالک مختلف بین الاقوامی فوائد کا سہارا لے کر دراصل ہر صورت دنیا کے سیاہ و سفید پر قابض رہنا چاہتے ہیں، تاہم اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کے انصاف پسند ملک چند بڑے ممالک کی اجارہ داری سے نجات کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھیں۔