مور اور اس کے پَر

ایک حکیم جنگل میں گھوم پھر رہا تھا۔ سرسبز و شاداب جگہ میں اس نے ایک مور کو دیکھا۔ مور اپنے خوب صورت پروں کو اکھیڑ رہا تھا۔ حکیم کو یہ ماجرا دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی۔ وہ مور کے قریب گیا اور کہنے لگا ’’اے طوس! کیا تیرے حواس جاتے رہے کہ اتنے حسین اور خوب صورت پروں کو اس بے دردی سے اکھیڑ رہا ہے! کیا تجھے یہ احساس نہیں کہ تیرا ایک ایک پَر لوگ کس ذوق و شوق سے سنبھال کر رکھتے ہیں۔ نشانی کے طور پر یہ مصحف پاک کے اوراق میں رکھے جاتے ہیں۔ پھر تیرے نازک پروں کی پنکھیاں بنائی جاتی ہیں۔ ارے حیوان! تیرا خالق کون ہے؟ کس نے تیرے بدن پر یہ بے شمار نقش و نگار بنائے ہیں؟ کیا تُو اس مصور کو بھول گیا ہے جس نے اپنی مصوری کے لیے تجھے منتخب کیا ہے؟ معلوم ہوتا ہے تُو غرور میں آکر اپنی نئی وضع قطع بنانے کے درپے ہے‘‘۔ مور نے دانش ور کے جب یہ کلمات سنے تو بے چین سا ہوکر رونے لگا۔ اس کے رونے میں ایسا درد اور ایسا اثر تھا کہ وہ حکیم جس نے مور سے پَر اکھیڑنے کا سبب پوچھا تھا، نادم اور پریشان ہوکر دل میں کہنے لگا ”میں نے ناحق اس مور کو چھیڑا۔ پتا نہیں یہ کس پریشانی میں گھرا ہوا تھا۔“
کاش! وہ حکیم جان سکتا کہ مور کے ایک ایک آنسو میں کیا راز پوشیدہ ہے۔ اسے ان آنسوئوں کی کیا قدر! طائوس نے کہا ’’اے نادان! افسوس ہے تیری عقل و بصیرت پر کہ ابھی تک تُو طلسم رنگ و بو میں گرفتار ہے۔ الٹا مجھے پَر اکھیڑنے پر مطعون کرتا ہے اور مجھے ہی ملزم ٹھیرا رہا ہے۔ کیا تُو نہیں جانتا کہ ہر طرف سے سینکڑوں بلائیں انہی بازوئوں کے لیے میری طرف آتی ہیں۔ ظالم شکاری انہی پَروں کے لیے ہر طرف جال بچھاتا ہے۔ کتنے ہی سنگ دل تیر انداز ہیں جو انہی پروں کی خاطر میری جانِ ناتواں سے کھیلتے ہیں۔ ایسی ناگہانی آفتوں، ایسی بلائوں اور ایسی المناک موت سے اپنے آپ کو بچائے رکھنے کی مجھ میں طاقت نہیں ہے۔ اس لیے یہی راستہ نظر آیا کہ ان بلائے جان پَروں کو اکھیڑ دوں اور اپنی صورت کو مکروہ بنالوں تاکہ پہاڑوں اور میدانوں میں بے فکر ہوجائوں‘‘۔
نزد من جاں بہتر از بال و پرست
جاں یماند باقی و تن ابتر ست
میرے نزدیک جان کی حفاظت بال و پَر کی حفاظت سے زیادہ ضروری اور اہم ہے۔ جان تو محفوظ رہے، جسم کی ابتری کا جان کے مقابلے میں کیا غم!
درسِ حیات: اپنے آپ کو بے نام و نشان اور عاجز و مسکین بناکر رکھو تاکہ شہرت سے یہ حالت تم کو دور رکھے۔ کیونکہ شہرت سے گوشہ عافیت چھن جاتا ہے اور شہرت بہت سی بلائیں اپنے ساتھ لاتی ہے۔
(مولانا جلال الدین رومیؒ۔ ”حکایاتِ رومیؒ“)