تحریک انصاف حکومت کا تیسرا بجٹ معیشت پر حکومت کی جگہ ’’اجارہ دار‘‘ مافیا کا کنٹرول

تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا تیسرا بجٹ پیش کردیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ ملک کا74 واں بجٹ ہے، جن میں سقوطِ ڈھاکا سے قبل 24 بجٹ متحدہ پاکستان کے لیے پیش کیے گئے، 24بجٹ غیر منتخب حکومتوں نے پیش کیے، ان74 سالوں میں ملک میں منتخب حکومتیں ابھی تک 26 بجٹ پیش کرسکی ہیں۔ وفاقی وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے ملک کا 74 واں بجٹ پیش کرتے ہوئے8 ہزار 487 ارب روپے کا مالی سال 22-2021ء کا وفاقی میزانیہ پیش کیا ہے۔ بجٹ تقریر میں انٹرنیٹ پر ٹیکس سمیت متعدد نکات بھی پڑھ دیے جن کی منظوری کابینہ سے لینا باقی تھی، تاہم یہ نکات اور تجاویز واپس لینا پڑیں۔ بجٹ میں تقریباً پونے 4 سو ارب روپے سے زائد کے ٹیکسز کی نشاندہی ہوتی ہے۔ بلاشبہ بجٹ ہر حکومت کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا، اسی سے حکومتی کارکردگی عیاں ہوتی ہے۔ حکومت نے اپنا چوتھا بجٹ پیش کیا تو حسبِ معمول اپوزیشن تیار بیٹھی تھی۔ اس کی جانب سے اس قدر زوردار احتجاج ہوا کہ ایوان میں تصادم کا خدشہ پیدا ہوگیا، جس پر اسپیکر نے سارجنٹ ایٹ آرمز کو طلب کرلیا۔ شور اس قدر تھاکہ وزیرخزانہ کی تقریر پریس گیلری میں سنی ہی نہیں جاسکی۔ ایوان میں اپوزیشن بجٹ پر بحث کے دوران اپنا نکتہ نظر واضح کرے گی۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف بجٹ پر بحث کا آغاز کرچکے ہیں، مگر یہ مرحلہ حکومت نے سبوتاژ کردیا، اور شور کرکے قائد حزبِ اختلاف کو تقریر ہی نہیں کرنے دی گئی۔ بجٹ پر اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ حکومت نے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ طے کیے بغیر بجٹ بنایا جو غیر آئینی ہے۔ بجٹ میں ترقی کی امید دلائی گئی ہے، مگر بے روزگاری کے خاتمے کا کوئی حل دکھائی نہیں دیتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ حکومت نے محاصل کے لیے ماضی کی نسبت چوبیس فی صد زیادہ ہدف رکھا ہے، اب یہ 1230ارب سے زائد اضافی محاصل کیا مل سکیں گے؟کیا اس کے لیے کوئی منی بجٹ لایا جائے گا؟ میزانیہ میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی اخراجات 8497 ارب روپے ہیں۔ بجٹ دستاویزگواہی دے رہی ہے کہ غیر ملکی قرض کی واپسی اور سود کی ادائیگی ایک مسئلہ ہے، گردشی قرضے بھی دردِسر ہیں، حکومت نے یہ بات تسلیم کی کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے گردشی قرضے ختم کردیے تھے۔ تحریک انصاف نے سادگی کا دعویٰ کیا تھا مگر بجٹ دستاویز بتا رہی ہے کہ اخراجات میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تحریک انصاف نے منشور میں وعدہ کیا تھا کہ وہ بالواسطہ ٹیکسوں میں کمی لائے گی، مگر معاشی حقائق یہ ہیں کہ اس وقت بالواسطہ ٹیکس66 فی صد تک بڑھ چکے ہیں۔ حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں900 ارب روپے رکھے ہیں مگر کسی نئی ترقیاتی اسکیم کا اعلان نہیں کیا، اس کا مطلب ہے ماضی کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے جو رقم فراہم کی جانی تھی اسے اب جاری کیا گیا ہے۔ سیالکوٹ تا کھاریاں، سکھر تا حیدرآباد موٹر وے سمیت دیگر منصوبے ماضی کی حکومت دے کر گئی ہے، ریلوے کا سب سے بڑا منصوبہ جسے ایم ایل ون کہتے ہیں، یہ 9 ارب 30 کروڑ ڈالر کا منصوبہ ہے۔ اسے جولائی2022ء میں شروع کیا جائے گا۔ گویا اس کے لیے اگلے سال منصوبہ بندی سامنے لائی جائی گی۔ ایک جانب قومی اداروں کو بحال کرنے کی فکر ہے اور دوسری جانب بجٹ میں پی آئی اے کے لیے20 ارب روپے اور اسٹیل مل کے لیے 16 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ خیبرپختون خوا میں ضم ہونے والے فاٹا کے اضلاع کی ترقی کے لیے ایک سو ارب دینے کا وعدہ تھا مگر 54 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ میں بتایا گیاکہ جون 2022ء تک 10 کروڑ لوگوں کو ویکسینیٹ کرنے کا ٹارگٹ ہے، 1.1 بلین ڈالر ویکسین کی درآمد پر خرچ کیے جائیں گے۔ یہ ویکسین عطیہ میں مل رہی ہے، حکومت کا تو ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہورہا۔ حکومت تنخواہ دار ملازمین، پنشن پانے والے افراد اور عمومی طور پر مزدور طبقے کو کوئی آسانی دینے میں ناکام رہی ہے، علاوہ ازیں کم از کم آمدنی کی سطح بڑھادی گئی ہے۔ بجٹ میں کئی اقدامات ایسے ہیں جو حکومت کی صریح ناکام پالیسی اور جاریہ اقدامات کے اختتام یا پہلے کسی طرح کے غلط قدم کی نشاندہی کرتے ہیں جیسے ATL میں نہ ہونے پر زیادہ ٹیکس کی کٹوتی۔ لیکن اب ایسے اقدامات واپس لے لیے گئے، یعنی ایسے اقدامات سے فوائد حاصل نہیں ہوئے، اس لیے حکومت نے معاشی پہیہ گھمانے کے لیے یہ اقدامات واپس لے لیے تاکہ لوگ کھل کر کاروبار کریں۔ صنعت کاروں اور کارخانہ داروں کے لیے کچھ سہولیات دی گئی ہیں۔ ان میں مثبت اقدامات کا اثر آدمی تک پہنچنا مشکل ہے، یہ اقدامات عام افراد کے فائدے کے لیے نہیں۔کچھ اقدامات ٹیکس دہندگان میں اضافے کے لیے کیے گئے ہیں۔ ان کا اثر کیا ہوگا، یہ رائے ابھی قبل از وقت ہے۔ اندازہ یہ ہے کہ یہ تجاویز کچھ جلد بازی میں بنائی گئی ہیں اور ان سے پہلے وہ تمام معلومات جمع نہیں کی گئیں جن سے درست نتائج حاصل کیے جا سکتے۔ مجموعی طور پر اس بجٹ میں کاروبار اور کاروباری افراد کو ترجیح اول پر رکھا گیا ہے، اور کاروبار کو معیشت کے پہیّے کے لیے ہراول دستہ سمجھا گیا ہے، عام آدمی کو فی الحال مہنگائی کے چنگل سے نکالنے کا کوئی راستہ نہیں ڈھونڈا گیا، بلکہ یہ سمجھا گیا ہے کہ معیشت چلے گی تو عام افراد تک اس کا اثر پہنچ جائے گا۔
تحریک انصاف کی حکومت کا اب تک سب سے بنیادی مسئلہ یہ رہا کہ ہر چھ آٹھ ماہ کے بعد اس کی معاشی ٹیم تبدیل ہوتی چلی آئی ہے، ہر نئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پچھلا وزیر بیڑا غرق کرگیا ہے۔ اس بجٹ میں بھی حکومت صنعت کاروں، کارٹلز اور اجارہ داروں کو مراعات دے کر سمجھ رہی ہے کہ وہ ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیں گے۔ اصول ہے کہ سرمایہ دار تو سازگار معاشی حالات کا طلب گار رہتا ہے، سازگار حالات مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، حکومت اگر سازگار حالات پیدا کرنے کی ذمہ داری نہیں لے گی تو اجارہ دار طبقوں کو مراعات دینے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
قومی پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کو کسانوں اور ریٹیلر کے مابین خلیج کم کرنے کے لیے جامع اور فعال حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ حکومت کو اس بات کا علم ہے کہ قومی پرائس مانیٹرنگ کمیٹی ایسا فورم ہے جہاں اشیاء کی قیمتوں کا باضابطہ بنیادوں پر جائزہ لیا جاتا ہے۔ ہول سیل اور ریٹیل کی سطح پر قیمتوں میں بہت فرق ہے۔ وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے تسلیم کیا کہ قرضوں کی وجہ سے مشکل صورتِ حال کا سامنا ہے، مگر معیشت کو مستحکم بنیاد فراہم کردی گئی ہے، اب معیشت ترقی کی سمت رواں دواں ہے۔
بجٹ میں اگلے مالی سال کے لیے معاشی ترقی کا ہدف 4.8 فیصد رکھا گیا ہے۔ ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر حکومت کا نعرہ ہے۔ ملکی آبادی کا 65 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمرافراد پر مشتمل ہے، نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد بے روزگار ہے۔ بجٹ میں حکومت نے ان کے لیے کوئی ذمہ داری نہیں لی۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے صنعتی شعبے کو خصوصی مراعات دے دی گئی ہیں، جبکہ یہ شعبہ حکومت کا پابند نہیں بلکہ اپنے فیصلوں میں آزاد ہے۔ پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر ابھی تک ایک خواب ہے۔ اس وقت تک قومی بینکوں کے پاس گھروں کی تعمیر کے لیے جو درخواستیں پڑی ہوئی ہیں اس کے لیے ایک سو ارب روپے چاہئیں، مگر حکومت نے70 ارب منظور کیے ہیں۔ کم آمدنی والوں کے لیے گھروں کی تعمیر کے لیے 3 لاکھ کی سبسڈی کا اعلان ہوا۔ تعمیراتی میٹریل کی قیمتیں حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں، تعمیراتی مافیا صرف ٹیکس اور ڈیوٹیز معاف کرا رہا ہے، اب تک اسے جو کچھ ملا اُس کا حساب دینے کو تیار نہیں ہے۔ یہ مافیا کابینہ کے طاقت ور وزرا کے باعث ٹیکسوں میں چھوٹ حاصل کررہا ہے، اور چھوٹ کا سارا پیسہ صارفین کو فائدہ پہنچانے کے بجائے کارٹل کی ذاتی جیبوں میں جارہا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے بجٹ میں مہنگائی میں اضافے کا واضح اشارہ دیاکہ پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ 20 سے 25 روپے تک بڑھ سکتے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھ گئے تو مہنگائی کا ایک طوفان آئے گا۔ حکومت نے بجٹ پر آئی ایم ایف کو اعتماد میں لیا ہے اور فیصلہ بھی یہی ہے کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام سے باہر نہیں جائے گی۔
ہر حکومت اپنے بجٹ کو مثالی اور اپوزیشن اسے عوام دشمن قرار دیتی ہے۔ اسی شور شرابے میں بجٹ پاس بھی کرلیا جاتا ہے۔ ہر بجٹ کی یہی کہانی ہے۔ ایک وقت تھا کہ بجٹ سالانہ گوشوارہ سمجھا جاتا تھا اور ملکی معیشت سال بھر اسی کے گرد گھومتی تھی۔ مگر گزشتہ چار پانچ عشروں سے کچھ ایسی صورت حال ہے کہ ملکی معیشت اور بجٹ کا باہمی تعلق کہیں نظر نہیں آرہا۔ پیٹرولیم، بجلی، گیس کے نرخ اب بجٹ میں طے نہیں ہوتے، ان کے نرخ اب عالمی مارکیٹ کے تغیر اور آئی ایم ایف کے مطالبات کی رسّی سے باندھ دیے گئے ہیں۔ اسی طرح اشیائے ضروریہ کے نرخ ضلعی انتظامیہ اور تاجر تنظیموں کے نمائندے مل کر طے کرتے ہیں۔ سریا، سیمنٹ اور چینی سمیت متعدد اشیاء کے نرخ کارٹل طے کرتے ہیں۔ عام صارفین ان اجارہ داروں کی غلامی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ تمام اجارہ دار حکومتوں سے زیادہ طاقت ور بن چکے ہیں کہ پارلیمنٹ اور حکومتوں میں یہی طبقہ براہِ راست شامل ہے۔
تحریک انصاف کے تیسرے بجٹ کی خوبی یہ بیان کی جارہی ہے کہ یہ بجٹ ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں بڑھوتری لانے کا سبب بنے گا۔ اعلان ہوا ہے کہ ٹیکس نظام کوسادہ بنایا جائے گا، سادہ ٹیکس ریٹرن فارم اور نئے قوانین بنائے جائیں گے۔ یہ قوانین کب تک بن جائیں گے، اس کے لیے مدت کا کوئی تعین نہیں ہے۔ معاشی ماہرین کے نزدیک کسی بھی ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں اضافے کے لیے سب سے بنیادی بات سازگار حالات کا ہونا ہے، لیکن یہاں تو وزیراعظم خود یہ بات تسلیم کررہے ہیں کہ ملک میں ہر طرف مافیا کی اجارہ داری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشی فیصلوں پرحکومت کی نہیں بلکہ مافیا کی گرفت ہے۔ اپنے ہی بجٹ پر حکومت نے تین دن میں چار بار مؤقف تبدیل کیا، پہلے کہا گیا کہ ٹیکس فری بجٹ ہوگا، اب کہا جارہا ہے کہ مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔ انٹرنیٹ، فون کال کے لیے تین منٹ کا وقت مقرر کرنے کا اعلان اب واپس لے لیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے وہی بجٹ پیش کیا جسے کابینہ نے منظور کیا تھا، مگر کارٹل نے آنکھیں دکھائیں تو انٹرنیٹ ڈیٹا پر ٹیکس واپس لینے کا اعلان کردیا کہ وزیراعظم نے یہ فیصلہ مسترد کردیا ہے، حالانکہ فیصلہ وزیراعظم کی سربراہی میں ہی کابینہ نے منظور کیا تھا۔ وفاقی بجٹ میں پاور سیکٹر، پیٹرولیم، پاسکو، یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن، نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی اور کھاد سمیت مختلف شعبوں کے لیے سبسڈی کی مد میں 682 ارب روپے رکھے گئے ہیں، اس کا سارا فائدہ اجارہ دار کو ہوگا، جس میں تعمیراتی شعبہ، پاور سیکٹر اور شوگر انڈسٹری کے اجارہ دار شامل ہیں۔ ملک کا عام آدمی جنہیں مافیا سمجھتا ہے، انہیں ماضی کے مقابلے میں 226 فیصد زیادہ سبسڈیز دی گئی ہیں۔ تعمیراتی شعبہ معترض ہے کہ گین ٹیکس اسپیشل ٹیکس کے بجائے عام ٹیکس کیوں بنادیا گیا ہے۔ بجٹ میں مجموعی سبسڈی 682 ارب روپے کی ہے جس میں نجی بجلی گھروں کے مالکان کو سب سے بڑا حصہ ملے گا۔ یہ کل رقم 139 ارب 50 کروڑ روپے سے بڑھاکر 596 ارب روپے کردی گئی ہے۔ اسی طرح بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو دی جانے والی سبسڈی 129 ارب روپے سے بڑھا کر 245 ارب روپے کردی گئی ہے۔ یوں کے۔ الیکٹرک کے لیے سبسڈی ساڑھے 10ارب روپے سے بڑھاکر 85 ارب روپے کردی گئی ہے۔ کیا یہ کمپنیاں صارفین کو سستی بجلی مہیا کریں گی؟ اس بارے میں حکومت نے کسی حکمت عملی کا اعلان نہیں کیا۔ بجٹ میں اعلان کیا گیا کہ چھوٹی گاڑیوں پر ڈیوٹی کم کردی گئی ہے، مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد کے بجائے 12.5 فیصد اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس ختم کردیا گیاہے، 850 سی سی گاڑیوں کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں چھوٹ دی گئی ہے اور سیلز ٹیکس میں کمی کردی گئی ہے۔ پہلے سے بننے والی گاڑیوں اور نئے ماڈل بنانے والوں کو ایڈوانس کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دے دیا گیاہے۔ مگر یہ نہیں بتایا کہ اگر کار کمپنیاں چھوٹی گاڑیوں کی قیمت بڑھا دیں تو حکومت انہیں کیسے کنٹرول کرے گی؟بجٹ میں نوجوانوں کو کاروبار کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی کا یقین دلایا گیا ہے، مگر حکمت ِعملی یہ ہوگی کہ حکومت بڑے بینکوں سے قرض لے گی، اور پھر چھوٹے بینکوں کو قرض دے گی، یہ چھوٹے بینک نوجوانوں کو ’’آسان‘‘ قرض دیں گے۔ مطلب یہ کہ نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ اب تک حکومت نے کاروبار کے لیے جو قرض دیے ہیں، نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اس قرض سے کاروبار کے بجائے نئی گاڑیاں خرید لی ہیں اور یہ طرزِ عمل ملکی معیشت میں بڑھوتری لانے کے بجائے بوجھ کا باعث بن رہا ہے۔ حکومت کے پاس اس قرض کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے چیک اینڈ بیلنس کا کوئی موثر نظام نہیں ہے۔