پنجاب حکومت کا روایتی بجٹ

حکومت نے سینما، تھیٹر، فیشن شوز اور سرکس وغیرہ پر ٹیکس ختم کرکے اپنی ترجیحات کا اظہار کردیا ہے

پنجاب کا مالی سال 2021-22ء کا میزانیہ پیش کردیا گیا ہے جس کا مجموعی حجم 2653 ارب روپے ہے، اور یہ حجم موجودہ مالی سال سے 18 فیصد زائد ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت نے پنجاب اسمبلی کے ایوان میں 14 جون کو اپنی بجٹ تقریر کے دوران اس بجٹ کو تحریک انصاف کے منشور کے عین مطابق اور صوبے کے عوام کی امنگوں کا ترجمان قرار دیا۔ انہوں نے بھی وفاقی حکومت کے وزراء اور مشیروں کی طرح اس بات پر زور دیا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں معاشی ترقی کے تمام اشاریے اس وقت بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ چنانچہ وفاق کی پیروی کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں یکم جولائی سے دس فیصد اضافہ تجویز کیا ہے، جب کہ گریڈ ایک سے 19 کے وہ سات لاکھ اکیس ہزار سے زائد ملازمین، جنہیں قبل ازیں کسی قسم کا کوئی اضافی الائونس پیکیج نہیں دیا گیا، ان کی تنخواہوں میں خصوصی الائونس کی مد میں مزید پچیس فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کی کم سے کم اجرت 17500 روپے سے بڑھا کر بیس ہزار روپے مقرر کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ نے جو بجٹ دستاویز ایوان میں پیش کی اُس کے مطابق آئندہ سال کا بجٹ 125 ارب روپے کا فاضل ہے جس میں مجموعی آمدنی کا تخمینہ 2653.014 ارب روپے لگایا گا ہے، جس میں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت وفاق سے قابل تقسیم محاصل کی مد میں 1683.7 ارب روپے صوبے کو منتقل ہوں گے جو رواں مالی سال کے مقابلے میں 18 فیصد زیادہ ہوں گے، جب کہ صوبائی محصولات کے لیے 405 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جو موجودہ سال کے مقابلے میں 28 فیصد زائد ہے۔ میزانیہ میں جاری اخراجات کا تخمینہ 1428 ارب روپے لگایا گیا ہے، جب کہ صوبے کے ترقیاتی پروگرام کے لیے 560 ارب روپے کے ریکارڈ وسائل فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یوں ترقیاتی فنڈز میں 86 فیصد اضافہ ہوگا۔ تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 442 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو موجودہ سال سے13 فیصد زیادہ ہوں گے۔ صحت کے لیے 369 ارب روپے رکھے گئے ہیں جو رواں مالی سال کے مقابلے میں 30 فیصد زائد ہیں۔ ترقیاتی اخراجات کے لیے 54 ارب 22 کروڑ روپے، جب کہ جاری اخراجات کے لیے 388 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ جنوبی پنجاب چونکہ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اس لیے اُس کے لیے الگ سے 189 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 295 ارب روپے دو سال کے لیے ضلعی ترقیاتی پروگرام کے تحت مہیا کیے جائیں گے۔ اس پروگرام کے تحت پسماندہ علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت، فراہمی و نکاسی آب اور بنیادی تعلیم و صحت کے متعلقہ ترقیاتی کام کروائے جائیں گے۔ صوبائی دارالحکومت جو گزشتہ شہبازشریف دور میں خصوصی توجہ کا مرکز رہا، موجودہ حکومت نے آئندہ سال کے میزانیہ میں اس کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2803 ارب روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
حکومت کی ترجیحات کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ بجٹ میں بیوٹی پارلرز، فیشن ڈیزائنرز، لانڈریز، آرکی ٹیکٹس پر سیلز ٹیکس کی شرح سولہ فیصد سے کم کرکے صرف پانچ فیصد کردی گئی ہے۔ اسی طرح سینما، تھیٹر، سرکس اور فیشن شوز وغیرہ پر ٹیکس بالکل ختم کردیا گیا ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حکومت ملک میں کس قسم کی سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہتی ہے اور کس قسم کی تہذیب و ثقافت کی سرپرستی اس کے پیش نظر ہے۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد کا جو اضافہ کیا گیا ہے وہ موجودہ مہنگائی کے مقابل نہ ہونے کے برابر ہے، تاہم ملازمین کو 25 فیصد کا جو خصوصی اضافی الائونس دیا جارہا ہے اس سے ان کی کسی قدر اشک شوئی ممکن ہوسکے گی، مگر تین چار برس بعد پنشن میں صرف دس فیصد اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ حکومت کو ریٹائرڈ ملازمین خصوصاً چھوٹے اسکیل کے بہت کم پنشن پانے والے بزرگوں کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے پنشن کی کم از کم شرح بھی 20 ہزار مقرر کرنا چاہیے۔ کم از کم اجرت بیس ہزار روپے مقرر کرنے کا اقدام قابل ستائش ہے، اگرچہ بیس ہزار میں خاندان کے اخراجات پورے کرنے کا تصور بھی محال ہے، تاہم اس سے بھی زیادہ پریشان کن اور حکومتی توجہ کا متقاضی اس مسئلے کا یہ پہلو ہے کہ حکومت جو کم از کم اجرت مقرر کرتی ہے اس کے نفاذ کا کوئی نظام موجود نہیں۔ اس وقت کتنے ہی نجی اسکول، غیر سرکاری دفاتر، کارخانے، حتیٰ کہ برقی اور ورقی ذرائع ابلاغ کے بہت سے دفاتر ایسے ہیں جہاں کام کرنے والے ملازمین کی اکثریت اچھی خاصی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگاری کے ہاتھوں مجبور ہوکر حکومت کی اعلان کردہ کم سے کم اجرت سے بھی کہیں کم پر ملازمتیں کرنے پر مجبور ہے۔ حکومت کو ان مجبور اور بے بس لوگوں کی حالتِ زار پر توجہ دینا اور خصوصی ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے۔
صوبائی وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے دوران حزب اختلاف نے روایتی طرزعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوشش کی کہ وزیر خزانہ کی تقریر کا کوئی لفظ ایوان میں بیٹھے ہوئے ارکان اور پریس گیلری میں موجود ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی سمجھ میں نہ آسکے، حالانکہ یہ کاوش اس لیے سودمند ثابت نہیں ہوتی کہ بجٹ تقریر پہلے سے طبع شدہ صورت میں سب لوگوں کے پاس موجود ہوتی ہے اور ایوان میں وزیر خزانہ کا اسے پڑھنا محض ایک رسمی کارروائی ہوتی ہے، لیکن مسلم لیگ (ن) کے ارکانِ اسمبلی جو گزشتہ تیس برس سے زائد صوبے میں اقتدار کی مسند پر قابض رہے ہیں اور اپنے دورِ اقتدار میں حزبِ اختلاف کی اس قسم کی کارروائی پر خاصے جزبز بھی ہوتے تھے اور اسے نامناسب قرار دیتے ہوئے اس رویّے کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا کرتے تھے مگر 14 جون پیر کے روز جب پنجاب کے وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت نے لکھی ہوئی تقریر پڑھنا شروع کی تو سابق وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف کے صاحبزادے حمزہ شہبازشریف جو آج کل پنجاب اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف ہیں، ان کی قیادت میں حزبِ اختلاف کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور کسی جواز کے بغیر شدید نعرے بازی شروع کردی، انہوں نے ہاتھوں میں کتبے اٹھا رکھے تھے اور ’’آٹا چور، چینی چور نامنظور‘‘ اور ’’گو نیازی گو‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ ان میں سے اکثر ارکان نے بجٹ تقریر کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں لہرا دیں، جب کہ بعض ارکان کاغذی جہاز بناکر ایوان میں وزیر خزانہ اور کابینہ کے دوسرے ارکان کی جانب پھینکتے رہے، (باقی صفحہ 41پر)
خواتین ارکان کا زیادہ زور سیٹیاں اور ڈیسک بجانے میں صرف ہوتا رہا۔ وزیر خزانہ نے ماضی کی روایات کے عین مطابق اسی ہنگامہ آرائی اور شور و غوغا میں اپنی بجٹ تقریر پڑھ کر سُکھ کا سانس لیا، جب کہ ان کے ساتھیوں نے انہیں کامیاب بجٹ پیش کرنے پر مبارک باد دی۔ یہ اگرچہ ہر سال بجٹ اجلاس کی معمول کی کارروائی ہے اور کسی کو اس پر حیرانی ہوتی ہے نہ پریشانی، تاہم ہمارے سیاسی رہنما جس طرح بڑھ چڑھ کر جمہوری اقدار اور سیاسی روایات کی گردان کرتے ہیں کیا اب وقت نہیں آگیا کہ ہماری سیاسی قیادت خصوصاً منتخب نمائندے سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کریں اور اس طرح کی بلاوجہ کی ہنگامہ آرائی، شور و شرابا اور ہائو ہُو کے بجائے توجہ سے اپنے مخالفین کی تقاریر اور گفتگو کو سنیں اور پھر اس پر حقائق اور درست اعداد و شمار کی روشنی میں مثبت اور ملک و قوم کے لیے مفید تنقید بھی کریں اور سنجیدگی سے قابلِ عمل مشورے بھی حکومتِ وقت کو دیں۔